36

سلامتی کونسل کا امتیازی طرز عمل

12 / 100

عہد حاضر کا عالمی نظام کس درجہ نا انصاف اوربے اصولی پر کھڑا ہے اس کا اندازہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین کی صورت حال پر غور کے لئے بلائے گئے اجلاس سے ہوتا ہے۔ دنیا کے دور دراز علاقوں میں دہشت گردی ختم کرنے اور کبھی برادری کو درپیش خطرہ ٹالنے کے لئے عشروں تک لڑنے والے امریکہ نے اتوار کے روز سلامتی کونسل میں اسرائیل کی مذمت پر مبنی قرار داد کو دو بار روکا۔ فلسطینیوں پر اسرائیلی فورسز کے حملے کے بعد سلامتی کونسل کا اجلاس چین‘ ناروے اور تیونس کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی وزیر خارجہ ریاد المالکی نے کہا کہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر اسرائیلی حملے جنگی جرائم ہیں‘انہوں نے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل اسرائیل پر تجارتی اور ہتھیاروں کے حصول پر پابندیاں عاید کرے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل اور فلسطین پر زور دیا کہ وہ خون ریزی کے نا ختم ہونے والے سلسلے سے باہر آئیں۔ اس موقع پر امریکی موقف خاصا مایوس کن رہا۔ امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے سلامتی کونسل میں کہا کہ تشدد کا سلسلہ ضرور ختم ہونا چاہیے۔ چینی وزیر خارجہ نے اس موقع پر امریکہ کو اس کی ذمہ داریاں یاد دلائیں۔ وانگ زی نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں کے باعث سکیورٹی کونسل فلسطین کے معاملے پر متفقہ فیصلہ نہیں کر پا رہی۔ روس کا موقف چین کی طرح واضح جبکہ برطانیہ کا امریکہ کی طرح مبہم اور عالمی ذمہ داریوں سے فرار کے مترادف تھا۔فرانس نے بھی تشدد ختم کرنے کی بات کو کافی سمجھا۔ فلسطینی باشندوں کو جس دوسرے ادارے سے مدد کی امید تھی وہ او آئی سی ہے۔ او آئی سی مسلم ممالک کی سب سے بڑی تنظیم ہے۔او آئی سی نے ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں القدس او مسجد اقصیٰ کی حیثیت کو مجروح کرنے پر اسرائیل کی مذمت کی گئی۔ قرار داد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کو روکے۔اس سے زیادہ او آئی سی کچھ کر سکی نہ مزید کرنے کا عندیہ دیا گیا۔ جس وقت سلامتی کونسل کے 5مستقل اور 10غیر مستقل اراکین فلسطین پر اسرائیلی حملوں پر تبادلہ خیال کر رہے تھے اور او آئی سی اسرائیل کے خلاف قرار داد مذمت پاس کر کے اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ اتار رہی تھی اسی لمحے اسرائیل کے طیارے اور میزائل فلسطینی آبادیوں کو ملبے میں تبدیل کر رہے تھے۔ سات روز سے جاری لڑائی میں اتوار کے روز مزید درجنوں نہتے فلسطینی شہید ہوئے۔ اسرائیل کی ڈھٹائی اور بے خوفی اس حد تک جا پہنچی ہے کہ نیتن یاہو فلسطینیوں پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ اب تک 197فلسطینی اسرائیل کی بمباری سے جام شہادت نوش کر چکے ہیں‘ ان میں 58بچے اور 34خواتین شامل ہیں۔ اسرائیل نے اپنے جنگی جنون میں بچوں اور خواتین ہی نہیں ذرائع ابلاغ اور ہسپتالوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ یہ صورت حال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اسرائیل کو ظالم اور جارح قرار دے کر اس کے خلاف عالمی برادری متفقہ لائحہ عمل ترتیب دے۔ اسرائیل کی پالیسیاں بجا طور پر صرف فلسطین کے باشندوں کے لئے خطرہ نہیں بلکہ اردن‘شام‘ عراق‘ ایران ‘عرب ممالک اور ترکی و پاکستان جیسے ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ پالیسیاں نسلی امتیاز کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔ ان سے خطے اور دنیا کا امن دائو پر لگا ہوا ہے۔ایسے ہی جیسے ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن سے، خصوصاً ہمسایہ مسلم ممالک کی سلامتی کو اسرائیل سے خطرہ ہے۔ ان حالات میں اس امر کا تقابل کرنا جائز ہو گا کہ عراق‘ شام اور افغانستان کو معمولی معمولی الزامات پر کھنڈر بنا دینے والی نام نہاد مہذب دنیا کو اسرائیل کے وجود سے اس قدر محبت کیوں ہے کہ وہ ایک قرار داد مذمت تک متفقہ طور پر منظور کرنے کو تیار نہیں‘ خصوصاً امریکہ فرانس اور برطانیہ اس سلسلے میں جو امتیازی رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں وہ مستقبل میں نئے خطرات کا خدشہ پیدا کر رہا ہے۔ یہ اسی عہد کا واقعہ ہے جب یوگو سلاویہ میں نسل پرستانہ مظالم کے خلاف اقوام متحدہ کے حکم پر کمشن بنا اور کئی سلاوک لیڈروں کو سزائیں دی گئیں۔ اس سے پہلے جنوبی افریقہ میں سفید فام اقلیت کے ظلم کے شکار سیاہ فاموں کو بچانے کے لئے عالمی برادری کی انصاف پرستی متحرک ہوئی۔ایسا ہی مشرقی تیمور کے معاملے میں ہوا جہاں مقامی آبادی نے کوئی تحریک آزادی تک شروع نہ کی لیکن محض ان کے مسیحی ہونے کی وجہ سے سلامتی کونسل نے انڈونیشیا سے الگ کر کے اس کی آزادی کو تسلیم کر لیا۔ پوری مسلم دنیا بدامنی‘ انتشار اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ یہ صورت حال مسلمانوں کی قوت‘ موقف اور مفادات کو تقسیم کرنے کا باعث بنی ہے‘ مسلمان ممالک کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر مغربی ممالک ان کے مالی و قدرتی وسائل کو لوٹ رہے ہیں۔ یہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ مسلم ریاستیں سلامتی کونسل کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے مفادات کا خود تحفظ کریں۔ اسرائیل اور اس کے مظالم کی حمایت کرنے والی ریاستوں سے تجارتی تعلقات پر نظرثانی‘فلسطینیوں کے لئے فوری طور پر ہلال احمر کے ذریعے طبی امداد کی فراہمی اور فلسطینیوں کو مضبوط کرنے کے سلسلے میں اقدامات بلاتاخیر ہونے چاہئیں۔خاموشی اور لاتعلقی کا رویہ پہلے ہی اسلامو فوبیا کی افزائش کا سبب بن رہا ہے‘ فلسطین پر اقوام متحدہ اور او آئی سی کی بے بسی انصاف اور امن کی شکست کے مترادف ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں