13

اختلاف کے بھی آداب ہوتے ہیں.اظہر علی عابدی

57 / 100

ختلاف فکر و نظر انسانی معاشرے کی ایک بنیادی حقیقت اور فطری امر ہے۔ اللہ نے انسان کو ایک جاننے، سوچنے اور سمجھنے والا دماغ عطا کیا ہے۔ ہر انسان کی پرواز تخیل جدا گانہ اور منفرد ہے اور یہی صلاحیت معاشرے میں ہمہ جہت ترقی اور رشد و ارتقاء کا باعث بنتی ہے۔ کسی موضوع پر مختلف زاویہ ہائے نظر کی صورت گری ، اس کا بیان اور بحث و مباحثہ ہی انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشتا ہے۔ خیالات و تخیلات ارتقا پاتے اور معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ جب خیالات ، افکار، نظریات اور کسی موضوع سے متعلق نقطہ ء نظر کا اظہار آداب اختلاف اور تہذیب گفتگو کے معیارات کے مطابق ہو تو معاشرے میں مثبت قدریں اور تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں۔ ڈاکٹر علی شریعتی نے ایک جگہ کہا کہ اختلاف رائے صرف دو صورتوں ہی میں ختم ہو سکتا ہے۔ افراد میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جائے یا پھر معاشرے پر آمریت نافذ کر دی جائے کہ جو آمر کہے وہی حرف آخر ہو۔ ظاہر ہے پہلی صورت ممکن نہیں اور دوسری صورت کسی طور پسندیدہ نہیں ہے۔

ہے اختلاف ضروری تمہیں پتا نہیں ہے

چراغ کیسے جلے گا جہاں ہوا نہیں ہے

اظہار بیان کے دوران مختلف خیالات، آراء اور نظریات کا احترام اور تہذیب گفتگو کا خیال نہ رکھا جائے نیز شرکائے مباحثہ کا ادب و احترام ملحوظ خاطر نہ رہے تو پراگندگی فکر، لڑائی جھگڑیاور فتنہ فساد جنم لیتے ہیں۔ اس وقت ہمارے معاشرے کی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے۔ الیکٹرونک میڈیا، سوشل میڈیا ، گفتگو کی محافل ، سیاسی مباحثوں اور ٹی وی شوز میں تندی و تیزی ، طعن و تشنیع اور غیر اخلاقی و غیر معیاری گفتگو سکہ رائج الوقت ہے۔ بعض ٹی وی شوز اور مباحثوں میں اخلاقی دیوالیہ پن بہت نمایاں ہے۔ ڈر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کا روز مرہ کا معیار گفتگو اور انداز مباحثہ کہیں ہمیں زوال پزیر ی کی طرف نہ لے جائے۔ رسول خاتم ؐنے فرمایا، “کوئی قوم ہدایت پانے کے بعد جب گمراہ ہو جاتی ہے تو جھگڑا لو اور مناظرہ باز ہو جاتی ہے” (جامع ترمذی) ایک اور جگہ آپؐ نے فرمایا،” بہت زیادہ بحث و تکرار اور جھگڑنے والے ہلاک ہوگئے “( سنن ابو داؤد)۔

موجودہ زوال پزیر صورتحال کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ جواب ہے” تربیت” کے ذریعے۔ قومی تربیت کا ہراول دستہ ہمیشہ اساتذہ، ادباء ، علما ئے کرام اور دانشوران عظام ہی ہوتے ہیں ، یہی بہترین معلمین اخلاق ثابت ہوسکتے ہیں۔ ادب اور ذرائع ابلاغ ہمیشہ اصلاح کے لیے موثر کردار ادا کرتے ہیں۔

اردو ادب کے پیش رو سرسید احمد خان اور ان کے ساتھی ادباء نے اپنی تحریروں اور اس وقت کے ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے بچوں، خواتین اور نوجوانوں کی تربیت کا فرض بے مثال انداز میں سرانجام دیا۔ لاحاصل اور بے ہودہ گفتگو کی خرابیوں کو اپنی ایک تحریر “بحث و تکرار” میں سرسید نے اس طرح بیان کیا، “نامہذب آدمیوں کی مجلس میں بھی آپس میں اسی طرح تکرار ہوتی ہے۔ پہلے صاحب سلامت کر کر آپس میں مل بیٹھتے ہیں، پھر دھیمی دھیمی بات چیت شروع ہوتی ہے۔ ایک کوئی بات کہتا ہے، دوسرا بولتا ہے، واہ یوں نہیں یوں ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’واہ تم کیا جانو۔‘‘ وہ بولتا ہے، ’’تم کیا جانو۔‘‘ دونوں کی نگاہ بدل جاتی ہے، تیوری چڑھ جاتی ہے، رخ بدل جاتا ہے، آنکھیں ڈراؤنی ہو جاتی ہیں، باچھیں چر جاتی ہیں، دانت نکل پڑتے ہیں، تھوک اڑنے لگتا ہے، باچھوں تک کف بھر آتے ہیں، سانس جلدی چلتا ہے، رگیں تن جاتی ہیں، آنکھ، ناک، بھوں، ہاتھ، عجیب عجیب حرکتیں کرنے لگتے ہیں۔ عنیف عنیف آوازیں نکلنے لگتی ہیں، آستین چڑھا ہاتھ پھیلا، اس کی گردن اس کے ہاتھ میں اور اس کی داڑھی اس کی مٹھی میں۔ لپا ڈکی ہونے لگتی ہے۔ کسی نے بیچ بچاؤ کر کر چھڑا دیا تو غراتے ہوئے ایک ادھر اور ایک ادھر، اور اگر کوئی بیچ بچاؤ کرنے والا نہ ہوا تو کمزور نے لپٹ کر کپڑے جھاڑتے سر سہلاتے اپنی راہ لی”۔ باقی ماندہ مضمو ن میں سر سید انتہائی دلنشیں انداز میں شایستگی کی تعلیم دیتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ذرائع ابلاغ خصوصا” اچھے ٹی وی چینلز پر ایسے پروگرامز کی ضرورت ہے جس میں مدلل طرز گفتگو، انداز اختلاف کے قرینے، موثر و دلنشیں اظہار بیان، مخالف موقف کو سننے کے سلیقے اور آداب اور دوسروں کی رائے کی قدر کا احساس سکھایا جائے۔ ان پروگرامز میں ادبی، سماجی، سیاسی اور مذہبی پس منظر رکھنے والی ایسی شخصیات کو بلایا جائے جو مختلف امور پر اختلاف نظر رکھتی ہوں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اختلاف کو بیان کرنے کے آداب اور سلیقہ جانتی ہوں اور ناظرین ان سے عملی طور پر آداب اختلاف سیکھیں۔ایسے پروگرامز تند و تیز اور حد ادب سے پار ہوتی گفتگو کے اس عہد میں میڈیا کی ایک بہت مثبت اور قابل قدر کاوش ہو گی۔ اسی طرح پرنٹ میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ یقینا” سنجیدہ قاری ابھی موجود ہیں جو آداب زندگی سے آگاہ ہیں اور ان آداب کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ متعلقہ سرکاری اداروں خصوصا” پیمرا کو بھی میڈیا پر آداب گفتگو کے رہنما اصول پر عمل درآمد کی پالیسی وضع کرنی ہوگی۔ اب تو عوام کی جانب سے بھی ادب آداب سے گری ہوئی گفتگو اور بحث و مباحثوں پر آواز احتجاج اور اظہار نا پسندیدگی سامنے آرہا ہے ۔ یہ بہت خوش آئیند امر اور آداب اختلاف کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے بشرطیکہ دانشور ، ادیب، اساتذہ او ر صحافی اپنا کردار بحسن خوبی ادا فرمائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں