Syeda Fatima is an incomparable being. 662

سیدہ فاطمہ بے مثال ہستی۔

سیدہ فاطمہ بے مثال ہستی۔
سیدہ خاتون جنت سلام اللہ علیھا امت مسلمہ کی وہ ہستی ہیں جنکی عظمت بے مثال ہے۔آپکی فضیلت کو امت کا کوئی مردوزن نہیں پہنچ سکتا۔یہ ام المؤمنین سیدہ عائشۃ الصدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا کی گواہی ہے۔آپ فرماتی ہیں: ماراءیت افضل من فاطمۃ(سلام اللہ علیھا) غیر ابیھا۔( الطبرانی فی المعجم الاوسط)ترجمہ: میں نے فاطمہ سے زیادہ افضل انکے والد گرامی (سرکاردوعالم)کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا۔۔آپ جتنی عظیم خاتون ہیں اتنی ہی مظلوم بھی ہیں۔خصوصا سرکار دوعالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد ظلم کی خوفناک راتوں نے آپکی مبارک حیات طیبہ کو مزید گھیر لیا۔آپ اسکا تذکرہ اپنے ایک شعر میں کرتی ہیں۔فرماتی ہیں ترجمہ:مجھ پر اتنے مصائب وآلام پڑے کہ اگر یہ روشن دنوں پر پڑتے تو وہ سیاہ راتوں میں تبدیل ہوجاتے۔
آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ سرکار کے پردہ فرما جانے کے بعد سیدہ کو کن مصائب وآفات کا سامنا تھا۔انہی پریشانیوں کے عالم میں وہ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس باغ فدک کے حصول کے لیے تشریف لے گئی تھیں لیکن خلیفہ وقت نے فرمایا کہ انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی۔البتہ میں باغ فدک کی آمدنی کی تقسیم اسی طرح کیا کرونگا جیسے رسالت مآب فرمایا کرتے تھے۔اس پر آپ اور بھی رنجیدہ خاطر ہوئیں۔
مسئلہ باغ فدک کی پوری تفصیل کتب میں موجود ہے اور چودہ سو سال سے امت اس میں الجھی ہوئی ہے۔میں اس کی تفصیل میں مزید نہیں جانا چاہتا۔میں اپنی تحریر کو ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کے اس کلپ کی طرف لیکر جانا چاہتا ہوں جو آجکل سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے۔اس کلپ میں اشرف جلالی نے باغ فدک کے حوالہ سے سیدہ کی ذات پر نہات رقیق حملہ کیا جسکی میں پر زور مذمت کرتا ہوں۔پہلے میں انکے کلپ کے الفاظ نقل کرتا ہوں گو کہ میرے لیے یہ الفاظ تحریر کرنا بہت مشکل ہیں۔مگر نقل کفر کفر نباشد کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اور سیدہ کی بارگاہ سے معافی طلب کرتے ہوئے لکھ رہا ہوں۔یہ حضرت اہل تشیع کے عقیدہ معصومیت کے رد کے طور پر سیدہ کے باغ فدک کے لیے جانے کو ناحق قرار دے رہے ہیں۔کہا” تم دلیل نہ بناؤ کہ معصوم تھیں تو مانگنا ہی حق کی دلیل ہے۔خطاء کا امکان تھا اور خطا پر تھیں۔جب مانگ رہی تھیں تو خطا پر تھیں لیکن جب آگے سے حدیث آئی تو انکی شان یہ ہے کہ جس کے یہ جگر کا ٹکڑا ہیں انکی حدیث سن کر سر تسلیم خم کرلیا”
آپ کو ذرہ برابر بھی خدا کا خوف نہ آیا کس مزے سے تم کہہ رہے ہو “خطا کا امکان تھا جب مانگ رہی تھیں تو خطا پر تھیں”۔مانگ رہی تھیں۔جس گستاخانہ انداز سے تم نے سیدہ کے بارے میں حقیر الفاظ کا انتخاب کیا ہے اس سے واضح پتہ چل رہا ہے کہ تم اپنے اندر کے شیطان کو خوش کررہے ہویا کسی باہر کے شیطان نے تمہاری ڈیوٹی لگائی ہےجسکی کورنش تم بجا لارہے ہو۔کل قیامت کو ان حقارت بھرے الفاظ کا تم سے حساب لیا جائے۔تم کہتے ہو مانگنے گئی تھیں العیاذ باللہ۔میں کہتا ہوں نبی کی لخت جگر، کونین کی شہزادی،سیدۃ نساء العالمین اور سیدہ خاتون جنت اپنے پیارے بابا جان کے ایک غلام کے پاس اپنا حق یاد دلانے گئی تھیں۔
جب انسان راہ ھدایت سے بھٹک جائے اور جھوٹی شہرت کے حصول کےلیے اس قسم کی ہرزہ سرائی کرے تو اسے سمجھ نہیں آتی کہ میرے منہ سے کیا نکل رہا ہے۔اسی کلپ میں ان حضرت نے فرمایا کہ اگر ہم محب اہل بیت نہیں تو پیر مہرعلی شاہ بھی محب اہل بیت نہیں۔ اگر ہم محب اہل بیت نہیں تو کشف المحجوب والے داتا گنج بخش بھی محب اہل بیت نہیں ۔مطلب ان دو بزرگان دین کامحب اہل بیت ہونا اشرف آصف جلالی کے محب اہل بیت ہونے پر موقوف ہے۔اس بے باکی سے وہی شخص گستاخیاں کر سکتا ہے جسکی عقل اس کے جسمانی تعفن سے آزاد ہوجائے۔جنہوں نے مجھے یہ کلپ بھیجا ہے وہ اسکو غور سے سنیں۔کنزالعلماء صاحب نے اس کلپ میں تین ہستیوں سیدہ خاتون جنت،سیدی پیر مہر علی شاہ اور حضرت داتا گنج بخش کی گستاخی کا ارتکاب کیا ہے۔حیف ہے اس شخص پر جو کہے سیدہ خطاء پر تھیں اور اگر ہم محب اہل بیت نہیں ہیں تو پیر سیدمہر علی شاہ اور داتاگنج بخش بھی محبت اہل بیت نہیں۔تم کیا اور تمہاری اوقات کیا کہ تم اتنی بڑی ہستیوں کے لیے معیار حب اہل بیت بنو۔ذرا اپنے الفاظ پر غور کرو اور ان ہستیوں کے مزارات پر جاکر ان سے معافی مانگو۔
جس فاطمہ کوتمام جہانوں کا سردار کہے”فداک امی وابی” وہ خطا پر تھیں؟؟ جس فاطمہ کے لیے یوم محشر اعلان کیا جائے گا ” اے اہل محشر( ان میں جلیل القدر انبیاء ورسل بھی ہونگے) اپنی نگاہیں نیچی کر لو تاکہ فاطمہ بنت محمد گزر جائیں( رواہ الحاکم) وہ فاطمہ آپ کے نزدیک خطا پر تھیں۔جس فاطمہ کے بارے میں میرے رسول یہ ارشاد فرمائیں کہ قیامت کے دن مجھے براق پر سوار کیا جائے گااور میری فاطمہ کو میری اونٹنی العضباء پر سوار کیا جائے گا( رواہ ابن العساکر عن علی ابن ابی طالب)اس فاطمہ کو تم مخطیہ کہہ رہے ہو۔ تم فاطمہ سلام اللہ علیھا کے باب اتنی گستاخی پہ اتر آئے کہ فاطمہ کے بارے میں مطلقا خطاء کا لفظ استعمال کردیا۔میرا ایمان ہے اور میں یہ بات بڑے شرح صدر سے کہہ رہا ہوں کہ سیدہ اپنی عظیم حیات طیبہ کے کسی لمحے خطاء پر نہیں تھیں نہ انکی یہ شان تھی۔
اگر خلیفہ اول نے باغ فدک سیدہ کو نہیں دیا تو وہ از حد احتیاط کی وجہ سے نہیں دیا۔انہوں نے اپنے پورے دور خلافت میں پھونک پھونک کر قدم رکھا کہ مجھ سے سنت رسول کے خلاف کوئی کام سرزد نہ ہوجائے۔وہ جمع قرآن کے معاملے میں بھی پہلی دفعہ سیدنا عمر فاروق کو انکار کردیتے ہیں اور کہتے ہیں جو کام سرکار نے نہیں کیا وہ میں نہیں کرسکتا۔وہ عاشق تھے حکمرانی تو آپ کے گلے میں ڈال دی گئی تھی۔اگرچہ انہوں فدک سیدہ کو نہیں دیالیکن نہ اپنے پاس رکھا ،نہ اپنے بیٹوں میں سے کسی کو دیا اور نہ ہی کسی رشتہ دار کے نام لگایا۔وہ تقسیم جاری رہی جو سرکار کے زمانے میں تھی اور یہی تقسیم خلیفہ دوئم کے دور میں بھی رہی۔میرا نقطئہ نظر یہ ہے کہ اگر خلیفہ اول باغ فدک سیدہ کو دے دیتے تو بہت اچھا ہوتا۔بعد میں جو کھلواڑ اس باغ کے ساتھ ہوا تھا کم ازکم وہ نہ ہوتا۔جونہی خلیفہ دوئم کی شھادت ہوئی اور خلافت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئی تو مدینہ کے گورنر (جو آپکا بہت قریبی رشتہ دار تھا) مروان بن حکم نے باغ فدک پر قبضہ کر لیااورپورے فدک کا بلاشرکت غیر مالک بن بیٹھا۔پھر اپنی اولاد کو منتقل کردیا۔اسی طرح حضرت امیر معاویہ نے اپنے دور ملوکیت میں اس کوغالبا تین حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ اس پلید کو دے دیا جس کے نامئہ اعمال میں واقعہ کربلا جیسا سیاہ عمل ہے۔جو باغ سیدہ کو نہ مل سکا وہ بنو امیہ کے غاصبوں کے قبضہ میں چلا گیااور انہوں نے اسے اپنی ذاتی ملکیت بنا لیا۔اسی وجہ خلیفہ ششم سیدنا عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالی عنہ جب برسراقتدار آئے تو انہوں باغ فدک کی ملکیت سے دستبرداری کا اعلان فرماتے ہوئے ارشاد کیا” جس باغ پر سیدہ فاطمہ(سلام اللہ علیھا) کا حق تسلیم نہیں ہوا مجھے اس پر قبضہ جمانے کا کیا حق ہے”( سیرت عمر بن عبدالعزیز از مولانا عبد السلام ندوی۔ص 80)
میرے نزدیک صحابہ کی گستاخی کرنے والا ملعون ہے مگر سیدہ کی گستاخی کرنے والا اس سے بڑا ملعون اور جہنمی ہے۔میری تمام محبان اہل بیت رسول سنیوں سے اپیل ہے کہ اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیں یہ فتنہ بہت بڑھتا جارہا ہے۔جس طرح ہم صحابہ کی ذرا سی گستاخی بھی برداشت نہیں کر سکتے اسی طرح ہم آل بیت رسول اور خصوصا سیدہ کے بارے میں ایک لفظ بھی قطعا قطعا اور قطعا برداشت نہیں کرسکتے۔
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں