99

سانحہ سیالکوٹ. تحریر: جی اے نعیمی

سانحہ سیالکوٹ

تحریر: جی اے نعیمی۔

َ

سیالکوٹ کے تاریخی شہر میں راجکو کمپنی کے غیر ملکی سری لنکن جنرل مینجر آنجہانی پریانتھا کمارا کوفیکٹری ملازمین نے بدترین تشدد کے بعد نہ صرف جان سے مار دیا بلکہ مارنے کے بعد انہیں جلا بھی دیا۔یہ ایک نہایت قابل افسوس سانحہ ہے جسی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ہم نے سوشل،الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے علاوہ ہر جگہ اس سانحہ کی مذمت کی اور بدستور کررہے ہیں۔یہ اور ایسے دیگر سانحات پاکستان اور دین متین کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔اس لیے اسکی ہر سطح پر بھرپور مذمت کی جانی چاہیے۔پوری قوم نے اس حادثہ فاجعہ کی مذمت کی۔ریاست پاکستان کے تمام اداروں کے سربراہوں نے بھی اسکی پر زرو مذمت کی اور متاثرہ سری لنکن خاندان اور سری لنکن سفیر سے  بھی تعزیت کی۔علماء  و مشائخ کے ایک بھاری بھرکم وفد نے بھی سری لنکن سفارت خانے جاکر سفیر سے تعزیت کی اور پریس کانفرنس میں اپنا موقف بھی پیش کیا۔
گزشتہ کل 7 دسمبر 2021 کی شام وزیر اعظم سیکریٹیرٹ میں آنجہانی کمارا کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرینس منعقد ہوا جس میں وزیراعظم نے اہم خطاب کیا۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں مستقبل کے حوالہ سے چند اہم باتوں کا ذکر کیا۔سب سے اہم بات جو وزیر اعظم نے کہی وہ یہ ہے کہ”مذہب کے نام پر ظلم کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں. گے ۔ایک بہادر آدمی ایک مکمل فوج ہوتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسانیت کے لیے رحمت ہیں۔آج کچھ لوگ ان کے نام پر انسانوں کو قتل کررہے ہیں۔جب تک زندہ ہوں آئندہ ایسا نہیں ہونے دوں گا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے۔اسلام تلوار کے ذریعے نہیں بلکہ فکری انقلاب کے ذریعے پھیلا ہے۔عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثابت کرنے کا بہترین طریقہ آپ کے بتائے ہوئے راستہ پر عمل کرنا ہے۔ایک فرد پر خود ہی جرم عائد کرنا پھر اسکو خود ہی سزا دینا اور اسے قتل کر دینا یہ کہاں کا طریقہ انصاف ہے۔آئندہ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔”
وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں بی جے پی کی بھارتی حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے ملک عدنان جس نے کمارا کی جان بچانے کی کوشش کی کو توصیفی سند عطا کی اور نشان شجاعت دینے کا بھی اعلان کیا۔
میں وزیر اعظم سیکریٹریٹ کے ہال میں بیٹھا عمران خان کی تقریر سن رہا تھا اور سوچوں میں بھی گم تھا کہ کاش ایسا ہو جائے۔یہ ایک واضح اور دو ٹوک موقف تھا مگر کیا وزیر اعظم ایسا کر سکیں گے؟ میرا جواب ہے نہیں کر سکیں گے۔اس میں شک نہیں کہ وزیر اعظم حصول اقتدار کے بعد لامتناہی مشکلات کا شکار رہے ہیں اور ابھی تک ہیں۔مگر میں اس لیے مایوس ہوں کہ  وہ اس عدلیہ کی موجودگی میں مجرموں کو کڑی سزائیں کبھی بھی نہیں دے سکیں گےجو عدلیہ ملکی تاریخ کی کرپٹ ترین عدلیہ ہے۔جو کرپشن اور اپنے مایوس کن فیصلوں کی وجہ سے پہلے 126ویں نمبر پر تھی اب وہ ماشاء اللہ 130ویں نمبر پر ترقی پا چکی ہے۔اس ملک میں پولیس پاؤں کے ناخنوں سے لیکر سر کی چوٹی کے بالوں تک کرپشن،بدعنوانی اور قانون شکنی میں ملوث ہے۔ایسی پولیس اور انتظامیہ کی موجودگی میں مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا خواب کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا۔وزیراعظم پاکستان نے اپنی تقریر میں صرف مذہبی انتہاء پسندوں کی بات کی ہے جو عدالتیں لگا کر خود ہی مجرم کا اعلان کرتے ہیں اور خود ہی منصف اور گواہ بن کر سزا دیتے ہیں۔میری جناب وزیر اعظم سے گزارش ہے کہ یہ جنونیت صرف مذہبی لوگوں میں ہی  نہیں ہے بلکہ آپ اسکو ہر اس جگہ دیکھ سکتے ہیں جہاں بے تحاشہ دولت اکٹھے کرنے کی حرص اور لالچ کار فرما ہوتی ہے۔یہ لوگ عوام  کا خون بہانا معمولی بات سمجھتے ہیں۔میں جناب وزیر اعظم سے گزارش کرونگا کہ راولپنڈی اسلام آباد کے اردگرد بننے والی ہاؤسنگ سوسائٹیز کا ریکارڈ منگوا کر چیک کریں کہ ان کے مالکان نے ناجائز قبضے کرتے ہوئے کتنے بے گناہوں کا خون بہایا۔یہ لوگ اگر دس کنال زمین خریدتے ہیں تو دس پر ناجائر قبضہ بھی کرتے ہیں۔اگر کوئی غریب زمیندار اپنی آبائی اور موروثی جائیداد کا دعویدار. سامنے آتا ہے تو اسے اس مافیا کے خون خوار درندے گولیوں سے بھون دیتے ہیں۔اس مافیا کے خلاف اس لیے کوئی بات نہیں کرتا کہ اس نے ریٹائرڈ بیوروکریٹس،جرنیل  اور ججز اپنے ہاں ملازم رکھے ہوئے ہیں۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو انہوں نے خرید رکھا ہے۔ابھی تک سینکڑوں افراد کا خون بہایا جاچکا ہے۔لاقانونیت کی کوکھ سے جنم لینے والے ان مافیاز پر بھی توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔میرے خیال میں مذہبی انتہاء پسندی کی جڑیں اتنی مضبوط نہیں ہیں جتنی ان مافیاز کی ہیں۔مذہبی انتہاء پسندوں کو کہا گیا کہ دھرنا دو انہوں نے دے دیا، انہیں کہا گیا اٹھا لو تو انہوں نے اٹھا لیا۔فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ کرو انہوں کر دیا ،پھر کہا گیا کہ اس مطالبے سے دستبردار ہو جاؤ تو وہ ہوگئے۔اس لیے مذہبی انتہاء پسندی کی  سرپرستی اگر ملکی سرحدوں سے باہر سے نہ ہورہی ہو تو ان کو کنڑول کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔اصل مسئلہ ضمیر فروشوں اور سوداگروں کا ہے جو ضمیر بیچتے اور خریدتے ہیں۔ان کے سامنے مذہب کی عزت ہے نہ ملک کی۔
اگر ہم نے معاشرے سے فساد اور بگاڑ کو ختم کرنا ہے تو قانون پر مکمل عمل درآمد کرنا ہوگا۔اس کے لیے خوف خدا رکھنے والے ججز درکار ہیں۔اگر ان ججز کا انتخاب میرٹ پر کیا جائے اور انکی عملی زندگی کی پاکیزگی اور طہارت انکی شخصی عظمت کی گواہی دے تو مجھے یقین ہے ہم ملک میں تمام مافیاز پر قابو پا سکتے ہیں۔میرا یقین ہے کہ پاکستان کے عدالتی نظام میں خوف خدا رکھنے والے ججز ابھی تک موجود ہیں۔آج عدالتی نظام میں سیاسی جماعتوں اور مقتدرہ کے مفادات کا تحفظ کرنے والے ججز تو موجود ہیں مگر عوام اور پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے والے ہمیں انصاف کی کرسیوں پر نظر نہیں آتے۔انہیں مؤثر جگہیں دی جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک کی بگڑی ہوئی صورت بہتر نہ ہو۔وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ ججز ان انتہاء پسندوں کے کیس نہیں لیتے اور ان سے ڈرتے ہیں۔یہ ججز اس لیے ڈرتے ہیں کہ انہیں اللہ کا ڈر نہیں ہے۔اگر خوف خدا ہو تو پھر کسی کا ڈر نہیں رہتا۔میرے علم میں ایسے عظیم ججز ہیں جنکو ہزار لالچیں دی گئیں لینڈ مافیا نے پلاٹوں کوٹھیوں اور کروڑوں کی آفر دی مگر یہ لوگ ان کا ضمیر خرید نہ سکے۔آخر انکی طرف پیغام بھیجے گئے کہ پھر موت کے لیے تیار ہو جاؤ۔ انہوں ہنس کر موت کو گلے لگایا لیا مگر اپنے ضمیر کا سودا نہ کیا۔
میرے خیال میں اگر وزیراعظم کوئی بڑا کام کرنا چاہتے ہیں تو وہ یہی ہے کہ اس ملک کو انصاف پسند منصفین دیے جائیں۔یہ پاکستان کی ایک نہایت عظیم اور تاریخی خدمت ہوگی جو آئندہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔برائی کے درخت کی شاخیں کاٹنے کی بجائے اس شجر بد کو جڑ سے اکھیڑا جائے تو پھر کہیں اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔
وما توفیقی الا باللہ
جی اے نعیمی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں