Mufti gulzar Ahmed naeemi articles 186

شری کرشنا مندر کی تعمیر۔تحریر مفتی گلزار احمد نعیمی

18 / 100

شری کرشنا مندر کی تعمیر۔
پاکستان کا یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ یہ ہر وقت کسی نہ کسی مذہبی مسئلہ سے دوچار رہتا ہے۔ابھی مخدومئہ کائنات سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا کی گستاخی کے حوالہ سے پیدا کیاگیاانتشار ختم نہیں ہوا تھا کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔میں اپنے قارئین اور دوستان محترم کی خدمت میں عرض کرنا چاہوں گا کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا مسئلہ کوئی آج کا نہیں ہے کہ پی ٹی آئی حکومت اسلام دشمنی میں اسے تعمیر کروانا چاہ رہی ہے جیسا کہ ہمارے بعض مذہبی اور سیاسی لوگوں نے واویلا مچایا ہوا ہے۔مندر کی تعمیر کے لیے پلاٹ کی الاٹمنٹ کی درخواست پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 2011 کو پاکستان ہندو کونسل نے دی تھی لیکن اس درخواست پر کوئی عمل نہ ہوا۔اس پلاٹ کی منظوری مسلم لیگ نواز نےاپنے آخری دور حکومت 2017 میں دی تھی۔اس درخواست میں استدعاء کی گئی کہ ہمیں مندر میں شمشان گھاٹ( مردے جلانے کی جگہ) کے لیے بھی جگہ الاٹ کی جائے جہاں ہم اگنی سنسکار( مردے جلانے کی ر سم) کر سکیں.
مندر کی تعمیر کے سلسلہ میری وزیر مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی،میرے مخدوم ومحترم جناب پیرزادہ ڈاکٹر نورالحق قادری سے ٹیلیفون پر بالتفصیل گفتگو ہوئی جو سب سے پہلے میں اہنے قابل احترام دوستوں کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا تاکہ وہ پیرزادہ سے متعلق منفی پراپگنڈہ کرنے والے پراگندہ ذہنوں کے اثر سے محفوظ رہ سکیں اور بعد میں مذہبی کارڈ استعمال کرنےوالےسیاستدانوں اور مفتیان کرام پر بھی بات کروں گا۔وزیر محترم نے فرمایا کہ ہماری وزارت کو کچھ اقلیتی ایم این ایز نے اسلام آباد کے ایچ نائن سیکٹر میں “شری کرشنا مندر” کی تعمیر کے سلسلہ میں فنڈز جاری کرنے کی درخواست دی تھی جس پر وزارت نے انہیں جواب دیا کہ وزارت عبادت گاہوں کی تعمیر کے لیے فنڈز جاری نہیں کرتی بلکہ وزارت موجودہ عبات گاہوں کی مرمت اور تزئین و آرائش کے لیے فنڈز جاری کرتی ہے۔وزارت نے ان اقلیتی ممبران کے کہنے پر یہ درخواست وزیراعظم پاکستان کو بھیج دی،وزیراعظم پاکستان نے مندر کی تعمیر کے لیے ابھی تک کوئی فنڈز جاری نہیں کیے۔وزیر محترم نے فرمایا کہ اس سلسلہ میں میری ملاقات جناب عمران خان سے ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ اقلیتی آبادی کی عبادت گاہوں کی تعمیر کے لیے فنڈ جاری کرنے کا فیصلہ تمام تر سماجی اور مذہبی پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر کیا جائے گا۔اس سلسلہ میں حکومت اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی اور مشاورت لے گی۔۔۔وزیر اعظم نے جناب وزیر مذہبی امور کوھدایات جاری کردی ہیں کہ فنڈر کی تخصیص کہ سلسلہ میں اسلامی نظریاتی کونسل کا نقطئہ نظر معلوم کیا جائے اور کونسل سے مشاورت کی جائے۔وزارت مذہبی امور نے یہ مسئلہ اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالہ کردیا ہے۔
وزیر مذہبی امور نے کہا کہ پاکستان بطور ریاست و حکومت آئین کے مطابق اقلیتوں کے متعین حقوق کی حفاظت کرے گا۔مذہبی آزادیوں کو یقینی بنانے کی ریاست پر اہم ذمی داری ہے۔
وزیر مذہبی امور کے بیان کے مطابق ابھی تک حکومت پاکستان نے مندر کی تعمیر کے لیے کوئی فنڈز جاری نہیں کیے۔ابھی مندر کی بنیادیں رکھنے کے لیے ہندو برادری نے اپنے جمع کردہ فنڈ استعمال کیے ہیں۔۔فنڈز کا اجراء اسلامی نظریاتی کونسل کی آراء کی روشنی میں کیا جائے گا۔لیکن فنڈر کے اجراء سے قبل ہی حکومت پر کچھ موقع پرست سیاستدانوں اور فتوی بازوں نے روایتی حملے شروع کردیے۔کوئی کہہ رہا ہے یہ حکومت نے اسلام دشمنوں کی ہے،کوئی بیان داغ رہا ہے کہ حکومت مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے مندر تعمیر کررہی ہے۔وغیرہ وغیرہ۔
بہت ہی قابل افسوس امر یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی کےموجودہ سپیکر جناب چوہدری پرویز الہی نےموجودہ حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے حکومت پر تنقید کی. چویدری پرویز الہی نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ “پاکستان اسلام کے نام پر بناتھا،اسلام آباد میں نئے مندر کی تعمیرنہ صرف اسلام کے خلاف ہےبلکہ ریاست مدینہ کے تصور کے بھی خلاف ہے” پہلی بات تو یہ ہے کہ اس ملک میں ہمیشہ سیاست دان مذہبی کارڈ استعمال کرتے رہے ہیں اور کررہے ہیں۔اہل مذہب کو مذموم سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں اور کررہے ہیں۔چوہدری صاحب کا یہ اسلامی جذبہ اس وقت کہاں تھا جب وہ وزیراعلی پنجاب تھے؟انہوں نے بطور وزیر اعلی کٹاس راج مندر کی تعمیر نو کے لیے فنڈز بھی جاری کیے اور اپنی حکومت کی نگرانی میں اس مندر کی تعمیر نو بھی کی تھی۔ہم سپیکر پنجاب اسمبلی سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ قبلہ ارشاد فرمائیے آپ نے جو مندر کی تعمیر کے لیےریاست کے کروڑوں روپئے ضائع کیے تھے وہ کس کھاتے میں تھے؟ وہاں تو اب ہندو آبادی کا کوئی نام ونشان بھی نہیں ہے۔آپ نے بت پرستی کے اڈے کی تعمیر نو اور تزئین وآرائش کون سے اسلام سے اجازت لیکر کی تھی؟۔آپ نے تو محض “ثقافتی ورثہ” سمجھ کر بت ہرستی کی یاد گار کو مزین کیا تھا۔حالانکہ آپ جس اسلام کا حوالہ دیکر اپنی ہی حکومت پر تنقید فرمارہے ہیں وہ اسلام تو بت پرستی اور برائی کی تمام یاد گاروں کو مٹانے کے لیے آیا تھا۔خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں جب ایران فتح ہوا تو مال غنیمت میں کسری کی وہ قالین بھی آئی جس پر وہ بیٹھ کر شراب نوشی کیا کرتا تھا۔خلیفہ وقت نے اس قالین کو بھی ٹکڑوں میں تقسیم کر کے مجاہدین میں بانٹ دینے کا حکم فرما دیا۔کچھ مجاہدین نے کہا کہ اسکے ٹکڑے کرنے کی بجائے اسے ویسے ہی بیت المال میں بطور یادگار رکھ لیا جائے۔ اس پر خلیفہ وقت نے اس قیمتی قالین کے ٹکڑے کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ یادگار تو ہے مگر برائی کی یاد گار ہے۔اسلام تمام برائیوں اور برائی کی یادگاروں کو جڑ سے اکھیڑنے کے لیے آیا ہے۔
میرا ان مفتیان سے سوال ہے آپ اس وقت کہاں تھے جب 2017 میں نواز حکومت نے اس مندر کے پلاٹ کی منظوری دی تھی۔اس حکومت نے ہندو برادری کو یہ پلاٹ مندر کے لیے الاٹ کردیا آپ خاموش رہے،اس حکومت نے 295 سی کو ختم کرنے کی کوشش کی، تحفظ ناموس رسالت پر دن دہاڑے ڈاکہ مارا مگر آپ کے فتوے خاموش رہے۔صرف اس وجہ سے کہ وہ حکومت مذہب کے سیاسی پردھان منتریوں کے منہ “چندہ”کے ذریعہ بند کرچکی تھی۔ختم نبوت کے قانون پر ڈاکہ مارنےعمران خان نہیں نوازشریف تھا،ممتاز قادری کوسزائے موت زرداری یا عمران خان کی حکومت میں نہیں دی گئی بلکہ اسی حکومت کے دور میں دی گئی جس نے مندر کے لیے پلاٹ الاٹ کیا تھا۔ان کے سب کام جائز اور عمران خان بار بار یہ کہہ چکا ہے کہ ہم قانون ختم نبوت اور c295 کو نہیں چھیڑیں گے بلکہ ایک قرار داد کے ذریعہ تمام اداروں کو پابند کردیا ہے کہ جب بھی کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام نامی لے تو خاتم النبین ساتھ لازمی کہے۔پھر بھی آپکو عمران خان سے عناد ہے۔آج بھی اگر عمران خان سیاسی مذہب فروشوں کو ساتھ ملا لے اور انکے پیٹ بھرنا شروع کردے تو “سب اچھا” کے نعرہ لگنا شروع ہوجائیں گے۔کرونا کے باب میں نام نہاد سیاسی مذہبی رہنماء یہ چاہ رہے تھے کہ عمران حکومت مساجد بند کرے اور ہم اپنی ڈگڈگی لیکر میدان میں آئیں مگر عمران نے ان موقع پرستوں کی امیدوں کو خاک میں ملا دیا اور علماء کے ساتھ بیٹھ کر معاملہ افہام وتفہیم کے ذریعہ حل کیا۔مساجد کھلی رہیں اور عبادات ہوتی رہیں۔
میری علماء کرام و مفتیان عظام سے گزارش کہ خدا را حقائق کو اچھی طرح دیکھ کر اور چھان بین کرکے اپنا قلم اٹھائیں۔جدید مسائل کو جدید حالات کی روشنی میں دیکھیں۔آج دنیا ایک گلوبل ویلج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔آج اگر غیر مسلم پاکستان میں اقلیت ہیں تو خود مسلمان دنیا کے بہت سےمغربی اور مشرقی ممالک میں اقلیت کی حثیت سے رہ رہے ہیں۔اگر ہم پاکستان میں اقلیتوں کو آزادی نہیں دیں گے تو دنیا بھی ہمارے مسلمان بھائیوں کی مذہبی آزادی سلب کرلے گی،یوں ایک سچے خدا کی وحدانیت کا پیغام رک جائے گا۔دنیا نور ایمان سے محروم ہوجائے گی۔محمد بن قاسم کو اپنا ہیرو ماننے والوں سے گزارش کروں گا کہ وہ محمد بن قاسم کی راجہ داہر کو شکست دینے کے بعد برہمنوں اور ہندوؤں کے ساتھ حسن سلوک کے بے مثال مظاہرہ کو ضرور پڑھیں۔وہ سلطنت عثمانیہ کے فاتحین کا مفتوح عوام کے ساتھ حسن سلوک کے رویہ کا مطالعہ کریں۔اسلام کے آفاقی پیغام کو دنیا کے ہر کونے تک پہنچانے کے لیے شدت پسندی نہیں رواداری کا اصول اپنانا ہوگا۔
ایک بات ہمیں ضرور مدنظر رکھنی چاہیےکہ مسلم ممالک میں غیر مسلموں کے لیے جو ممانعت کے احکام ہیں وہ کسی مذہبی تعصب یا غیر مسلم دشمنی کی بنیاد پر نہیں ہیں۔یہ ممانعتیں محض اس وجہ سے ہیں کہ مسلمانوں کے جذبات واحساسات اور انکی دینی غیرت وحمیت کا خیال رکھا جائے،مسلمانوں کی مذہبی حرمت پامال نہ ہو۔وہ اپنی مذہبی رسومات اس طرح ادا نہ کریں جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں اور اس کے نتیجے میں جنگ وجدل اور فتنئہ وفساد کی صورت حال پیداہوجائے۔اسلام اقلیتیوں کو بھرپور مذہبی آزادی اور انکے جان ومال اور عزت و ناموس کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔
طالب دعاء
گلزاراحمد نعیمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں