rasm e qurbani hai baqi 98

رسم قربانی ہے باقی ،اُٹھ گیا عشقِ خلیل.شمس الحق

12 / 100

رسم قربانی ہے باقی ،اُٹھ گیا عشقِ خلیل
شمس الحق
میرے ایک ہاتھ میں چھری تھی، دوسرا ہاتھ دنبے کی گردن پر اورزبان پر اِنَّ صَلٰواتِیْ وَنُسُکِیْ وَ مَحْیاَیَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کا زمزمہ جاری تھا ۔ دنبے کی آنکھیں آسمان کی جانب اس طرح دیکھ رہی تھیں جیسے اپنی روح کی بلند پروازی کا سماں دیکھ رہی ہوں ۔ اس منظر نے میرے لئے درسِ عبرت و نصیحت کا ایک باب کھول دیا جس میں میں نے بہت کچھ پڑھا ۔ چھری چل گئی اور خون کے فوارے چھوٹنے لگے ۔ چند ہی لمحات کے اندر دنبے کی روح پرواز کر چکی تھی مگر آنکھیں کھلی کی کھلی تھیں ،جیسے وہ مجھے مخاطب کر کے کہہ رہی ہوں کہ : آپ میرے جذبۂ اطاعت و انقیاد کو دیکھیں کہ میں نے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کردی اور اف تک نہ کیا ۔ او ر شاید آپ کو یاد ہو اس وقت بھی میری ہی برادری کے ایک فرد کی گردن پر چھری چلی تھی جب ایک باپ نے اپنے جگر گوشے کی گردن پر چھری رکھ کر عشق وفدائیت کا آخری منظر پیش کیا تھا۔ وہ دن اور آج کا دن ہے جب سے اب تک ہماری برادری کی بے شمار جانیں اس کے حکم کی تعمیل میں قربان ہو چکی ہیں اور کبھی سرمو اس کی خلاف ورزی ہوئی ہے نہ ہوگی ۔(انشاء اللہ ) مگرجس بلند مقصد کی خاطر میرا خون آپ کی طرف سے بہایا جاتا ہے اور ایثاروقربانی کی جو روح آپ میں پیدا کرنا مقصود ہے اس میں برابر زوال ہی زوال دیکھ رہا ہوں ۔ آپ میری گردن پر چھری پھیر کر خوش ہیں کہ قربانی کی ہے ،سنت ابراہیمی کی نقل اور اس کی یاد تازہ کی ہے ۔ایک ایک بال پر نیکیوں کا استحقاق حاصل کیا ہے ،مگر کیا آپ قربانی کا مقصد اور اس کی روح کو اپنے پیش نظر رکھتے ہیں؟
ہم لوگ تو اپنے رب کے سچے پجاری اور حقیقی پرستار ہیں کہ ان تاریخوں کے آتے ہی ہماری برادری اربوں جانور وں کوخدا کی راہ میں قربان کرکے بے مثال مظاہرہ کرتی ہے ۔ ہم تو اسی لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ چنانچہ میں بھی اسی کی تعمیل میں اپنی جان آپ کے حوالے کرکے راضی و خوش ہوں ۔میں آپ کی نیت اور اخلاص پر حملہ نہیں کرتا مگر فطرتاً میرے اندر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ اور آپ کی پوری قوم قربانی کی اس حقیقت کو اپنے اندر پیدا کرنے کی تگ ودوکرتی بھی ہے جو اس سے مطلوب ہے ۔آپ ہی فرمائیں کہ کیا ابھی چند لمحے پہلے آپ اپنی زبان سے یہ اعلان نہیں کررہے تھے کہ ’’ بے شک میری نماز اورمیری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔‘‘اسی کی رضا اور خوشنودی کے لئے ہے ۔ آپ اپنے ان الفاظ پر پھر سے غور فرمائیں ۔ پھر اپنی زندگی اور اپنی برادری کی زندگی پر نظر ڈالیں ،اس کا بغور مطالعہ کریں ۔ پھر اس اعلان سے اس کا موازنہ کریں جو ابھی آپ کی زبان سے نکلا تھا اور صرف آپ ہی نہیں بلکہ آپ کی برادری کے کروڑوں اور اربوں افراد کی زبانوں سے اس کا اعلان ہوا ہے ۔ اس کے بعد خدا را آپ مجھے بتائیں کہ اس بلند بانگ اعلان کا عملی زندگی سے کوئی دور کا بھی تعلق ہے ،اس کا ادنیٰ سا شائبہ بھی پایا جاتا ہے ؟
کیا یہ حقیقت نہیں کہ آپ ہماری گردن پر چھری پھیرنے میں بڑی چابک دستی کا مظاہرہ کرتے ہیں مگر اپنی نفسانیت ، خود غرضی اور مطلب پرستی پر چھری پھیرنے کے لئے نہیں تیار ہوتے ۔حالانکہ میں اپنی گردن کٹا کر ہر سال آپ کو اسی کا سبق پڑھاتا ہوں ۔
آپ کے صاحب قلم میری حقیقت اور فلسفۂ قربانی پر روشنی ڈالنے کے لئے قلم اٹھاتے ہیں تو صفحہ کے صفحہ سیاہ کرجاتے ہیں ،عجیب عجیب نکتے بیان کر جاتے ہیں ۔ آپ کے شعلہ بیان مقرر جب عید الاضحی کا پیغام اور قربانی کے مقاصد پر لب کشائی کرتے ہیں تو سماں باندھ دیتے ہیں اور سامعین کے اندر پوشیدہ جذبات زندہ ہوجاتے ہیں ،مگر جب میں عملی دنیا میں اس کو تلاش کرتا ہوں تو بڑی مایوسی ہوتی ہے۔ خال خال لوگ نظر آتے ہیں جن کے دل اس حقیقت سے آشنا اور اس کی عملی مثال پیش کرتے ہیں۔ باقی ملت کا عمومی حال ناقابل بیان حد تک قربانی کی حقیقت سے دور ہی نہیں بلکہ لوٹ گھسوٹ جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہے ۔اپنی آن اور ذاتی مفادات کے لئے زندگی وقف کررکھی ہے ،دین اور ملت کی کوئی فکر نہیں ،بلکہ اب تویہ ہونے لگا ہے کہ ذاتی فائدے کی خاطر دین و ملت کا نام لے کر تحریکیں چلائی جاتی ہیں ،ادارے قائم کیے جاتے ہیں اور تنظیمیں بنتی ہیں ۔ اس کے لئے بڑے جوش وخروش اور ایثار و قربانی کا جعلی مظاہرہ کیا جاتا ہے ، بڑے بڑے اعلانات کے ذریعہ سادہ لوح عوام کو اس کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے، لیکن جب اپنا الّو سیدھا ہوجاتا ہے تو نہ دین کی فکر رہتی ہے اور نہ ملی مسائل وضروریات کی ۔
آپ کے نبی ہی نے تو آپ کو اس قربانی کا حکم دیا ہے۔کیا اس قربانی کا مطلب صرف اتنا ہی ہے کہ جانوروں کی گردن کاٹی جائے اور دل کی دنیا سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو ؟؟ میرے خون کے یہ قطرے
بالکل ناکافی ہیں اگر اس میں آپ کا سوز جگر بلکہ خون جگر شامل نہ ہو ۔
وہ عشق نہیں ڈھونگ ہے جس میں دل کی ٹیس ،درد و تڑپ اور کرب و بے چینی شامل نہ ہو ۔ اگر آپ دل کی یہ دولت کھو نہ چکے ہوتے توملت اس حالت زار سے دوچار نہ ہوتی جس میں وہ اس وقت مبتلا ہے اور شتر بے مہار کی طرح جدھر چاہتی ہے چلتی ہے ،جو روپ چاہتی ہے اختیار کرتی ہے ۔میری ہستی کیا کہ زبان درازی کروں ۔ آپ آقا میں غلام ،آپ خلیفۃ اللہ فی الارض اور میں خادم ۔مجھے تو یہی حکم ہے کہ آپ جدھر پھیریں پھر جاؤں اور جہاں چاہیں استعمال کرسیں ۔کیا میرے اس جذبۂ ا طاعت اور اپنی بے راہ روی کو دیکھ کر آپ کے دل پر کوئی چوٹ نہیں لگتی اور آپ کو اپنی اصلاح اور مقصد حیات کو سمجھنے پر آمادہ نہیں کرتی ۔ آپ سے صرف جذبات پر قابو پانے اور اس کو خدا کی مرضی کے تابع کردینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے،مگر آپ اس میں افسوسناک حد تک ناکام ہیں بلکہ سرکش اور بے لگام ہیں۔
آپ اپنی ملت کو میرا یہ پیغام سنا دیں کہ وہ اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی جب تک اپنے اندر ایثار و قربانی کا وہ جذبہ پیدا نہ کرے جو اس کے اولین افراد صحابہ و تابعین نے پیش کیا تھا ۔ باپ سے بیٹے کو ذبح کرانا مقصود نہ تھا بلکہ دیکھنا یہ تھا کہ کیا وہ اپنے آقا کی رضا کے لئے عزیز ترین شے کو قربان کرنے کا جذبہ رکھتا ہے یا نہیں ؟ قربانی کا یہ آخری درجہ تھا ۔
اس کے بعد دوسری چیزوں پر بآسانی قابو پایا جاسکتا ہے ۔ یہ یاد اسی لیے باقی رکھی گئی ہے کہ آپ کے لئے درس عبرت ہو اور زندگی کے جھمیلوں میں مشعل راہ ثابت ہو ۔ آپ دیر تک اس حقیقت پر غور کریں اور اپنی اصلاح کی فکر کریں ۔ میں یقیناً پل صراط پر آپ کی سواری بنوں گا ۔ مگر گناہوں سے اپنے آپ کو اتنا بوجھل نہ کر لیں کہ میرے لئے آپ کا اٹھانا دشوار ہوجائے ۔ میرے ایک ایک بال پر آپ کو یقیناً نیکی ملے گی اس لئے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے اور ان کا فرمان قطعاً صحیح ہے مگر دیکھئے خیال رہے کہ گناہوں کی کثرت کے شعلے ان نیکیوں کو جلا نہ دیں ۔ اس وقت آپ کی کشتی حیات بڑے بڑے طوفانون اور منجدھار سے گذرر ہی ہے ۔ اس کے بچاؤ اور نجات کا کام آپ کی حقیقی قربانی ،ایثار اور آپ کے اس اعلان کی صحیح روح ہی کر سکتی ہے جو ابھی ابھی اِنَّ صَلٰواتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیاَیَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کی شکل میں آپ کی زبان سے ادا ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں