344

فلسطین کے پشتیبان، شیخ یوسف القرضاوی بھی چل بسے

ممتاز عالمِ دین، فقیہہ، نامور مصنف، انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کے سربراہ شیخ یوسف القرضاوی آج 96 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

ان کی رحلت کی خبر سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر ان کے اکاؤنٹ سے جاری کی گئی جس میں لکھا گیا: اسلام کے دفاع میں اپنی عمر کھپانے والے امام یوسف القرضاوی اللہ کریم  کی رحمت میں چلے گئے۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ انبیاء، صدیقین، شہداء ، صالحین کی معیت پائیں۔

شیخ دورِ حاضر کی ممتاز علمی و فکری شخصیت تھے۔  مختلف علوم پر اُن کی درجنوں اشاعتیں ہیں۔ انہوں  نے  مسلم علماء کی بین الاقوامی یونین قائم کی اور کئی سال تک اس کے صدر رہے۔

شیخ 9 ستمبر 1926ء کو مصر کے شہر غربیہ میں پیدا ہوئے۔ جامعہ الازہر سے تعلیم پائی ۔ علم میں کمال پیدا کیا، جس کا ثبوت فقہ، حدیث، اسلامی فکر  اور قانون و سیاست جیسے دقیع موضوعات پر 170 تالیفات ہیں۔

2008ء  میں “فارن پالیسی” اور “پراسپیکٹ” نامی جرائد کی جانب سے کیے گئے سروے میں القرضاوی کو دنیا کے 20 بااثر ترین مفکرین کی فہرست میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا تھا۔

شیخ امتِ مسلمہ کے اہم مسائل (بطورِ خاص مسئلہ فلسطین) کے بارے میں اپنے سنجیدہ اور فیصلہ کن مؤقف پر عمر بھر قائم رہے۔ اپنے غیرمبدل مؤقف کے باعث انھیں مخالفین کی وسیع تر مخالفت کا سامنا رہا۔

شیخ القرضاویؒ نے اپنی تمام تر قوتیں بیدارئ امت میں کھپا دیں۔ الاقصیٰ کے تحفظ کے لیے ہمہ تن مصروف رہے۔ وہ امتِ مرحوم کو نبئ مکرم (ﷺ) کے قبلۂ اوّل کی حفاظت میں تن ،من، دھن کی قربانی پر آمادہ و تیار کرتے رہے۔

مرکز اطلاعاتِ فلسطین مرحوم کے سانحۂ ارتحال پر اپنے تمام بہی خواہوں سے تعزیت کرتا ہے، اس لیے کہ فلسطین کے پشتیبان چل بسے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں