quran fehmi 137

قرآن فہمی عشقِ رسول ﷺ کابنیادی تقاضا.خورشید احمد سعیدی،فیکلٹی آف اصول الدین، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اِسلام آباد

13 / 100

قرآن فہمی عشقِ رسول ﷺ کابنیادی تقاضا
(صورتحال، نبوی طریقہ اور عملی اقدامات کا ایک مجوزہ خاکہ)
خورشید احمد سعیدی،فیکلٹی آف اصول الدین، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اِسلام آباد
ہمارے مسلم معاشرے میں عام طور پر سارے مسلمان نبی اکرم ﷺ سے اپنی محبت اور عشق کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بہت سےافراد خود کو محبّ النبی، عاشق رسول وغیرہ کہتے اور لکھتے ہیں۔ وہ اِسی اِظہار سے بالواسطہ یا بلا واسطہ دُنیا میں اپنی شُہرت اور آخرت میں اَجر و ثواب ، نجات، جنت میں بلند مقام اور نبی کریم ﷺ کی معیت وصحبت بھی چاہتے ہیں۔ یہ حضرات کبھی جشن میلاد، کبھی محفل میلاد، کبھی محفل نعت، کبھی دُرود وسَلام وغیرہ کو اظہارِ عشقِ رسول کا ذریعہ بناتے ہیں۔
لیکن یہ کیسی حُبِ رسول ہے جو اپنے محبوب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل کیے گئے قرآن مجید پر اور آپ کے اِرشادات پر عمل پیرا ہونے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کرتی؟ یہ کیسی اِتّباع رسول ہے جو آپ ﷺ کے اُسوۂ حسنہ اور آپ کی ہدایات پر عمل پیرا ہو کرمسلم معاشرے کو غیر اسلامی افکار سے محفوظ بنانے کی جُہدِ مسلسل نہیں کرتی؟ یہ کیسا عشقِ رسول ہے جو منظم سرگرمیوں ، تربیت یافتہ افرادِ کار اور مربوط نظام کے تحت قرآن و حدیث کو مسلسل اور مستقل بنیادوں پر سمجھنے کے لیے پائیدار نظام وضع نہیں کرتا؟ مُحبان نبی اور عُشاقانِ مصطفے ﷺ کو اس پرسنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
حضرتِ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی نظم ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ میں مسلمانوں کی قرآن مجید سے غفلت اور دُوری پر اپنے دُکھ کا اظہار یوں کیا تھا: ؎
جانتا ہُوں میں یہ اُمّت حاملِ قُرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دِیں
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی ہدایت اور رہنمائی تو ہر ایک مسلمان کو تاحیات ہر روز ، ہر کام میں، ہر معاملے اور ہر تعلق میں درکار ہوتی ہے۔ اس لیے قرآن کی تلاوت سیکھنے ، اس کی تعلیمات جاننے اوراُس کے اَحکام کو اپنے اوپر نافذ کرنے کے لیے غور و فکر اور مناسب عملی اقدامات کرنا ضروری ہے ۔یہ اہتمام مسلمانوں کے ہر گھر میں اور گھر کے باہر معاشرے میں تربیت یافتہ افراد کی قیادت میں، روزانہ ایک معیّن وقت پر دفترمیں، اِدارے میں، منڈی میں، جائے کاروبار میں، عدالت میں، تھانے میں، مشاورتی ملاقاتوں میں، مدرسے میں، کالج میں، یونیورسٹی میں، پارلیمنٹ، وزیر اعظم ہاؤس اور ایوان صدر میں ہونا چاہیئے۔
ایک طرف انسانی نفس کی شر انگیز کاروائیاں ہیں تو دوسری طرف غیر اسلامی میڈیا کے مُضر افکار و اَثرات ہیں۔ ایسے حالات میں معاشرے میں قرآن مجید سیکھنے سِکھانے کا کوئی جامع، مرتب و منظّم پروگرام اِس وقت نہ ہی کسی دینی تحریک کی سرگرمیوں میں، نہ ہی مردوں کے لیے، نہ عورتوں کے لیے، نہ اپنی اولاد کے لیے، نہ اپنے مریدوں کے لیے، نہ رشتہ داروں کے لیےکہیں نظر آتا ہے۔ البتہ غیر مرتب، غیر منظم، بکھرا بکھرا، کبھی کبھار، اِدھر اُدھر کچھ اَفراد قرآن فہمی کے ساتھ منسلک ضرور ہیں۔ اُن کی مُثبت کوششوں کا اِنکار نہیں کیا جا سکتا لیکن جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ نا کافی ہے ۔ وہ کافی ہوتا تو ملک کے اندر اور ملک کے باہر عالمی سطح پر مسلمان جن فکری مسائل، عملی مصائب، مادی مشکلات، مسلم دُشمن پالیسیوں اور پیچیدہ صورت حال میں پھنسے ہوئے ہیں وہ اُن کا شکار نہ ہوتے۔ وہ اَغیار کی سیاست میں غلامانہ انداز میں بندھے نہ ہوتے۔ وہ اپنے ہی ممالک میں غیروں کے ظلم و بربریت کا نشانہ نہ ہوتے۔ وہ غیر مسلموں کی معاشی تزویراتی منصوبہ بندیوں میں جکڑے نہ ہوتے۔ وہ میڈیکل سائنس میں پسماندہ نہ ہوتے۔ وہ مختلف نظام ہائے تعلیم میں منتشر الافکار قوم نہ ہوتے، آپس میں لڑ نہ رہے ہوتے اور نہ ہی قیادتِ عالم کے منصب سے محروم ہوتے۔ یہ سب عشقِ رسول ﷺ اور قرآن فہمی میں عدم موافقت کے نتائج ہیں۔
حضرتِ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ نے اپنی نظم ’طلوع اسلام‘ میں مسلمانوں کو جو نصیحت تقریباً ایک سو سال پہلے کی تھی وہ آج کے عالمی حالات میں پہلے سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا:
یہ نکتہ سرگزشتِ مِلّتِ بیضا سے ہے پیدا
کہ اقوامِ زمینِ ایشیا کا پاسباں تو ہے
سبَق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی اِمامت کا
اَقوام ایشیا کی پاسبانی ہو یا دُنیا کی اِمامت، عالمی معاشرتی عدالت کا مسئلہ ہو یا مِلّی شجاعت کا یہ سب محبتِ رسول، قرآن فہمی اور عمل بالقرآن کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔ انہوں نے ’’جوابِ شکوہ‘‘ میں مسلمانوں کی جوحالت بیان کی تھی وہ آج پہلے سے زیادہ ابتر نظر آتی ہے:
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر تم خوار ہوئے تارِک قُرآں ہو کر
علامہ اقبال نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مسلمانوں کے غافلانہ رویےاور بے پرواہ برتاؤ پر ناقدانہ اُسلوب میں یہ بھی کہا:
زمیں کیاآسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہے
غضب ہے سطرِ قرآں کو چلیپا کر دیا تو نے!
یعنی قرآن مجید کی کم فہمی ، ناقدری اور بے عملی پر خسارے کے تنائج نکلیں گے۔ قرآن فہمی کا حسبِ ضرورت اہتمام نہ کر کےمسلمانوں نے آیاتِ قرآنی پر بالعموم خطِ تنسیخ پھیر دیا ہے۔اس کے ساتھ اہل صلیب والا رویہ اختیار کیا ہے۔ عمارتوں پر اگر چہ قرآنی آیات لکھوا دی جاتی ہیں لیکن قرآن فہمی اور عمل بالقرآن کا جامع نظام، مستقل اہتمام اور واضح نفاذ بہت کم پایا جاتا ہے۔
ہمارے محبوب رسول اللہ ﷺ نے اپنی مبارک زندگی کے تئیس سال کسی وقفے کے بغیر تعلیم قرآن، ترویج قرآن اور تبلیغ قرآن میں لگائے کیونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم تھا:
﴿يَاأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ﴾ سورۃ المائدة: ۶۷.
ترجمہ: اے رسول معظم! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (وہ سارا لوگوں کو) پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے (ایسا) نہ کیا تو آپ نے اس (ربّ) کا پیغام پہنچایا ہی نہیں، اور اللہ (مخالف) لوگوں سے آپ (کی جان) کی (خود) حفاظت فرمائے گا۔ بیشک اللہ کافروں کو راہِ ہدایت نہیں دکھاتا۔
﴿أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾ سورۃ العنكبوت: ۵۱.
ترجمہ: کیا ان کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر (وہ) کتاب نازل فرمائی ہے جو ان پر پڑھی جاتی ہے (یا ہمیشہ پڑھی جاتی رہے گی)، بیشک اس میں رحمت اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔
اپنے رسول معظم ﷺ کو تو اللہ تعالیٰ نے یہ اِرشاد فرمایا جبکہ اہل ایمان ، اہل عشق و محبت اور جانثارانِ مصطفی کو حکم دیا :
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ﴾ سورۃ محمد: ۳۳.
ترجمہ: اے ایمان والو! تم اللہ کی اطاعت کیا کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کیا کرو اور اپنے اعمال برباد مت کرو۔
اِطاعتِ رسول ﷺ کےبارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان بھی جاری کروایا:
﴿قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ﴾ سورۃ النور: ۵۴.
فرما دیجئے: تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو، پھر اگر تم نے (اطاعت) سے رُوگردانی کی تو (جان لو) رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذمہ وہی کچھ ہے جو ان پر لازم کیا گیا اور تمہارے ذمہ وہ ہے جو تم پر لازم کیا گیا ہے، اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے، اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر (احکام کو) صریحاً پہنچا دینے کے سوا (کچھ لازم) نہیں ہے۔
اہل ایمان اور اہل عشق ومحبت کو اللہ تعالیٰ نے براہ راست مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
﴿لَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾ سورۃ الأنبياء: ۱۰.
ترجمہ: بیشک ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جس میں تمہاری نصیحت (کا سامان) ہے، کیا تم عقل نہیں رکھتے۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ نشرواشاعتِ تعلیم قرآن کی اپنی طویل جہدِ مسلسل کے آخر میں ہادیٔ عالم ﷺ نے کیااِرشاد فرمایا تھا؟ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث کی اپنی مشہور کتاب مؤطا میں یہ اِرشادِ نبوی محفوظ کیا ہے:
«تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ»
( مفہوم): میں نے تمہارے پاس ہدایت کے دو سر چشمے چھوڑے ہیں۔ جب تک تم انہیں اچھے طریقے سے پکڑے رکھو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔ ایک اللہ کی کتاب ہے اور دوسرا اُس کے نبی کی سنت ہے۔
حالت یہ ہے کہ کتابِ ہدایت قرآن مجید سے دُوری نے مسلم عوام کو بالعموم اور حکمرانوں کو بالخصوص بزدل اَفراد کا ایک کم فہم مجموعہ بنا دیا ہے۔ دیکھیے! جس آدمی کا دل مطمئن نہ ہو وہ تذبذب کا شکار ہوتا ہے اور اعتماد سے کوئی کام سر انجام نہیں دے سکتا۔ یہی بے اعتمادی اسے بزدل بنا دیتی ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ الرعد: ۲۸ میں اللہ کریم نے ارشاد فرمایا ہے:
﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾
ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے اور اُن کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔
اس آیت مبارکہ کے پیغام کو سامنے رکھیں تو یہ بات بہت آسانی سے سمجھ میں آ سکتی ہے کہ جو شخص قرآنی تعلیم سے جاہل ہو گا وہ بامعنی ذکر اللہ نہیں کر سکے گا۔ جو ذکر اللہ میں مشغول نہیں ہو گا اس کے دل کو اطمینان حاصل نہیں ہو گا۔ جو ذکر اللہ سے اپنے دل کو قلب مطمئن نہیں بناسکے گا وہ ایک دلیر اور بہادر مسلمان کبھی نہیں بن پائے گا ۔ جو اطمینان قلب اور بہادری سے خالی ہو گا وہ زندگی کے کاموں میں دولتِ اعتماد سے بھی تہی دامن ہو گا۔ اس کا کوئی بھی کام بطریق احسن پایہ تکمیل کو نہیں پہنچے گا۔ یہی حال ہو گا چاہے وہ ایک فرد ہو یا کروڑوں افراد پر مشتمل ایک مُلک یا اربوں افراد کی ایک قوم، ایک اُمت۔
نڈر مسلمان، سچا عاشق مصطفی ، مخلص محبِ رسول اور ثابت قدم اہل ذکر بننے کے لیے جو راستہ اور جو طریقہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ الأحقاف: ۱۳ میں بتایا ہے وہ قابل توجہ ہے۔ اِرشاد ربانی ہے:
﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾
ترجمہ: بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر انہوں نے استقامت اختیار کی تو ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اس آیت سے واضح طور پر یہ پیغام ملتا ہے کہ قرآن فہمی میں مسلسل اضافے سے ایک مسلمان دلیر اور بہادر بنتا ہے جبکہ قرآنی اِرشادات سے جہالت اُسے بزدل بنا دیتی ہے۔ بزدلی سے بچنا اور طاقت ور دلیر مسلمان بننا عشق رسول ﷺ کا تقاضا ہے۔ حدیث کی مستند کتاب صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے عشاقانِ مصطفی کے لیے ایک فرمان نبوی مروی ہے:
[الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ، خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ، …]
مفہوم: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں طاقت ور مومن ضعیف مومن کے مقابلے میں بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔ ہر ایک میں بھلائی ہے۔ ہر اس کام کو کرنے میں حریص بنو جس میں تمہارا حقیقی نفع ہو، اللہ سے مدد مانگا کرو اور عاجز نہ ہو جایا کرو۔
مسلمان اگر قرآن مجید اور سنتِ رسول ﷺ سے جاہل رہیں گے اور اُن پر عمل نہ کریں گے تو غیر مسلموں کی سازشوں اور دھوکہ دہی سے کبھی بچ نہیں سکیں گے۔ مسلمانوں کے خلاف یہود ونصارٰی کی مسلسل سازشوں اور معاندانہ موقف کے بارے میں قرآن مجید نے یوں انکشاف کر کے ہدایت پیش فرمائی ہے:
﴿وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ﴾ سورۃ البقرة: 120.
ترجمہ: اور ہرگز تم سے یہود اورنصاریٰ راضی نہ ہوں گے جب تک تم اُن کے دین کی پیروی نہ کرو، تم فرما دو اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے ، (اور اے سُننے والے) اگر تُو اُن کی خواہشوں کا پیرو ہوا بعد اس کے کہ تجھے علم آ چکا تو اللہ سے تیرا کوئی بچانے والا نہ ہو گا اور نہ مدد گار۔
کیا ہندوستان، اَندلُس اور خلافت عثمانیہ کے بعد کی تاریخ عالم اس پر شاہد عادل نہیں ہےکہ قرآن وسنت سے دُوری مسلم کو غیر مسلم کا غلام بنا کر رکھ دیتی ہے؟ کیا قرآن مجید سے جہالت کی وجہ سے مسلم معاشرہ داخلی انتشار کا شکار نہیں ہو جاتا ؟ کیا قرآن مجید میں بیان کردہ اِنسانی معاشرتی حقوق و فرائض کی ادائیگی سے غفلت قوت واتحاد کو پارہ پارہ نہیں کر ڈالتی ؟ کیا یہ تاریخ کی سچی گواہی نہیں ہے کہ قرآن مجید سے جُڑ جانے سے اونٹوں کے چرواہے بہت طاقتور حکمران بن گئے ؟ وہ بادشاہوں کے شہنشاہ بن گئے ۔ وہ اس دُنیا سے چلے بھی گئے تو اُن کی عزت واحترام لوگوں کے دلوں میں اب بھی پائی جاتا ہے۔ اِسی لیے مصّورِ پاکستان علامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کو یہ نصیحت کی تھی:
قُرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جِدّتِ کردار
مسلمانو! تمہاری جدّتِ کردار، عزت و وقار، عظمت ورفعت قرآن فہمی اور عمل بالقرآن میں ہے۔ اس لیے اللہ کی کتاب میں تفکر و تدبر کرو۔ اپنی قرآن فہمی اور عشق رسول کو بڑھاؤ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کی سخت مصروف زندگی میں قرآن فہمی کا آسان طریقہ کیا ہے؟ اس کا بالکل آسان جواب عشاقان مصطفی ﷺ کے لیے حدیثِ مصطفی میں موجود ہے۔
قرآن فہمی میں اضافے کا نبوی طریقہ
قرآن فہمی اوراس میں مسلسل اضافے کا ایک بہت آسان طریقہ جناب نبی کریم ﷺ کی اُس حدیث میں ملتا ہے جو آپ نےایک دن اپنے اَصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم کو اِرشاد فرمائی۔ حدیث کی معروف کتاب صحیح مسلم کے باب ’’فضل قراءۃ القرآن فی الصلوۃ و تعلمہ‘‘ میں لکھا ہے۔ آپ نے اُنہیں اِرشاد فرمایا:
«أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى بُطْحَانَ أَوْ إِلَى الْعَقِيقِ، فَيَأْتِيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ؟»، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ نُحِبُّ ذَلِكَ، قَالَ: «أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمُ، أَوْ يَقْرَأُ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَثَلَاثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ، وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِلِ»
مفہوم: تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ وہ روزانہ صبح مقام بُطحان کی طرف یا وادی عقیق کی طرف جائے اور وہاں سے بغیر کسی گناہ اور بغیر کسی قطع رحمی کے دو بڑے بڑے کوہان والی اونٹنیاں لے آئے؟ تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہم سب اس کو پسند کرتے ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: پھر تم میں سے کوئی شخص صبح کو مسجد میں کیوں نہیں جاتا تاکہ قرآن مجید کی دو آیتیں خود سیکھے یا کسی کو سکھائے ؟ یہ (دو آیتوں کی تعلیم )دو اونٹنیوں (کےحصول ) سے بہتر ہے۔اور تین ،تین سے بہتر ہے اور چار، چار سے بہتر ہے۔ اس طرح آیتوں کی تعداد اونٹنیوں کی تعداد سے بہتر ہے۔
ہمارے محبوب رسول ﷺ کے صحابہ کرام نے اس ترغیب پر کیسے عمل کیا؟اس کا یک جواب مُسند ابو یعلیٰ موصلی میں حضرت أنس رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ملتا ہے۔ انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے قرآن فہمی کے طریقہ کے بارے میں بتایا:
«إِنَّمَا كَانُوا إِذَا صَلَّوُا الْغَدَاةَ قَعَدُوا حِلَقًا حِلَقًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَعَلَّمُونَ الْفَرَائِضَ وَالسُّنَنَ»
مفہوم: جب وہ نماز فجر سے فارغ ہو جایا کرتے تو گول دائرے بنا کر بیٹھ جاتے، قرآن مجید پڑھتے ، پھراُن پڑھی گئی آیات میں بیان کردہ فرض اور سنت کام سیکھتے۔
اِن احادیث سے ہمیں گروپ اسٹڈی کی اہمیت اور فوائد سمجھ لینے چاہئیں ۔مزید برآں یہ کہ مسجد میں صبح کے وقت دو یا زیادہ آیات کے تعلّم اور تعلیم کی افضلیت میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے لیکن جو مسلمان مسجد نہیں جا سکا وہ گھر ہی میں اکیلے یا اہل خانہ کے ساتھ دو تین آیاتِ قرآنی سیکھنے سِکھانے کا اہتمام کرے تو اسے نہ صرف اطمینانِ قلب، عظمتِ کردار اور دلیری نصیب ہو گی بلکہ وہ دُنیا اور آخرت میں کامیابی اور اپنے محبوب ﷺ کی معیت میں عظیم مرتبہ بھی پائے گا ۔ ان شاء اللہ
آگے بڑھنے سے پہلے یہاں مزید ایک آیت اور اس کے پیغام ربانی کی طرف توجہ مبذول کرانا بہتر معلوم ہوتا ہے۔ لوگوں نے قرآن کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا اس کے متعلق قیامت کے دن اللہ کے رسول ﷺ رب عظیم کی بارگاہ میں یوں عرض کریں گے:
﴿وَقَالَ الرَّسُولُ يَارَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا﴾سورۃ الفرقان: ۳۰
ترجمہ: اور رسولِ (اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرض کریں گے: اے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو بالکل ہی چھوڑ رکھا تھا۔
اس بات کو ذہن میں رکھ کر آگے میری معروضات کا مطالعہ فرمائیں۔
قرآن مجید سیکھنے سِکھانے کی ترکیب و ترتیب
حدیث نبوی سے قرآن فہمی کا بہترین وقت، جگہ ،روزانہ کی مقدار اور آسان طریقہ جان لینے کے بعد اس کی عملی ترکیب و ترتیب جاننا بھی ضروری ہے۔ قرآن مجید سیکھنے سِکھانے کے کئی طریقے ہیں۔ قرآن کے طالب اپنے مزاج ، مصروفیت ، سہولت اور صلاحیت کےپیش نظر اُن طریقوں میں سے جسےمناسب سمجھیں اپنے لیے منتخب کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ سورۃ المزمل: 20.
ترجمہ: پس جتنا آسانی سے ہو سکے قرآن پڑھ لیا کرو۔
یہاں ان متعدد طریقوں میں سے صرف دو کی مختصروضاحت پیش ہے۔
ا. سورتوں کی ترتیب کے مطابق قرآن فہمی
قرآن مجید کو سورتوں کی ترتیب کے مطابق سیکھنے سِکھانے کا مطلب یہ ہے کہ طالبانِ قرآن سورۃ الفاتحہ سے شروع کریں اور سورۃ الناس تک روزانہ کی کچھ آیات کو ترجمہ یا تفسیر کی مدد سے مسلسل سیکھتے چلے جائیں۔ آپ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ روزانہ ایک رکوع کی تلاوت اور اس کے ترجمےکا مطالعہ مقرر کر لیں۔ آپ چاہیں تو کسی بھی پارے کی کسی بھی سورت کو پہلے سمجھ لیں۔ مثلاً سورۃ نور، سورۃ حجرات، سورۃ رحمٰن، وغیرہ۔
عملی اقدامات میں سب سے پہلے آپ یا گروپ کے شرکاء باری باری مقررہ یا منتخب کردہ آیات کی تلاوت کریں۔ جس دوست کے تلفظ میں کوئی غلطی ہو اس کی تصحیح کی کوشش کی جائے۔ اس کے بعد آیت کے الفاظ اور تراکیب کے معانی سیکھے جائیں۔ اس کے بعد با محاورہ ترجمہ پڑھا جائے۔ بامحاورہ ترجمہ کے ذریعے اس آیت میں بھیجے گئے پیغام الہی کو سمجھنے کی پوری کوشش کی جائے یعنی یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ ان آیات میں ایمان اور عقیدے کی کوئی بات بیان کی گئی ہے یا عبادات کے متعلق کوئی حکم دیا گیا ہے؟ باہمی معاملات اور اخلاق کے متعلق کوئی ہدایت دی گئی ہے یا غیر مسلمانوں کے ساتھ تعلقات کی کوئی رہنمائی کی گئی ہے؟ معیشت اور کاروبار کی کوئی بات ہوئی ہے یا خاندانی زندگی کے بارے میں کوئی ارشاد ربانی ہے ؟ سابقہ انبیاء اور ان کی امتوں کےکسی واقعہ سے حکمت و دانائی کی کوئی بات سمجھائی گئی ہے یا اللہ تعالیٰ کی شان و قدرت اور صفات و افعال کا بیان ہے یا سیرت رسول اکرم کا کوئی پہلو اجا گر کیا گیا ہے؟ وغیرہ
اگر ضرورت محسوس ہو تو کسی مختصر تفسیر سے بھی استفادہ کیا جائے۔ پھر شرکاء یہ دیکھیں کہ سیکھی گئی آیات میں ان کے روز مرہ کاموں اور عمل کرنے کے لیے کیا پیغام دیا گیا ہے؟تعمیر شخصیت کا یہ ایک مسلسل، طویل مدتی اور بہت مستقل مزاجی کا متقاضی طریقہ ہے۔ جنہیں یہ طریقہ اچھا لگے وہ اسے اختیار کر سکتے ہیں۔
ب. موضوعاتی ترتیب کے مطابق قرآن فہمی
سورتوں اور اُن کی آیات کی مذکورہ بالا ترتیب سے کچھ مختلف طریقہ موضوعاتی ترتیب کا طریقہ ہے۔ یہ ایسا طریقہ ہے جس میں کسی ایک قرآنی موضوع کے متعلق تمام آیات کا اکٹھا مطالعہ کیاجاتا ہے چاہے وہ آیات کسی ایک سورۃ کی ہوں یا مختلف سورتوں کی۔ اس طریقے سے کسی موضوع کے تمام مختلف پہلو ایک ہی جگہ زیر مطالعہ لائے جا سکتے ہیں۔ یہاں بھی پہلے تلاوت کی جائے۔ پھر الفاظ کے معانی سیکھے اور اپنی ذاتی ڈائری میں لکھے جائیں۔ اس کے بعد با محاورہ ترجمہ بغور پڑھا جائے۔ پھر مرکزی موضوع کے متعلق ہر آیت میں مذکور تمام ذیلی موضوعات، نکات یاجزئیات معلوم کی جائیں اور انہیں نکات کی شکل میں اپنی ڈائری میں لکھا جائے۔ اس اجتماعی کام کے لیے اگر آپ تختہ تحریر یعنی وائٹ بورڈ یا ملٹی میڈیا پروجیکٹر کا استعمال کریں تو تفہیم میں بہت آسانی ہو جائے گی۔ اس کے بعد آپس میں سوال وجواب کی نشست شروع کی جائےتاکہ افہام و تفہیم میں مزید اضافہ اور پختگی ہوجائے۔ آخر میں مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے کہ وہ اس عظیم الشان عمل پر استقامت اور سیکھے گئے اسباق کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔
قرآن مجید کے بڑے بڑے موضوعات میں اخلاق، ارکان اسلام، ارکان ایمان، اہل اسلام، منافقین، تعلقات بین المذاہب، جنت و جہنم، حقوق العباد، حقوق اللہ ، حقوق انسانی، حکومت، حلال و حرام، حیوانات، دنیا و آخرت، سابقہ اُمتیں، سابقہ انبیاء، سابقہ مذاہب یعنی یہودیت، نصرانیت، صابئیت، مجوسیت، مشرکین، معاملات، سیاست، معیشت،سیرۃ النبی ﷺ، عائلی زندگی کے مسائل یعنی نکاح، حقوق زوجین، طلاق، اولاد، عبادات، عقائد ،فقہی احکام، فلکیات، نباتات، وغیرہ شامل ہیں۔ قرآن مجید میں ان کے تحت مزید کئی ذیلی موضوعات بھی ہیں۔
موضوعاتی ترتیب اور طریقے سے قرآن فہمی شروع کرنے سے پہلے نہ صرف بڑے بلکہ ان کے ضمن میں بیان کیے گئے ذیلی موضوعات کو جاننا بھی بہت ضروری ہے۔پھر تمام قرآنی موضوعات اور ان کے متعلق ساری آیات کو جاننا بھی لازم ہے۔ اس کے لیے درج ذیل کتب سے استفادہ کرنا بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے:
1. مضامین قرآن (۱جلد)، زاہد ملک
2. اشاریہ مضامین قرآن(۲ جلد)، مولانا سید ممتا ز علی
3. جامع اشاریہ مضامین قرآن (۴ جلد)، ڈاکٹر اطہر محمد اشرف
4. جہانگیری قرآنی اشاریہ (۱ جلد)،سرور حسین خان قادری جہانگیری، کراچی، ۱۹۹۲ء.
5. قرآنی انسائیکلوپیڈیا (۸ جلد)، ڈاکٹر محمد طاہر القادری، لاہور، ۲۰۱۸ء۔
6. موضوعاتِ قرآن انسائیکلوپیڈیا (۷ جلد)، سعید الظفر صدیقی، لاہور، ۲۰۱۶ء۔
7. معجم القرآن (۱ جلد)، سید فضل الرحمن، زوّار اکیڈمی، کراچی
ان کتابوں کی مدد سے کسی ایک قرآنی موضوع کے متعلق ایک جگہ جمع کی گئی آیات کو ایک دن کے مطالعے کے لیے منتخب کر لیں۔ اس طرح آپ کسی بڑے قرآنی موضوع کے ساتھ ساتھ اس کے متعدد ذیلی موضوعات کے بارے میں اپنی قرآن فہمی میں بہت آسانی سے اضافہ کر لیں گے۔
اپنی روزانہ کی قرآن فہمی کو پکا اور مضبوط کرنے کے لیے کچھ اور کام بھی کیے جائیں۔ ہر روز جو دو تین یا زیادہ آیات یا ایک رکوع آپ سیکھیں یا کسی ایک منتخب موضوع کے متعلق تمام آیات کا موضوعاتی مطالعہ کریں ان کا خلاصہ اپنی ایک ذاتی ڈائری میں لکھا کریں۔ ایک مخلص عاشق رسول ﷺ تو ایسا ضرور کرے گا ۔ حدیث کی کتاب مُسند الشہاب میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ہے کہ ہمارے حبیب کریم کا ارشاد گرامی ہے:
«قَيِّدُوا الْعِلْمَ بِالْكِتَابِ»
یعنی علم کو قید ِتحریر میں لایا کرو۔
اپنی قرآن فہمی کو صرف ڈائری میں لکھنے اور محفوظ کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ روزانہ جن عزیز و اقارب اور دوست احباب سے ملاقات ہو ان کے ساتھ گفتگو میں جہاں ممکن اور مناسب سمجھیں ان آیات کے پیغام کا تذکرہ کریں۔
صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا ہے:
«بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلاَ حَرَجَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
مفہوم: میری طرف سے علم آگے پہنچایا کرو چاہے وہ ایک ہی بات (نشانی یا دلیل) ہو اور بنی اسرائیل کی(قرآن وحدیث کی روشنی میں سچی) باتیں بیان کیا کرو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (مگر) جس نے جان بوجھ کر جھوٹی بات میری طرف منسوب کی وہ اپنا ٹھکانا نارِ جہنم میں بنا لے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ معاشرتی زندگی میں ملنے والوں سے دین کی باتوں کا چرچا ضرور کرنا چاہیئے ۔اپنی قرآن فہمی کو فروغ دیں، اپنے عشق مصطفی ﷺ کو پروان چڑھائیں، اِس کے ساتھ ساتھ معاشرے کی قرآن فہمی میں بھی اضافہ کرنے کے کچھ اقدامات بھی کریں۔ اس طرح دُنیا اور آخرت میں اپنا مقام و مرتبہ بلند کریں ۔ اگر آپ وَٹس ایپ ، ٹوئٹر اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں تو اس کے ذریعے بھی اپنے دوست احباب کے درمیان روزانہ سیکھی گئی آیات کے پیغام کی نشر و اشاعت کریں۔مزید برآں ہفتہ بھر کے دوران سیکھے ہوئے قرآنی اسباق کو مرتب و منظم اور مناسب حال مضمون کی شکل دے کر کسی رسالے یا اخبار میں بھی شائع کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔
قرآن فہمی کی اشاعت کا ایک طریقہ پانچ سات منٹ یا کم وبیش دورانیے کی ویڈیو بنا کر یو ٹیوب پر اَپ لوڈ کرنا بھی ہے۔اس سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
ہاں مگر احتیاط کا دامن ہاتھ سے کبھی نہ چھوڑیں۔ کوئی غلط، غیر مستند اور جھوٹی بات کسی کےسامنےہرگز پیش نہ کریں۔ یہ یاد رکھیں کہ اگر کوئی شخص اپنی طرف سے کوئی جھوٹی بات بنائے اور لوگوں کو یہ بتائے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے تو آخرت میں اس جھوٹے کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہو گی۔
قرآن فہمی کا ایک منظم گروپ ایسے شعراء پر مشتمل ہونا چاہیے جو نعت گوئی اور نعت خوانی کرتے ہیں۔ نعت لکھنے کے لیے انہیں جس دُرست اور ٹھوس فکری غذا کی ضرورت ہوتی ہے اس میں قرآن فہمی کا ایک مسلسل عمل بہت اچھا کردار ادا کر سکتا ہے۔ قرآن فہمی کے سنجیدہ حلقہ میں قرآنی موضوعات پر اٹھنے والے سوالات، غور وفکر اور تبادلۂ خیال سے اُن کے تخیل میں وُسعت، سوچ کے آفاق میں بلندی، اِنتخاب اَلفاظ میں بہتری، بندش و تراکیب میں مضبوطی، اُسلوبِ بیان میں حُسن، قافیہ و ردیف میں گہرا ربط، پیغام میں اسلامیت ، اہداف میں عظمت کے پہلو اور قرآنی سیرت نبوی کی تفہیم وغیرہ سب میں قرآنیت کی چھاپ اور رنگ پہلے سے زیادہ ہوں گے۔اس سےمعاشرے میں صحیح اوربہت مفید اثرات تو مرتب ہوں گے ہی لیکن سب سے زیادہ بہتری عشق رسول ﷺ کے اظہار و اطوار میں آئے گی۔ جہالت کی وجہ سے جنم لینے والی خرافات اور من مانیوں کا سدِ باب ہو گا۔
قرآن فہمی کا گروپ اگر گھریلو خواتین پر مشتمل ہے تو وہ ایک اور تجویز کو اپنے معمولات اور اُمورِ خانہ داری میں شامل کر لیں۔ جب اُن کے بچے کھیل کود اور پڑھائی کے کام سے فارغ ہوں تو انہیں مغربی میڈیا کی تیار کردہ فضول گیمز میں دماغ اور وقت ضائع کرنے سے بچائیں۔ ان کے دل و دماغ میں سچی قرآنی معلومات کا اضافہ کریں۔ قرآنی احکام اور حکمت و دانائی کی باتیں اپنے جگر کے ٹکڑوں میں منتقل کریں۔ سوال جواب کی شکل میں دہرائیں اور ان کے ذہن نشین کریں تاکہ دُنیا میں وُہ اچھے سچے مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزاریں تو ساتھ ہی آخرت میں بُرے انجام سے نہ صرف محفوظ رہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے سرفراز ہو ں۔
سکول کالج کے لڑکے اور لڑکیوں کے پاس کالج میں بہت وقت ہوتا ہے۔ وہ اپنے ہم عمر ،ہم مزاج اور ہم خیال دوستوں کا ایک حلقۂ قرآن فہمی تشکیل دیں۔ اسے قرآن اسٹڈی سرکل کا نام بھی دے سکتے ہیں۔چھٹی کے وقت، ہفتہ وار چھٹی کے دن یا کسی فارغ وقت میں اپنے حسبِ حال قرآنی مطالعہ ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سنت پر عمل کرنے کا یہ ایک بہترین طریقہ ہے۔
گیارہ مہینوں کے مقابلے میں قرآن فہمی کا زیادہ اہتمام ماہ رمضان میں کریں کیونکہ یہ قرآن کا مہینہ ہے۔ چاہیں تو کسی خاص قرآنی موضوع پر ہفتہ روزہ تربیتی ورکشاپ برائے قرآن فہمی کا انعقاد ممکن بنائیں۔
ان تجاویز پر عمل کرنے کے لیے مخلص عاشقانِ رسول ﷺ کو پہلے قرآن فہمی میں مدد دینے والی تین قسم کی کتب سے آگاہی اور اُن سے اِستفادے کی ضرورت ہے۔ ہاں مگر یاد رہے کہ یہاں وہ لوگ مخاطب نہیں ہیں جو قرآن فہمی کے لیے دینی مدارس میں شہادۃ العالمیہ یا عصری جامعات میں ایم اے اسلامیات کے طالب ، ایم فل یا پی ایچ ڈی اسلامیات کی ڈگریوں کے سکالرہیں ۔ یہاں صِرف اُن لوگوں کے عملی اِقدامات کے لیے چند تجاویز پیش ہیں جو مدارس اور نہ ہی جامعات میں قرآن مجید کی باقاعدہ تعلیم کے لیے جا سکے۔
قرآن فہمی کے لیےتین طرح کی کتب
قرآن فہمی میں اضافے کے لیے ابتدائی قدم قرآن کی تلاوت کے ساتھ ساتھ تراجم قرآن کا مطالعہ ہے۔اس سلسلے میں پہلاعملی قدم یہ ہےکہ آپ درج ذیل تراجم قرآن اپنےگھر میں اور اپنے گروپ کے مطالعے میں رکھیں۔
1. کنز الایمان، از امام اہل سنت الشاہ احمد رضا خان بریلوی (متوفیٰ ۱۳۴۰ھ ؍ ۱۹۲۱ء) رحمۃ اللہ علیہ
2. القرآن الکریم مع ترجمہ البیان، از امام اہل سنت غزالیٔ زماں رازیٔ دوراں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی (متوفیٰ ۱۴۰۶ھ ؍۱۹۸۶ء) رحمۃ اللہ علیہ، ضیا ءالقرآن پبلی کیشنز، لاہور۔
3. جمال القرآن، از ضیاء الامت حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری (متوفیٰ ۱۹۹۸ء) رحمۃ اللہ علیہ، ضیا ءالقرآن پبلی کیشنز، لاہور۔
4. انوار الفرقان فی ترجمہ معانی القرآن، شیخ القرآن و الحدیث حضرت علامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری (متوفیٰ۱۴۲۸ھ ؍۲۰۰۷ء) رحمۃ اللہ علیہ، مکتبہ قادریہ لاہور۔
5. انوار تبیان القرآن مع ترجمہ نور القرآن، شیخ القرآن و الحدیث علامہ غلام رسول سعیدی (متوفیٰ ۱۴۳۷ھ؍ ۲۰۱۶ء)رحمۃ اللہ علیہ، فرید بک سٹال لاہور۔
6. عرفان القرآن، از شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری، منہاج القرآن پبلی کیشنز، لاہور۔
7. عرفان القرآن، سید محمد وجیہ السّیما عرفانی چشتی، لاہور
8. عمدۃ البیان فی ترجمۃ القرآن، ڈاکٹر مفتی غلام سرور قادری بخاری (متوفیٰ ۲۰۱۰ء)، لاہور
9. فیضان القرآن، ڈاکٹر غلام زرقانی قادری، دار الکتاب، دہلی۔
10. آسان ترجمہ قرآن مجید، حافظ نذر احمد ، مسلم اکادمی، لاہور۔
11. تذکرہ ترجمہ قرآن، علامہ سید ریاض حسین شاہ، ریاض القرآن پبلی کیشنز، لاہور، ط ۱، ۲۰۰۸ء۔
12. کنز الایمان لفظی ترجمہ ریاض الایمان (۳ جلد)، ابو حمزہ مفتی ظفر جبار چشتی، لاہور ۱۴۳۲ھ؍۲۰۱۳ء۔
اس ابتدائی مرحلے کی قرآن فہمی میں جب آپ تراجم قرآن مجید سے مدد لے رہے ہوں تو ایک بنیادی بات پر دھیان ضرور رہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ ہر قرآنی لفظ، اصطلاح اور ترکیب کے معانی الگ الگ سمجھ کر جتنا ممکن ہو یاد بھی کرتے جائیں۔ مذکورہ تراجم میں کچھ ایسے بھی ہیں جن میں مترجمین نے متن قرآن کے نیچے ہرلفظ کا معنی الگ خانے میں لکھا ہے اور پھر اس سے نچلی سطر میں آیت کا بامحاورہ ترجمہ بھی پیش کیا ہے۔ یہ کام قرآن فہمی کاآغاز کرنے والوں کے لیے بہت مفید ہے۔
ایک اور بات بھی جس پر سے توجہ ہَٹ نہ جائے۔وہ یہ ہے کہ اپنے گلی ، محلے،گاؤں، چک، ڈھوک وغیرہ کی مساجد میں موجود کچھ جیدعلمائے دین سے رابطہ ضرور رکھیں اور قرآن فہمی کے اس مرحلے پر ان سے مشاورت لیتے رہیں اور رہنمائی حاصل کرتے رہیں۔ ہفتے یا مہینے میں ایک بار انہیں اپنے قرآن اِسٹڈی گروپ میں ساتھ بٹھائیں ۔ اپنی سرگرمیوں اور طریقہ کار پر ان کے براہِ راست مشاہدے کا جائزہ طلب کریں اور اس سے اپنے کام کو بہتر بنائیں۔
اگر آپ کی یا گروپ کی تعلیم انگریزی میڈیم سکولوں میں ہوئی ہے تو شاید اُردو زبان کے مقابلے میں انگریزی زبان پر آپ کی گرفت زیادہ ہو گی۔ یہ بات ہے تو آپ درج ذیل انگریزی تراجم اور تفاسیر قرآن بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
1. Abdullah Yusuf Ali, English Translation and Commentary of the Qur’an, Da‘wah Academy, Islamabad.
2. Mufti Ahmad Yar Khan, English Commentary of the Qur’aan Known as Noor-ul-Irfan with English Translation of Kanz-ul-Imaan, Dar-ul-Uloom Pretoria, South Africa, 2nd ed., 2005.
3. Muhammad Imdad Husain Pirzada, Tafseer Imdad-ul-Karam, 5 Vols., Commentary of the Holy Qur’an, Al-Karam Publication, UK.
4. Kanz-ul-Iman by Shah Farid-ul-Haq, Karachi
5. Jamal-ul-Qur’an by Justice Pir Muhammad Karam Shah al-Azhari, Lahore.
6. Irfan-ul-Qur’an by Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadiri
7. The Majestic Quran, by Dr Musharraf Hussain al-Azhari, UK, 2018.
قرآن فہمی میں اضافے کے لیے دوسرا ذرا بلند قدم یہ ہے کہ آپ تلاوتِ قرآن اور تلاوت کردہ آیات کا ترجمہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ درج ذیل مختصر تفاسیرِ قرآن اپنے پاس گھر میں اور اپنے مطالعے میں رکھیں۔
1. خزائن العرفان (۱ جلد)، از حضرت مولانا نعیم الدین مراد آبادی (متوفیٰ ۱۳۶۷ھ ؍ ۱۹۴۸ء) رحمۃ اللہ علیہ
2. تفسیر مظہر القرآن (۲ جلدیں)، از شیخ الاسلام مفتی شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی (متوفیٰ ۱۹۶۶ء) رحمۃ اللہ علیہ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور۔
3. نور العرفان (۱ جلد)، از مفتی احمد یار خان نعیمی (متوفیٰ ۱۳۹۱ھ ؍ ۱۹۷۱ء) رحمۃ اللہ علیہ
4. جمال الایمان فی مفاہیم القرآن (۱جلد)، از علامہ سید ذاکر حسین سیالوی (متوفی ۲۰۱۸ء) رحمۃ اللہ علیہ، مِصریال راولپنڈی۔
5. فوائد تفسیریہ وعلوم قرآنیہ: فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں (۳ جلدیں) ، مرتب: شیخ الحدیث علامہ حافظ محمد عبد الستار سعیدی، رضا فاؤنڈیشن لاہور، ۲۰۰۸ء ۔
6. تفسیر رؤفی (۲ جلدیں)، مولانا شاہ رؤف احمد رافت مجددی نقشبندی رامپوری (متوفی ۱۸۳۳ء) رحمۃ اللہ علیہ، الحقائق فاؤنڈیشن، لاہور ۲۰۱۲ء۔
قرآن فہمی کی اس سطح اور اس مرحلے میں مذکورہ مختصر تفاسیر سے زیادہ سے زیادہ اِستفادہ آپ اُس صورت میں کر سکتے ہیں جب آپ کو قرآنی عربی کا بنیادی علم بھی ہو۔ اس کے لیے آپ قرآن کی صَرف و نحو یعنی گرائمر کی تفہیم سے اقسام کلمہ یعنی اسم ، فعل اور حرف کے درمیاں فرق کو سمجھیں۔پھر اُن اسماء ، افعال اور حروف کی انواع و اقسام کا علم حاصل کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے اِعرابی و ترکیبی لوازمات کو سیکھیں۔ قرآنی عربی جملے کے مرفوعات، منصوبات اور مجرورات سیکھیں۔ آخر میں قرآنی آیات میں باہمی ربط اور جملوں کی ساخت اور ترکیب و تشکیل کا اپنا فہم بھی بڑھائیں۔ اس سے براہِ راست آپ کا فہم قرآن بڑھے گا۔
قرآنی عربی زبان سیکھنے کے لیے کتابیں دو طرح کی ملتی ہیں۔ ایک ترجمہ کے طریقے سے زبان سیکھانے والی اور دوسری وہ جو ڈائریکٹ منہج سے عربی سکھاتی ہیں یعنی ترجمہ کے بغیر۔ عربی کا معلم مع کلید (چار حصے) اردو سے عربی ترجمےکے طریقے سے جبکہ العربیہ بین یدیک (چار حصے) براہِ راست عربی سے عربی سیکھنے کے طریقے کے مطابق لکھی گئی ہیں۔یہ پڑھ لیں تو بہت زیادہ فائدہ ہو گا۔
قرآن فہمی میں اِضافے کے لیے تیسرا قدم تفصیلی قرآن فہمی ہے۔اگر آپ تفصیل اور گہرائی سے قرآن فہمی کا اشتیاق اور طلب رکھتے ہیں تو پھر درج ذیل تفاسیرِ قرآن اپنے پاس رکھیں۔ باقاعدگی، تسلسل اور مستقل مزاجی سےان کا مطالعہ کریں۔
1. تفسیر مظہری (اردو، ۱۰ جلدیں)، علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نقشبندی (متوفی ۱۲۲۵ھ؍ ۱۸۱۰ء) رحمۃ اللہ علیہ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۰۲ء۔
2. تفسیر الحسنات (۷ جلدیں)، علامہ ابو الحسنات سید محمد احمد قادری (متوفیٰ ۱۳۸۰ھ؍۱۹۶۱ء)، رحمہ اللہ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور، بار۴، ۱۹۹۸ء۔
3. تفسیر نعیمی (۱۶ جلدیں)، مفتی احمد یار خان نعیمی (متوفیٰ ۱۳۹۱ھ ؍ ۱۹۷۱ء) رحمۃ اللہ علیہ، نعیمی کتب خانہ ، گجرات۔
4. ضیاء القرآن (۵ جلدیں)، ضیاء الامت حضرت پیر محمد کرم شاہ (متوفیٰ ۱۹۹۸ء) الازہری رحمۃ اللہ علیہ
5. احکام القرآن (۶ جلدیں)، مفتی محمد جلال الدین قادری(متوفیٰ ۱۴۲۹ھ ؍ ۲۰۰۸ء) رحمۃ اللہ علیہ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور۔
6. تبیان القرآن (۱۲ جلدیں)، شیخ القرآن والحدیث علامہ غلام رسول سعیدی (متوفیٰ۱۴۳۷ھ؍ ۲۰۱۶ء) رحمۃ اللہ علیہ، فرید بک سٹال لاہور۔
7. تبیان الفرقان (۵ جلدیں)، شیخ القرآن والحدیث علامہ غلام رسول سعیدی (متوفیٰ۱۴۳۷ھ؍ ۲۰۱۶ء) رحمۃ اللہ علیہ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز ، لاہور۔
8. جمال الایمان فی تفسیر القرآن (۸ جلدیں)، علامہ ذاکر حسین سیالوی (متوفی ۲۰۱۸ء) رحمۃ اللہ علیہ، راولپنڈی۔
9. تفسیر نور القرآن، علامہ ابو النصر منظور احمد شاہ (متوفیٰ ۱۴۴۰ھ ؍ ۲۰۱۹ء) ، رحمۃ اللہ علیہ ، جامعہ فریدیہ ،ساہیوال۔
10. صراط الجنان فی تفسیر القرآن (۱۰ جلدیں)، شیخ الحدیث والتفسیر مفتی محمد قاسم قادری عطاری، مکتبۃ المدینہ، کراچی۔
11. فیو ض الرحمٰن اردو تر جمہ تفسیر روح البیان (۱۵ جلدیں)، علامہ محمد فیض احمد اویسی (۱۴۳۱ھ؍۲۰۱۰ء)، بہاول پور۔
12. روح الایمان المعروف تفسیر اویسی (۱۵ جلدیں)،علامہ محمد فیض احمد اویسی (۱۴۳۱ھ؍۲۰۱۰ء)، بہاول پور۔
13. نجوم الفرقان من تفسیر آیات القرآن (۱۵ جلدیں)، علامہ عبد الرزاق چشتی بھترالوی، ضیاء العلوم پبلی کیشنز، راولپنڈی۔
14. امداد الکرم (۵ جلدیں)، علامہ محمد اِمداد حسین پیرزادہ، الکرم پبلی کیشنز، یوکے، ۲۰۱۳ء۔
15. سید التفاسیرالمعروف بہ تفسیر اشرفی (۱۰جلدیں)، علامہ سید محمد اشرفی المعروف محدث اعظم ہند کچھوچھوی (متوفی ۱۳۸۳ھ) علیہ الرحمہ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۲ء۔
16. جوہر الایقان المعروف بہ تفسیر رضوی (۴ جلدیں)، علامہ حشمت علی بریلوی، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی، انڈیا۔
17. تفسیر نبوی (۱۵ جلدیں)، علامہ مولانا نبی بخش حلوائی (متوفی ۱۳۶۵ھ ؍ ۱۹۴۵ء) رحمۃ اللہ علیہ، لاہور۔
18. تفسیر فاضلی (۷ جلدیں)، حضرت فضل شاہ قطب عالم (متوفیٰ ۱۹۷۸ء) رحمۃ اللہ علیہ،فاضلی فاؤنڈیشن ،لاہور، ۱۹۹۸ء۔
19. فضلِ قدیر اردو ترجمہ تفسیر کبیر (۲۲ جلدیں)، علامہ مفتی محمد خان قادری (متوفیٰ مارچ ۲۰۲۰ء)، لاہور۔
20. تفسیر غوث جیلانی (۳ جلدیں)، حضرت الشیخ عبد القادر جیلانی (مترجم: مولانا محمد شریف الدین قادری اشرفی)، اکبر بک سیلر، لاہور۔
21. فیوض القرآن (۲ جلدیں)، ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی، فیروز سنز، لاہور، ۱۹۹۲ء۔
22. برہان القرآن (۸ جلدیں)، علامہ حافظ محمد طیب نقشبندی، مکتبہ برھان القرآن، لاہور، ۲۰۱۷ء۔
23. اظہار العرفان (مع اشرف البیان فارسی و اردو ترجمہ قرآن) (۶ جلدیں)، مولانا سید محمد ممتاز اشرفی، دار العلوم اشرفیہ رضویہ اورنگی ٹاوَن کراچی، ۲۰۱۷ء۔
24. تفسیر قرطبی اردو (۱۰ جلدیں)، مولانا ملک بوستان واساتذہ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۲۔
مذکورہ بالا تراجم قرآن مجید، مختصر یا مفصل تفاسیر میں سے اکثر انٹرنیٹ پر پی ڈی ایف فارمیٹ میں بھی ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے دستیاب ہیں۔
اس مضمون میں قرآن فہمی کے متعلق پیش کی گئی موجودہ صورت حال، قرآن فہمی کے لیے پیش کیا گیا نبوی طریقہ تعلیم و تعلم قرآن، مطالعہ برائے قرآن فہمی کے طریقے، متعلقہ کتب، تراجم قرآن مجید، مختصر اور مفصل تفاسیر قرآن سب کی مدد سے ہمارے عام مسلمان عاشقان رسول اپنے اپنے دائرے میں ایک منظم و مرتب نظام وضع کریں اور اس کے تحت اللہ کی کتاب کا فہم حاصل کر یں تاکہ اس پر عمل کرنے سے اپنے عشق رسول میں اصلاح اور اضافہ کریں؛ اطمینان قلب حاصل کریں؛ اور اپنی تقویت قلب کا سامان کریں۔ دُنیا و آخرت کی بھلائی اسی میں ہے۔
وصلی اللہ تعالیٰ علی نبیہ محمد و آلہ و اصحابہ وسلم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں