the crisis by design book summary in urdu 71

امریکہ دنیا میں کیسے تباہی لاتا ہے. ایک شہرہ آفاق کتاب کی سمری . The Crisis by Design

The Crisis by Design

مصنف کا تعارف :
اس تنقیدی کتاب کے مصنف کا نام جان ٹرومین ہے جو امریکہ کے بے باک صحافی اور ماہر سیاسیات ہیں وہ امریکی شہری اور بین الاقوامی امور کے ماہر ہیں ۔ وہ کئی سالوں میں امریکہ کی ان سازشوں کو بے نقاب کر تے آرہے ہیں جن میں امریکی حکومتوں نے غریب اور تیسری دنیا کے ممالک میں ظلم کا بازار گرم کئے رکھا۔جان ٹرومین دنیا کے چند ان گنے چنے لکھاریوں میں شمار ہوتے ہیں جو بیباک صحافت کے علم بردار ہیں اور جن کا قلم وہی لکھتا ہے جو محسوس کرتا ہے اور جن کا قلم ضمیر کی آواز کے علاوہ دولت اور ہوس کی آوازپر کان نہیں دھرتا۔ مصنف حالیہ کئی سالوں سے امریکی حکومت کا بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر تے آ رہے ہیں جس سے نوجوان امریکی نسل میں امریکی حکومتوں کی غلط پالیسیوؤں کے خلاف آگہی میں اضافہ ہوا ہے اورحکومت پر نکتہ چینی کا رحجان بڑھا ہے ۔ان کی ایسی دلیرانہ کاوشوں سے ان کی قوم کو شیشے میں امریکی حکومتوں کا بھیانک عکس نظر آنے لگا ہے۔ایسے قلم کار بلاشبہ تمام انسانیت کے لئے قابل فخر ہوتے ہیں۔
کتاب کا تعارف :
اس کتا ب میں مصنف ہر اس شعبے کو زیر بحث لائے ہیں جس کے حوالے سے امریکی حکام کائنات اور ا س میں بسنے والے انسانوں کی زندگیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچارہے ہیں ۔ مصنف ٹھوس دلائل اور حقائق کے ساتھ اپنی رائے پیش کرتے ہیں ۔ عصر حاضر کے مظلوم ترین انسانوں ، مسلمانوں ، سے تو انہیں کوئی ہمدردی نہیں تاہم اس امر میں کوئی شک نہیں کہ وہ انسانیت کے خیر خواہ ضرورہیں ، اور ان کے دل میں اس کا در د ضرور ہے ، اور اس بات کی تڑپ بھی ہے کہ امریکہ ترقی وخوشحالی کے مدارج طے کرے لیکن کسی کی حق تلفی کئے بغیر ۔ مصنف نے اس بات کو بھی اجاگر کیا ہے کہ انسانیت کش اقدامات سے گریز کیا جائے کیونکہ ان قدامات کے نتیجے میں نہ صرف پوری دنیا بلکہ امریکہ اور امریکی عوام کا مستقبل تاریک ہوتا جارہا ہے ، اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو وہ وقت دور نہیں جب زوال امریکہ کا مقدر ٹھہرے گاجسے روکنا امریکی حکام کے بس میں نہ ہوگا۔
کتاب کے اہم نکات :
شہرہ آفاق کتاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔
Key.1 ۔ امریکہ تاریخ کے اوراق میں :
12 اکتوبر 1492 ء کو کولمبس اپنے قیافے کے مطابق ایشیا کے مشرقی ساحل پر لنگر انداز ہوا ، جبکہ حقیقتاََ وہ شمالی امریکہ کے جزائر بہاماس (غر ب الہند) میں آنکلاتھا۔ اس کی لاعلمی اور خوش بختی بیک وقت رنگ لائی اور وہ شمالی امریکہ کی وسعتوں کو ملکہ ازبیلاکی ہسپانوی شاہی حکومت سے منسوب کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ مشرقی ایشیا پہنچنے کیلئے مغرب کی سمت میں سفر نے اسے قبلائی خان کے چین یاسی پانگو (جاپان ) کی بجائے شمالی امریکہ میں جزائرغرب الہند میں پہنچادیاتھا۔ کیوبا، بہاماس اور جمیکا کو وہ قبلائی خان کی سلطنت کے علاقے سمجھتا رہا اور اپنی عمر کے آخری حصے تک وہ اسی مغالطے میں مبتلا رہا ۔ کولمبس جزائر غرب الہند میں ” گواناہانی ” جزیرے پر لنگر انداز ہوا جو کہ آج کل دومنکین ری پبلک اور ہیٹی پر مشتمل ہے ۔ گوانا ہانی میں ساحل پر قدم رکھتے ہی کولمبس کو جو چیز سب سے پہلے نظر آئی وہ وہاں کے مقامی باشندے آراواک قبائل کے امریکن ، انڈین تھے ، جو ریڈ انڈین کہلائے گئے ۔ گوانا ہانی اور اس کے قرب وجوار کے جزائراب سان سالویڈور کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔ اراواک قبائل کے ان ریڈ انڈینز کا رویہ دوستانہ اور طورطریقے شائستہ تھے ۔
کولمبس نے اس امر کے باوجود کہ ان جزیروں میں پہلے سے ہی ہزاروں لوگ آباد ہیں اور وہ اپنے قاعدے ، قانون رسم ورواج ، مذہب اور ثقافت کے مطابق زندگی گزاررہے ہیں ، ان جزیروں پر اسپین کی شاہی حکومت کی ملکیت کا دعویٰ کردیا ۔ اس علاقے کو ہسپانوی نام ” سان لویڈور” سے منسوب کیا اور مقامی آبادی کو اپنے قیافے کے مطابق انڈینز کہاگیا ۔ مقامی لوگوں سے اپنی پہلی ملاقات کے بارے میں کولمبس نے اپنے روز نامچے میں لکھا ” وہ ہمارے لئے رنگ برنگ پرندے ، روئی کے گٹھے ، کمانیں اور دوسری اشیاء لے کر آئے اور ہم سے بدلے میں بیلوں کی گردن میں ڈالنے والی گھنٹیاں اور شیشے کی لڑیاں لے گئے ” ۔
15 مارچ 1493 ء کو کولمبس جب واپس اسپین پہنچا توکایا پلٹ چکی تھی ۔ وہ سرخ رواور کامران لوٹا تھا ۔ جس امید اور وعدے پر ملکہ ازابیلا نے کولمبس کی سرپرستی کی اور ا سکی بحری مہم میں سرمایہ کاری کی تھی وہ پوراہوا ۔ واپسی پر کولمبس کے رخت سفر میں سونے کی ڈلیا ں ، چاندی کے ڈلے ، سفوف کی شکل میں کچھ سونا ، مکئی ، تمباکو اور شمالی امریکہ میں پائے جانے والے پرندوں کے علاوہ وہ دس بدنصیب ریڈانڈین بھی شامل تھے ۔ جنہیں ملکہ کو دکھانے کی غرض سے وہ اغوا کرلایا تھا۔
1494 ء سے 1508 ء تک کے درمیانی عرصے میں صرف جزائرغرب الہند میں 40 لاکھ سے زیادہ ریڈانڈینز قتل کئے گئے ۔ کولمبس کے ہمراہ جانے والے عیسائی مبلغ لاکس کیسس جواس کا روزنامچہ بھی تھا ۔نے ایسے کئی دہشت ناک واقعات کا ذکر کیا ہے جن سے اس ظلم وجبر کا انداز ہ ہوتا ہے ،ریڈانڈینز پر پھانسیوں کا طریق کارجاری کیا جبکہ بچوں کو قتل کرکے ان کی لاشوں کو کتوں کے سامنے بطور خوراک پھینک دیا جاتا ۔ نوجوان عورتوں کی اکثریت اس وقت تک جنسی تشدد کا شکار ہوتی رہتی جب تک مرنہ جاتی ۔ ملکیت سے بے نیاز ، ان لوگوں کی معمولی قدروقیمت کی اشیاء تک لوٹ لی جاتی ۔ گھروں کو آگ لگادی جاتی اور ریوڑ کی صورت میں بھاگتے ہوئے غیر مسلح اور ناقابل دفاع لوگوں کا تیز رفتار گھوڑوں سے تعاقب کیاجاتا اور انہیں تیراندازی کی مشق کیلئے استعمال کیا جاتا چند گھنٹوں میں شہر کا شہر زندگی سے عاری ہوتاجا تا اور آبادی تابود ہوجاتی ۔ یوں ہسپانوی آبادکار ، ریڈانڈ ینز کی وسیع زمینوں پر غلبہ حاصل کرتے چلے گئے ۔ یہ امریکہ کے قیام ، پھیلاؤ اورفروغ کی ابتداءتھی ۔ یورپی آبادکاروں اور بعد میں امریکی حکومت کے ہاتھوں جو ظلم بے ضرر ریڈ انڈینز پر ہوا ، انسانی تاریخ اس پر ہمیشہ شرمسار رہے گی ۔ اس تاریخی صداقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ موجودہ امریکہ کی اساس مذہبی انتہاپسند فرڈی نینڈ کی جنونیت ، غیر متوازن شخصیت کی مالکہ ازابیلا کی خون آشامی ، کولمبس کے افعال ناپسندیدہ ، ریڈ انڈینز کے خون ناحق اور ان سے بزورِ طاقت چھنی گئی زمینوں پر رکھی گئی ہے ۔ جمہوریت ، برابری ، آزادی ، انصاف اور انسانی حقوق کی جو اقدار آج امریکہ کا امتیاز قراپائیں، ریڈ انڈینز اور کالے امریکیوں کو 1965 ء تک ان سے محروم رکھا گیا ہے ۔ ملکوں ملکوں جمہوریت انسانی حقوق اور آزادی پر سب سے بڑا ڈاکہ بھی یہیں پڑا ۔
کیا عجب کہ شاید اسی وجہ سے نہ کسی کو امریکی جمہوریت راس آتی ہے کہ یہ قتل آمادہ اورقہر زدہ ہے نہ امریکی امداد واسباب کہ یہ نحوست زدہ اور بدعا یافتہ ہیں ۔ اکیسوی صدی کے آغاز سے ہی افغانستان اور عراق اس کی خونی گرفت میں ہیں ۔ قرائن کہتے ہیں کہ اس صدی میں مسلم امہ اس کا سب سے بڑشکار ہوگی اور شواہد کی رو سے دہشت گردی کی آخری جنگ ، آخری معرکہ پاکستان میں ہوگا ۔
Key.2 ۔ زہریلا صنعتی فضلہ اور امریکہ کا شرمناک کردار:
کیڑے مار ادویات کے ساتھ ساتھ ایک اور مسئلہ بھی عالمی پریشانی کا سبب بناہوا ہے ۔ یہ ہے زہر یلے صنعتی فضلے کامسئلہ ، جوترقی یافتہ ممالک ،تیسری دنیا کے ممالک میں پھینک دیتے ہیں ۔ 1980 ء کے عشرے میں ذرائع ابلاغ کی گئی رپورٹوں اور متعدد کتابوں نے اس معاملے کی سنگینی کا انکشاف کیا تھا او راس کے بعد بین الاقوامی کمیونٹی معاہدہ جو 1992 ء میں منظر عام پر آیا ۔ اس معاہدے کے تحت خطرنات صنعتی مواد ترقی پذیر ممالک میں نہیں پھینکا جاسکتا ۔ اس معاہدے کی وجہ سے یہ سلسلہ کسی حد تک کم ہوگیا ہے ، پھر بھی کہاجاتا ہے کہ اس معاہدے میں کچھ خامیاں موجود ہیں ، جن کی وجہ سے کمپیوٹر ز اور موبائل فونز کے کروڑوں پرزے اب بھی چھوٹے ممالک میں پھینکے جارہے ہیں ، جبکہ ان پرزوں میں زہریلے کیمیکلز ہوسکتے ہیں ۔ ترقی پذیر اور تیسری دنیا کے ممالک میں کمپیوٹر اور موبائل ٹیکنالوجی کے فروغ کا واویلا کرکے یہ زہر یلے کیمیکلز دھڑا دھڑ پھینکے جارے ہیں ۔ دنیا کے بیشتر ممالک نے ” باسل کنونشن ” پر دستخط کردیئے ہیں لیکن امریکہ نے اب تک اس پر دستخط نہیں کئے ہیں ۔ امریکی زہر یلے مواد کے نقصانات مندرج ذیل میں بیان کئے جاتے ہیں :۔
۱۔ دنیا بھر میں زہر کی تقسیم :
کئی عشروں سے امریکہ اس ہولناک کام میں مصروف دکھائی دیتا ہے ۔ اسے اگر ” زہر کی تقسیم ” کہا جائے تو شاید بہت زیادہ غلط نہ ہوگا ۔ گزشتہ کئی عشروں سے امریکہ کی بڑی بڑی کمپنیاں ایسے کیمیائی مادے اور مصنوعات تیسری دنیا کے ممالک میں بھیج رہی ہیں ،جو زہر یلی ہیں یا انسانی صحت کیلئے بے حد نقصان دہ ہیں ۔ امریکی کانگریس نے اور امریکہ کے مختلف صدور نے غریب ممالک میں زہریلے مادے پھینکنے کے اس سلسلے کو روکنے کیلئے کبھی مؤثر اقدامات نہیں کیے ہیں ۔ ا س کا نتیجہ یہ ہے کہ لاکھوں لوگ مارے جاچکے ہیں یا بے حد خراب صحت کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔
۲۔ کیڑے مار ادویات سے ہونے والی ہلاکتیں :
امریکی صنعت ہر سال 30ارب ڈالر مالیت کا زہر یلا اور خطرناک مادہ تیار کرتی ہے ۔ اربوں ڈالر مالیت کی ان مصنوعات کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ ترقی پذیر دنیا میں کیڑے مار ادویات کی ہلاکت خیزی کا اندازہ اس رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے جس کے مطابق ہر آٹھ میں سے ایک کسان اس سے بری طرح متاثر ہوتا ہے یا موت کی دہلیز پر پہنچ جاتا ہے ۔ ایک اور تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ کیڑے مار ادویات کی وجہ دنیا بھر میں جتنی اموات ہوتی ہیں ان میں سے 99 فیصد غریب اور چھوٹے ممالک میں ہوتی ہے
بچے ان زہریلے مادوں کی زد میں بہت جلد آجاتے ہیں ۔ ترقی پذیر دنیا کے 20 کروڑ لاغر بچے اپنی خراب صحت کی وجہ سے ان ادویات کے اثرات بہت جلد قبول کرلیتے ہیں ۔ کیڑے مارا ادویات اور زہریلے مادے فصلوں پر استعمال کرنے کیلئے کرنے کیلئے خریدے جاتے ہیں لیکن کسی نہ کسی مرحلے پر یہ انسانی جلد پر لگ جاتے ہیں ، ہاتھوں کے ذریعے خوراک کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ آنکھوں ، کانوں یا ناک تک پہنچ جاتے ہیں اور اس کے بعد بیماریوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ یہ زہریلے مادے کینسر اور دیگر ہلاکت خیز بیماریوں کا سبب بنتے ہیں جس کی بدولت بعض اوقات جسم کی قوت مدافعت ختم ہوجاتی ہے ۔ اسپرے کرنے کے دوران یہ سانس کے ذریعے انسانی جسم میں چلے جاتے ہیں ، فصلوں کے راستے انسانی معدے تک پہنچ جاتے ہیں اور زمین میں جذب ہو کرزیرزمین موجود پانی کا حصہ بن جاتے ہیں ۔
Key.3۔ میڈیا کے ذریعے دنیا پر کنٹرول:
بیسوی صدی کے دوران امریکہ نے دنیا کی رائے کو اپنی مرضی سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ایک بالکل نیا ہتھار استعمال کیا۔
(یہ ہتھیاار ٹیلی ویژ ن تھا)۔ انسان کی بہت کم ایجادات ایسی ہیں جو ہماری روز مرہ کی زندگی پر ٹیلی ویژن سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں ۔ آج کی دنیا کو غور سے دیکھیں تویوں لگتا ہے کہ ثقافتی گلوبلائزیشن میں انٹر نیٹ اور ہالی وڈ سے بھی کہیں زیادہ امریکی ٹیلی ویژن نے کنٹرول حاصل کررکھا ہے ۔ آج سے لگ بھگ 80 برس قبل جب پہلی بار ٹیلی ویژن منظر عام پر آئے تھے ، اس جادو گر ایجاد کی فروخت نت نئے ریکارڈ قائم کرتی آئی ہے ۔ ایک انداز ے کے مطابق اب تک کرہ ء ارض پر ایک ارب ٹیلی ویژن سیٹ فروخت ہو چکے ہیں ۔ گزشتہ صدی کے آخری تین عشروں میں ٹیلی ویژن سیٹوں کی فروخت نے بالکل نئے ریکارڈ قائم کئے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ آبادی رکھنے والے ملک چین میں 1960 ء اور 1994 ء کے دوران فروخت ہونے والے ٹیلی ویژن سیٹوں کی تعداد چند ہزار سے 26 کروڑ تک جاپہنچی ہے ۔چین کے اپنے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 1975 ء میں ٹیلی ویژن دیکھنے والوں کی تعداد 6 کروڑ سے بھی کم تھی ، لیکن 1994 ء میں یہ تعداد 90 کروڑ تک جاپہنچی ۔ دنیا بھر میں ٹیلی ویژ ن ہر جگہ اور ہر گھر میں چل رہاہے ۔
بچوں پر ٹی وی کے مہلک اثرات :
بچوں پراس ٹیلی ویژن کے بے حد مہلک اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ وہ بچے جو اب سے ۵۰برس قبل صحت مند کھیلوں میں حصہ لیتے تھے ، آج ماردھاڈ سے بھرپور کارٹون دیکھ رہے ہیں یا ویڈیو گیمز کے ذریعے طوفانی رفتار سے گاڑیاں دوڑا رہے ہیں ، اندھا دھند بمباری کررہے ہیں ، اسکرینوں پر موجود فرضی دشمنوں کو ہلاک کررہے ہیں ۔خوفناک بات یہ ہے کہ زیادہ ٹی وی دیکھنے والے بالعموم ایک ہی جیسی رائے رکھنے لگے ہیں ، یعنی یکساں رائے جو ٹیلی ویژن کے ذریعے ان کے دماغوں میں داخل ہوتی ہے ۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو بہت کم ٹی وی دیکھتے ہیں ، مختلف متضاد یا منفرد رائے رکھتے ہیں ۔
ٹی وی اور سیاست :
ٹیلی ویژن خاموشی سے دنیا کی سیاسی رائے یکساں اور ہم آہنگا کرنے کا آپریشن سرانجام دے رہا ہے جس کے نتیجے میں کوئی مخالفانہ نکتہ نظر پیدا نہیں ہوپاتا ۔ امریکہ نے اس صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ اُٹھا یا ہے جس کی وجہ سے میڈیا کے راستے انسانی ذہنوں میں داخل ہونے والے خیالات اور اقدار کو نیا عالمی میعار سمجھا جانے لگا۔
ٹیلی ویژن کے ساتھ زندگی گزارنے والے لوگ اسکرین پر جو دکچھ دیکھتے ہیں ، اس پر بہت تیزی سے یقین کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں اور ان کی رائے کوکسی اور کی مرضی کے مطابق تبدیل کرنا بہت آسان ہوجاتاہے ۔ اس کا انداز ہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ۲۰۰۶ء کے وسط میں ایک پاکستانی پرائیویٹ ٹی وی چینل پر حدود آرڈیننس کے حوالے سے مذاکروں اور مباحثوں کا سلسلہ شروع کیا گیا جس کا مقصد اس کے خلاف پروپیگنڈہ کرکے اس کے خلاف رائے عامہ ہموار کرناتھی ۔ جب فضا سازگار ہوگئی توپھر قومی اسمبلی میں حدود آرڈیننس میں ترمیم کا بل لایا گیا اور اسے منظور کرنے کے بعد ” تحفظ حقوق نسواں ایکٹ ” کے نام سے نافذ کردیا گیا۔
ٹی وی اور دہشت گردی :
دہشت گردی کا خطرہ بھی وہ پیغام ہے جو دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچایا جارہا ہے ۔ یہ ایجنڈا تیار کرنے والوں کی خواہش ہے کہ دنیا بھر کے عام لوگ ایسے خطروں سے مسلسل تشویش میں مبتلا رہیں ، مسلسل فکر مندرہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ زیادہ ٹی وی دیکھتے ہیں وہ دنیا کو زیادہ غیر محفوظ جگہ تصور کرتے ہیں ، جبکہ ٹی وی نشریا ت کو کبھی کبھی دیکھنے والے لوگ ایسے خدشات کے باعث زیادہ تشویش میں مبتلا نظر نہیں آتے ۔ یہ صورتحال سب کیلئے خطرناک ہے ۔ جمہوریت کیلئے بھی ، دنیا میں امریکہ کے مقام کیلئے بھی اور خود کرہ ء ارض کیلئے بھی ۔
Key.4 ۔ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ :
جب امریکی صدر جارچ ڈبلیو بش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا ، تو بیشتر امریکیوں نے 11 ستمبر 2001 ءکو پیش آنے والے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے حادثے کے بعد القاعدہ کے خلاف کاروائی کرنے کی حمایت کی تھی ۔ یہ گو یا دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والی نئی جنگ کی حمایت تھی ۔ اس وقت ایسا لگتا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک بے حد ضروری کام ہے ، تاہم یہ جنگ کیسے لڑی جائے گی ، میدان کا رزار کہاں سے کہاں تک وسیع ہوگا اور اس جنگ میں حتمی کامیابی کیسے حاصل کی جائے گی ؟یہ سب اس وقت واضح نہیں تھا ۔ (اور اب بھی واضح نہیں ہو رہا بلکہ یقینی ناکامی ہورہی ہے )
جن علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ نے ایک باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کی ہے ، مثلاً افغانستان اور عراق ، وہاں دہشت گردی پر قابو پانے کے مقاصد میں بہت محدود سطح کی کامیابی حاصل ہوئی اور بیشتر واقعات میں تویہ کامیابی سرے سے حاصل ہی نہیں ہو سکی۔
افغانستان پر حملے کے دو مقاصد :
افغانستان میں جب جنگ شروع ہوئی تو امریکی فوجی کارووائی کے دومقاصد تھے ۔ پہلا یہ کہ حکومت کو تبدیل کیا جائے اور دوسرا یہ کہ افغانوں کو بحیثیت قوم متحد، یکجا اور طاقت ور بنایا جائے ۔ افغانستان میں ہونے والی جنگ کے نتیجے میں وہاں کی حکومت تو بدل گئی اور طالبان رخصت ہو گئے حالانکہ حکومت کی اس تبدیلی کا سبب امریکی کاروائی نہیں بلکہ افغان حلقوں کی باہمی محاذ آرائی تھی ۔( امریکی چھتری کے نیچے قائم ہونے والی کرزئی حکومت پہلے مخصوص علاقوں تک اور اب صرف کابل کے صدراتی محل تک محدود ہے اور امریکی واتحاد ی افواج بھی افغان علاقوں کو کنٹرول کرنے میں اب تک ناکام ہیں )لیکن طویل عرصے تک جاری رہنے والی فوجی کاروائی کے باوجود افغان قوم کو متحد اور طاقت وربنانے کا خواب آج تک پورا نہیں ہوسکا ۔ (بلکہ ایک طویل عرصے بعد طالبان کی حکومت کے زیر سایہ متحدہونے والی قوم امریکی حملے کے بعد پھر منتشر ہوگئی اور اب خانہ جنگی کی صورت حال کا سامنا کررہی ہے) ۔
انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں :
دہشت گردی کے خلاف جنگ ان دو ممالک کے سوا جہاں بھی لڑی گئی ، سراسر ناکام ثابت ہوئی ۔ محنت ضائع ہوئی ، بے پناہ پیسہ خرچ ہو اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئیں ۔ ان سب اقدامات کے مقابلے میں اگر کوئی کامیابیاں حاصل ہوئیں تو وہ بے حد معمولی نوعیت کی تھیں اور اس قدر غیر اہم تھیں کہ اب ان کا ذکر بھی نہیں کیا جاتا ۔ یورپ میں اور بعض دوسرے علاقوں میں دہشت گرددی کے خلاف جنگ کے نام پر کچھ مسلمانوں کو گرفتار یا نظر بند کیا گیا جن کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ بے حد خطرناک لوگ تھے ۔
تاہم یورپ میں مشتبہ لوگوں کی گرفتاری خاصے قانونی طریقوں سے کی گئی ۔یورپ نے غالباًیہ مناسب نہیں سمجھا کہ ایسے چھوٹے سے کام کیلئے کوئی جنگ شروع کی جائے ۔ یورپ میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خاصی غلطیاں کیں ۔ لندن کے زیر زمین ریلوے اسٹیشن میں پیش آنے والاوہ واقعہ سب ہی کے علم ہے جب پولیس نے ایک آدمی کا تعاقب کرکے اسے دہشت گردی کے شبہ میں گولیاں مار کر ہلاک کردیاجبکہ بعد میں پتہ چلا کہ وہ برازیل سے تعلق رکھنے ولا ایک عام آدمی تھا اور اس کا دہشت گردی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔
امریکہ ہر ایک سے جنگ لڑرہا ہے :
یہ ایک بے حد مہنگی جنگ ثابت ہوئی ۔ ایک جانب ا س میں اب تک کھربوں ڈالر خرچ ہوچکے ہیں اور دوسری طرف اس کے نتیجے میں امریکہ ایک عجیب وغریب ملک بن کر دنیا کے سامنے آیا ہے ۔ لوگ ایسے امریکہ کو دیکھ رہے ہیں جو ہر ایک سے جنگ لڑرہا ہے ۔ اپنے آپ سے ، اسلام سے ، اپنے قدیم ترین اتحادیوں سے اور بین الاقوامی قانون سے جو ہماری دنیا پر حکمران ہیں ۔
تشدد۔۔۔۔انسانوں کے خلاف سب سے خوفناک ہتھیار :
تشدد ایک عجیب وغریب ہتھیار ہے ۔ دنیا کاکوئی بھی انسان اس کے استعمال کی حمایت نہیں کرسکتا ہے ۔ عقل وفہم تشدد کے استعمال کو برا سمجھتی ہے ۔ اخلاقیات کے کسی بھی پیمانے میں ، مختلف ممالک میں ، یہ کسی خوفناک عفریت کی طرح لوگوں کو اپنے شکنجے میں جکڑلیتا ہے
دنیا کے کروڑوں ، اربوں عام لوگ شاید اس تکلیف کا اندازہ نہیں کرسکتے جو مختلف قیدخانوں میں ہونے والے تشدد کے نتیجے میں کچھ لوگوں کو بھگتنی پڑتی ہے ۔ (جیسا کہ گوانتا موبے اور ابو غریب جیل عراق میں مسلمانوں کو انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ظلم وستم کی انتہاکردی گئی ۔ تشدد ایک ایسی قابل نفرت چیز ہے جس سے دنیا کا کوئی بھی باشعور آدمی محبت نہیں کرتا۔ لیکن امریکہ نے تشدد کو جس طرح ایک عام سی بات ، ایک روز مرہ کا معمول بنایا ہے وہ حیرت انگیز محسوس ہوتا ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ کو نڈولیزا رائس جب یورپ گئیں تو انہوں ” مشتبہ لوگوں ” کو حراست میں لینے کے اُ ن واقعات کا دفاع کرنے کی کوشش کی جن میں گرفتار کئے جانے والوں کو خفیہ قید خانوں میں بھیج دیا گیا تھا ۔ ایسے خفیہ قید خانوں میں ، جن کی دنیا کو خبر ہی نہیں تھی ۔
امریکی مظالم وتشد د کے افسوس ناک نتائج :
تشدد کی حمایت کرنے اور تشدد میں ملوث رہنے کا عمل اخلاقی اعتبار سے افسوسناک ہونے کے ساتھ ساتھ ان بلند آہنگ دعوؤں اور نعروں کے خلاف بھی ہے ، جن کا پرچم امریکہ اٹھائے رکھتا ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی بھی ہے ۔ لیکن ا سکے ساتھ ہی یہ حقیقت مزید پریشان کن ہے کہ لوگوں پر تشدد کرنے ، انہیں اذیت سے دوچار کرنے سے خاطر خواہ نتائج کبھی برآمد نہیں ہوتے ۔
جن لوگوں کے پاس واقعی بہت اہم معلومات ہوتی ہیں ، وہ کسی بھی قیمت پر اپنی زبان نہیں کھولتے (بلکہ جن لوگوں پر تشدد کیا جاتا ہے خود ان کے اور ان کے اہل خانہ ، قوم اور اہل وطن کے اندر تشدد کرنے والوں کے خلاف نفرت پیدا ہوجاتی ہے اور ان کے خلاف کسی بھی کاروائی سے دریغ نہیں کرتے ) اس کے برعکس جو لوگ زبان کھولتے ہیں وہ مارپیٹ جلائے جانے تشدد کے دیگر طریقوں سے بچنے کیلئے دراصل کچھ بھی کہ دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے سانحے کے بعد امریکہ میں متعدد بار ہنگامی حالات کا اعلان کیا گیا ۔ گرفتار کئے جانے والے بے ضرر افغان قیدیوں پر بے تحاشا تشدد کیا گیا اور انہوں نے تشدد کے عذاب سے بچنے کیلئے کوئی بھی بات کہہ ڈالی ۔ تشد د کرنے والوں نے یہ سمجھا کہ وہ کوئی قیمتی راز اگلوانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ انہی بے سروپا معلومات کی بنیاد پر ملک میں بار بار ہنگامی حالات کا اعلان کیا جاتا رہا۔ تقتیش کرنے کے طریقوں کے ایک ماہر امریکی جنرل ڈیوڈ ارون کا کہنا ہے ” اب تک کوئی بھی شخص اس بات کا جامع ثبوت پیش نہیں کر سکا کہ تشدد کے نتیجے میں قابل بھروسہ معلومات حاصل ہوسکتی ہیں” ۔
Key.5 ۔ نمبر ون بننے کا خبط۔۔اصل حقائق کچھ اور ہیں :
یہ سوچ اور جذبہ عجیب وغریب ہے ۔ خود کو نمبر ون قرار دینے کا جذبہ امریکہ میں حکومتی سطح پر ہی نہیں ، عوامی سطح پر بھی نہایت شدید نظر آتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ رویہ امریکیوں کی نفسیات کا حصہ بن گیا ہے ۔ ایک حد تک تو شایددنیا کی تمام اقوام ہی تفاخر کے جذبے سے سرشار ہوتی ہیں ۔ ہر ملک دیگر ممالک سے آگے نکلنے کی آرزو رکھتا ہے اور قوم دوسری اقوام کو ہر میدان میں شکست دینے کیلئے بے قرار رہتی ہے ۔
یو ایس اے ، یو ایس اے کے نعرے :
امریکیوں میں خود کو نمبر ون سمجھنے کا رویہ کچھ زیادہ عجیب وغریب ہے ۔ یہ امریکی ثقافتی نفسیات کا حصہ بن چکا ہے اور اس میں بد تہذیبی کا عنصر بھی شامل ہو چکا ہے ۔ پہلی نظر میں تو یہ بہت قابل اعتراض بات نہیں لگتی ۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اولمپکس مقابلے ہورہے ہوں اور تماشائیوں سے بھرے اسٹیڈیم میں ” یو ایس اے ، یو ایس اے نعرے لگ رہے ہوں ۔ لیکن بات محض ا س مفروضہ منظر تک ہی محدود نہیں رہتی ۔ یہ اس سے کہیں زیاد ہ وسیع اور بڑی بات بن جاتی ہے ۔ اس کے اثرات ہزاروں میل دور تک پہنچتے ہیں ۔ دنیا میں نمبر ون کہلانے کی اس خواہش کو دیکھ کر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا ہر بڑی سامراجی قوت اپنے آپ کو یہی سمجھتی ہے ؟کیا اس طرح بلند آواز میں اپنے دعوے پر اصرار کرتی ہے ؟ کیا ہر طاقتور سامراجی ملک اسطرح خود کو نمبر ون سمجھنے کی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے جیسے اس ملک کے جذبات سے واقف نہ ہونے والے یااس ملک کی شہریت نہ رکھنے والے لوگ اس شور غل سے متاثر ہو کر یہ مان جائیں گے کہ شور مچانے والا ملک واقعی نمبر ون ہے ۔
امریکہ کئی ممالک سے پیچھے ہے :
بعض شعبوں میں امریکہ واقعی نمبر ون ہے ۔ مثلاًصنعتی پیداوار کے معاملے میں امریکہ سب سے آگے ہے ۔ یہ سیاسی اثر ورسوخ کے معاملے میں اور فوجی اخراجات کے معاملے میں امریکہ سچ مچ نمبر ون ہے ، لیکن بعض شعبے ایسے بھی ہیں جہاں امریکہ دنیا کے بہت سے ممالک سے پیچھے ہے ۔ وہ شعبے مندرجہ ذیل ہیں :
۱۔ امریکہ ، خواندگی کے شعبے میں دنیا میں 49 ویں نمبر پر ہے ۔
۲۔ حساب کی خواندگی کے شعبے میں دنیا کے 40 ممالک میں امریکہ کا نمبر 28 واں ہے ۔
۳۔ بڑے صنعتی ممالک کی فہرست میں علاج معالجے کے معیار اور فراہمی کے شعبے میں امریکہ کا شمار سب سے آخر میں ہوتا ہے ۔
۴۔ میکسیکو کے سوا دنیا کے تمام ترقی یافتہ ملکوں کی نسبت امریکہ میں غربت کی زندگی گزارنے والے بچوں کی شرح سب سے زیادہ ہے ۔
۵۔ دنیا کے سب سے کامیاب بینکوں اور سب سے بہتر طریقوں سے چلائی جانے والی بیشتر کمپنیوں کا تعلق یورپ سے ہے ۔
۶۔ بین الاقوامی تحقیقی جریدوں میں شائع ہونے والے امریکی ماہرین کے سائنسی مضامین کی شرح بہت تیزی سے کم ہو رہی ہے ۔
۷۔ نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کی شرح کے اعتبار سے امریکہ کا شمار دنیا میں 41 ویں نمبر پر ہوتا ہے ۔
Key.6 ۔ بے مقصد جنگیں برپا کرنے کا امریکی مشغلہ :
مختلف خطوں اور علاقوں میں بے مقصد جنگیں شروع کرانا امریکی حکام کا برسوں کا پرانا مشغلہ رہا ہے ۔
دنیا میں تباہی اور گڑ بڑپھیلانے کے بارے میں اگر کوئی تجزیہ نگار سنجیدگی سے تحقیق کا آغاز کرے تووہ کراہ ء ارض پر جگہ جگہ امریکی فوجی مداخلت اور اس کے نتیجے میں شروع ہونے والی جنگوں کی تباہی کو نظر انداز نہیں کرسکے گا ۔ ہر امریکی فوجی مداخلت کا نتیجہ خون ریزی نکلاہے یا اس کے خراب نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔ بعض اوقات تو خون ریزی بھی ہوئی ہے اور خراب نتائج بھی نکلے ہیں ۔
امریکی مداخلت کی ہر داستان ایسی جانی پہچانی ہے کہ اس پوری داستان کو، اس میں پیش آنے والے واقعات کو، اس کے مکالموں کو اور اس کے نتائج کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں ۔ ہر مرتبہ ایک جیسی باتیں دہرائی جاتی ہیں ۔ کبھی کسی جگہ کمیونسٹوں کو شکست دینامقصود ہوتا ہے ، بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہاں کمیونسٹ تھے ہی نہیں کبھی کسی خرابی کو درست کرنے کیلئے امریکی فوجوں کو کودنا پڑتاہے اور بالعموم اس کے بعد پیدا ہونے والی مزید خرابیوں پر جگہ جگہ امریکی فنگرپرنٹ ہی نظر آتے ہیں ، کبھی کسی ایسے صدر کی ساکھ کو سنبھالا دینے کیلئے امریکہ کومیدان عمل آنا پڑتا ہے ۔ جو اپنی ظالمانہ کاروائیوں یا ناقص کارکردگی کے باعث بے حد غیر مقبول ہوچکا ہوتا ہے ۔
ایسے حکمران بالعموم امریکہ کی مدد سے اپنے اپنے ملکوں میں تھوڑی بہت خون ریزی کرکے اور چند ہزار لوگوں کر مار کر اپنے اقتدار کو بچالینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ (اس کی واضح مثال پاکستان ہے ، جہاں اکتوبر 1999 ء میں برسراقتدار آنے والافوجی آمر بتدریج اپنی مقبولیت کھوچکا ہے ، لیکن امریکہ اپنے مقصد کے حصول کیلئے اسے ہر ممکن سہارا دیتا رہا اور اسکے نارواقتدار کو طول دینے کیلئے تمام ذرئع بروئے کار رلا ئے جو ناکام ہوئے جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں )۔
عراق میں 1991 سے آج تک کے حالات پر ایک نظر :
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی مداخلتوں کی تعداد لاطینی امریکہ کے مقابلے میں ذراکم رہی ہے ۔ امریکہ بہر طور اس علاقے میں ہمیشہ ملوث رہا ہے ۔ شاہِ ایران کے دور میں بے پناہ فوجی ساز وسامان ایران کو دیا گیا ۔ اسی طرح سعودی عرب ، ترکی ، مصراور دیگر ممالک کو بھی امریکی ساز وسامان ملتا رہا۔ دیکھا جائے تو مشرق وسطیٰ میں امریکی دلچسپی کاسبب تیل رہا ہے ۔ سوویت یونین بھی اسی تیل میں دلچسپی لیتا تھا ۔ لہذا امریکہ اس خطے میں ہمیشہ بہت چوکس اور مستعد رہا ہے ، تاہم 1991 ء سے قبل مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کبھی نہیں اُترے تھے۔(آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم )کے وقت پہلی بار امریکی فوجی مشرق وسطیٰ کی سرزمین پر اُترے ۔ یہ آپریشن اُس وقت کیا گیا جب صدام حسین کو کویت چھوڑ نے کیلئے الٹی میٹم دیا گیا ، جسے صدام حسین نے ماننے سے انکار کردیا ۔ اس کے نتیجے میں آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم شروع ہوا۔ خیال تھا کہ یہ کوئی بہت خوفناک جنگ ہوگی ۔ لیکن یہ جنگ بہت جلد ختم ہوگئی ۔ صدام حسین کی فوجوں نے پسپاہونے کا فیصلہ کیا ۔ پسپا ہونے والے عراقی فوجیوں پر حملے کئے گئے اور ہزاروں کو ماردیا گیا۔
اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے ۔ عراق کو تنہا کردیاگیا ، ہر طرح کی امداد بند کردی گئی ، پانچ لاکھ سے زائد بے گناہ لوگ مارے گئے اور یہیں سے عراق کے خلاف اُس دوسری جنگ کی بنیاد پڑی جو 2003ء میں شروع ہوئی اور آج تک جاری ہے ۔
انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نظر انداز :
دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک انڈونیشیا بھی ایسا ہی ایک ملک ہے ۔ پاکستان اور انڈونیشیا دونوں ہی برسوں تک امریکہ سے بہت اچھے تعلقات رکھنے والے ممالک سمجھے جاتے ہیں ۔ ان دونوں ملکوں کے امریکہ سے اتنے قریبی تعلقات تھے کہ ان کے خطے میں موجود امریکہ مخالف ممالک کے خلاف ان کی کاروائیوں کے عوض امریکہ ان دونوں ممالک میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو معصومیت سے نظر انداز کردیتا تھا ۔
Key.7 ۔ دنیا پر پسند کی جمہوریت نافذ کرنے کا امریکی اصرار :
امریکہ دنیا میں ہر جگہ جمہوریت کی حکمرانی دیکھنے کیلئے بے حد بے قرار نظر آتاہے ۔
آپ کو یاد ہوگا کہ امریکی صدر جارج ڈبلیوبش نے ” عظیم ترمشرق وسطیٰ کی جانب پہلا قدم ” نامی ایک پروگرام کا بہت زور وشور سے آغاز کیا تھا ۔ ان کاکہنا تھا کہ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس کے تحت سرزمین عرب کی ان مملکتوں کو جمہوریت سے اورجمہوریت کے فوائد سے مستفید کیا جاسکتا ہے ، جو کبھی کسی نو آبادیاتی طاقت کے قبضے میں رہی ہیں اور کبھی کسی آمریت کے زیر اثر رہی ہیں ۔ صدر جارج بش کا کہنا تھا کہ ہم مشرق وسطیٰ کی سرزمین کو جمہوریت کی روشنی سے منور کرنا چاہتے ہیں اور اس عظیم منصوبے کا مقصد جمہوریت کے فوائد ان ممالک تک پہنچانے کے سواکچھ نہیں ۔
جمہوریت کو نافذ کرنے کی خواہش میں دو خرابیاں :
جمہوریت کو نافذ کرنے کی اس خواہش میں دو بنیادی خرابیاں ہیں ۔ ایک تو یہ ہے کہ جو لوگ جمہوریت کو نافذ کرنا چاہتے ہیں ، وہ بہت جلد ی میں دکھائی دیتے ہیں اور بے پناہ طاقت کے ساتھ اپنے نظریات کو دوسرے خطوں میں لاگو کرنا چاہتے ہیں ۔ دوسری خامی یہ کے کہ ان کا نظریہ بے حد تنگ نظری پر مبنی نظر آتا ہے ۔ ان دونوں خامیوں کی وجہ سے جمہوریت کی جڑیں مضبوط نہیں ہو پاتیں اور اس کے نتیجے میں وہ اس طرح پھل پھول نہیں سکتی جیسے ہم تصور کرتے ہیں ۔ امریکہ نے جمہوریت کے تصور کو جو چمک دمک اور جو عجیب وغریب تقدس بخشا ہے اس کی وجہ تو سمجھ آتی ہے ۔ امریکہ اپنے جمہوری تصورات ، جمہوری اداروں اور جمہوری عمل کی کامیابی اور عظمت کے نشے میں سرشار رہتاہے ۔ ایک حد تک یہ جائز بھی ہے ، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اس سرشاری میں دنیا کے ان خطوں کو بھی شریک کرنا چاہتا ہے جو امریکہ کی طرح خوش قسمت نہیں ہیں۔
دنیا امریکیوں کی ہر چیز سے نفرت کرتی ہے :
یہی جارج بش کی سب سے خوفناک ناکامی ہے ۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے سانحے کو تاریکی کے خلاف دہشت گردی کی سیاہ قوتوں کے خلاف ، اقوام عالم کو متحد کرنے کا ایک موقع بنایا جاسکتا تھا ۔ انسان دشمن قوتوں کے مقابلے میں ساری دنیا کو یکجا کیا جاسکتا تھا ۔ اس کی بجائے کیا کیا گیا ؟ یہ کہا گیا کہ ” تم ہمارے ساتھ نہیں ہو تو ہم دہشت گردوں کے حامی ہو” ۔ دنیا کو متحد کرنے کی بجائے گوانتا نا موبے جیسے قید خانے قائم کئے گئے ۔ مظالم ڈھائے گئے ، ابو غریب جیل جیسے واقعات سامنے آتے گئے ۔ امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کو نظر بند کیا گیا اور عراق میں عام شہریوں کو اندھا دھند قتل کیا گیا ۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟وہ دنیا جو ایک زمانے میں امریکہ کا احترام کرتی تھی ، آج اہم امریکیوں کی ہر چیز سے نفرت کرتی ہے اور اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔
Key.8 ۔ امریکہ کی دوسرے ممالک میں تباہی ، اپنی سرزمین پر تعمیر وترقی :
دنیا کو طرح طرح سے نقصان پہنچانے والا امریکہ ، خود امریکیوں کیلئے کیسا ہے ؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ساری دنیا کو حیرت میں مبتلا رکھتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ خود اپنے لئے ایک بہت حیران کن اور شاندار ملک ہے ۔ آپ امریکی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرسکتے ہیں مگر امریکی عوام کی تعریف کئے بنا نہیں رہ سکتے ۔ امریکہ کی اتنی بہت سی خرابیوں کا جائزہ لینے کے بعد اگر امریکہ کی خوبیوں پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ نے کئی شعبوں میں بہت عمدہ مثالیں بھی قائم کیں ۔ موسیقی اور آرٹ میں ، طب اور سائنس میں ، تعلیم اور یجادات میں ، متعدد شعبوں میں امریکہ سب سے نمایاں ، سب سے ممتاز نظر آتا ہے ۔ یہ کئی شعبوں میں سب سے آگے رہا ہے اور متعدد بار اس نے اپنی سبقت کو نہایت روشن خیالی کے ساتھ ، بہت فیاضی کے ساتھ استعمال کیا ہے ۔ اس کی خوبیاں ، اس کے اندر پوشیدہ طاقت اور اس کے اپنے پیمانے ۔۔یہی وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے یہ ا س وقت خود ہم امریکیوں کی تنقید کا نشانہ نہیں بنتا ہے ، جب یہ کسی خاص معیار پر پورا اُترنے سے قاصر رہتاہے ۔
امریکی صنعت ہی امریکی حکومت ہے :
صاف نظر آرہا ہے کہ ” دہشت گردی کے خلاف جنگ ” دراصل وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے دفاعی ساز وسامان کی صنعت امریکی خزانے میں مزید لوٹ مار کرسکتی ہے ۔ امریکہ کے فوجی بجٹ کے بار ے میں بحث نہیں کی جاتی جس سے یہ بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ دفاعی ساز وسامان کی امریکی صنعت کامیاب ہو چکی ہے ۔ شاید اس لئے کہ یہ صنعت ہی دراصل امریکی حکومت ہے ۔ یہی وہ بات ہے جو سب سے زیادہ تشویش ناک ہے ۔
کتا ب کا خلاصہ :
زیر نظر کتاب میں مصنف جان ٹرومین نے امریکی پالیسیوں اور امریکہ کے مسلم امہ پہ ہونے والے مظالم سے آگاہ کیا ہے ۔
بظاہر تو یہ بات بڑی عجیب اور مضحکہ خیز لگتی ہے کہ دنیا میں امریکہ کے کردار کو ایسے غیر محترم انداز میں پیش کیا جائے ، مگر اس میں ایک سنجیدہ نکتہ بھی پوشیدہ ہے کہ کسی بھی بے حد طاقتورقوم کی طرح ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے بھی بے شمار طریقوں سے دنیا کو اپنے دباؤاور قبضے میں لے رکھا ہے ۔ اس کی ثقافت اور اسکی تیارکردہ مصنوعات دنیا بھر کی ثقافتوں پر اور خریداروں کی پسند پر اثرانداز ہوتی ہے ۔ اس کا بے حد مضبوط اقتصادی ایجنڈا دنیا کے ایسے ان گنت اداروں کو زبردستی گھول کر پلایا جاتاہے جو عالمی تجارت کو کنٹرول کرتے ہیں ۔
عصر حاضر میں طاغوتی طاقتوں اور سرکش اقوام کی قیادت امریکہ کے ہاتھ میں ہے ، یہ ایک طویل عرصے سے دنیا کو تباہی وبربادی سے دوچار کررہا ہے اور آئندہ بھی اس نے کئی گناہ زیادہ ہلاکت خیز عزائم اور منصوبے بنارکھے ہیں ۔ اگر چہ گزشتہ دو دہائیوں سے پوری انسانیت خصوصاًامتِ مسلمہ کے ظلم وستم سہہ رہی ہے اور باشعور طبقہ اس سے بخوبی واقف ہے ، لیکن امریکہ اوریورپ کی ” ترقی تہذیب وثقافت ، جدید ٹیکنالوجی اور انسانیت نواز دعوؤں ” سے متاثر ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے جو امریکہ اور اس کے ہمنواؤں کو مہذب اور انسان دوست جبکہ ان طاغوتی طاقتوں کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کو انتہاپسند اور دہشت گرد سمجھتا ہے ۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ کتاب امریکی مزاج ، کردار ، عزائم اور منصوبوں کو سمجھنے اور ان کا سدباب کرنے میں معاون ثابت ہوگی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں