22

عورت بمقابلہ عورت.بلال الرشید

54 / 100

وہ روتا رہا ۔اس نے کہا ’’میری بیوی واجبی شکل و صورت رکھتی تھی مگر بے حد ذہین ۔اگلے برس میری بیٹی فاطمہ پیدا ہوئی ۔ پتہ ہی نہیں چلا کہ کیسے میرے دل میں وہ اترتی چلی گئی ۔ جب میں تھکا ہارا واپس پہنچتا تو وہ کھڑکی سے لگی ہوتی ۔ وہ مجھے کھینچتے ہوئے اندر لے جاتی۔ وہ کرسی پر بٹھا کر میرے جوتے اتارتی ۔ ‘‘وہ غم کی شدت سے چیخ اٹھا ۔

اس نے کہا :وہ چیزوں کے اپنے ہی نام رکھا کرتی ۔ بازار میں ایک دن چیخنے لگی ’’پنک ،بابا ، پنک‘‘ ۔ کافی دیر بعد علم ہوا کہ گیسی غبارے کا نام اس نے ’’پنک ‘‘رکھ چھوڑا ہے ۔ ‘‘وہ آنسو پونچھنے لگا۔

’’یہی وہ دن تھے، جب ماہ رخ ہمارے دفتر میں داخل ہوئی ۔ قیامت خیز حسن والی نوخیز لڑکی ۔ یہی وہ دن تھا ، جب میری پوری زندگی تلپٹ ہو کے رہ گئی۔ وہ میرے قریب آکر کچھ بولی لیکن میں سن نہ سکا اوریک ٹک اس کی طرف دیکھتا رہا ۔ وہ ہنس پڑی۔ بظاہر وہ کام سیکھنے آئی تھی ۔درحقیقت اسے اپنا کام اچھی طرح آتا تھا۔ واپسی پر میں فاطمہ کی بجائے ماہ رخ کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔ میں فاطمہ کے لیے کچھ لے جانا بھی بھول گیا۔وہ کچھ دیر اداس کھڑی رہی ۔ پھر اس نے مجھے کرسی پر بٹھایا اور میرے جوتے اتارے۔ اب ہر روز میں کچھ نہ کچھ بھولنے لگا تھا۔ کبھی کبھی میں پہلے جیسا ہونے کی کوشش کرتا لیکن تڑخا ہوا شیشہ ‘‘ دہ درد کی شدت سے چلااٹھا۔

میری بیوی بہت کچھ سونگھ رہی تھی ۔ذہنی طور پر میں اور ماہ رخ ایک ہو چکے تھے ۔صرف اعلان باقی تھا۔ ایک دن میری بیوی اچانک میرے دفتر آئی ۔ اس نے ماہ رخ کو دیکھا اور سب سمجھ گئی ۔ میرے قریب آکر اس نے دفتر آنے کا کوئی بہانہ تراشا اورخاموشی سے لوٹ گئی ۔ اس رات اس نے مجھ سے پوچھا : فاطمہ کو تم رکھو گے یا میں ۔ میں پاگلوں کی طرح اسے دیکھتا رہا۔

اگلی صبح ماہ رخ سہمی ہوئی نظر آئی ۔ رات اس نےخواب میں دیکھا کہ اس کا مرحوم فرشتہ صفت باپ جوتے سے اس کی پٹائی کر رہا ہے ۔ میں نے کہا : خواب تو خواب ہوتا ہے ۔روتی ہوئی حسینہ نے کہا : میرا خواب خواب نہیں ہوتا۔

اگلی صبح جب میں بستر سے اترا تو مجھے شدید ٹھوکر لگی۔ناخن ٹوٹ گیا۔ دفتر پہنچا تو دیکھا کہ ماہ رخ دلہن کی طرح بنی سنوری ہوئی ہے۔ وہ خوف پر قابو پا چکی تھی ۔اس نے کہا کہ آج وہ میرے گھر جانا چاہتی ہے ۔ وہ ضد کرتی رہی۔ جیسے ہی ہم گھر داخل ہوئے ، فاطمہ مجھ سے چمٹ گئی ۔ پھر اس نے میرے جوتے اتارے ۔اچانک میں نے ماہ رخ کو روتے ہوئے دیکھا۔ اسے اپنا باپ یاد آرہا تھا۔

اچانک میرے جوتے اتارتی فاطمہ چلائی ’’بُوبُو، بُو بُو ‘‘ نجانے وہ بُو بُو نام کی کیا چیز ڈھونڈتی پھر رہی تھی ۔ میری بیوی کو یقینا علم تھا لیکن وہ انجان بنی ہوئی تھی ۔ اس نے کہا : آج میں چلی جائوں گی۔اس کی تو مجھے کیا پرواہ ہوتی مگر یہ فاطمہ سے میری جدائی کا دن تھا۔آج سے مجھے اپنے جوتے خود اتارا کرنے تھے ۔ اچانک میرے دل میں بیٹی کی محبت نے انگڑائی لی۔ مجھے وہ دن یاد آیا، جب میں اسے ہسپتال سے گھر لایا تھا۔ میری آنکھیں نم ہو گئیں لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔

فاطمہ بدستور چلا رہی تھی ’’بُو بُو ، بُو بُو ‘‘۔ آخر ہم باہر نکلے۔ جیسے ہی گاڑی موڑ تک پہنچی ، فاطمہ چیختی ہوئی نکلی اور گاڑی کے پیچھے دوڑنے لگی ۔وہ کوئی چیز لہرا رہی تھی اور پوری قوت سے چلّا رہی تھی ’ ’ بُو بُو ‘‘

ماہ رخ چیخ اٹھی: روکو، روکو، گاڑی روکو۔ فاطمہ بھاگتی ہوئی آئی۔ اس نے کھینچ کر مجھے باہر نکالا۔ پھر میرا جوتا اتارا اور ٹوٹے ہوئے ناخن پر مرہم لگایا۔ یہ مرہم ہی وہ ’’بُو بُو ‘‘ تھا، جو وہ ایک گھنٹے سے پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہی تھی ۔ اس کی نظر میں اس کا پیارا باپ حد درجہ زخمی تھا ۔میں ہی تو اس کی کل کائنات تھا۔

ماہ رخ کے اعصاب تڑختے جا رہے تھے ۔ اچانک اس نے چیختے ہوئے کہا : میں تمہارے ساتھ شادی نہیں کر سکتی ۔ میں نے جذبات سے کانپتی ہوئی ماہ رخ کا ہاتھ پکڑا۔ پتہ ہی نہ چلا کہ کب اس کا ہاتھ گھوما اور میرے منہ پہ پڑا۔اسی دن مجھے معلوم ہوا کہ وہ مارشل آرٹسٹ تھی ۔

فاطمہ غصے سے پاگل ہو گئی ۔ وہ ماہ رخ پہ پل پڑ ی اور چند لمحات میں اس کا دلہنوں والا لباس برباد کر کے رکھ دیا۔ ماہ رخ زمین پر بیٹھ گئی اور خود کو سزا کے لیے پیش کیا۔فاطمہ نے جوتا اتارا اور ماہ رخ کے سر پہ مارا۔لوگ اکھٹے ہو گئے ۔ ماہ رخ نے کہا ’’ فاطمہ نہیں مار رہی ،میرا پیارا باپ مجھے مار رہا ہے ۔ اور مارو ننھی پری ‘‘

روتے ہوئے آدمی نے کہا :عورت جب عورت کے مقابلے پر اتر آئے ! میری بیوی نے بُو بُو جیسی چیزیں چھپا کر رکھی ہوتی تھیں ۔مجھے یقین ہے کہ جب ہم گھر سے نکلے تو فاطمہ کو بُو بُو اسی نے فراہم کیا تھا۔ ’’عورت بمقابلہ عورت ‘‘ میں نے کہا :یعنی تمہاری بیوی بمقابلہ ماہ رخ ‘‘۔ اس نے نفی میں سر ہلایا ۔ میں نے کہا ’’ فاطمہ بمقابلہ ماہ رخ ‘‘ اس نے کہا :نہیں ، نہیں ،ماہ رخ کے اندر دو عورتیں تھیں ۔ ایک شوہر چھیننے والی اور ایک اپنے نیک باپ کی نیک بیٹی۔ وہ لڑ پڑی تھیں ۔‘‘

’’تو اب تمہارا کیا ہوگا ؟‘‘ میں نے پوچھا۔ اس نے اپنا لبادہ ہٹایا۔دل کی جگہ پر بہت سے بُو بُو چپکے ہوئے تھے ۔ اس نے کہا :زخم بھر رہے ہیں ۔ اس نے کہا :معاف کرنا، میں ذرااپنی ننھی معالج سے بینڈیج تبدیل کروالوں ۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں