38

Rich Dad Poor Dad| دنیا کی شہرہ آفاق کتاب کی سمری

Rich Dad Poor Dad

مصنفین کا تعارف:

زیرِ نظر کتاب ’’رچ ڈیڈ اینڈ پور ڈیڈ‘‘ کے مصنف رابرٹ کیو ساکی (ROBERT KIYOSAKI) ایک مایہ ناز امریکی بزنس مین اور مصنف ہیں ۔وہ اپنی پرائیویٹ کمپنی ’’رچ ڈیڈ ‘‘ کے بانی ہیں ۔رابرٹ کیوساکی ذاتی طور پر مختلف ذہنی صلاحیتوں کے حاملِ شخصیت ہیں۔وہ اپنی تحریرکردہ کتاب ’’ رچ ڈیڈ، پور ڈیڈ ‘‘ کی وجہ سے بہت مشہورہوئے ۔ان کی یہ کتاب عالمی سطح پر بہترین فروخت ہونے والی کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس کتاب کی شریک مصنفہ شیرون لیچر(SHARON LECHTER)ایک مایہ ناز امریکی اکاؤنٹنٹ اور مصنفہ ہیں۔شیرون دنیا کی بہترین فروخت ہونے والی کتابوں کی فہرست میں شامل کتاب ’’ رچ ڈیڈ، پور ڈیڈ‘‘ کی معاون مصنفہ کے طور پر مشہور ہوئی ہیں۔ انہوں نے طویل عرصے تک وکالت کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ وہ بزنس کے موضوعات پربہترین سپیکر کا بھی اعزاز رکھتی ہیں۔

کتاب کا تعارف:

رابرٹ کیوساکی، کی یہ کتاب تین کرداروں پر مشتمل ہے؛ یعنی مصنف خود، ان کے حقیقی والد اور ایک امیر دوست کے والد جن سے سیکھ کر مصنف نے زندگی میں بہت سی کامیابیاں حاصل کیں۔یہ کتاب ’’رچ ڈیڈ،پور ڈیڈ‘‘ رابرٹ کیوساکی اور اسکے دو ڈیڈ کی کامیابی کی کہانی ہے۔مصنف کے حقیقی والد ایک غریب آدمی تھے جبکہ ان کے بہترین دوست کے والد ایک امیر آدمی تھے۔

مصنف کتاب کے آغاز میں کہتے ہیں کہ وہ ایک خوش قسمت آدمی ہیں کہ انکے دو والد ہیں اور انہوں نے قابلِ قدر اسباق ان سے سیکھ کر اس کتاب کی نذرکئے۔زندگی کے اسباق سے ان پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ امیر والد ہمیشہ پیسے کی طرف بڑھنے اور زیادہ پیسے کمانے کی طرف متوجہ ہوتا ہے جبکہ غریب والد کی سوچ کمائی اور خرچ کے درمیان پھنسی رہتی ہے۔ مختصر الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب کیوساکی کی زندگی کے تناظر میں لکھی گئی ہے۔

اس کتاب میں مصنف نے کاروبار ی تدابیر سیکھنے، کاروبار میں خطرہ مول لینے اور اثاثہ جات بناکر ان کو موثر آمدنی کا ذریعہ بنانے کی تجاویز دی ہیں۔ مصنفین نے اس کتاب میں امیر بننے کے کئی گر بتائے ہیں۔ ان پر عمل کر کے کوئی بھی آدمی امیر بن سکتا ہے۔

کتاب کے اہم نکات:

کتاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔

Key-1 ۔ پیسے کےلئے کام کرنے کی بجائے، پیسہ کمانے کے گر سیکھیں تاکہ پیسہ تمھارے لئے کام کرے۔

Key-2۔ مالی معماملات سیکھیں تا کہ آپ اثاثوں اور اخراجات میں فرق کر سکیں اور اپنے اثاثے بڑھائیں۔

Key-3۔ سرمایہ کاری سے پہلے خوب سوچ و بچار کریں۔

Key.4۔ جمع شدہ اثاثہ جات سے محفوظ مالیاتی حکمتِ عملی مرتب کریں۔

Key-5 ۔مالیاتی ذہانت کا استعمال ۔

Key-6: ملازمت میں کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کریں۔

Key-7: مالیاتی کامیابی کی راہ سے رکاوٹیں دور کریں۔

Key-8۔مالیاتی کامیابی حاصل کرنے کے لئے آغاز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

Key-1 ۔ پیسے کےلئے کام کرنے کی بجائے، پیسہ کمانے کے گر سیکھیں تاکہ پیسہ تمھارے لئے کام کرے۔

کوئی کام یا نوکری طویل مدتی چیلنج کا قلیل مدتی حل ہے۔تا ہم لوگ اپنے اخراجات کے جال میں قید ہوکر ساری زندگی کسی دوسرے کے لئے کام کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔البتہ وہ لوگ جو اپنے اثاثے بناتے ہیں انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اثاثے بنانے کے لئے وہ کسی کو کتنی رقم ادا کر رہے ہیں ۔وہ اپنے اثاثہ جات بنانے کے طریقے تلاش کرتے رہتے ہیں اور ان کو مسلسل بڑھانے کے لئے کام کرتے ہیں۔وہ اپنا اضافی وقت دولت حاصل کرنے کے لئے صرف کرتے ہیں۔ایک حیران کن مالیاتی حکمتِ عملی یہ بھی ہے کہ کاروبار کو اس انداز میں شروع کیا جائے کہ وہ آپ کے لئے اس وقت بھی دولت کمائے جب آپ خود وہاں موجود نہ ہوں۔لوگوں کی اکثریت اس بات پر زیادہ دھیان دیتی ہے کہ انہیں کیا معاوضہ مل رہا ہے۔لہذا وہ خود کو بہتری کی طرف لے جانے کے تمام مواقع گنوا بیٹھتے ہیں۔

یہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگوں کی اکثریت دوسروں کے لئے کام کرتی ہے کیونکہ ایسا کرنا ان کو محفوظ مستقبل کا احساس دلاتا ہے ،یعنی وہ اس خوف سے کام کر تے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ روزمرہ کی اشیاء کابل ہی ادا نہ کر پائیں۔اس کے بر عکس وہ لوگ جو زیادہ معاوضے پر کام کر تے ہیں اور دولت مند ہوتے ہیں وہ اپنے بل ادا کرنے کے لئے کام نہیں کرتے۔وہ اس لئے کام کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ بھی کر یں اس میں پر جوش ہوتے ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہواکہ وہ کام اپنے خوابوں کوعملی جامہ پہنانے کے لئے کرتے ہیں۔

وہ لوگ جو کام کے عوض زیادہ معاوضہ لیتے ہیں ، بجائے اس کے کہ یہ لوگ اپنے اثاثے بڑھائیں، اس کے برعکس جتنی ان کی آمدنی بڑھتی ہے اتنے ہی ان کے اخراجات بڑھتے ہیں اور یہ سب ان کی تمام خواہشات کی بدولت ہوتا ہے۔

اس طرح کے فرق کو کم کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ نوکری تلاش کرنے یا پیسہ کمانے کے طریقے سیکھنے کی بجائے یہ سیکھا جائے کہ کس طرح پیسے کو منافع بخش مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکتاہے۔ اگر آپ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو خوف اور خواہش سےنقصان اٹھانے کی بجائے اسے اپنےمفاد کے لئے استعمال کر سکتے ہیں ۔ خوف اور خواہش کی شدت احمقانہ پن ہے۔جذباتی سوچ کی بجائے یہ سیکھنا ضروری ہے کہ آپ کے جذبات کس طرح آپ کے لئے تخلیقی ہو سکتے ہیں۔اپنے جذبات کے خلاف ردِعمل دینے کی بجائے اس بات کا فیصلہ کریں کہ آپ کو کس طرح سوچنا ہے ، ایسا کرنا ،آگے بڑھنے کے لئے اچھی بنیاد ڈالے گا۔

زیاد تر لوگوں کی طلب اپنے کام کی قیمت ہوتی ہے اور ان کا یہ مطالبہ انسانی جذبات ،خوف او ر خواہشا ت کا اعکاس ہوتا ہے۔بنیادی طور پر پیسے کی کمی کے خوف کی وجہ سے لوگوں کو سخت محنت کرنا پڑتی ہے اور جب انہیں معقول تنخواہ کا چیک مل جائے، تو مزید دولت کے لالچ اور خواہش کے تعاقب میں وہ ہر اس چیز کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں جو پیسے سے خریدی جا سکتی ہو ۔ پس ان کی زندگی کا مقصد صبح سویرے اٹھنا،کام پر جانااور بل کی ادائیگی کرنا بن جاتا ہے ۔ان کی زندگی ہمیشہ خوف اور لالچ کے ارد گرد ہی گھومتی ہے۔ اگرانھیں زیادہ رقم کی پیشکش کی جائے تو وہ اپنے کام کے اوقات کو بڑھا کراسی طرزِ زندگی میں ڈھل جائیں گے۔اس لئے ہم ان کے اس کھیل کو چوہے بلی کی دوڑ کہیں گے۔‘‘ (رابرٹ کیوساکی اورشیرون لیچر)

Key-2: مالی معماملات سیکھیں تا کہ آپ اثاثوں اور اخراجات میں فرق کر سکیں اور اپنے اثاثے بڑھائیں۔

یہ بات زیادہ اہم نہیں ہے کہ آپ اپنے پیسے کا کتنا خیال رکھتے ہیں لیکن یہ بات اہم ہے کہ آپ پیسے کو کتنے عرصے تک اپنی تحویل میں رکھ پاتے ہیں۔اس فن سے آگاہی کے لئے مالی خواندگی حاصل کرنا ضروری ہے ۔مالی خواندگی کی بنیاد اثاثے اور اخراجات کے درمیان فرق جاننے اور اثاثے خریدنے میں ہے ۔امیر لوگ اپنے اثاثے بناتے ہیں۔مڈل کلاس اور غریب لوگ اپنے اخراجات بڑھاتے ہیں ۔
اثاثہ(Asset) : ہر وہ چیز اثاثہ کہلا تی ہے جو آپ کی جیب میں پیسہ منتقل کرے ۔

اخراجات (Liability): ہر وہ چیز جو آپ کی جیب سے پیسہ باہر لائے وہ اخراجات کہلاتی ہے۔

آمدنی کا بیان اور خرچ کے گوشوارے کو سمجھنامالی دولت کی کنجی ہے۔ پس اعلیٰ کل مالیت حاصل کرنے کے لئے اپنا وقت اثاثے بنانے اور خریدنے میں صرف کریں۔ لوگوں کی اکثریت اپنا زیادہ تروقت اخراجات پورے کرنے میں صرف کرتی ہے، لہذا وہ غریب ہی رہتی ہے۔بہت سے لوگ اس بات کا احساس کئے بغیر کہ وہ کیا کر رہے ہیں ،ذمہ داریوں کے جال میں پھنس کررہ جاتے ہیں کیونکہ وہ مالی خواندگی سے بہرہ مند نہیں ہوتے ۔یہ پہلو گھر کی ملکیت کے لحاظ سے بھی سچ پر مبنی ہے ۔بہت سے لوگ اپنے گھر کو اپنا عظیم اثاثہ سمجھتے ہیں اور اسے بہتر اور بڑا کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔حقیقت میں وہ اثاثہ بنانے کی بجائے گھر کو ایک مستقل خرچ کا ذریعہ بنا رہےہوتے ہیں۔

Key-3۔ سرمایہ کاری سے پہلے خوب سوچ و بچار کریں۔

آپ کا پیشہ آ پکی انکم سٹیٹمنٹ کے آمدنی والے حصے کے ارد گرد گھومتا رہتاہے جبکہ دوسری طرف آپکا کاروبار آپکی بیلنس شیٹ کے اثاثے کے کالم کے ارد گرد گھومتا ہے۔ پس اپنے پیشے کو اپنے کاروبار میں مدغم نہ ہونے دیں۔ یہ ایک عالمگیر حقیقت ہے کہ درمیانے درجے کے لوگ اپنے پیشے پر دھیان دیتے ہیں اور اپنی ساری زندگی کسی دوسرے انسان کے کاروبار کو ترقی دینے میں گزار دیتے ہیں۔اس کے بر عکس امیر لوگ اپنا کاروبار بڑھانے پر دھیان دیتے ہیں۔
اگر ایک شخص اضافی رقم کی سرمایہ کاری ،آمدنی بڑھانے والے اثاثے کے لئے خرچ کرتا ہو تو اس طرح کا طرزِعمل اس کی آمدنی بڑھانے میں مدد کرے گا، پس ہر وہ چیز اثاثہ کہلاتی ہے :
۱۔ جسکی کوئی قدرو قیمت ہو۔
۲۔جس سے آمدنی حاصل ہوتی ہو۔
۳۔جو مارکیٹ میں دوبارہ فروخت کرنے کے لئے تیار کی جاسکتی ہو۔
کچھ اور اشیاء بھی اثاثہ جات کی مدمیں شامل کی جا سکتی ہیں جیسے:
۱۔ ایک ایسا کاروبار جو آپ کی عدم موجودگی میں منافع دے رہا ہو۔
۲۔ کسی دوسرے کے کاروبار میں شراکت داری اور سلیپنگ پارٹنر شپ۔
۳۔ بانڈز کا خریدنا۔
۴۔ کاروبارمیں باہمی خود مختاری
۵۔دانشورانہ جائیداد کی خود مختاری (intellectual property right )

رابرٹ کیوساکی کا کہنا ہے :’’ جیسے جیسے آپ کی آمدنی بڑھتی جائے آپ مزید آسائشات خرید نے کے قابل بنتے جاتے ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ امیر لوگ سب سے آخر میں آسائشیں خریدتے ہیں جبکہ غریب لوگ سب سے پہلے آسائشیں خریدتے ہیں۔غریب اور مڈل کلاس لوگ اکثر اپنے لئے بڑا گھر ، ہیرے اور زیورات خرید تے ہیں کیونکہ وہ امیر نظر آنا چاہتے ہیں ۔وہ امیر تو نظر آنے لگتے ہیں لیکن در حقیقت وہ قرضوں میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں ۔ امیر لوگ اپنی امارت اور دھوم دھام قائم رکھنے کے لئے سب سے پہلے اپنے اثاثہ جات بناتے ہیں پھر اپنے اثاثوں سے اپنی آمدنی بڑھاتے ہیں اور آخر میں اپنے لئے آسائشات خریدتے ہیں ۔

Key.4۔ جمع شدہ اثاثہ جات سے محفوظ مالیاتی حکمتِ عملی مرتب کریں۔

اپنے کاروبار کو وسعت دینے کےلئے دنیا میں یہی اصول رائج ہے کہ آپ اپنے اخراجات کو کم کر یں اور اپنے اثاثہ جات کی محفوظ سرمایہ کاری کریں۔

اپنے اثاثہ جات بنانے کے لئے مالیاتی ذہانت اور معاشی علم کاہونا بہت ضروری ہے ۔ اس کے لئے آپ کوچار مخصوص مہارتوں کی ضرورت پڑتی ہے جو کہ یہ ہیں:
۱۔ اکاؤنٹنسی اور مالیاتی خواندگی مالیاتی پیچیدگیوں کو پڑھنے اور سمجھنے کی اہلیت ۔اس میں مہارت حاصل کر کے آپ کسی بھی کاروبار کے کمزوراور طاقت ور پہلوؤں کی شناخت کر سکتے ہیں ۔
۲۔ سرمایہ کاری کے فارمولے اور حکمتِ عملی کو سمجھنا یا پیسہ کمانے کی تکنیک سمجھنا۔
۳۔ مارکیٹ کے تکنیکی پہلوؤں کو سمجھنے سے مراد وہ طریقہ سیکھنا ہے جس میں انسان کے جذبات اور معاشی تصورات طلب اور رسد ا پر ثر انداز ہوتے ہیں۔
۴۔ تجارتی اور ٹیکس کے قانون کی گرفت جو کہ آپ کی حاصل کی ہوئی دولت پر براہِ راست گہرا اثر ڈالتی ہے۔
اپنے اثاثوں کے بارے میں مالیاتی حکمتِ عملی تشکیل دینے کے بنیادی فوائد یہ ہیں:

ٹیکس کا فائدہ :

انفرادی طور پر جو کمایا جاتا ہے پہلے اس پر ٹیکس ادا کیاجاتا ہے اور بچ جانے والی رقم خرچ کی جاتی ہے ۔اسکے برعکس کمپنی جو آمدنی حاصل کرتی ہے،اس سے پہلے اخراجات کیے جاتے ہیں اور سب سے آخر میں بچ جانے والی آمدنی پر ٹیکس دیا جاتا ہے ۔

قانونی مقدمات سے تحفظ:

کار پوریشنز اور ٹرسٹ اپنے اثاثہ جات کو قرض خواہوں سے بچاتے ہیں۔امیر لوگ ہر چیز کو قابو میں رکھتے ہیں لیکن اپنے لئے نہیں دوسروں کے لئے۔وہ اپنے اضافی اثاثے کار پوریشنز اور ٹرسٹ کو منتقل کر دیتے ہیں۔

پیسے کے بدلے پیسہ بنانے کا خیال ،مالیاتی علم سے نا واقف لوگوں کی سوچ ہوتی ہے۔اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ ذہین نہیں ہوتے بلکہ وہ پیسہ بنانے کی سائنس سے واقف نہیں ہوتے ۔پیسہ صرف ایک خیال کا نام نہیں اگر آپ زیادہ پیسہ کمانا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی سوچ کوتبدیل کرنا ہوگا۔ہر خود انحصار شخص پہلے چھوٹے کاموں سے اپنا کاروبار شروع کرتا ہے اور پھر بڑے بڑے کاموں کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔

Key-5 ۔مالیاتی ذہانت کا استعمال ۔

مالیاتی ذہانت کو ترقی دینے کا بنیادی فائدہ یہ ہوتاہے کہ یہ آپ کو مالیاتی ضروریات کا ایک تخلیقی حل پیدا کرنے کے مزید مواقع فراہم کرتی ہے ۔اس کے لئے سخت محنت کریں اور باقاعدگی سے کچھ رقم محفوظ کرتے جائیں۔بہت سے لوگ اس حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہو کر کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

دنیا میں ترقی کا بڑا اور تیز کھیل آپ کے ارد گرد چل رہا ہوتاہے ۔معلومات کی عمر میں رقم کسی بھی شخص کے ساتھ اچھےخیال کے لحاظ سے اور کسی اور کے ساتھ معاہدے پر مبنی امیر کے ساتھ تیزی سے بڑھ رہی ہوتی ہے۔اس قسم کے ماحول میں کسی بھی انسان کا سب سے بڑا اثاثہ اسکا اپنا ذہن ہوتاہے۔ماضی کے طریقوں کے مطابق کام کرنا اور پرانے خیالات کو اپنائے رکھنا مالیاتی صحت اور خوشحالی کے لئے شدید نقصان دہ ہوتاہے ۔اس بات کا احساس ہی نہ کرنا کہ اب مالی اصول تبدیل ہو چکے ہیں، آپکی کامیابی کے لئے نہایت نقصان دہ ہے۔اپنی مالیاتی ذہانت کو ترقی کی طرف لے جانا،کاروباری لین دین میں جاری تشخیص کا ایک نادر موقع ہوتاہے ۔اس کو صبح صادق کا دور کہا جا سکتاہے جب لوگ اپنے جسم کی بجائے اپنے ذہن سے کام کرتے ہوں ۔مالیاتی ذہانت کی چار تکنیکی مہارتیں ہیں جن پر عبور حاصل کرنا ضروری ہے:

۱۔مالیاتی خواندگی
۲۔سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی
۳۔مارکیٹ میں رسد وطلب کو سمجھنا
۴۔ قانونی تقاضوں کی پیروی کرنا

واضح رہے مالیاتی ذہانت کوبڑھانے کے کئی فوائد ہیں جو کہ یہ ہیں:
۱۔ سرمایہ کاری میں عام طور پر نا خوشگوار نتائج کی بجائے شاندار مواقع ملتے ہیں۔
۲۔ آپ زیادہ بہتر طور پر سماج سے واقف ہوجا تے ہیں اور بہتر طور پر معلومات سے لیس رہتے ہیں ۔آپ سرمایہ کاری کے امتیازات اور خصوصیات کا اندازہ کر نے کے قابل ہوجاتے ہیں ۔
۳۔ آپ مالی طور پر مزید عقل مند ہو جاتے ہیں اور اپنے مخالف کو شکست دینے اور اوسط سے اوپر جانے کے مواقع آپ کوملنے لگتے ہیں۔
رابرٹ کیوساکی کا کہنا ہے کہ میرے نقطہ نظر کے مطابق سرمایہ کاری آپ کو نقصان یا فائدہ دیتی رہتی ہے ۔ لہذامارکیٹ میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے ۔معیشت بڑھتی ہے اور گرتی ہے ۔زندگی کی ہر صبح آپ کے لئے نئے مواقع لے کر طلوع ہوتی ہے لیکن ہم یہ مواقع اکثر دیکھنے سے محروم رہتے ہیں ۔دنیا میں تبدیلی آتی ہے ،مواقع تبدیل ہوتے ہیں اور ہمیں نئے مواقع ملتے ہیں تا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو مالی طور پر محفوظ بنانے کے اقدامات کریں ۔عظیم مواقع صرف آنکھوں سے نہیں دیکھے جا سکتے بلکہ عظیم مواقع دیکھنے کے لئے بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔

Key-6: ملازمت میں کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کریں۔

صحیح کام تک پہنچنے سے مراد ایسے کام کا انتخاب ہے جو آپ کو پیسہ کمانے کے طریقے سکھانے کی بجائے آپکو کچھ ایسا سکھائے جو آپ پہلے سے نہ جانتے ہوں۔ کاروبار میں زیادہ طویل عرصے تک کامیابی کے لئے مہارتوں کے بہت سے مجموعے سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا مندرجہ ذیل پر عمل کریں:
۱۔ کاروبار میں رقم کے بہاؤ کی سوجھ بوجھ اور اپنے وسائل کی لاگت کو موثر اور پیداواری طور پر منظم کرنے کا طریقہ سیکھنا۔
۲۔ کاروباری نظام کو سمجھنا ،خاص طور پر وقت کو کس طرح استعمال/مختص کرنا ہے ۔مقاصد کو کس طرح ترتیب دینا ہے اور کس طرح نا قا بلِ تسخیر منصوبوں کو ترقی دینا ہے۔
۳۔ انتظامی مہارت رکھنے والوں کا پسِ منظر جاننا کہ وہ کس طرح لوگوں کو منظم ،متحرک اور رہنمائی کرتے ہیں۔
۴۔ مارکیٹنگ اور سیل میں مضبوط بنیاد بنانا کہ کس طرح خود پر جبر کر کے پیداواری مفاد کو منظم کیا جا سکتا ہے۔
۵۔ اچھی بات چیت پر عبور حاصل کرنا ،کس طرح دوسروں کے ساتھ بولنا اور بات چیت کرنا ہے۔

بہت کم ملازمتیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی بھی جگہ کام کرنے کے لئے اچھی بنیاد مہیا کرتی ہوں ۔بہت سی نوکریاں زیادہ تر ایک ہی فرد پر اسکی مہارتوں کی وجہ سے ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیتی ہیں اور باقی سب کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔اس لئے تمام جگہوں پر موثر ثابت ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں ایک ملازمت سے دوسری کو اپنانے کے لئے خود کو تیار رکھیں۔ایک ہی مہارت حاصل کرنا ایک جال ہے جس سے بچنا چاہیئے ۔کسی ایک کاروبار یا کسی حلقے کے بارے میں سب کچھ مکمل طور پر جان لینے سے بہترہے کہ بہت سے کاروباری حلقوں کے بارے میں تھوڑی تھوڑی معلومات حاصل کر لی جائیں ۔ کاروبار میں بہترین حالات سے مراد کسی ایسے شخص کے ساتھ کام کرنا ہے جو آپ سے زیادہ سمجھ دار ہو۔

ذہین اور فطین لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے دوران ایسے بہت سے مواقع ہاتھ آتے ہیں جب آپ نئی نئی باتیں سیکھ سکتے ہیں ۔ پس حقیقی زندگی میں صرف ذہین ہونا ہی کافی نہیں بلکہ بہت سے اعلیٰ ذہانت کے حامل لوگ بھی بہت کم معاوضے پر کام کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ ان کو اپنی مہارتوں اور اہلیتوں کا صحیح ادراک نہیں ہوپاتا اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ اپنی صلاحیتوں کو کس طرح اپنے فائدے کے لئے استعمال کریں۔

رابرٹ کیوسا کی نے جب اپنی کلاس سے یہ پوچھا کہ ان میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو میکڈونلڈ سے بہتر برگر بنا سکتے ہیں توتمام طالبعلموں نے ہاں میں جواب دیا۔پھر میں نے پوچھا کہ اگر آپ لوگ زیادہ اچھا برگر بنا لیتے ہیں تو پھر میکڈونلڈ آپ سے زیادہ پیسہ کیوں کما لیتا ہے۔جواب ایک ہی تھا کہ میکڈونلڈ کا کاروباری نظام بہترین ہے ۔
بہت سے ذہین لوگ صرف بہترین برگر تیار کرنے میں اپنی ساری مہارتیں صرف کر دیں گے بجائے اس کے کہ وہ اپنی مہارتیں برگر بیچنے اور ڈلیور کرنے کے اچھے طریقے تلاش کرنے میں صرف کریں۔ہو سکتا ہے کہ میکڈونلڈ بہترین برگر نہ بنا رہا ہو لیکن ایک اوسط درجے کے برگر کو بیچنے اور گاہک تک پہنچانے کا انکا طریقہ بہترین ہے۔

Key-7: مالیاتی کامیابی کی راہ سے رکاوٹیں دور کریں۔

جب ہم مالیاتی ترقی کی بات کرتے ہیں تو فوائد اور نقصانات کا ادراک کرنا بہت ضروری ہو جاتاہے ۔ اس ضمن میں نقصانات کی پیش بینی کر کے ان سے بچنے کی کوشش کر نی چاہیے۔ لہذادرج ذیل پانچ وجوہات سے لوگ اپنے اثاثوں کو ترقی دینے میں ناکام رہتے ہیں:۔
۱۔ وہ رقم حاصل کرنے کی بجائے اسے کھونے کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔
۲۔ وہ دوسروں پر تنقید کے عادی ہوتے ہیں جسکی وجہ سے وہ یقین نہیں کرپاتے کہ یہ کام کیا جا سکتا ہے۔
۳۔وہ اپنی عادات کو تبدیل کرنے کے معاملے میں سست روہوتے ہیں۔
۴۔ ان کی عادتیں ان کے رویے پر حاوی رہتی ہیں۔
۵۔وہ انا پرستی اور دوسروں کو حقیر سمجھنے والے متکبر شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔

انسان کے اندر مندرجہ ذیل خوف کاروباری حکمتِ عملی اور تدبیر سے دور رکھتے ہیں:

پیسہ کھو نے کے خوف پر قابو پانا :

یہ خوف امیر اور غریب لوگوں میں یکساں پایا جاتا ہے لیکن ایک فرق ضرور ہوتاہے کہ امیر لوگ اپنے اس خوف کو کم کر لیتے ہیں جبکہ غریب لوگ اس خوف کے ہاتھوں مفلوج ہو کر رہ جاتے ہیں اور اپنے اس خوف کے بارے میں بات کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ وہ گمان کرتے ہیں کہ شاید یہ مسئلہ خود بخود ہی حل ہو جائے گالیکن ایسا نہیں ہوتا۔حقیقت یہ ہے کہ انسان کبھی نہ کبھی نقصان ضرور اٹھاتا ہے اور نقصان کو کم کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اگلی دفعہ اچھی منصوبہ بندی اور زیادہ محنت کی جائے۔کامیابی حاصل کرنے والے لوگ اپنی ناکامیوں کو خود پر حاوی کرنے کے بجائے ان سے سیکھتے ہیں ۔امیر لوگ نقصان کو وقتی طور پر محسوس کرتے ہیں جبکہ غریب لوگ نقصان کو اپنے اوپر حاوی کر لیتے ہیں۔

مایوسی پر قابو پانا:

مایوسی آپ کو بہتری کا احساس دلانے کی بجائے آپ پر تنقید کرتی ہے۔مایوسی کی بنا پر لوگ ہمیشہ اس بات پر ہی دھیان دیتے ہیں کہ انہیں کس چیز سے بچنا ہے اوراس بات پر دھیان ہی نہیں دیتے کہ وہ اصل میں چاہتے کیا ہیں ۔اسکے نتیجے میں وہ اپنی راہ میں آنے والے کئی قیمتی مواقع گنوا دیتے ہیں ۔حالات کے بارے میں اپنے محسوسات کو بڑھا کر مایوسی کو کم کیا جا سکتا ہے ۔جب آپ کے پاس معلومات زیادہ ہوں گی تو آپ جذبات کے ساتھ فیصلہ کرنے کی بجائے ،معلومات پر مبنی ایک اچھا فیصلہ کریں گے۔

سستی پر قابو پانا:

سستی کا مطلب کا کسی مشکل کا مقابلہ کر کے اس پر قابو پانے کی بجائے حالات سے سمجھوتا کر ناہے۔زیادہ تر لوگوں کو ان کے اندر کا لالچ کچھ زیادہ اور بہتر حاصل کرنے کے لئے جذبہ فراہم کرتا ہے ۔کبھی بھی خود سے یہ نہ کہیں کہ میں اس کام کو کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ بات درست نہیں ہے ۔انسان کا جذبہ کسی بھی چیز کو حاصل کرنے کا متحمل ہو سکتا ہے۔ہمیشہ خود سے یہ سوال کرتے رہیں کہ میں کیسے یہ کام کرنے کا متحمل ہو سکتا ہوں ۔اس صورت میں آپ خود کو ایک چیلنج دے رہے ہوتے ہیں اور پھر دوسرے کام کرتے ہوئے بھی آپکا ذہن اس کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔

بری عادات پرقابو پانا:

کسی بھی انسان کی شخصیت اسکی تعلیم کی بجائے ‘ اسکی عادات سے اچھی طرح واضح ہوتی ہے ۔اچھی عادات اپنانے کے لئے خود پر توجہ دینا ضروری ہے۔بہت سے لوگ پہلے دوسروں کی ضروریات پوری کرتے ہیں اورآخر میں اگر کچھ بچ جائے تو خود پر دھیان دیتے ہیں۔اگر آپ کے پاس ایک ساتھ سب کام کرنے کے لئے پیسے نہ ہوں تو خود کو پیسہ کمانے کے کسی اور اچھے طریقے کے لئےمتحرک کریں ۔ایسا کرنے کے لئے آپ کو محنت اور غور و خوض کی ضرورت ہوتی ہے اور جب آپ خود کو صحیح منزل تک لے جائیں گے تو آپ خود کو زیادہ کامیاب محسوس کریں گے جسکے نتیجے میں آپ کے اندر اچھی عادتیں پروان چڑھیں گی جو مالیاتی طور پر آپکی طاقت بنیں گی۔

تکبر پر قابو پانا:

بہت سے لوگ اکثر اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے خود پر تکبر کا خول چڑھا لیتے ہیں۔اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے وہ خود کو متکبر اور غیر مہذب بنا لیتے ہیں ۔اپنی خامیوں پر قابو پانے کا سب سے اچھا طریقہ یہی ہے کہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرلیں اور اس سلسلے میں دوسروں سے مشورہ کریں۔تجربہ کار افراد کے ساتھ گفت و شنید کریں ۔اپنے مسائل سے متعلق معلومات پر مشتمل مواد اور کتابوں کا مطالعہ کریں۔خود کو ناکامی کے خوف سے باہر نکال لینے کا نام کامیابی ہے ۔ہر نقصان سے سیکھیں ۔اثاثہ جات کو کاروباری مفاد کے لئے استعمال کریں۔اثاثوں کو کاروباری مفاد کے لئے استعمال کرنا ایک بہت دلچسپی کا کام ہے ۔اس کے لئے عظیم برداشت اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ناکام لوگ ہارنے سے ڈرتے ہیں لیکن ہار ‘ انسان کوجیت کی طرف لے کر جاتی ہے۔

Key-8۔مالیاتی کامیابی حاصل کرنے کے لئے آغاز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

مالیاتی ذہانت بیدار کرنے اور مالیاتی آزادی کے سفر کا آغاز مندرجہ ذیل اقدامات سے کریں :
۱۔ سفر کے آغاز کے لئے کوئی جذباتی وجہ تلاش کریں۔
ٍ ۲۔روزانہ کی بنیاد پر اپنے خیال کو تقویت دیتے رہیں۔
۳۔ دوستوں کا انتخاب احتیاط سے کریں۔
۴ ۔ اسوقت تک سیکھنا جاری رکھیں جب تک آپ کام میں مہارت حاصل نہ کر لیں۔
۵۔ذاتی نظم و ضبط پیدا کریں۔
۶ ۔پیشہ ورانہ مشیروں سے مشاورت کے لئے اچھا معاوضہ دیں۔
۷۔سرمایہ کاری کو جاگیر بنانے کے طریقے تلاش کریں۔
۸۔اپنے اثاثوں کا آسائشات کے لئے استعمال نہ کریں۔
۹۔خود میں مالیاتی کامیابی کی خوبیاں پیدا کریں۔
۱۰۔ جو کچھ سیکھیں وہ دوسروں کو سکھائیں۔

بہت سے لوگ امیر بننا پسند کرتے ہیں لیکن جب اس خیال کے بارے میں انہیں اس کی قیمت کا پتہ چلتا ہے تو وہ بہت بے دل ہوجاتے ہیں اور وہ اپنے اوسط درجے کی زندگی کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ لہذا اپنے اندر شدت پیدا کریں اور اپنے مقصد کے حصول کا انتظار کریں ۔جب ایک دفعہ آپ اپنے راستے میں حائل مشکلات پر قابو پا لیں گے تو آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔ خود سے ہر روز تھوڑی دیر تک بات چیت کرنے کی عادت اپنائیں ۔ اس بات کا احساس رکھیں کہ روزانہ کی بنیاد پر کئے گئے چھوٹے چھوٹے فیصلے آپ کے مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔

آپ کے پاس موجودہ صورتحال میں پیسہ نہیں ہے تو اسکو کچھ نہ سیکھنے کا بہانہ مت بنائیں ۔’’ وقت‘‘ آپکا محدود اور قیمتی اثاثہ ہے۔اس لئے سیکھنے کے عمل میں سرمایہ کاری کریں ۔اپنے وقت کو سرمایہ کاری کے متعلق سیکھنے کے لئے استعمال کریں تا کہ جب آپکو سرمایہ کاری کا موقع ملے تو آپ کے پاس پہلے ہی سے کافی معلومات موجود ہوں ۔بہت سے لوگ اس خیال کو دہراتے دہراتے یقین کرنے لگتے ہیں کہ وہ زیادہ پیسہ نہیں کما سکتے ۔جب اس قسم کے خیالات آپ پر حاوی ہونے لگیں تو اپنا نقطہ نظر تبدیل کرلیں اور خود کو یقین دلائیں کہ میں کسی بھی دوسرے انسان کی طرح امیر ہو سکتا ہوں ۔

اگر آپ روزانہ کی بنیاد پر کوشش جاری رکھیں گے تو آپ فوری طور پر عمل کرنا شروع کریں گے اور واضح فرق محسوس کریں گے۔وہ لوگ جو آپ کے ساتھ شریک کارہوں آپ پر اپنے اعمال کے ساتھ اثر انداز ہوتے ہیں ۔کچھ دوست آپ کو وہ راستے دکھائیں گے جن پر آپکو چلنا ہے جبکہ کچھ دوسرے لوگ آپکو ایسے راستوں سے آگاہ کریں گے جن سے آپکو بچنا ہے۔اب یہ آپکی ہوشیاری پر منحصر ہے کہ یہ سمجھ سکیں کہ آپکے دوستوں کا تجربہ در حقیقت آپکو کیا سکھانا چاہتا ہے۔عام طور پر کامیاب ترین دوست پیسے کے بارے میں بات کرنا پسند کرتے ہیں ۔یہ ان کے لئے دلچسپ موضوع ہو سکتا ہے ۔اس کے بر عکس ناکام دوست اس موضوع کے بارے میں بات کرنا نا پسند کرتے ہیں۔پس نئے مواقع پیدا کرنے کے لئے اپنے دوستوں کی دماغی صلاحیت اور ذہانت بھی استعمال میں لا سکتے ہیں۔

آپ اپنے مطالعہ کے لئے جو مواد منتخب کر رہے ہوں اسے نہایت توجہ اور احتیاط سے منتخب کریں۔ اگر آپ ذاتی اثاثہ کالم کوبنانے کی خواہش رکھتے ہیں تو یہ ضرور جان لیں کہ عوام پیسہ بنانے کا صرف ایک طریقہ جانتے ہیں ،پہلے سے بیان کئے ہوئے معاوضے پر کام کرنا ۔درحقیقت پیسہ کمانے کے لا محدود طریقے ہیں ۔ پس آپ کو دستیاب طریقوں کو سیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے ۔یہ کام تھوڑا وقت اور کوشش کا تقاضا کرتا ہے لیکن اسکا نتیجہ آپکی توقع سے بڑھ کر ہو سکتا ہے۔

اگر آپ اپنی ذات پر خرچ کرنے کی بجائے اپنے بل ادا کرنے کے بارے میں زیادہ فکر مند ہوں تو حقیقتاً خود کو ذمہ داریوں کی طرف دھکیل رہے ہیں ،آپ خود کو آگے بڑھانے اور خود میں مثبت تبدیلیاں لانے کے مواقع گنوا رہے ہیں۔اگر آپ سب سے پہلے خود کو اہمیت دیتے ہیں تو آپ اپنے لئے اثاثہ کالم تعمیر کر رہے ہیں ۔اپنے آپ کو اہمیت دینے کے لئے اپنے اندر نظم و ضبط پیدا کریں پھر آپ خود اپنی مالیاتی ذہانت کو بڑھتے دیکھ کر حیران ہوں گے۔

جتنا زیادہ معاوضہ آپ اپنے مشیروں کو ادا کریں گے، اتنا ہی وہ آپ کے لئے اچھا کام کریں گے۔ لہذا کبھی بھی سستا مشیر ڈھونڈنے کی کوشش نہ کریں ۔آپ کی کوشش ہونی چاہیئے کہ آپ طویل عرصے کے لئے ایک اچھا مشیر حاصل کر لیں ۔اگر وہ واقعی آپ کے لئے اچھا ثابت ہوتا ہے تو پھر آپ اسکو دیئے گئے معاوضے سے زیادہ بہتر کمانے کے قابل ہو جائیں گے۔سب سے بہترین صورتحال یہ ہے کہ آپ کسی ایسے مشیر کو تلاش کریں جو دل سے آپ کے لئے کام کرے۔اگر آپ اس بات پر ہی نظر رکھیں گے کہ کس طرح اور کس کس موقع پر مشیر کتنا معاوضہ لے رہا ہے تو وہ بمشکل ہی خود کو آپ کی مدد کرنے پر آمادہ کر پائے گا۔ایک اچھا مشیر منتخب کرنے اوراسکی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے سب سے بہترین راستہ یہ ہے کہ ان کو معاوضہ ان کی طلب کے مطابق دیا جائے۔

جب آپ کوئی سرمایہ کاری کریں تو آپکا پہلا ہدف یہی ہوگا کہ کوئی ایسی چیز خریدی جائے جسکی قیمت وقت کے ساتھ بڑھتی جائے،ایسا اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتا جب تک کہ دارلحکومت اسکا سرٹیفکیٹ جاری نہ کرے۔لیکن اب آپ کے اثاثے آپ کی جاگیر ہے۔اگر اثاثے کی قیمت کم ہونا شروع ہو جائے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ آپ کی مالیاتی صحت پر اثر انداز نہیں ہوگا۔

اپنی آسائشوں کو پورا کرنے کے لئے اپنے اندر ہمت پیدا کریں اور اس مقصد کے لئے آسان طریقہ ڈھونڈنے اور ادھار لینے سے گریز کریں ۔اس کے لئے آپ کو یہ بھی سیکھنے کی ضرورت ہے کہ آپکا کام کس طرح آپ کے لئے پیسہ بنائے گا ۔ پیسے کے لئے کام کرنا اور ایسا کام کرنا جو پیسہ بنائے ،ان دونوں میں معمولی سا فرق ہے لیکن نتیجہ ایک دوسرے کے برعکس ہے۔

ہر ایک کو مثال کی ضرورت ہوتی ہے صرف اس وقت نہیں جب وہ کوئی کام سر انجام دے رہا ہو بلکہ اس کے بعد بھی۔ایک ہیرو دوسروں کو جوش دلانے ، متحرک کرنے اور ایک راستے کی پیروی کرنے کے لئے متاثر کر سکتا ہے ۔مالیاتی ہیرو دوسروں کو متاثر کرنے کا کام کتابوں ، اشتہارات اور اپنے نقطہ نظر پر مشتمل مواد کی مدد سے کر سکتے ہیں ۔اپنے لئے ہیرو منتخب کرنے میں تھوڑا وقت لیں اور احتیاط سے کام لیں ۔

جب آپ مزید کچھ سیکھنے کی ضرورت محسوس کریں تو آپ کے لئے بہتر طریقہ یہی ہے کہ آپ دوسروں کو سکھانا شروع کر دیں ۔اس سے آپ کو نئے نئے خیالات اور طریقے سیکھنے کو ملیں گے جو کامیابی حاصل کرنے میں آپکی مدد کریں گے ۔جتنا علم آپ دوسروں کو سکھائیں گے اس سے زیادہ آپ کے اپنے علم میں اضافہ ہوگا ۔جس دنیا میں آپ رہ رہے ہیں وہ ہمیشہ آپ کی اپنی روح اور شخصیت کی عکاس ہوتی ہے۔ زیادہ حاصل کرنے کے لئے آپ کو پہلے زیادہ دیناسیکھنا ہوگا۔

رابرٹ کیوساکی کا کہنا ہے کہ میں نے ایک لمبا عرصہ دولت کے بارے میں سوچا لیکن میں نے فوری طور پر امیر ہونے کا کوئی راستہ نہ پایا۔ میں سٹاک مارکیٹ کی دنیا میں داخل ہوا اور بہت آگے نکل گیا ۔ اس سے بڑھ کر میں نے اپنی مالیاتی تعلیم پر لمبا عرصہ صرف کیا۔ پس اگر آپ جہاز اڑانا چاہتے ہوں تو پہلے اس کے بارے میں سیکھنا ہو گا ۔ میں ان لوگوں پر حیران ہو تا ہوں جو سٹاک مارکیٹ اور رئیل سٹیٹ خریدتے ہیں لیکن اس میں اپنا عظیم ترین اثاثہ استعمال نہیں کرتے اور وہ عظیم اثاثہ ان کا اپنا ذہن ہوتاہے۔

کتاب کا خلاصہ:

کتاب ’’ رچ ڈیڈ پور ڈیڈ‘‘ کا خلاصہ مصنفین کے اپنے خیالات سے ہی کشید کر کے درج ذیل الفاظ میں لکھا جا سکتا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ اپنی زندگی میں تفریح کو ہمیشہ شامل حال ر کھیں ۔ ا س سے اکثر اوقات آپ جیت جاتے ہیں اور اکثر اوقات آپ سیکھ جاتے ہیں۔بہت سے لوگ صرف اس وجہ سے کامیابی حاصل نہیں کر پاتے کیونکہ وہ ہارنے کے خوف میں مبتلارہتے ہیں ۔بد قسمتی سے بہت سے لوگ صرف اس لئے امیر نہیں ہو پاتے کیونکہ وہ کھو دینے سے ڈرتے ہیں جبکہ ناکامی ،کامیابی کی کنجی اور اس کا پہلا زینہ ہے ۔کامیابی کا مطلب ہارنے کے خوف سے چھٹکارا پانا ہے ۔

رابرٹ کیوساکی کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو دو تحفے عطا کئے ہیں ایک آپکا ذہن اور دوسراآپکا وقت۔اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ان دونوں کو کس طرح استعمال کرتے ہیں ۔اسی طرح وہ نصیحت کرتے ہیں کہ ایک ہی کام کو بار بار مت دہرائیں ۔اپنے عمل میں تبدیلی لانے کی کوشش کر تے رہیں ۔ایک ہی کام کو دہراتے رہنا اور نتیجہ مختلف ہونے کی توقع رکھنا ،بے وقوفی کی علامات ہیں ۔لہذا تبدیلی لانے اور نئے خیالات تلاش کرنے کی کوشش جاری رکھیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ زیادہ پیسے کے طلبگار ہوں تو اپنی سوچ میں تبدیلی لائیں ۔پرانے اورفرسودہ خیالات اور طریقوں کو چھوڑ کر نئے اور جدید طریقوں کو اپنا کر اپنی زندگی کو آسائشوں سے بھر پور بنائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں