78

Small Acts of Leadership کتاب کی سمری اردومیں

Small Acts of Leadership
مصنف کا تعارف:
کتاب کے مصنف “جی شان ہنٹر”ایک مایہ ناز امریکی شخصیت ہیں۔شان نے اپنے والد کے ساتھ مل کر” ٹارگٹڈ لرننگ ” نامی کمپنی کی بنیاد رکھی ۔جی شان ہنٹر ایک عظیم مقرر، کوچ ‘ادیب’استاد اور بزنس مین ہیں ۔ آپ مائیکرو سافٹ’سٹار بکس انسٹی ٹیوٹ، بوئنگ کینن،انسٹی ٹیوٹ،ٹریژری ایکزیکٹیو انسٹی ٹیوٹ’سکوٹیہ بینک’رائل بینک’کینیڈا’اور ورلڈ اکنامکس فورم کے ترجمان اور مشیر رہ چکے ہیں۔ آپ ایک باصلاحیت شخص ہیں جو بایک وقت مصنف بزنس مین اور انسانی فلا ح وبہبود کے شعبوں میں شہرت رکھتے ہیں ۔اب تک لاکھوں لوگوں نے آپ کے سیمیناروں میں شرکت کی ہے اور آپکی قیادت اور رہنمائی کی بدولت کاروبار میں کامیابی حاصل کی ہے۔آپ کی کتابیں دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والی ہیں۔آپ کی تصانیف نے بزنس کے شعبے میں تہلکہ مچا رکھا ہے۔زندگی کے ہر میدان میں کامیابی پر مبنی قیادت کی تدابیر اور اصول ہر طبقہ زندگی کے لوگوں کیلئے یکساں طور پر مفید ہیں۔

کتاب کے اہم نکات:

کتاب”Small acts of Leadership”کے مصنف جی شان ہنٹر نے قیادت کے چند اصولوں پر نفسیاتی اور سماجی لحاظ سے روشنی ڈالی ہے۔ایک لیڈر جب دوسروں سے شفقت، ہمدردی ، توجہ اور پیار و محبت کا برتاؤ کرتا ہے تو وہ نہ صرف لوگوں کے دل جیت لیتا ہے بلکہ ان سے بڑے بڑے کام لے سکتا ہے۔ ایک لیڈر کے چھوٹے چھوٹے اقدام بظاہر تومعمولی محسوس ہوتے ہیں لیکن ان کے دورس نتائج مرتب ہوتے ہیں۔لیڈر شپ کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زیرقیادت ٹیم میں خود اعتمادی پیدا کرے ۔اگر انسان کو اپنے آپ اور اپنی صلاحیتوں پر یقین ہو تو اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ ایک لیڈرکا کام ہے کہ وہ ہر مسئلے کو باریکی سے دیکھے، اسے پہچانے اور پھر اس کا حل سوچ کر پورے اعتماد سے اس پر عمل کرے۔ہر کام کو احسن طریقے سے سرانجام دینے کیلئے قیادت کا فعال ہونا بہت ضروری ہے۔ ایک قائدکو چاہئے کہ خود بھی تربیت یافتہ ہو اور اپنی ٹیم کی تربیت کا بھی خیال رکھے۔

ڈاکٹر رچرڈRichard نے کیا خوب کہا ہے:

” ایک مصروف شخص کواپنے آپکا اور ایک لاپرواہ شخص کو دنیا جہان کا پتہ نہیں ہوتا “۔

لیڈر شپ کا فرض ہے کہ لوگوں میں آگاہی پیدا کرے اور ایسا ماحول پیدا کرے کہ جہاں لوگ سستی اور کاہلی کا شکار نہ ہوں بلکہ وہ اپنے کام میں ازحد دلچسپی رکھتے ہوں۔ہوشیاری اور مستعدی کے ساتھ مصروف عمل ہوں۔اگر ٹیم کا ایک آدمی اپنے لیڈر یا اپنے کسی ساتھی کی بات توجہ کے ساتھ نہیں سنتا تو وہ اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے بجا نہیں لاسکتا۔

ایک مشہورِ زمانہ ( Scholar) ایلن لینگر Ellen langer) (کا قول ہے

” ہر نئی چیز کا نوٹس لینا چوکنا پن ہےاور ہر وہ آدمی چوکنا شمارکیا جاتاہے جسے کسی نئی چیز کا فوراً علم ہو جائے۔ایسا آدمی بہت تیزی سے سیکھتا ہے۔ وہ مسائل پر قابو پا کر اپنی ٹیم کے دل و دماغ جیت سکتا ہے۔

ایک اچھے قائد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں اور ساتھ کام کرنے والوں کے دل و دماغ جیتنے کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات کرے:

خود اعتمادی
بھروسہ پیدا کرنا
چیلنج قبول کرنا
شکریہ ادا کرنا
تجسس پیدا کرنا
اختیارات دینا
ماتحتوں کا بھروسہ حاصل کرنا
اپنی ٹیم کو متوجہ رکھنا
دوسروں میں تحریک پیدا کرنا
معمول سے ہٹ کر کام کرنا
ہر فرد کا کام واضح کرنا
اپنے ملازمین کےآرام کا خیال رکھنا
Key-1۔ خود اعتمادی :

اپنے آپ پر بھروسہ یعنی “یقین” آپ کے وقار میں اضافہ کرتا ہے۔اپنی قابلیت اور صلاحیت پر یقین آپ کوکامیابی کے راستے پر ڈالتا ہے۔جی شان ہنٹر کہتے ہیں کہ اگرآپ کو اپنی صلاحیتوں پر یقین آجائےتوآپ اپنے کام میں دلچسپی لینے لگیں گے۔ جب کام میں دلچسپی پیدا ہوجائے تو وہ دن دور نہیں جب کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ایسا آدمی ہر مسئلے کا ایک جرأت مندانہ حل نکالتا ہےاور اپنی زندگی کو خوشحال اور کامیاب بنا تا ہے۔

اکثر لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اچھی قسمت کی وجہ سے کامیاب ہوتے ہیں لیکن اگر آپ غور کریں تو آپ کو علم ہو گا یہ اپنے آپ کو دھوکہ دینے والی بات ہے۔قسمت پر یقین کرنے سے بہتر ہے کہ آپ اپنی محنت اور صلاحیت پر یقین کریں اور دوسروں کی باتوں میں نہ آئیں اور اس بحث میں نہ پڑیں کہ آپ کی ترقی یا کامیابی آپ کی قسمت کی وجہ سے ہوئی ہے یا محنت سے، اگر آپ ایسا سوچیں گے تو آپ کے حوصلے پست ہوجائیں گے۔ یاد رکھیں! قسمت صرف بہادروں کا ساتھ دیتی ہے اور قسمت کی دیوی انہی لوگوں پر مہربان ہوتی ہے جو محنتی اور ایماندار ہوں۔یہ اپنے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہے کہ آپ اپنی صلاحیت اور محنت کی بجائے قسمت پر یقین کرنا شروع کر دیں، اگر آپ ایسا کر رہے ہیں تو زندگی میں کبھی بھی خود اعتمادی نہیں حاصل کر پائیں گے۔خود اعتمادی ایک لیڈر کی بہت بڑی خوبی ہے اور اُس کے ماتحت اس سے مشکل حالات میں استقامت سے کھڑے رہنا سیکھتے ہیں۔ایک لیڈر کو اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنا چاہئے اور سخت محنت کے بعد نتیجے کو اپنی قسمت پر چھوڑ دینا چاہیے۔

Key-2۔ بھروسہ پیدا کرنا:

اعتماد اور بھروسہ پیدا کرنے کیلئے بہت سے اصول ہیں ،جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں:

تیاری(Preparation):

اعتماد پیدا کرنے کیلئےتیاری بہت اہم ہے۔تقریری مقابلے کی مثال لیجئے۔ اگر ایک مقرر نے صحیح تیاری کی ہو تو وہ سٹیج پر بااعتماد نظر آتا ہے۔لیڈر شپ اور قیادت کیلئے اعتماد بہت ضروری ہے۔اوراسے حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم ہر کام کی پہلے سے تیاری کریں۔اپنے منصوبے کی جزئیات پر گہرائی سے غور کریں۔جو بھی کام کرنا ہو،اس کی لاگت کا تخمینہ، افرادی قوت اور درکار وقت کے تمام پہلوؤں کا باریکی سے جائزہ لیں ۔اس سے آپ اپنے مقاصد آسانی سے حاصل کر لیں گے۔

غور و فکر (Visualisation):

بھروسہ پیدا کرنے کیلئے غور و فکر دوسرا اہم عنصر ہے۔ اگر پچھلی کامیابیوں کو تصور میں لایا جائے اور ایک ذہنی خاکہ تیار کر لیا جائے کہ وہ کونسے عوامل تھے جن کی وجہ سے پچھلی بار کامیابی حاصل ہوئی تھی تو اگلی کامیابی کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔ماضی کی کامیابیوں کو بار بار تصور میں لانے سے آپ کے اندر اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

تربیت (Coaching):

کسی بھی شعبے میں کوچ کا کردار بہت اہم ہوتا ہے اور وہ مختلف طریقوں سے اپنے طالب علم میں مہارت و خود اعتمادی پیدا کرتا ہے ۔ ان طریقوں میں ذہنی و جسمانی تربیت شامل ہیں ۔ وہ اپنے طلبا ء کی خامیوں کو دور کرتے ہیں اور ان میں مثبت سوچ پیدا کرتے ہیں۔لہذا ایک اچھا لیڈر اسی وقت بنتا ہے جب وہ خودسکھلائی کے عمل سے گزرا ہو۔

لوگوں کی مدد(Social Support):

انسان ایک معاشرتی حیوان ہے اور اسے زندہ رہنے کے لئے دوسروں کی مدد کی ضرورت رہتی ہے۔ چنانچہ آپ اپنے عزیز رشتہ داروں سے لیکر دوست احباب ،محلے داروں اور اداروں تک سب کی مدد حاصل کریں ۔اگر آپ کو لوگوں کی مدد حاصل ہوتو آپ بہت آسانی سے اچھے نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔

ضبطِ نفس(Self Control):

ایک اچھا لیڈر بننے کے لئے صبر اور استقا مت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ وہ خوبی ہے جو ایک اچھے لیڈر اور ایک عام انسان میں فرق کرتی ہے۔ صبر کے لئے ضبط نفس بہت ضروری ہے۔ اگر اپنےآپ پرقابو پالیا جائے تو بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے،برے کاموں سےبچاجاسکتا ہے اور انسان اچھے افعال( کام) کی طرف مائل ہوسکتا ہے۔ جب ضبط نفس پیدا ہوجائے تو بھروسہ خود بخود پیداہوجاتا ہے۔ایک لیڈر کو عام طور پر کٹھن اور مشکلات سے نکل کر اپنے سمیت ،اپنے تمام ساتھیوں کو منزل مقصود کی طرف لے جاناہوتا ہے۔ لہذا جتنا زیادہ ضبط ِنفس ہو گا، وہ اتنا ہی زیادہ کامیاب لیڈر ہو گا۔

Key-3۔ چیلنج قبول کرنا:

ایک لیڈر کی اولین خوبی یہ ہے وہ فوراً کسی بھی مسئلہ کی تہہ میں پہنچ کر اس کا حل دریافت کر لے۔ایک لیڈر اسی وقت اپنے ماتحتوں اور زیر قیادت لوگوں کی اچھی طرح رہنمائی کر سکتا ہے جب وہ خود مسائل کی وجوہات اور ان کا حل تلاش کرنے کی مہارت رکھتا ہو۔مسائل کے حل کیلئے ضروری ہے کہ چھوٹے چھوٹے مسائل سے متعارف ہوا جائے یعنی ان کی تہہ میں جا ئیں اس کے کئی حل آپ کے ذہن میں آجائیں گے ۔ ۔اگر روز مرہ زندگی کے مسائل سے کنارہ کشی اختیار کر لی جائے، ان کو احسن طریقے سے نہ نمٹایا جائے اور کٹھن حالات کامقابلہ نہ کیا جائے تو زندگی کے بڑے بڑے مسائل کو کیسے حل کیا جائے گا اور ایسا لیڈر کبھی بھی دوسروں کو متاثر نہیں کر پائے گا۔

تمام مسائل کےحل کیلئے ایک خاص قسم کی مہارت سیکھنا ضروری ہوتی ہے۔اس سلسلے میں کوچ بہترین مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ کیرول ڈویک Carol Dwek کہتے ہیں:

” مشکل سے مشکل مسئلے کا مقابلہ کرنا ہماری اپنی بقاء کیلئےلازمی ہوتاہے۔ لہذا ایک لیڈر کیلئے ضرور ی ہے کہ وہ ہر مسئلے کا حل تکنیکی طریقے سے ڈھونڈے”۔

Key-4۔ شکریہ ادا کرنا:

ایک اچھا قائد وہ ہے جب اس کی ٹیم کوئی اچھی کارکردگی دکھائے تو اسے انعام و اکرام سے نوازے۔ وہ نہ صرف اپنی ٹیم کو انعام دے بلکہ اپنے آپکو بھی انعام دینا چاہیے، کیونکہ اپنے نفس کا بھی ایک لیڈر پر حق ہوتا ہے۔انعام صرف یہ نہیں ہونا چاہیے،کہ محض (Thankyou)شکریہ کے چند کلمات ادا کر دیے جائیں بلکہ (incentive) دینا چاہیے مثلاً: نقد انعام ،مالی امداد، ترقی ،تنخواہ میں اضافہ ،بونس ٹرانسپورٹ کی سہولت، بچوں کی تعلیم کا خرچہ وغیرہ۔ اس سے ایک قائد نہ صرف لوگوں کے دل جیت لیتا ہے بلکہ ان کا اعتماد بھی حاصل کر لیتا ہے اور یہی لوگ آگے چل کر اس کے لئے ناقابل یقین کامیابیاں سمیٹتے ہیں۔

اچھاصلہ بہترین قیادت کا خاصا ہے۔ہر اچھے کام پر اپنی ٹیم کو انعام دینا چاہیے۔اس طرح لوگوں کااپنے لیڈر پر اعتماد اور بھروسہ بحال رہتا ہے۔شان کہتا ہے کہ ٹیم کو اپنے مقصد (Goal) کا پتہ ہونا چاہیے اور ان کو مقصد سے واقفیت دلائی جائے۔ ایک قائد کا کام ہےکہ وہ اپنی ٹیم کو اپنے مقاصد سے صاف صاف آگاہ کرے اور ان کی صحیح سمت میں رہنمائی کرے۔اور اپنی کوششوں کا مقصداپنی ٹیم کے ہر رکن سے دریافت کرے۔ بغیر انعام اور تعریف کے اکثر لوگ اپنے مقصد اور کوشش کو نظر انداز کردیتے ہیں۔لہذا ایک لیڈر کا یہ فرض ہے کہ جب بھی ضرورت پڑے،اپنی ٹیم کی کوششوں کی تعریف کرے ۔اس طرح ٹیم کا حوصلہ(Morale)بلند ہوجا ئے گا ۔

Key-5۔ تجسس پیدا کرنا:

لیڈر شپ کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں میں تجسس ،شوق اور جوش و ولولہ پیدا کرے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ شوق اور دلچسپی کے بغیر کوئی بھی چیز حاصل نہیں ہوتی۔شوق اور تجسس ایندھن کی مانند ہیں جس کی مدد سے آپ اپنے ٹارگٹ تک پہنچتے ہیں اور اسے حاصل کرنے کے لئےجان ہتھیلی پر رکھ دیتے ہیں۔ ایک لیڈر کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہر چیز دوسروں کے نقطہ نظر (Prespective) سے دیکھے ۔ایک کامیاب لیڈر کیلئے یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ اس کی زیر قیادت افراد کی ضروریات کیا کیا ہیں۔ان کی خواہشات اور ضروریات میں سے کونسی چیز بہت ضروری ہے جسے سب سے پہلے پورا کیا جائے۔ اگر ایک لیڈ ر ان کی ضروریات کا خیال رکھےتو انہیں یہ احساس ہو گا کہ ان کا خیال رکھا جا رہا ہے ان میں دلچسپی اور کام میں لگن پیدا ہوگی ۔ اس سے ایک لیڈر کام کی زبردست تحریک پیدا کر سکتا ہےاور اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتا ہے۔

کامیاب قیادت وہ ہے جو لوگوں میں اپنے مقصد کے حصول کیلئے تجسس اور شوق اور جزبہ پیدا کرتی رہے۔ اس سے باہمی تعاون کی فضا پیدا ہوتی ہے اور اپنے مقصد تک پہنچنے کیلئے نئی راہیں اور طریقے ایجاد ہوتے رہتے ہیں۔

Key-6۔ اختیارات دینا:

ایک اچھے لیڈر کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں میں بھروسہ اور تجسس پیدا کرنے کے بعد انہیں اپنے خیالات ،سوچ اور صلاحیتوں کو آزادانہ طور پر استعمال کرنے کی اجازت دے۔قائددوسروں کو بھی اپنے فیصلوں میں شامل کرے ،ان کی رائے سے استفادہ حاصل کرے ۔لیڈر صرف اپنی ہی بات نہ منوائے اور ہر وقت دوسروں کو ہدایت نہ دیتا رہے بلکہ انہیں اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقع دے ۔ اس عمل سے ان کی صلاحیتوں میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔اس طرح ان میں اعتماد اور بھروسہ بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ جی شان ہنٹر لکھتے ہیں کہ اس طرح لوگ ذمہ داریوں کو قبول کرتے ہیں، کام میں دلچسپی لیتے ہیں اور ہرشخص اپنی ذمہ داری سمجھنے لگتا ہے۔ وہ اپنے کام سے محبت کرنے لگتا ہے، جس سے سیکھنے کا عمل تیز تر ہوجاتا ہے اور کارکنان کی مستعدی و مہارت ادارے کی بہتری کے لئے استعمال ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

بشر نجداوی(Bashar Nejdawi) کہتے ہیں :

” اپنے جونیئرز کو کام کرنے دیں بے شک وہ فیل ہی کیوں نہ ہو جائیں ،وہ اپنے تجربے سے بہتر طور پرسیکھ سکتے ہیں ۔ ایک لیڈر کیلئے ضروری نہیں کہ وہ لوگوں کی ہر وقت رہنمائی کرتا رہے۔بلکہ لوگوں کو خود کام کرنے کی بھی آزادی دی جائے تاکہ وہ اپنے تجربات اور غلطیوں سے سیکھ سکیں”۔

Key-7۔ ماتحتوں کا بھروسہ حاصل کرنا:

ایک قائد کی ذمہ داری ہے کہ اپنی زیر ِقیادت لوگوں میں اس حد تک اعتماد پیدا کرے کہ وہ اپنےعیب ،کمزوریاں بیماریاں،مسائل اور سیاسی رحجانات کو اس سےنہ چھپائیں۔ اگر وہ ایسا کریں گے توبداعتمادی پیدا ہوگی۔شان کہتے ہیں کہ جولیڈر اپنی ٹیم سے اپنی چیزیں چھپانے کی کوشش کرے گا وہ ٹیم کا اعتماد کبھی بھی نہیں جیت سکے گا۔شان ہنٹر کہتے ہیں کہ جو لوگ اپنے معاملات کو دوسروں سے چھپاتے ہیں وہ صادق اور امین نہیں رہتے اور لوگ بھی ان پر اعتماد کرنا چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ دوسروں کے ساتھ گھل مل نہیں سکتے یوں ان کی کارکردگی متاثر ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ایک قائد کی یہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول پیدا کرے جو ٹیم کے تمام ارکان کو دوستی کے ایک عظیم بندھن میں ایسے باندھے جیسے ایک عمارت میں اینٹیں ایک دوسرے کا سہارا بنتی ہیں۔ اور اگر ایک اینٹ ناکارہ ہوجائے تو پوری بلڈنگ متاثر ہو جاتی ہے۔اسی طرح ایک لیڈر کی ٹیم میں ایک آدمی کی کمزوری کی وجہ سے پوری ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔

ایک لیڈر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماتحت افراد میں اپنا ئیت ، انس اور ہمدردی کا احساس پیدا کرے۔اگر ایک فردکسی ادارے میں کام کرتا ہے، لیکن اسے Own نہیں کرتا تو یہ لازمی امر ہے کہ وہ ایمانداری ،صداقت اور خلوص دل سے کام نہیں کرپائے گا۔ وہ عملے کے دیگر لوگوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا کیونکہ مذکورہ شخص لیڈر اور ادارے کو اپنا نہیں سمجھتا۔چنانچہ ایک قائد کا یہاں یہ فرض بنتاہے کہ اپنےماتحت افراد میں اپنائیت کا احساس دلائے اور ان میں برادرانہ تعلق استوارکرے۔ یہ سب کچھ اچھے ماحول پر منحصر ہے اور اچھے ماحول کا دارومدار اچھی قیادت پر ہے۔

Key-8۔اپنی ٹیم کو متوجہ رکھنا:

بعض اوقات ایک لیڈر نے اپنے عملے سے کوئی اہم کام کروانا ہوتا ہے یا خود کوئی ایکشن لینا ہوتا ہے اس وقت کچھ لوگ ذہنی طور پرحاضر نہیں ہوتے۔بلکہ وہ پوری طرح اس کام میں متوجہ ہی نہیں ہوپاتے ایسے بد دل لوگ ٹیم کی کارکردگی پر بہت برااثر ڈالتے ہیں۔اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کیلئے ضروری ہے کہ ایک قائد اپنے تمام لوگوں کو ہر وقت ہوشیار خبردار،چوکنا اور متوجہ رکھے تاکہ ٹیم کی کارکردگی پر کوئی برا اثر نہ پڑے۔

Key-9۔ دوسروں میں تحریک پیدا کرنا:

ایک لیڈر کی یہ بڑی خوبی ہوتی ہے کہ دوسروں میں تحریک پیدا کرتا رہے۔ محنت کرنے کی یہی تحریک کامیابی کی ضمانت ہے۔تحریک میں بہت بڑی قوت پوشیدہ ہوتی ہے۔ورجینیا کے پروفیسر روب کراس کا کہنا ہے:

” ایک لیڈر کا یہ کام ہے کہ وہ لوگوں میں ایک ایسی طاقت پیدا کرے جس سے مطلوبہ کام احسن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔اور وہ طاقت تحریک ہے”۔

تحریک پیدا کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔لیڈر کو پتہ ہوتا ہے تحریک کسی بھی کام کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کیونکہ متحرک لوگ ہی زیادہ اچھے طریقے سے کام کرسکتے ہیں۔ تحریک پیداکرنے کے کئی طریقے ہیں۔ ان میں سے پہلا طریقہ حوصلہ افزائی ہے۔یہ لوگوں میں قوت پیدا کرتی ہے۔اسی طرح نقد انعام، تعریف تنخواہ اور دیگر مرعات وغیرہ تحریک پیدا کرنے کے بہترین ہتھیار ہیں۔تحریک اندرونی اور بیرونی طور پر پیدا کی جاتی ہے۔بیرونی تحریک کو انگریزی میں Extrinsic Motivation کہتے ہیں۔اور اندرونی تحریک کو Intrinsic Motivation کہتے ہیں۔ ایک لیڈر اپنے ماتحتوں میں مالی امداد یا انعام دے کر بیرونی تحریک پیدا کرسکتا ہےجبکہ اندرونی تحریک روحانی طور پر پیدا کی جاتی ہے ۔ ایک لیڈر اپنے عملےمیں تحریک پیدا کر کے اپنا مقصد حاصل کر تا ہے۔ تحریک کے ذریعے ایک طالب علم پڑھتا ہے اور اس کے سامنے تحریک یہ ہوتی ہے کہ اس نے ڈاکٹر یا انجنئیر بننا ہے۔یہ تحریک کا ہی نتیجہ ہے کہ ایک سپاہی اپنے ملک کی خاطر اپنی جان تک قربان کردیتا ہے۔

Key-10۔ معمول سے ہٹ کر کام کرنا:

ایک لیڈر کیلئے ضروری ہے کہ کبھی کبھار بوقت مجبوری معمول اور قاعدے سے ہٹ کر کام کرے اور اس بات کو یاد رکھے کہ انسان کبھی بھی مشینی انداز میں نہیں چلتے ۔ اپنے بنائے ہوئے قوانین اسے کبھی خود بھی توڑنے پڑ جائیں تو عار کی بات نہیں کیونکہ قوانین آسمان سے نہیں آتے ہم انہیں خود بناتے ہیں۔ اگست 2005میں امریکہ کے شہر گلف پورٹ(Gulfport) میں زبردست طوفان آیا۔گلف پورٹ کے ہنکاک بینک Hancock Bank کے دو دروازے تباہ ہوگئے۔اس کے تہہ خانے میں پانی بھر گیا۔بینک ایگزیکٹیو نے ATM کھول کر رقم نکلوائی اور کار پارک کے میدان میں بیٹھ گیا۔ اور جتنے بھی گاہک وہاں آئے ان سب کو بغیر اکاؤنٹ چیک کئے، روز مرہ کاموں سے نمٹنے کیلئے 200 ڈالر فی کس دیتا رہا۔بینک ایگزیکٹیو کے مطابق 200،000 ڈالر واپس نہ کئے گئے لیکن اس دن لوگوں نے 13000 نئے اکاونٹ کھولےاور Bank Deposits 5.1 ملین ڈالر تک جا پہنچا ۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ لیڈر نے ضرورت کے تحت تمام قاعدے و قوانین توڑ کر لوگوں کی خدمت کی جس کےصلے میں بینک ڈیپازٹ میں ناقابل یقین اضافہ ہوا کیونکہ ایک ہی دن لوگوں نے 1300 نئے اکاؤنٹ کھولے۔

Key-11۔ ہر فرد کا کام واضح کرنا:

بسااوقات لیڈر اپنے Role کو نظر انداز کردیتے ہیں۔اور کام کی جگہ (Work Place) پر صحیح آدمی کو نہیں لگاتے((Right Man for the right Job کے اصولوں کو مسمار کردیتے ہیں ۔جب غلط آدمی کو غلط جگہ پر متعین کیا جاتا ہے تو ایک بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔تاریخ اسی قسم کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کیلئے لیڈر اور ٹیم کے ہر آدمی کو اپنےا پنے رول اور کام کا بخوبی پتہ ہونا چاہیے۔ہر کسی کو اپنے مقصد کے حصول کا علم ہو۔لیڈر کا کام ہے کہ اسے اپنےکام کا علم ہو کہ اس نے کیا کرنا ہےاور اپنی ٹیم کو کیسے لیڈ کرنا ہے۔ٹیم کو کیسے یکجا رکھنا ہے ان میں تحریک کیسے پیدا کی جائے ان کی تربیت کا خیال کیسے رکھا جائے اور ہر ایک کو اپنی صلاحیتوں سے آگاہ رکھا جائے۔یہ سب لیڈر کے فرائض میں آتا ہے۔ٹیم کے ہر رکن میں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ اس کی معمولی سی غفلت کیوجہ سے پوری ٹیم کا مقصد ابتدا ہی میں تباہی سےدوچار ہوسکتا ہےاور ناکامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ٹیم کے ہر رکن میں یہ احساس ذمہ داری ہو کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنے حصہ کا فرض بخوبی سرانجام دے گا۔اور پوری ٹیم کی ناکامی کا باعث نہیں بنے گا۔

Key-12۔اپنے ملازمین کےآرام کا خیال رکھنا:

لیڈر شپ کیلئے ضروری ہے کہ اپنے اور دوسروں کے آرام کا خیال رکھے۔ایک کام مکمل کرنے کے بعد آرام کرنے سے انسان دوسرے کام کیلئے تروتازہ ہوجاتا ہے۔ان کی صلاحیتوں کو دوام اور بقا مل جاتی ہے ۔ اگرلیڈر اپنی ٹیم کا کے آرام کا خیال رکھیں تو ناکامی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔آرام کرنا صحت کیلئے بہت ضروری ہے کام کے دوران تھوڑی سی بریک لینا بھی عملے کوتازگی اور توانائی بخشتا ہے۔

Ramboo HR افرادی قوت کے استعمال کے ماہر ہیں جن کا قول ہے:

اگر کسی کمپنی کو پیداوار اور کوالٹی بڑھانا مقصود ہو تو وہ مزدوروں کے آرام و سکون کا خیال رکھے۔

خلاصہ:

کتاب”Small acts of Leadership” کے مصنف جی شان ہنٹر نے قیادت کے چند اصولوں اور قاعدوں کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔اگرکوئی لیڈر ان اصولوں پر عمل کرے تو وہ ایک عظیم لیڈر بن سکتا ہے۔ سب سے پہلے ایک لیڈر کو اپنی قابلیت پر خودیقین ہونا چاہیے ۔ خود اعتمادی کیلئے ضرور ی ہے کہ وہ اپنی ٹیم کو کام کے لیےخود تیار کرے(دوسروں پر نہ چھوڑے)۔ لیڈر شپ کیلئے ضروری ہے کہ پہلےمسئلے کو سمجھے ،جب تک کسی مسئلے کی صحیح طریقے سے نہیں ہوگی تو اس کا حل کیسے معلوم ہوگا۔ لیڈر شپ اپنے ماتحت عملے کو اچھا کام کرنے پر انعامات سے نوازے۔اچھے طریقے سے کام کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ماتحتوں میں کام کی تحریک پیدا کی جائے ۔ ایک کامیاب قیادت تحریک کے ذریعے اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ تحریک پیدا کرنے کے بہت سے طریقے ہیں جن میں تنخواہ میں اضافہ ،بونس ، مرعات میں اضافہ ، چھٹی ، ملازمین کے دکھ سکھ میں شرکت ، قرض حسنہ ،ستائشی سرٹیفکیٹ اوراجتماعی شکل میں سرِ عام اپنے عملے کے اچھے کاموں کی تعریف و توصیف شامل ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں