51

’’انتہا پسندی‘‘کے خلاف کریک ڈائون.ڈاکٹر طاہر رضابخاری

62 / 100

اسلامو فوبیا،کے بڑھتے ہوئے رجحانات کو روکنے کے لئے سخت اقدامات ، ’’انتہا پسندی‘‘کے خلاف کریک ڈائون اور نفرت پھیلانے والی ویب سائٹس کے متعلق سخت کارروائی کی بات کرتے ہوئے‘ عالمی رہنمائوں کو اس جانب خصوصی توجہ مبذول کرنے کی درخواست، وزیر اعظم پاکستان نے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو‘اپنے حالیہ انٹرویو کے ذریعے کی ہے،جو اتفاق سے گزشتہ روز اس موقع پر نشر ہوا،جب شہید پاکستان ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی شہیدؒ، جو 12سال قبل خطے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف صف اول میں سرگرم عمل ہونے کی پاداش‘دہشت گردوں کے نشانے کے سبب شہادت سے سرفراز ہوئے۔یہ جمعتہ المبارک کا روز تھا،جب آپ خطبہ کے بعد اپنے روایتی معمول کے مطابق ،جامعہ نعیمیہ کے اس حجرۂ خاص میں فروکش ہوئے ہی تھے کہ ایک خودکش بمبار نے ایک سنگدلانہ کارروائی کے نتیجہ میں علمی دینی اور تدریسی دنیا کو ایسا زخم پہنچایا جس سے طویل عرصے تک خون رستا رہے گا۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمیؒانتہا پسندی کے خلاف اس اہم ورکنگ گروپ کے کلیدی ممبر تھے،جو نوے کی دہائی میں صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم کی قیادت میں،پنجاب حکومت کی طرف سے’’ متحدہ علماء بورڈ‘‘ کے نام سے تمام مسالک کے اکابرین کے اتفاق رائے سے تشکیل پایاتھا:آسمان ان کی لحد پہ شبنم افشانی کرے۔ اسی کی دہائی کے آخری سالوں میں وطن عزیز پاکستان میں فرقہ وارانہ اختلافات اور مسلکی تضادات و تعصبات نے شدت پرستی اور انتہا پسندی کی راہ اختیار کر لی‘جو بالآخر بدترین دہشت گردی کا روپ اختیار کر کے قوم پر مسلط ہو ئی۔جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کو فکر مند کر دیاتھا۔بلا شبہ اختلاف رائے صحت مند اور زندہ معاشروں کی دلیل ہوتے ہیں۔یہی اختلاف رائے بحث و تمحیص کے بعد اتفاق رائے اور اجماع میں ڈھلتے رہے۔لیکن جب اتفاق رائے کے اس عمل کو مثبت پیرائے میں آگے بڑھنے کی بجائے منفی انداز میں روکنے اور اپنی رائے کو بزور طاقت دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو معاشرے سے برداشت جیسے اعلیٰ اور مثبت جذبے ماند پڑ گئے اور مزاحمت اور تشدد نے نت نئے انداز اختیار کر لئے۔ہمارا موجودہ بحران بھی ایسی ہی صورتحال کا شاخسانہ ہے۔پنجاب حکومت نے فرقہ واریت اور مسلکی انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کا ادراک کرتے ہوئے تقریباً ربع صدی قبل اس اہم ملی دینی اور قومی مسئلہ کی طرف توجہ کی۔جو بروقت بھی تھی اور موثر بھی۔لیکن حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل کے سبب یہ کوششیں ثمر بار نہ ہو سکیں۔نتیجتاً ایک طرف پاکستان فرقہ وارانہ انتہا پسندی کی لپیٹ میں آ یا جبکہ دوسری طرف عالمی سطح پر دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے طعنے اسلام اور پاکستان کا مقدر بن گئے۔ مملکت خداداد پاکستان میں مذہبی نفرتوں سے پاک پرامن اور مستحکم اسلامی معاشرے کے قیام کی کوششیں کسی نہ کسی طور پر ہمیشہ ہوتی رہی ہیں۔ تاہم گزشتہ تین دہائیوں میں فرقہ واریت‘مذہبی منافرت اور مسلکی انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے پیش نظر جہاں صاحبان مسند دعوت و ارشاد اور ارباب فکر و نظر پریشان ہوئے وہاں ریاستی اور حکومتی ذمہ داران کا فکر مند ہونا بھی ایک فطری امر تھا۔ اس سلسلہ میں حکومت پنجاب نے صوبائی سطح پر متحدہ علماء بورڈ پنجاب کے قیام کااہتمام کیا،جسمیں بریلوی‘ دیوبندی‘شیعہ اور اہل حدیث کے اکابراور نمائندہ علمائ￿ کے علاوہ ہوم سیکرٹری پنجاب‘آئی جی پولیس پنجاب‘سیکرٹری اوقاف اور سیکرٹری قانون پنجاب،ابتدائی طورپر، شامل کئے گئے۔اس بورڈ کے قیام کا بنیادی مقصد مذہبی ہم آہنگی کا قیام اور پاکستان میں مذہبی فرقہ واریت اور مسلکی تشدد کے فروغ میں ایسے فرقہ وارانہ‘دل آزار اور اشتعال انگیز تحریری لٹریچر،جس سے کسی مسلمان کی دل آزاری کا پہلو نکلتا ہو یا وہ ملت اسلامیہ کی حقیقی روح کے منافی ہو،پر پابندی عائد کرنے یا اس کو ضبط کرنے کی بابت سفارشات مرتب کرنا تھا۔اس بورڈ میں مذکورہ مسلکی تناسب کے مطابق تمام مکاتب فکر کی اہم شخصیات کو شامل کیا گیا۔ بورڈ کا پہلا اجلاس.8.9 1997جبکہ اس کا دوسرا اجلاس 10-09-1997کو ہوا۔جس میں بورڈ کے لئے متفقہ طور پر درج ذیل راہنما اصول طے پائے،جن کی روشنی میں یہ بورڈ اشتعال انگیز کتب اور دل آزار لٹریچر کے سلسلے میں اپنی سفارشات مرتب کیا کرے گا۔ 1۔ توحید ،ملت اسلامیہ کے عقائد کا مرکزی نقطہ اور فکر و عمل کی اولین اساس ہے۔ یہ نقطہ عام اسلامی عقائد و اعمال اور جملہ اسلامی تعلیمات کے لئے اصل الاصول کا درجہ رکھتا ہے۔ یہی عقیدہ عالم کفر و طاغوت کے مقابلے میں ہماری ایمانی قوت کا سرچشمہ ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں کسی طور پر بھی شرک کا ارتکاب ظلم عظیم ہے۔ 2۔خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیﷺکی رسالت پر ایمان اور آپ کی ذات اقدس کی محبت و اطاعت کی نسبت، ہمارے دینی تشخص ،اجتماعی بقا اور ملی استحکام کی بنیاد ہے۔ آپﷺ کی ختم نبوت پر غیر متزلزل یقین ہمارے ایمان کا ناگزیر جزو ہے۔ تحفظ ناموس رسالت ہمارا ایمانی فریضہ ہے۔حضورﷺ کی بالواسطہ یا بلا واسطہ صراحتۂ یا کنایتْہ ادنیٰ گستاخی کا مرتکب بھی کافر مرتد اور واجب القتل ہے۔ 3۔ ملت اسلامیہ کا متفقہ اور اجتماعی عقیدہ ہے کہ قرآن کریم قیامت تک کے تمام انسانوں کے لئے آخری اور مکمل ضابطہ حیات‘سرچشمہ ہدایت اور واجب الاطاعت ہے۔اس پر مکمل یقین ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔یہ رسول اکرم ﷺکا جاودانی معجزہ ہے۔اس کتاب الٰہی پر دین و ملت کی اساس قائم ہے یہ سورہ فاتحہ سے والناس تک ہر قسم کی کمی و بیشی اور تحریف سے ہمیشہ محفوظ رہا ہے اور رہے گا۔ کیونکہ باری تعالیٰ نے انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحفظون فرما کر خود اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ اس کے خلاف عقیدہ رکھنے والا شخص خارج از اسلام ہے۔ 4۔ حضور اکرم ﷺ کے تمام صحابہ کرام بالخصوص خلفائے راشدین اور امہات المومنین رضوان اللہ علہیم اجمعین کا ادب و احترام اور تعظیم و تکریم پوری امت مسلمہ کے لئے واجب ہے اور ہر ایسا قول و عمل جس سے ان کی بالواسطہ یا بلا واسطہ تنقیص و اہانت کا پہلو نکلتا ہے حرام ہے۔ 5۔ حب اہل بیت کرام و ائمہ اطہار رضوان اللہ علہیم اجمعین اساس ایمان اور حضورﷺکی محبت کا جزو لاینفک ہے۔ان ذوات مقدسہ کا ادب و احترام واجب ہے۔اہل بیت نبویﷺ سے بغض و عناد رکھنے والا ایمان سے محروم اور خارج از اسلام ہے۔ ہر ایسا قول و فعل جس سے ان کی بالواسطہ یا بلاواسطہ تنقیص و اہانت کا پہلو نکلتا ہے صریحاً ضلالت و گمراہی ہے۔ 6۔ جملہ محدثین‘ائمہ و مجہتدین امت اولیائے کرام‘ صلحائے عظام اور بزرگان دین جن کی مساعی جمیلہ اور توسط سے ہم تک ایمان و اسلام پہنچا ہے۔ ان کا ادب و احترام واجب ہے۔ مرتب شدہ ان راہنما اصولوں پر متحدہ علماء بورڈ کے جملہ مسالک کے تمام ممبران کے تائیدی دستخط بھی موجود ہیں۔اپنے اپنے مسالک کے علماء و مذہبی شخصیات کی اشتعال انگیز اور قابل اعتراض تحریروں کو بورڈ کے سامنے یوں جائزے کے لئے پیش کرنا ازخود اہم واقعہ ہے اور بلا شبہ اس میں تمام مسالک کے علماء کا اخلاص، درد مندی اور حکومت کی معاملہ فہمی شامل تھی۔اس سلسلے میں یہ امر بھی اہمیت کا حامل تھا کہ مسالک کے درمیان اختلاف تو صدیوں سے ہیں۔ جس کی بنیاد میں بہرحال علماء کی تحریریں اور قدیم کتب ایک اہم عنصر ہیں۔ چنانچہ یہ بات اہم تھی کہ کس عہد کی کتب اور قابل اعتراض تحریروں سے جائزہ شروع کیا جائے۔ چنانچہ طویل بحث و تمحیص اور غورخوض کے بعد یہ طے ہوا کہ اگر قدیم کتب پر بحث شروع ہوئی تو جو فوری نتائج درکار ہیں ،اس کے حصول میں دقت ہو۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ سردست 1979ء کے بعد کی ایسی دل آزار تحریریں جو مارکیٹ میں آئی ہیں،ان سے جائزہ شروع کیا جائے۔جس کا مقصد انتہا پسندی کو روک کر ملک میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں