12

بہترین کارکردگی پر ویلڈن ٹیم عمران خان، شوکت ترین

3 / 100

وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ ملک میں بڑھتی معاشی سرگرمیاں کامیاب اقتصادی پالیسی کی عکاس ہیں، شہبازشریف معاشی ترقی دیکھ کر گھبرا گئے،جبکہ وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ نوازشریف اور اسحاق ڈار کی پالیسیاں سرخی پائوڈر اور پارلر والی تھیں۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم اقتصادی شرح نمو میں اضافہ پر مبارکباد کی مستحق ہے، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے مثبت فیصلوں کی بدولت معیشت کو استحکام ملا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا کہ ملک میں بڑھتی معاشی سرگرمیاں کامیاب اقتصادی پالیسی کی عکاس ہیں،ملکی معیشت میں 33بلین ڈالر اضافہ ہوا،رواں مالی سال کے آخر تک برآمدات کا مجموعی حجم 26ملین ڈالر تک پہنچ جائیگا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں سیمنٹ کی پیداوارمیں17فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا، رواں مالی سال کےپہلے9ماہ کے دوران بڑی صنعتوں میں ترقی کی شرح9فیصد رہی، زرمبادلہ کے ذخائربڑھ کر23ارب ڈالرکی سطح پرپہنچ چکے ہیں۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ250ملین ڈالرسرپلس ہے، ایکسپورٹ میں اضافہ ہورہا ہے، یہ عارضی گروتھ نہیں ہے، معاشی ترقی کی رفتاربڑھنے سے اپوزیشن کومایوس نہیں ہونا چاہیے، آنے والے دنوں میں معاشی ترقی میں مزید تیزی آئے گی،مسلم لیگ کے آخری سال میں مصنوعی طریقے سے معیشت کوسنبھالا دیا گیا۔

مسلم لیگ ن نے اسٹیٹ بینک سے نوٹ چھاپ چھاپ کر7ہزارارب کا قرضہ لیا تھا، ہماری حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کے تحت سٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا، اگلے مالی سال کے دوران ملکی معیشت میں مزید تیزی آئے گی، یہ اسحاق ڈارکے نمبرزنہیں بلکہ حقائق کی بنیاد پرہیں، اپوزیشن لیڈر بوکھلا گئے ہیں ،ترقی عارضی نہیں ، آئندہ سال معیشت میں مزید تیزی آئیگی۔

علاوہ ازیں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ نواز شریف اور اسحاق ڈار کا دور سرخی پاؤڈر کا تھا جبکہ ادھار اور مانگے تانگے کا قرض لےکرپچھلی حکومتیں ترقی دکھا رہی تھیں۔ فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو میں فرخ حبیب کا کہنا تھاکہ عمران خان نے ملک کو صحیح سمت میں ڈال دیا، کورونا کے باوجود پاکستان کی معیشت اوپر گئی۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کے حجم میں 33 ارب ڈالرکا اضافہ ہوا، تمام معاشی اہداف پورے کریں گے، 10ماہ سےکرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوگیاہے، جتنے حکومت کے اخراجات ہیں ،اتنی آمدن ہے۔ان کا کہنا تھاکہ نواز شریف اور اسحاق ڈار کا دور سرخی پاؤڈر کا تھا، ادھار اور مانگے تانگے کا قرض لےکرپچھلی حکومتیں ترقی دکھا رہی تھیں۔

دریں اثناء پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ گزشتہ سال براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 33فیصد کم ہوئی۔اپنے ایک بیان میں محمد زبیر نے کہا کہ یہ ایک اور وجہ ہے کہ معیشت بُری شکل میں کیوں رہی۔انہوں نے کہا کہ جب غیرملکی سرمایہ کاری کم ہوئی حکومت معیشت میں بہتری کا دعوٰی کیسے کرسکتی ہے۔

محمد زبیر نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی دور میں 50 لاکھ افراد کا روزگار چلا گیا۔ دریں اثناء وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم گروتھ بڑھانے پر مبارکباد کی مستحق ہے۔

اپنے ایک ٹویٹ میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے لکھا کہ آئی ایم ایف کے کڑے پروگرام کے باوجود مضبوط گروتھ خوش آئند ہے، کرنٹ اکائونٹ خسارے، زر مبادلہ کے کم ہوتے ذخائر اور کورونا کے باوجود گروتھ قابل قدر ہے۔انہوں نے لکھا کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم گروتھ بڑھانے پر مبارکباد کی مستحق ہے۔

دریں اثناء وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل نے کہا ہے کہ جی ڈی پی میں 33 ارب ڈالر کا اضافہ تاریخی ہے ۔انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ پرچی چیئرمین کا معیشت پر بھاشن شرمناک ہے۔ کورونا کے باوجود معیشت کی سمت درست ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی چیئرمین کے ہاتھ میں غلط اعدادوشمار کی پرچی پکڑا دی گئی ہے جس میں جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 3.94 فیصد لگایا گیا ہے جبکہ جی ڈی پی 263ارب ڈالر سے 296 ارب ڈالر پر پہنچ چکا ہے۔

شہباز گل نے کہا کہ جی ڈی پی میں 33 ارب ڈالر کا اضافہ تاریخی ہے اور فی کس آمدنی میں بھی 13.4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ آج کرنٹ اکانٹ سرپلس ہے جو 20 ارب ڈالرز پر ہمیں دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات 25.5 ارب ڈالرز کے تاریخی بلند ترین سطح پر ہونے کی پیشگوئی ہے جبکہ ترسیلات زر میں اضافہ پاکستانیوں کا وزیر اعظم پر اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے باوجود وزیر اعظم کے مثبت فیصلوں کی بدولت معیشت کو استحکام ملا ہے جبکہ بھاشن بازی کے بجائے چیئرمین اصل اعدادوشمار پر نظر ڈالیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں