22

افغانستان اور امریکی پابندیاں

افغانستان کے حوالے سے امریکی رویہ تشویشناک حد تک مبہم ہے کہ طالبان سے مذاکرات کرکے اس نے اپنی افواج تو یہاں سے نکال لیں تاحال طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا تو کجا جوبائیڈن انتظامیہ نے نئی حکومت پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے فوراً بعد افغان مرکزی بینک کے 9 ارب ڈالر سے زیادہ کے اثاثےبھی منجمد کر دیے۔کوئی بھی حکومت بغیر سرمائے کے ایک پہلے سے تباہ برباد ملک کو کیسے چلا سکتی ہے؟جب کہ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار بھی کر رکھا ہے کہ برسوں کے تنازعات اور طویل خشک سالی کے شکاراس ملک میں موسم سرما کے دوران تقریباً 4 کروڑ افراد میں سے نصف سے زیادہ غذائی قلت کے باعث مر سکتے ہیں،اس سے بڑا انسانی المیہ کیا ہو گا ؟اسی ممکنہ المیے کے پیش نظر طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے ایک مراسلے میں امریکی قانون سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کے اثاثوں کو غیر منجمد کرنے میں مدد کریں، انہوں نے کہا کہ’’ ہم امید کرتے ہیں کہ امریکی کانگریس کے اراکین اس سلسلے میں اچھی طرح سوچیں گے اور امریکی حکام پابندیوں اور غیر منصفانہ جانبدارانہ سلوک سے پیدا ہونے والے ہمارے لوگوں کے مسائل کو انصاف کی نظر سے دیکھیں گے ‘‘۔ساری دنیا جانتی ہے کہ گزشتہ بیس برس سے جنگ و جدل کے شکار اس ملک میں زرعی ،تجارتی اور معاشی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں ،مفلوک الحالی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ خدشات کے عین مطابق سردیوں کے آغازمیں ہی کئی علاقوں سے قحط کی خبریں آنے لگی ہیں جو بدترین انسانی المیے کا باعث بن سکتی ہیں ۔اس صورتحال کےپیش نظر پاکستان امریکہ ،عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی توجہ افغان بحران کی جانب مبذول کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ دنیا نے اگر اس انسانی المیے کے تدارک کی سعی نہ کی تو حالات بد تر ہوتےچلے جائیں گے۔امریکہ نہ صرف افغانستان پر عائد پابندیاں ہٹائے بلکہ اس کے اثاثے بھی بحال کرےورنہ دنیا کا امن پھر دائو پر لگ جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں