Mufti gulzar Ahmed Naeemi 94

تعلیمات صوفیاء کرام .۔شیخ الحدیث مفتی گلزار احمد نعیمی

تعلیمات صوفیاء کرام
٭۔شیخ الحدیث مفتی گلزار احمد نعیمی
اللہ رب العزت نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء ورسل کو اس دُنیا میں مبعوث فرمایا اور پھر ان کے بعد اہل اللہ کی ایک جماعت کے سپرد اللہ تعالی کے دین کی نشرواشاعت کا کام ہوا اور انہوں نے وہی طریقہ اور وہی راستہ منتخب فرمایا جوانبیاء ورسل کا تھا۔ جس راستے پر چل کر انبیاء ورسل نے اللہ تعالی کے پیغام کو انسانوں تک پہنچایا۔ جس طرح انبیاء ورسل نے انسانیت کی اصلاح کے لیے محبت اور درمندی کا راستہ اپنایا اسی طرح اہل اللہ نے بھی اسی راستے کا انتخاب کیا۔ اسی راستے پر چل کر انہوں نے انسان اور انسانیت کی ہدایت کے لیے اپنے شب وروز لگائے۔
رسو ل اللہ ﷺ کے اس دنیا سے ظاہری پردہ فرما جانے کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اس زمانے کے بہترین لوگ تھے کہ جنہوں نے بلاواسطہ رسول اللہﷺ سے اکتساب فیض کیا تھا اور پھر انہوں نے اپنے آپ کو کسی مخصوص نام کے ساتھ خاص کیا بلکہ اسی محبت والے نام کے ساتھ اور اسی عزت واحترام والے نام کے ساتھ اپنی پہچان کرائی۔ ان کی پہچان رسول اللہ ﷺ کے کاشانہ نبوت کے درودیوار کے ساتھ محبت ٹھہری۔ رسول اللہﷺ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنا ٹھہری۔ اس سے پہلے ان لوگوں نے کسی اور نام سے اپنی پہچان نہ کرائی بلکہ صحابی کے خوبصورت نام سے اپنی پہچان کرائی۔ اس جماعت کو صحابہ کرام کی جماعت کہا جاتا ہے۔ پھراس کے بعد ان لوگوں سے جنہوں نے اکتساب فیض حاصل کیا وہ تابعین کی جماعت کہلائی۔ اور جن لوگوں نے تابعین سے اکتساب فیض کیا وہ تبع تابعین کہلائے۔ یہ وہ تین زمانے ہیں جن زمانوں کو امت میں سب سے اچھے زمانے، سب سے زیادہ بار آور زمانے اور سب سے زیادہ ثمر آورزمانے تصور کیا جاتا ہے۔ علم، اخلاق او رزندگی کے سب سے خوبصورت ضابطوں کی ترویج واشاعت اس زمانے میں ہوئی۔ تبع تابعین کے بعد پھر لوگ گروہوں میں تقسیم ہوگئے،اختلافات کا شکار ہوگئے اور پھر اُمت تقسیم ہوتی چلی گئی۔ زہد او رعبدیت کے مقام پر جو لوگ فائز تھے ان کو زہاد اور عباد کہا جانے لگا۔ اس کے بعد پھر مزید اُمت میں افتراق اور انتشار پید اہوا۔ جہاں خلوص اور محبت تھی اس جگہ کو خود غرضی اور لالچ نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ وہ جگہ جہاں دوسروں کا خیال رکھا جاتا تھا دوسروں کی خواہشات اور دوسروں کی ضروریات کا خیال رکھا جاتا تو اس جگہ پر خود غرضی نے ڈیرے جما لیے۔ آخر وہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات جن کو صحابہ، تابعین، تبع تابعین نے پھیلایا تھا ان میں کمزوری آنا شروع ہوگئی۔لوگ ان تعلیمات سے دور ہونا شروع ہوگئے۔ ان تعلیمات کو چھوڑنا شروع کردیا اور زائل کی طرف منتقل ہونا شروع ہوگئے۔ اس دوران ایک ایسا گروہ نمودار ہوا جس نے آقا کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی سنتوں کا احیاء فرمایا۔ حضور ﷺ کی تعلیمات کو بالکل اسی طرح جس طرح صحابہ نے جس طرح تابعین نے اور جس طرح تبع تابعین نے پھیلایا ان لوگوں نے بھی اسی اندازسے تعلیمات رسول اللہ ﷺ کو پھیلایا اور ایک عظیم چیز جسے تصوف کہتے ہیں اس کی بنیاد رکھی۔ صوفی ازم جو آج کی ایک بہت بڑی اصطلاح ہے اس کے بانی یہی لوگ تھے جنہوں نے تصوف کی بنیاد رکھی او ریہ تصوف اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا ہی نام ہے۔ اللہ تعالی کے رسول ﷺ کے طریقے کا ہی نام ہے، اللہ تعالی کے رسول ﷺ کے زندگی گزارنے کا طریقہ تصوف ہے۔ اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات آپ کے قول، فعل اور تقریر پر عمل کرنے کا نام تصوف ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا قرآن وسنت سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہ کوئی ایسی تعلیمات نہیں ہیں جو اسلام اور دین سے ہمیں دور رکھتی ہوں۔ اس طبقے نے قرآن وسنت پر خود بھی عمل کیا دوسروں کو بھی عمل کی دعوت دی۔ محبت کی زبان، الفت کی زبان رسول اللہﷺ کی زبان، صحابہ کرام کی زبان، تابعین کی زبان اور تبع تابعین کی زبان میں ان لوگوں نے دین کو پھیلایا اور آج اگر دُنیا میں اسلام زندہ ہے، دین زندہ ہے، رسول اللہﷺ صحابہ کرام کی جماعت کو تیار نہ فرماتے تو یقینا ہم تک یہ دین آج اس صورت میں نہ پہنچتا۔ صحابہ نے دین کو تابعین کی طرف منتقل فرمایا۔
تابعین نے تبع تابعین کی طرف منتقل فرمایا اور پھر جب ا س دین کی بنیادوں کو مسلمانوں نے خود کمزور کرنا چاہاتو اللہ رب العزت نے صوفیاء کرا م کی ایک جماعت کو مسلمانوں میں پیدا فرمادیا اور انہوں نے اس دین کو انہی بنیادوں سے پھر اٹھایا جن بنیادوں سے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیم اجمعین نے اٹھایا تھا۔ تصوف اصلاح احوال کانام ہے تصوف اپنے افعال زندگی اور طریقہ زندگی کے محاسبے کانام ہے۔ صوفیاء نے اپنی زندگیوں کا خود محاسبہ کیا۔ یہ روش اور یہ رواج ڈا لا کہ لوگ اپنی زندگی کا خود محاسبہ کریں۔ احتساب اپنی ذات کا، احتساب اپنے افعال اور اقوال کا، احتساب کی یہ اصطلاح سب سے پہلے صوفیاء نے رواج دی وہ اپنا احتساب کیا کرتے تھے اور دین اس بات کی طرف ہرمسلمان کو متوجہ کرتا ہے کہ ہرشخص اپنے اعمال کا احتساب خود کرے کہ اس نے درست سمت قدم بڑھایا ہے یا اسکے قدم ایسی سمت کی طرف جارہے ہیں جو اسے تباہ وبرباد کردے گی۔ جس معاشرے میں وہ رہ رہا ہے اس معاشرے کو وہ تباہ وبرباد کردے گا۔جس سوسائٹی کا وہ فر دہے اس سوسائٹی کو تباہ وبرباد کردی گی۔ یہ احتساب صوفیاء کرام کی تعلیمات سے ملتا ہے۔تصوف کی تعلیمات سے ملتاہے اور ان تعلیمات میں نہ ترک دنیا نہ غر ق دنیا کا تصور دیا گیا کہ تم دنیا سے بالکل اس طرح الگ ہوجاؤ کہ یہ دنیا تمہارے لیے اجنبی لگے یا تم اس دنیاکے لیے اجنبی لگو۔ تم دنیا میں بھی رہو لیکن دنیا کی آلائشوں سے اپنے آ پ کو محفوظ رکھو۔ دنیا کو استعمال کرو لیکن دنیا تمہیں استعمال نہ کرے۔ تم اپنی خواہشات کے بندے نہ بن جاؤ۔ جب تم اپنی خواہشات کے بندے بنو گے تو پھر دنیا کے بندے بن کر رہجاؤگے۔تصوف نے ہمیں یہ طریقہ سکھایا ہے کہ نہ تم دنیا میں غرق ہو جاؤ اور نہ دنیا کو بالکل ترک کردو۔
آج ہم مسلمان ہیں۔ اللہ تعالی کے نبی کا کلمہ پڑھتے ہیں اور بحیثیت مسلمان جب بھی آج ہماری اس سوسائٹی میں کسی چیز کی کمی ہوتی ہے ہم پریشان ہوجاتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں شاید دوبارہ ملے گی یا نہیں۔ دنیاوی لذتیں ہمیں تباہ وبرباد کرکے چلی گئیں ہیں دنیاوی لذتوں کے پیچھے پڑکے مسلمان اللہ تعالی کے راستے کو چھوڑ چکا ؎۔ آج دنیا کی چھوٹی چھوٹی چیزیں اس کی مجبوری بن کر رہ گئیں ہیں۔ آج اگر ایک دن چینی شارٹ ہوجاتی ہے۔ مارکیٹ سے غائب ہوجاتی ہے۔ آج کا مسلمان آج کا انسان مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت کا دعوی رکھنے والا انسان سمجھتا ہے کہ بس میری زندگی ختم ہوگئی ہے۔ معمولی سی کوئی ضرورت دنیا جو شارٹ ہوتی ہے ہم کہتے ہیں کہ پتا نہیں کیا بنے گا۔ یہ لذائز دنیا ختم ہونے والی ہیں۔ یہ لذائزدنیا مٹنے والی ہیں۔ انسان ان لذائز دنیا کے چکر میں پڑ کر اللہ تعالی کی محبت کو گنوا بیٹھا ہے۔
حضرت ابراہیم بن عدم سے کسی شخص نے آکر شکایت کی حضرت گوشت مہنگا ہوگیا ہے کیا کیا جائے؟ آپ نے ارشاد فرمایا!اگر مہنگا ہوگیا ہے تو اسے سستا کردو عرض کیا حضرت کس طرح سستا کریں آپ نے ارشاد فرمایا”کہ جب تم اسے کھانا چھوڑ دو گے تو یہ خود بخود سستا ہوجائے گا“۔ آج اکنامکس کی باتیں کرنے والے!آج کی معاشیات کی باتیں کرنے والے!آج سے کئی سو سال پہلے حضرت ابراہیم بن عدم کے اس قول کی طرف متوجہ ہوں آج ہم کہتے ہیں قیمت اور ڈیمانڈ ان کا جوFunctionہے کہ جب کسی چیز کی قیمت بڑھتی ہے تو اس چیز کی طلب کم ہوجاتی ہے جب کسی چیز کی طلب کم ہوتی ہے اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے ہمیں تو آج تک اس منطق کی سمجھ نہیں آئی میں۔پچھلے دنوں بازار گیا میں نے ایک دوست سے بات کی تو وہ مجھے کہنے لگے کہ بڑا عجیب سا چکر ہے۔ جوں جوں چینی کی قیمت بڑھتی جارہی ہے توں توں اس کی خریداری بھی بڑھتی جارہی ہے۔ کہاں گئی اکنامکس، کہاں گئی معاشیات جب کسی چیز کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کی طلب کم ہوتی ہے۔
معاشیات تو یہ کہتی ہے کہ جب کسی چیز کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کی ڈیمانڈ کم ہوجاتی ہے۔ یہاں ہمارے وہ تمام علم کے معیار اور پیمانے ختم ہوگئے ہیں۔ ایک ہی پیمانہ ہے وہ اللہ تعالی کے ساتھ محبت کا پیمانہ ہے۔ زندگی اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ اور اس کے متبعین کے ساتھ گزارنے کانام ہے۔ حضرت ابراہیم بن عدم نے یہ کہا کہ مت سوچو یہ چیز مہنگی ہوگئی ہے اگر مہنگی ہو جائے توتم خود اسے سستا کرسکتے ہوان کا شعر
واذا غلا شیء علیہ ترکتہ جب کوئی چیز مہنگی ہوجاتی ہے تو میں اسے چھوڑ دیتا ہوں۔
فیکون ارخصہ ما یکون اذا غلا تو وہ سستی ہوجاتی ہے۔ جب قیمت بڑھتی ہے تو میں اسے چھوڑ دیتا ہوں وہ کم ہوجاتی ہے۔ آج ہم چینی کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مر جائیں گے ختم ہوجائیں گے اور گلہ کرتے ہیں حکومت نے چینی کی قیمت بڑھا دی ہے۔ کیو ں گلہ
کرتے ہیں؟ آج سے اس کو استعمال کرنا بند کردیں کارخانے داروں کی کیا جرات ہے اس کی قیمت بڑھانے کی،سرمایہ داروں کی کیا جرت اس کو سٹاک کرنے کی ۔ہمارے اندر کا شیطان جب تک ختم نہیں ہوتا باہر کی اصلاح کبھی بھی نہیں ہوسکتی۔
اندر کی اصلاح کی ضرورت ہے اور اندر کی اصلاح، دل کی دنیا بدلنے کے لیے کسی اہل اللہ کے پاس بیٹھنا ضروری ہے۔جب تک اہل اللہ کا درس ہم نہیں لیں گے اور جب تک ہم اللہ تعالی کے نیک بندوں کی صحبت اختیار نہیں کریں گے اس اندر بیٹھے ہوئے شیطان پر ہم قابو نہیں ڈال سکتے۔ ہم سوچتے ہیں کہ آج قیمت بڑھ گئی ہے آج اگر ستر روپے تو بیس کلو خرید لوممکن ہے کل اسی روپے ہوجائے یہ بے ثباتی ہے ہمارے ذہنوں میں جو آج ہمارے اس پورے نظام کو تباہ وبرباد کررہی ہے۔ اگر ابراہیم بن عدم نے فرمایا کہ اگر تم صالحین کا درجہ حاصل کرنا چاہتے ہو، نیک لوگوں میں شامل ہونا چاہتے ہو، نیک لوگوں میں اپنا شمار کرنا چاہتے ہوتو آسائش کے دروازے بند کر کے سختی کے دروازے اپنے لیے کھول لو۔
آج ہماری زندگیوں کا یہ عالم ہے کہ ایک نوجوان جو بظاہر بڑا مضبوط وتوانا نظرا ٓتاہے وہ ایک میل نہیں چل سکتا۔ ایک میل تو کیا وہ چند قدم نہیں چل سکتا۔ ہمار ی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے اوپر آسائشوں کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور اس نے بزدلی کو جنم دیا ہے۔ اس نے ہماری طاقت کو تباہ وبرباد کیا ہے۔ ہمارے عزم کو تباہ وبرباد کیا ہے آج کا نوجوان ہمیں پرعزم نظر نہیں آتا، مایوس نظر آتا ہے آسائشوں میں پلے ہوئے ہم لوگ زندگی کو بڑا آسان سمجھتے ہیں۔ جب یہ زندگی اپنی سختیاں ہمارے اوپر ڈھاتی ہے ہم بے صبری کامظاہرہ کرتے ہیں، پریشان ہوجاتے ہیں کہ یہ زندگی کیسے کٹے گی، اس کے مصائب وآلام کیسے کٹیں گے، اسکی پریشانیاں کیسے دور ہوں گی۔ آپ نے فرمایا اگر صالحین کا مقام حاصل کرنا چاہتے ہوتو عزت کے دروازے بند کر کے ذلت کے دروازے کھولو۔ عاجزی کرو، انکساری کرو، ذلت سے وہ مراد نہیں جو قرآن وسنت نے کفار و مشرکین کے بارے میں کہا بلکہ ذلت سے مراد یہ ہے کہ اپنے آپ کو کمزور سمجھو۔ عاجزی اور انکساری یہ ہے کہ کوئی گالیاں دیتا ہے توا س کے جواب میں گالی نہ دو۔ کوئی سختی کرتا ہے تو اس کے جواب میں سختی نہ کرو کوئی پریشانی دیتا ہے تو اس کے سامنے تم وہی رویہ اختیار نہ کرو بلکہ مسلک فقریہ ہے کہ جو تمہیں گالیاں دے رہا ہوتو تم اسے دعائیں دو کہ سرکاردوعالم ﷺ ہمیشہ گالیاں دینے والے کو دعائیں دیا کرتے تھے۔ تکلیفیں دینے والے کے سامنے محبتیں بکھیرا کرتے تھے پریشانیاں دینے والوں کے سامنے آسائشیں بکھیرا کرتے تھے۔
مسلک فقر کے وارث ہیں حقیقت میں وہی
گالیاں سن کے بھی جو لوگ دعا دیتے ہیں
جو لوگ گالیاں سنتے ہیں اور سن کر عاجزی و انکساری کرتے ہیں تھپڑ کا جواب تھپڑ سے نہیں دیتے۔ تھپڑ کا جواب محبت سے دیتے ہیں۔ تھپڑ کاجواب پیار سے دیتے ہیں۔ بدخلقی کاجواب بدخلقی سے نہیں دیتے بدخلقی کا جواب حسن اخلاق کے ساتھ دیتے ہیں۔ اس لیے اگر تم
اہل اللہ کے مقام جانا چاہتے ہو، اہل اللہ کے مقام اور مرتبے تک تم جانا چاہتے ہو، عزت کی تلاش میں نہ جاؤ، عاجزی اور انکساری کی تلاش میں جاؤ۔حضرت ابراہیم بن عدم نے فرمایا ”اگرتم صالحین کے مقام تک جانا چاہتے ہو پھر آرام کے دروازے بند کرو محنت ومشقت کے دروازے تم کھول لو، اگر تم صالحین کا درجہ پانا چاہتے ہو مالداری کا دروازہ بند کر کے فقر کا دروازہ کھول لو۔ کہ مالداری کا دروازہ بند کروگے فقر آئے گا۔ صالحین کا تو یہی طرہ امتیاز تھا کہ ان کے پاس یا تو ہوتا ہی کچھ نہ تھا جو آجاتا اس کو اللہ تعالی کے راستے پر تقسیم کردیا کرتے تھے اگر تم صالحین کا درجہ پانا چاہتے ہوتو اُمید کادروازہ بند کر کے موت کے درواز ے کی طرف چلے جاؤ۔موت کے دروازے کو کھولنے کی تیا ری کر لو۔ یہ ابراہیم بن عدم کی تعلیمات تھیں اور عملی طور پر آپ نے ثابت فرمایا۔ ایک دفعہ ایک باغ کی رکھوالی کررہے تھے ایک مجاہد کہتا ہے کہ اس باغ کا پھل مجھے توڑ کردو آپ نے فرمایا یہ میرا نہیں ہے اس کا مالک کوئی اور ہے میں یہ نہیں دے سکتا۔ یہ دیانت داری، یہ عظمت اس کے پاس تلوار بھی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ”اس کا مالک میں نہیں ہوں کوئی اور ہے۔میں تمہیں نہیں دے سکتا“ اس نے ابراہیم بن عدم کو مارنا شروع کردیا۔ آپ نے کوئی تعارض نہیں فرمایا بلکہ یوں ارشاد فرمایا”کہ اور مارو اور مارو اس نے بڑے گناہ کیے ہیں“ وہ مجاہد مارتا چلا گیا یہاں تک کہ تھک ہار کر اس نے خود چھوڑ دیا۔ حضرت ابراہیم بن عدم نے یہ نہیں کہا کہ تم مجھے ماررہے ہو بلکہ فرمایا اسے اور مارو اس نے بڑے گناہ کیے ہیں اور محبت وار فتگی اور انسانیت کے ساتھ محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک شخص شاگردی میں صحبت میں آیا بیمار ہوا جو کچھ تھا سب کچھ اس پر خرچ کر دیا اور ایک سواری بچی، دراز گوش بچا اس کو بھی بیچ کر اس شخص پر خرچ کردیا۔ وہ جب درست ہوا شاگرد تھا صحبت اختیار کی ہوئی تھی عرض کی حضرت آپ نے تو وہ دراز گو ش بیچ دیا ہے اب کیسے سواری کریں گے؟ آپ نے فرمایا میرے کندھوں پر بیٹھ جا ؤ میں تمہیں کندھوں پر اُٹھا کے منزل تک لے جاؤں گا۔ انسانیت کے ساتھ محبت انسانیت کے ساتھ پیار انسانیت کے ساتھ الفت یہ تمام تصوف سکھاتا ہے۔ تصوف کی زبان میں کوئی بغض، کوئی عنا د نہیں ہے۔ وہاں ہمیں ہر طرف محبتوں کے ہول نظرا ٓرہے ہوتے ہیں۔ وہاں ہمیں ہر طرف محبت اور آتشی کا چمن کھلا ہوا نظر آرہا ہوتا ہے۔ اہل اللہ کی مجلس میں بیٹھنے سے انسان کی زندگی درست ہوتی ہے۔ اس کے اخلاق درست ہوتے ہیں۔ اسے اپنی زندگی گزارنے کا سلیقہ ملتا ہے۔ اہل اللہ کی مجلس انسان کے رذائل کو ختم کرتی ہے۔ اس کو کبائر سے روکنے کی طرف ایک بہت بڑا نسخہ ہے۔ اگر ہم آج اللہ تعالی کے نیک بندوں کی مجلس اپنالیں تو میں سمجھتاہوں کہ ہماری زندگی کے بہت سے مسائل ختم ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالی سے دُعا ہے کہ وہ ہمیں اہل اللہ کے راستے پر چلنے کی توفیق عطافرمائے۔ (آمین)
٭٭٭٭ ٭٭٭٭ ٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں