بھوکوں کو کھلانا مفتی گلزار احمد نعیمی 0

بھوکوں کو کھلانا.مفتی گلزار احمد نعیمی

65 / 100

بھوکوں کو کھلانا

مفتی گلزار احمد نعیمی

بھوک انسان کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش ہوتی ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: ولنبلونکم بشیئ من الخوف والجوع۔۔۔۔۔الی آخر الآیہ۔(البقرہ).یعنی ہم تمہیں خوف اور بھوک کے ذریعے ضرور آزمائیں گے۔اس آزمائش کی صورت میں ہمیں رجوع الی اللہ رکھنا چاہیے کہ رزق کے تمام خزانے اسی کے پاس ہیں۔امتحان کی اس گھڑی کو صبر کی قوت کے ساتھ گزارنا چاہیے۔بھوک جہاں بھوکے کی آزمائش ہے وہاں یہ صاحبان ثروت کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ سبحانہ وتعالی کے نزدیک بھوکوں کو کھانا کھلانا بہت بڑا کار ثواب ہے۔اس میں غریب و امیر کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔بس بھوکا ہونا چاہیے۔کھانا کھلانے والے پر اللہ تعالی کی خاص رحمت ہوتی ہے۔کھانا کھلانا خدائی صفت ہے۔اس لیے کھانا کھلانے والا خدائی صفات کے ساتھ متصف ہوجاتا ہے۔
کھانا کھلانے کی اہمیت کا اندازہ آپ اس سے بھی لگا سکتے ہیں کہ اللہ تعالی نے بڑے گناہوں کے کفاروں مین غرباء و مساکین کو کھانا کھلانا بھی شامل فرمایا ہے۔قسم کے کفارہ کو دیکھیں اس میں دس مساکین کو کھانا کھلانے کا حکم ہے۔غیر سنجیدہ قسموں پر تو کوئی کفارہ نہیں ہے مگر جو شخص سنجیدگی کے ساتھ قسم اٹھاتا ہے اور پھر اسے توڑ دیتا ہے تو اس پر دس مساکین کو کھانا کھلانا واجب ہے۔قرآن مجید میں حکم ہے ۔۔فکفارتہ اطعام عشرۃ مساکین من اوسط ماتطعمون اھلیکم او کسوتھم او تحریر رقبۃ۔۔المائدہ، 89/5.ترجمہ: اسکا کفارہ دس مساکین کو کھانا کھلانا یا انکے کپڑے یا ایک گردن آزاد کرانا ہے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص ظہار(ماں کے کسی جسمانی عضو کے ساتھ بیوی کو تشبیح دینا ظہار کہلاتا ہے)کرتا ہے یا حالت روزہ میں فعل مباشرت کا ارتکاب کر لیتا ہے تو اسکی سزا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا یا ساٹھ (60)مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے۔سورہ المجادلہ کی ابتداء میں اسکا تفصیلا ذکر ہے۔
حج کے موقع پر جانوروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا اور پھر فرمایا: فکلوا منھاواطعموا القانع والمعتر (الحج36/22)ترجمہ: اس سے خود کھاؤ اور قناعت پسند اور مجبور کو کھلاؤ۔
جب ہم اس حوالہ سے قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ اللہ سے محبت کرتے ہیں وہ اسکی مخلوق کو اللہ کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں۔ فرمایا: ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا و یتیما واسیرا انما نطعمکم لوجہ اللہ لانرید منکم جزاء ولاشکورا(الدھر،9-8) اور وہ اسکی (اللہ) محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ کہتے ہیں ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھانا کھلاتے ہیں تم سے کو بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکر۔
ہر مسلمان نیکی کا اعلی درجہ حاصل کرنے کا متمنی رہتا ہے۔اپنے رب کے نزدیک محبوب ترین عمل تک رسائی ایک مسلمان کی بہت بڑی خواہش ہوتی ہے۔ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک قول کے مطابق کھانا کھلانا اور السلام علیکم کہنا کسی بھی مسلمان کے بہترین اعمال ہوتے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عمر روایت کرتے ہیں ان رجلا سئل النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ای الاسلام خیر قال تطعم الطعام و تقراء السلام علی من عرفت ومن لم تعرف۔متفق علیہ
ترجمہ: ایک شخص نے رسول اللہ سے سوال کیا کہ کونسا اسلام بہترین ہے آپ نے فرمایا کھانا کھلانا اور آشنا اور غیر آشنا کو سلام کہنا۔
ایک اور حدیث سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کھانا کھلانا ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعہ سے ہم جنت میں داخل ہوسکتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عمر ہی راوی ہیں سرکار نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرو، کھانا کھلاؤ اور السلام علیکم کو پھیلاؤ تو جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔(الترمذی کتاب الاطعمہ الرقم: 1855)
اسی طرح کی ایک اور حدیث حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے جس میں کھانا کھلانے کے عمل میں شریک ہونے والے تین افراد کو مغفرت کی خوش خبری سنائی گئی ہے۔ارشاد ہوا: ایک روٹی کا لقمہ اور ایک مٹھی کھجور یا اس طرح کی کوئی جس سے کسی مسکین کو نفع پہنچے اسکی وجہ سے اللہ تعالی تین افراد کی بخشش فرما دیتا ہے۔ایک گھر کا مالک جو کھانا کھلانے کا حکم دے دوسرا وہ بیوی جو اسے تیار کرے اور تیسرا وہ خادم جو اسے مسکین تک پہنچائے۔۔۔۔ یہ تینوں افراد اس عمل صالح کے ذریعہ سے بخشے جاتےہیں۔
پاکستان میں بہت سی این جی اوز یہ کار خیر سرانجام دے رہی ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر تحریک انصاف کی حکومت نے اس عظیم کام کی طرف توجہ دی ہے جو بہت قابل ستائش ہے۔پورے ملک میں لنگر خانوں اور پناہ گاہوں کا ایک وسیع نیٹ ورک مخیر حضرات کے تعاون سے کھڑا کیا گیا ہے۔اسی طرح حکومت نےگاڑیوں کے ذریعہ “میل آن ویل” سکیم کا بھی آغاز کیا ہے جو ایسی جگہ پہنچ کے کھانا تقسیم کرتی ہیں جہاں لنگر خانے ابھی قائم نہیں کیے گئے۔یہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کی طرف ایک پہلا قدم ہے جو قابل ستائش ہے۔پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک فلاحی ریاست بننے میں کافی وقت درکار ہے۔اگر انسانی فلاح و بہبود کے لیے ایسی سکیمیں جاری رہیں تو میرے خیال میں وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایک قابل رشک فلاحی ریاست بن جائے گا۔
کمی و کوتاہی ہر جگہہ پر موجود ہوتی ہے لیکن یہ بات قابل اطمینان ہے کہ ان فلاحی کاموں میں ابھی کوئی ایسی بڑی کرپشن سامنے نہیں آئی جسکی وجہ سے ہم حکومت کو مورد الزام ٹھہراسکیں۔پاکستان کی تاریخ بہت قابل افسوس مثالوں سے بھری پڑی ہے۔جب حکومت بدلتی ہے اور اسکی جگہہ نئی حکومت لیتی ہے تو وہ سب سے پہلا کام یہ کرتی ہے کہ گزشتہ حکومت کے جتنے منصوبے ہوتے ہیں انہیں بند کر دیتی ہے یا مکمل ختم کردیتی ہے۔اس سے ملکی وسائل کا بے حد ضیاع ہوتا ہے اور استفادہ کرنے والے عوام مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔اگر ہمارے سیاسی رہنماء یہ روش ترک کر دیں اور پچھلی حکومت کے مفید منصوبہ جات کو جاری رکھیں تو یہ ملک وقوم کے لیے بہت اچھا ہوگا۔
ہمیں اپنے اندر ایک قومی اور ملی سوچ پیدا کرنا ہوگی۔سیاسی اور ذاتی مفاد سے قومیں تباہ ہوتی ہیں اور ملک ترقی معکوس کی طرف لوٹتے ہیں۔
والسلام
طالب دعاء
ابوالکاشف نعیمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں