PM-Imran-Khan 62

عمران کیخلاف دہشتگردی کا الزام ختم، دیگر واقعات کے تحت کیس چلے گا، مقدمہ انسداد دہشتگردی عدالت سے سیشن کورٹ منتقل کیا جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے خاتون جج اور پولیس افسران کو دھمکیوں سے متعلق کیس سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعہ نکالنے کا حکم جاری کر دیا۔

عدالت نے مقدمہ انسداد دہشتگردی عدالت سے سیشن کورٹ منتقل کرتے ہوئے کہا کہ دیگر دفعات کے تحت کیس چلے گا، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تقریر کے علاوہ ان کیخلاف کچھ نہیں، انسداد دہشت گردی قانون کا غلط استعمال ہوتا رہا، اگر تقاریر پر ایسے پرچے درج کرائینگے تو ایک فلڈ گیٹ کھل جائے گا، عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا مقدمہ خوف کی فضا پیدا کرنے پر بنتا ہے، امکان پر نہیں،پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ کسی لیگل ایکشن کا نہیں بلکہ کہا گیا ایکشن لیں گے، ایس ایچ او کو بھی کہا جائے کہ تمہیں دیکھ لوں گا تو اسکے سنجیدہ اثرات ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں خاتون مجسٹریٹ زیبا چوہدری اور اعلی پولیس افسران کو دھمکیاں دینے پر سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے کچھ دیر بعد سنادیا گیا۔سماعت کیلئے عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر، پولیس پراسیکیوٹر راجا رضوان عباسی اور پولیس کے تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوئے۔ فیصلے کے مطابق سابق وزیر اعظم کیخلاف انسداد دہشتگردی کے سوا دیگر دفعات پر متعلقہ فورم پر کارروائی جاری رہے گی۔گزشتہ سماعت میں عدالت نے عمران خان کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر جے آئی ٹی سے آئندہ سماعت تک رپورٹ طلب کی تھی۔ پیر کو ہونے والی سماعت کی آغاز میں چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ جے آئی ٹی نے اس کیس میں کیا رائے دی ہے؟ پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ جے آئی ٹی نے عمران خان کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ درست قرار دے دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں