Part I Muslims’ Inventions 84

مسلمانوں کی ایجادات. Part I Muslims’ Inventions

Part I Muslims’ Inventions

مسلمانوں کی ایجادات

اس کتاب ’’1001 Muslims’ Inventions‘‘کے مصنف سلیم الحسینی کا تعلق عراق سے ہے ۔وہ آج کل مانچسٹر یونیورسٹی میں درس وتدریس کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ ان کی اس کتاب میں مسلم دنیاکے ابتدائی دورسے لیکر تاحال تک مسلمانوں کی حیرت انگیز سائنسی ایجادات کو کتابی شکل میں پیش کیا گیاہے۔ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اس کا پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔
کتاب کا تعارف:
جس دور کو انگریز تاریک زمانہ (Dark age ) کہتے ہیں وہ دور دراصل مسلمانوں کی ترقی کا درخشاں زمانہ تھا۔ کیونکہ جس وقت یورپ تاریکی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا ،مسلمان سائنس و ٹیکنالوجی کے کئی روشن باب تحریر کررہے تھے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج یورپ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے آگے ہے لیکن جدید سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیاد مسلمان سائنسدانوں نے کئی صدیاں پہلے رکھی۔
آٹھویں صدی سے لیکر تیرہویں صدی تک پورا یورپ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس دوران مسلمانوں کی حکومت ایک کروڑ مربع کلومیٹر سے زیادہ علاقے پر محیط تھی (موجودہ روس سے کئی گنابڑی تھی ) جب مسلمانوں کی سلطنت میں امن وامان ،چین وآتشی کا دور دورہ تھا تو کئی سینوں میں علم وہنر کے کونپل پھوٹنے لگے اور ان کی خوشبو چارسوپھیل گئی ۔ علم وادب کے ان عظیم سپوتوں کا کام یورپ اور ایشیا سے ہوتا ہوا امریکہ پہنچا اور پھر امریکہ کے دریائے ایمازون کے آس پاس کے علاقوں سے ہوتا ہوا پوری دنیا میں پھیل گیا۔ ان کی ایجادات اور دریافتوں سے ہزاروں چیزیں معرض وجود میں آئیں جن کے بطن سے تہذیب انسانی نے ایک نئی انگڑائی لی ۔ دوسری طرف یورپ میں ان ایجادات کو نہ صرف استعمال میں لایاگیابلکہ ان میں نت نئے اضافے کرکے صنعتی سائنسی انقلاب برپا کیا گیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ یورپی سائنسدانوں کا کرشمہ تھا ۔لیکن سچ یہ ہے کہ ان کے پیچھے ہزاروں گمنام مسلمانوں کا ہی ہاتھ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ علم وادب اور سائنس وٹیکنالوجی میں مسلمانوں کے کارنامے پس منظر میں چلے گئے اور یورپی سائنسدانوں نے ان ایجادات اور دریافتوں کو اپنے نام سے منسوب کرکے مسلمانوں کا نام ہی مٹا کے رکھ دیا۔
زیر نظر کتاب میں ان عظیم مسلمان سائنسدانوں اور انجینئر وں کی 1001 ایجادات کو حقائق کے ساتھ دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا ہے تاکہ قارعین کو حقیقت سے آگاہ کیا جائے کہ کون سی چیز کس نے اورکب بنائی/ایجاد کی۔
Key-1۔کافی (Coffee ):
کافی دورِ حاضر کا ایک اہم ترین مشروب ہے لیکن اس کے موجد کا آپ کو علم نہیں ہوگا۔ آپ یہ سن کر یقیناًحیران ہو ں گے کہ ایک مسلمان صحرائی گڈرئیے نے کافی ایجاد کی ۔ خالد نامی ایک گڈریا ایتھوپیاکے صحرا میں بکریاں چرا یا کرتا تھا ۔ ایک دن اس نے یہ اندازہ لگایاکہ اس کی بکریاں ایک خاص قسم کی بیری (پودے) کے پتے کھا کر مستی اور جوش میں آجاتی ہیں ۔ خالد نے یہ پودا گھر لا یا اور اس کے پتے اُبال کر قہوہ بنایا اورپی لیا جس سے اس کے جسم ودماغ میں سکون ، سرور ، تازگی اور شگفتگی کی لہر دوڑ گئی ۔ اب وہ اور اس کے قبیلے کے دوسرے لوگ اس پودے کے پتے ابال کر پینے لگے ۔ رفتہ رفتہ اس پودے کو صحرائی علاقوں میں بویا جانے لگا کیونکہ صحرائی لوگ اس کو تھکاوٹ اور درد کی دوا سمجھتے تھے۔ یوں وقت کے ساتھ ساتھ کافی کے پتے بکنے لگے۔ اسطرح قہوہ ایجاد ہو ا جسے آج کل کافی کہتے ہیں۔
اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ نیند اور غنودگی کو ختم کرتی ہے اور انسان کے جسم کو تازہ رکھتی ہے ۔ نیند سے فرار کیلئے سب سے پہلے یمن میں کافی استعمال کی گئی۔ اس زمانے میں اکثر صوفی لوگ اللہ کی یاد میں رات کو جاگنے کیلئے کافی استعمال کرتے تھے ۔
پندرویں صدی میں کافی تقریباََ پوری مسلم دنیا میں مشہور ہوگئی۔ سعودی عرب ، ترکی ، مصر اورشام وغیرہ کے حاجیوں اور تاجروں میں کافی ایک مقبول عام مشروب بن گئی ۔ یہی کافی 1645 ء میں یورپ جا پہنچی اور لندن میں لائیڈ کافی ہاؤس (Loyd Coffee House ) کاقیام عمل میں آیاجہاں یورپ کے بڑے بڑے تاجر ، مسافر ، سیاح اور ملاح کافی پیا کرتے تھے ۔ یوں برطانیہ سے شہرت کی سند لے کر جب یہ دنیا میں پھیلی تو کافی ان علاقوں میں اگائی جانے لگی جہاں کی ہوا گرم اور کافی کے لئے موزوں تھی۔ یوں تنزانیا، نکاراگوا، ایتھوپیا اور سماٹرا میں سب سے زیادہ کافی اگائی جاتی ہے کیونکہ ان علاقوں کی آب و ہوا کافی کی پیدا وار کے لئے خوشگوارہے۔
Key-2 ۔ گھڑی (Watch ):
وقت کی اہمیت سے کون انکار کرسکتا ہے۔وقت ایک انمول خزانہ ہے اور وہی شخص کامیاب ہو تا ہے جس کو وقت کے صحیح استعمال کاعلم ہو۔اس قیمتی ایجاد کا سہرا بھی مسلمانوں کے جاتا ہے۔ وقت معلوم کرنے کا یہ آلہ سب سے پہلے ایک مسلمان انجینئر الجزاری نے 1206 ء میں ایجاد کیا جسے آج ہم’’ گھڑی ‘‘کہتے ہیں ۔ الجزاری مشرقی ترکی سے تعلق رکھتا تھا اور اعلیٰ درجے کا انجینئر تھا ۔ اس نے مسلمان بادشاہ ناصرالدین کی سرپرستی میں کام کیا۔اس نے خود کارگھڑیوں (Automatic Watch ) کی کئی قسمیں بنائیں جو مختلف تہذیبوں کی نمائندگی اور عکاسی کرتی تھیں۔
مثلاً ایلفینٹ کلاک (ہاتھی کی شکل کا گھڑیال ) انڈیا اور افریقہ کی تہذیب کی عکاسی کرتاتھا ۔ہاتھی شکل کا گھڑیال انجینئر الجزاری کی سب سے عظیم ایجاد ہے۔ ہاتھی پر سوار ایک آدمی (جس کے ہاتھ میں کلہاڑی ہے )سے پتہ چلتا ہے کہ پرانے زمانے میں لوگ جنگ کیلئے ہاتھی استعمال کرتے تھے۔گھڑی کے سب سے اوپر والے حصے میں قلعہ نما شکل ہے جس میں ایک سپاہی منجنیق (توپ) کے پیچھے کھڑا نظر آتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم زمانے میں جنگی ہتھیاروں میں سب سے اہم ہتھیار منجنیق (توپ)تھا ۔ اسی طرح گھڑی کے اوپر ایک پرندے کی تصویر سے پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے کے قلعے بہت اونچے ہوتے تھے ۔ یوں انجینئر الجزاری نے نہ صرف دنیا کی پہلی خود کار گھڑی ایجاد کی بلکہ اس میں اپنی تہذیب و ثقافت کو بھی دکھایا۔
Key-3 ۔ شطرنج ( Chess ):
شطرنج دنیا میں واحد کھیل ہے جسے بڑے بڑے جرنیل اور بادشاہ کھیلتے آئے ہیں ۔ اس کھیل سے کھلاڑیوں میں فن حرب وضرب اور فن سپاہ گری اور لشکر کشی کی صفات پیدا ہوتی ہیں ۔
تاریخ دانوں کا مانناہے کہ شطرنج کو سب سے پہلے بھارت میں سیسانامی ایک ریاضی دان نے ایجاد کیا۔ جبکہ بعض مؤرخین دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کھیل کا آغاز چین سے ہوا۔ تاہم اکثر لوگ اس کا موجد ہندوستان کے ریاضی دان کو قرار دیتے ہیں ۔ اس کے مؤجد کے بارے میں ایک دلچسپ کہانی ہے کہ گیتا خاندان کے ایک بادشاہ نے یہ اعلان کیا کہ وہ پرانے کھیلوں سے بہت تنگ آچکا ہے اگر کوئی آدمی دلچسپ کھیل متعارف کروائے تو اسے منہ مانگا انعام دیا جائیگا ۔ بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے کھیل متعارف کروائے لیکن بادشاہ ان
کے کھیلوں سے مطمئن نہ ہو سکا۔ آخرکار ہندوستان میں گیتا خاندان کی ریاست کے ساتھ والی ریاست میں (Sisa ) سیسا نامی ریاضی دان رہتا تھا۔ وہ شطرنج کھیل کے ساتھ بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا۔ بادشاہ یہ کھیل دیکھ کر بہت خو ش ہوا۔ بادشاہ نے سیسا سے پوچھا کہ مانگوجو مانگنا ہے ، سیسا تھوڑی دیر کیلئے خاموش رہا۔ پھر اس نے جواب دیا کہ چاول کے چند دانے۔ بادشاہ نے پوچھا کہ چاول کے چند دانوں کے بجائے تم کوئی سونا یا جواہرات مانگتے ۔ سیسا نے کہا کہ بادشاہ سلامت آپ مجھے میرے فارمولے کے مطابق اگر چاول دیدیں تو میرے لئے کافی ہو گا ۔ بادشاہ نے کہا اچھا تم اپنا فارمولہ بتاؤ۔ سیسا نے کہاکہ پہلے دن شطرنج بورڈ کے 64 خانوں میں سے ایک خانے میں ایک چاول دینا ۔دوسرے دن دوسرے خانے میں پہلے خانے کے مقابلے میں دوگنا چاول دینا ۔یعنی دو دانے اور تیسرے دن، تیسرے خانے میں دوسرے خانہ کے مقابلے میں دوگنے چاول دینا ۔ اسطرح ہر خانے میں پہلے والے خانے سے دوگنا چاول سے شطرنج کے 64 خانے بھردیں۔ بادشاہ نے سیسا کے اس بے وقوفانہ مطالبے پر قہقہ لگا کر یہ شرط قبول کرلی۔ لیکن جب بادشاہ نے چاول دینا شروع کئے تو شطرنج کے بورڈ کی جب چوتھی قطار شروع ہوئی تو پورے ملک سے چاول ختم ہو چکے تھے ۔ بادشاہ نے اپنے ملک کے تمام ریاضی دانوں کو بلایا کہ شطرنج کے 64 خانوں کو بھرنے کیلئے کتنے چاول درکار ہوں گے؟ تمام ریاضی دانوں نے کئی دن کے بعد بھی حساب لگانے میں ناکام ہو گئے ۔ بادشاہ نے آخر کار سیسا کو بلاکر گرفتار کیااور اس کا سرقلم کروادیا۔
ایک دلچسپ بات یہ کہ یہ مسئلہ بالآخر بل گیٹس نے حل کردیا۔ بل گیٹس نے ساڑھے تین ہزار سال بعد یہ اندازہ لگایا کہ اگرہم ایک کے ساتھ انیس زیرو لگائیں تو شطرنج کے 64 خانے سیسا کے فارمولے کے مطابق بھرسکتے ہیں ۔ بل گیٹس کا کہنا ہے کہ اگرہم ایک بوری میں ایک ارب چاول بھریں تو ہمیں اٹھارہ ارب بوریاں درکار ہوں گی اور ان چاولوں کو گننے اور شطرنج کے خانوں پر رکھنے کیلئے ڈیڑھ ارب سال چاہیں۔ بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ دسویں صدی میں ابو بکر السولی کی کتاب ” الشطرنج” میں موجود شطرنج بورڈ کی شکل آج شطرنج بورڈ سے ملتی جلتی ہے ۔
شطرنج کے کھیل کا سہرا مسلمانوں کے سر یوں جاتا ہے کہ بعد کے دور میں مسلمانوں نے بھارت پر جب قبضہ کیا تو مسلمانوں نے اس کھیل کو مقبول عام بنا یا۔ مسلمانوں کے ذریعے یہ کھیل بھارت سے ایران اورپھر ایران سے سیپن جاپہنچا اور اس کے بعد یہ کھیل پوری دنیا میں مشہور ہو گیا۔
شطرنج کے کھیل میں مہرے اسطرح رکھے جاتے ہیں جیسے کہ دو مخالف فوجیں ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ء ہوں جس فوج کا بادشاہ مارا جاتا ہے وہ ہار جاتی ہے ۔ شطرنج کے مہروں کے نام مندرجہ ذیل ہیں :
1 ۔ بادشاہ 2 ۔ وزیر
3 ۔ رخ 4 ۔ قبیلہ
5 ۔ گھوڑا ۔ 6 ۔ پیادہ
Key-4۔کیمرہ کس نے ایجاد کیا؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ کیمرہ کس نے ایجاد کیا؟اس منفرد ایجاد کا سہراعظیم مسلمان سائنسدان ابن الہشم کے سر جاتا ہے۔ایک دن وہ اپنے کمرے میں تنہا بیٹھے تھے کہ انہوں نے کھڑکی میں موجود چھو ٹے چھو ٹے سو را خو ں سے اندر آتی ہوئی روشنی کا بغور مشا ہدہ کیا۔ جس طرح چا ند گرہن یاسورج گرہن کے دوران سورج ،آدھی شکل اختیا ر کر لیتا ہے بالکل اسی طرح یہ روشنی بھی دیوار پر پڑ رہی تھی۔انہو ں نے دیکھا کہ گرہن کے دوران اگر چہ سورج کا عکس پورا ہوتا ہے لیکن جب اس کی روشنی کسی تنگ اور گول سوراخ میں سے گزرتی ہے تو یہ سوراخ کے حصے پر پڑ تی ہے اور چاند درا نتی کا روپ دھار لیتا ہے۔ان تجربات کی بناء پر انہوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ روشنی سیدھی سمت میں سفر کر تی ہے اور جب یہ روشنی کسی چھو ٹے سوراخ میں سے گرزتی ہے تو یہ پھیلنے کی بجا ئے سکڑ جا تی ہے اور الٹے عکس جیسی شکل اختیا ر کر لیتی ہے جو سوراخ کے متو ازی ہوتا ہے۔ پس انہو ں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جتنا سوراخ چھو ٹا ہوگا تصویر اتنی ہی صا ف ہوگی۔انہوں نے اپنے تجربات سے یہ نتیجہ نکالا کہ جب سورج کی رو شنی سوراخ میں سے داخل ہوتی ہے تو یہ ایک تکونی شکل اختیا ر کر لیتی ہے ۔
حیرت انگیز طور پر بعد کے مر احل میں ان کی یہ دریا فتیں کیمرہ کی ایجا د کا موجب بنیں اور تاریخ میں وہ پہلے سائنسدان کہلائے جنہو ں نے کیمرہ ایجا د کیا۔
اسی طرح انہوں نے اس با ت کی وضاحت بھی پیش کی کہ بصری اعصا ب کا دما غ کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ چیزوں کا تعین کر کے ان کی وضا حت کر تے ہیں ،اور اس کی وجہ سے آنکھ سے چیزوں کو سیدھی سمت میں دیکھتے ہیں اور انکا الٹا عکس نہیں دیکھ سکتے جبکہ کیمرہ میں ہم چیزوں کو دونوں اطراف میں دیکھا جاسکتاہے۔ عملی تجربات کے دوران انہوں نے زیا دہ تر لاطینی زبا ن میں ترجمہ ہو نے والی البیت المسلم کی اصطلا ح استعما ل کی جس میں کیمرہ کو بند تا ریک اور نجی کمرے سے تشبیہ دی گئی ہے۔آج بھی عر بی زبا ن میں لفظ کیمرہ کا مطلب نجی اور تا ریک کمرہ ہی لیا جا تا ہے۔قرون وسطیٰ کے سائنسدانوں نے آپکے بہت سے کارناموں اور خاص طو رپر ان کی سب سے مشہورر کتا ب جو آپٹکس کے با رے میں ہے،کا لاطینی زبا ن میں ترجمہ کیا۔دورحاضر کا جدید ترین کیمرہ دراصل ابن الہشم کی محنت کا ثمرہے۔
Key-5۔ مسلمانوں نے صفائی کو متعارف کروایا:
اہل اسلام نے صفائی کا جامع طریقہ سب سے پہلے دنیا میں متعارف کروایا اگرچہ صفائی ہر مذہب میں بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ صفائی ایک ایسی چیز ہے جو نہ صرف انسان کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے بلکہ دیگر جانوروں کے لیے بھی نہایت ضروری ہے ۔
دین اسلام کی روشنی میں صفائی کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔قرآن کریم اور احادیث مبارکہ سے ہمیں صفائی کے با رے میں بہترین رہنمائی ملتی ہے۔آپﷺ کا فرمان مبارک ہے،اللہ تعالی خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے ۔ ایک اور جگہ آپﷺنے فرمایا :صفا ئی نصف ایمان ہے ۔ماحولیاتی اور معاشرتی لحاظ سے بھی صفائی کی بہت اہمیت ہے۔اگر انسان کے اردگردکا ماحول صاف ہوگا تو یہ اس کی صحت کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی کے لیے بھی مد د گا ر ثابت ہوگا۔صفائی کا اہتمام کرنے والا انسان بہت سی بیماریوں سے بھی بچ جاتاہے۔ اس کے بر عکس جو شخص صفائی کا اہتمام نہیں کرتا وہ بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتاہے۔
دین اسلام وہ مذہب ہے جس نے سب سے پہلے جامع انداز میں صفائی کی تلقین کی اور اس بات کی یقین دہانی کی اہل اسلام پانچ وقت کی نماز سے پہلے وضو کریں۔اسی طرح غسل اور کپڑوں کی صفائی کو بھی لازمی قرار دیا گیا۔ مسلمانوں کی دیکھا دیکھی دیگر اقوام نے بھی صفائی کو اپنا شعار بنایا۔اس سے پہلے دیگر مذاہب کے لوگ صفائی پر اتنی توجہ نہیں دیتے تھے۔
Key-6۔ پرُفریب آلا ت کے موجد:
آپ نے تا روں پر جھولتی ہوئی دھات کی بنی گیند کی ٹک ٹک سنی ہوگی اور ان کے آپس میں ٹکرانے سے ایک سریلی سی آواز بھی سنی ہوگی۔اس طرح کے کھیل اور پہیلیاں لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتی ہیں اور ایسے پرفریب آلات کی بنیاد بھی سب سے پہلے مسلمانوں نے رکھی ۔
کہا جاتا ہے کہ نویں صدی میں تین مسلمان بھائی رہتے تھے۔ ان کے نام ،محمد ابن موسی ٰ ،احمد ابن موسی ٰ ٰ اور حسن ابن موسی ٰ تھے ۔انہوں نے مل کر ایسے پرفریب آلات بنائے جو انسان کو حیرت زدہ کر دیتے تھے اور انسان ایسے آلات کے کرتب دیکھ کر چکرا کر رہ جاتا تھا۔ان ریاضی دان بھائیوں نے بے شمار یو نا نی سائنسی مقالوں کے ترا جم کے ساتھ ساتھ ،ایسے شاندار پر فریب آلا ت ایجاد کیے جن سے کھلونوں کی دنیا میں ایک نئی جہت کا اضافہ بھی ہوا۔اگر یہ کہا جا ئے کہ میکنیکل ٹیکنالو جی کی بنیا د مسلمانوں نے ہی رکھی تو بے جا نہ ہوگا۔اگر ہم کئی سوسال پرانے ان مشینی آلا ت کا آج کے کھلو نوں سے موازنہ کریں ،تو ہمیں یہ بات معلوم ہوگی کہ آ ج کے کھلونوں کی کار کر دگی ان آلات کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔آپ کو جاننے میں یقیناًدلچسپی ہو گی کہ آخر وہ پر فریب آلات تھے کیسے؟ آئیے جانتے ہیں۔
انہوں نے دو منہ والی ایک صراحی جیسی بوتل بنائی ،جب اس بوتل میں رنگین پانی ڈالا جاتا تو الٹے راستے سے گنداپانی باہر آجاتا اور سیدھے راستے سے صاف پانی،بالکل کسی جادو گر کی طرح جو اپنی کہنی سے اورنج جوس نکال کے ناظرین کودکھاتاہے اور داد سمیٹتا ہے۔ان کی ایک اورشاندار ایجادیہ تھی کہ انہوں نے ایک مٹکالے کر اس کے دوحصے کئے ،۔دونوں حصے ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے ۔سیدھے فنل والے حصے سے سیدھی طرف والاپانی باہر آجاتا اور بائیں فنل سے بائیں طرف والا پانی،لیکن ایک با ر پانی نکالنے کے بعد دوبارہ سے اس طرح اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا تھا جب تک اس میں ایک تیسرا پائپ نہ داخل کر دیا جائے ۔آ ج کے دور میں بے شمار ایسے کھیل اور پہیلیاں موجود ہیں جو انسان کی دلچسپی کا باعث بنتی ہیں بلاشبہ ایسے کھیلوں کی بنیاد مسلمانوں نے ہی رکھی ۔
Key-7۔بصارت پر تحقیق:
اگر ہم اسلا می تاریخ کا مطا لعہ کریں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ دور جدید کی ہر ایجا د کی بنیاد رکھنے والے مسلمان سائنس دان ہی تھے۔ سب سے پہلے کیمرے کو متعارف کروانے والے بھی مسلمان سائنس دان تھے ۔کیا بچپن میں آپ نے کبھی یہ بات سوچی تھی کہ ہم کس طرح دیکھتے ہیں ،کیا آپ نے یہ سوچا تھاکہ اگرآپ اپنی آنکھیں بند کر لیں ،تو پھر کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے؟ قدیم یونا نی سائنسدانوں نے ’’مشاہدے ‘‘کے متعلق خیالات پیش کئے۔ آپٹکس بنیادی طور پر دو نظریات پر مشتمل ہے۔ان میں سے پہلا نظریہ یہ ہے کہ جب ہم کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو ہماری آنکھوں سے جو لہریں نکلتی ہیں وہ چیزوں کو منقطع کر دیتی ہیں اورجو لہریں ہماری آنکھوں سے نکلتی ہیں ان سے پیداہونے والی حرکت کی بنا پر ایک نظا رہ وجود میں آتا ہے۔دوسرا نظریہ یہ تھا کہ ہم اس وجہ سے دیکھتے ہیں کہ عکس میں سے کوئی چیز ہماری آنکھوں میں داخل ہورہی ہوتی ہے۔ارسطو ،گیلن اور ان کے پیروکار اس نظریہ پر یقین رکھتے تھے لیکن ان کے نظر یا ت محض قیاس آرائیوں پر مبنی تھے اوران کو تجربات سے ثابت نہیں کیا جا سکتا تھا۔
نویں صدی میں یعقوب الکندی نے بصارت کے متعلق لاطینی نظریات پر سوالات اٹھا کر دور حاضر کے آپٹکس کی بنیا د رکھی۔ان کا کہنا تھا کہ بصری کون مجرد کرنوں کی صورت میں نہیں ہوتی جیساکہ اقلیدس کا کہنا تھا۔ دوسری طرف الکندی تاریخ میں بہترین ذہن رکھنے والے با رویں سائنسدان تھے جنہوں نے سائنسی مہارت سے اس با ت کی وضاحت پیش کی کہ کس طرح روشنی کی لہریں سیدھی سمت میں سفر کرتی ہیں ۔ اس کے بعدابن الہشم نے دسویں صدی میں یہ نظریہ پیش کیاکہ روشنی کی لہروں کے پڑنے کی وجہ سے دیکھنے کا عمل پیدا ہوتا ہے۔الکندی نے جسمانی اور جیومیٹریکل کے بارے میں دو مقالے تحریر کئے جن کو بعد میں تیرھویں صدی میں انگریز سائنسدان راجر بیکن نے استعمال کیا ۔ہالینڈ کے سائنسدان سبسٹین، الکندی کو ان تجربات کا موجد نہیں سمجھتا ہے۔حقیقت میں ابن الھشم دسویں صدی میں بغداد سے تعلق رکھنے والے طبیب ابن صہال کی مدد سے روشنی کی لہروں پر کام کر چکے تھے ۔اگرچہ ہم یقینی طور پر یہ بات نہیں کہہ سکتے کہ ابن الہشم نے کیمرا ایجاد کیا یا نہیں تاہم یورپ میں اکثریت کی رائے ہے کہ ابن الھشم نے اس کی ایجاد کا راستہ ہموار کیا۔اسی لئے اس کواہل مغرب الحزین کے نام سے یاد کرتے ہیں اور کیمرے کو ان کے نام سے منسوب کرتے ہیں ۔انہوں نے ہزاروں سال پہلے بہت احتیاط سے یہ تجربات کئے ،ان تجربات سے اس بات کی وضاحت ہوئی کہ کوئی بھی نظارہ اس چیز پر پڑنے والی روشنی کی وجہ سے وجود میں آتا ہے جو ہماری آنکھوں میں داخل ہوتی ہے۔وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مکمل طور پر یونانی نظریات مسترد کر دئیے ۔
الکندی عراق کے شہر بصرہ میں پیدا ہوئے ۔اس کے بعد وہ مصر کے حکمران کی دعوت پر مصر تشریف لے گئے جہا ں انہوں نے سیلاب سے متاٖٖ ثرہ لو گوں کی مددکی۔ وہ پہلے شخص تھے جنہو ں نے ریاضی اور طبعی اصولوں کو اکٹھا کر کے پیش کیا۔ وہ ماہر طبیعات کے ساتھ ساتھ ایک بہترین ریاضی دان ، ماہر فلکیات اور طبیب تھے۔اس کے علاوہ انہوں نے عدسے پر تحقیق کی ،اور آئینوں کی مختلف اشکال بنا کر ان پر تجربات کئے۔ مثلا گول شکل کا آئینہ ،کمان نما اور سیدھا آئینہ۔ابن الہشم نے اپنے نظریات کو جانچنے کے لئے عملی تجربات کئے۔
اس لیے کہ ان سے پہلے طبیعات کو فلاسفی کا ایک باب سمجھا جاتا تھا یعنی کسی تجربے کے بغیر مضمون ۔آپ وہ پہلے سائنس دان تھے جنہوں نے یہ بات متعارف کروائی کہ کسی نظریہ کو قبول کرنے کے لیے اس کاعملی تجربہ نہایت ضروری ہے۔
Key-8۔کھانے کی اشیاء اور برتنوں کی ایجاد:
ہر دور میں کھانے کا انتظام مختلف برتنوں اور پیش کرنے کے طریقوں پر مشتمل رہا ہے ۔یورپ میں سب سے پہلے کھانے کے بارے میں تین کورسز کا تصور’’بلیک بیرڈ ‘‘نامی شخص نے پیش کیا ۔ دوسری تیر نویں صدی میں زریاب نا می ایک مسلمان نے کھانے کے طور طریقے مکمل طور پرتبد یل کر دیئے ،اور یہ تجویز پیش کی کہ کھانے کا آغاز سوپ سے ہونا چاہیے اور کھانے کی ڈش میں بنیادی چیز مچھلی اور گو شت ہونا چاہیے اور کھا نے کے اختتام پر پھلوں کا انتظام ہونا چاہیے۔ اس زمانے میں مسلما نوں کی خوراک کا دارومدار موسمی اثرات کے اعتبار سے ہوتا تھا ۔سردیوں کی روایتی سبزیا ں مندرجہ ذیل تھیں :
1۔سمند ر ی گوبھی 2۔چقندر 3۔گوبھی 4۔ شلجم
5۔ گا جر 6۔ پا ستا 7۔ مٹر 8۔ با دام
عام طور پر یہ تمام چیزیں گو شت کے ساتھ کھائی جاتی تھیں ۔میوہ جات مندرجہ ذیل خشک پھلوں سے مل کر بنائے جاتے تھے ۔
1۔کشمش۔ 2۔ انجیر۔ 3۔کھجور ۔ 4۔آلو بخا را۔
اس کے بر عکس گر میوں کے کھانوں میں گیا رہ قسم کی سبز پھلیاں شامل ہو تی تھیں جو مندرجہ ذیل ہیں :
1۔مولی۔ 2۔کھیرے ۔ 3۔ سلاد کے پتے۔ 4۔ بیگن۔ 5۔چاول۔
ان سبزیوں کو زیادہ تر مرغی ،شتر مرغ اور دیگر گو شت کی اقسام کے ساتھ ملا کر بنایا جا تا تھا۔گر میوں کے میوہ جات میں مندرجہ ذیل اجزاء شامل ہوتے تھے :
1 ۔ لیموں 2۔انگور 3۔آڑو 4۔خوبانی 5۔ناشپاتی 6۔تربوز
گر میوں کے مشروبات انہی پھلوں کے رس کو محفوظ کر کے بنائے جاتے تھے۔کھانے کے انتظام کا یہ شاہی انداز مسلمان زر یاب کی پیش کردہ تجویز کے مطابق رائج ہوگیا۔رات کے کھانے میں بھاری دھاتوں سے بنے ہوئے جام میں مشروبات پیش کیے جاتے تھے۔زریاب نے ان بھاری جاموں کو نازک کرسٹل سے تبدیل کروا دیا۔ اس کی وجہ سے یورپ میں مسلمانوں کی غذائی اشیاء اور مصالحوں کی مانگ میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو تا گیا اور ان کی ڈشیں مشہور عام ہوگئیں۔چودھویں صدی کے کھانے کے مطا لعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس زمانے میں بحری جہازوں کے ذریعے کیک بنا نے کے لیے مسلم ممالک سے خاص قسم کا آٹا،جام اور چاول برآمد کروائے جاتے تھے۔ڈنمارک اور ناروے کی شہزادیاں مسلما نوں کے کھانوں سے پوری آگا ہی رکھتی تھیں اور مسلمانوں کی مصنوعات اور پھلوں کوبرآمد کرواتی تھیں ۔ اس مانگ کے پیش نظر ڈنمارک میں سیبوں اور گندم کی پیدا وار شروع کی گئی۔کہا جاتا ہے کہ عباس ابن فرناس ایک نامور مسلم صنعت کارتھا۔اس کی شیشہ گری کی وجہ سے اس زما نے میں بھی اندلس میں کرسٹل موجو د تھا۔اس نے مختلف تجربات کیے۔اس نے ریت اور پتھرکو ملا کر شفاف کانچ تیار کی اور شفاف پتھر کی ایک کرسٹل فیکٹری کی بنیاد رکھی۔اس کے ساتھ ساتھ اس نے مشروبات کے استعمال کے لیے بھی کرسٹل متعارف کروایا ۔اس نے بڑی مہارت اور خوش سلیقہ انداز میں کانچ کی مدد سے فلکیاتی مشین تعمیر کی جس کو مصنوعی بادلوں اورگرج چمک کے لئے استعمال کیاجاتا تھا ۔اس کے بعد مسلم کمہاروں نے مختلف قسم کے چینی کے بر تنوں کی مدد سے وضع دار کھا نوں کا ایک اور فن متعارف کروایا۔ان فیکٹر یوں کے بڑے مرا کز مالاگا اور والینسیا میں قائم کئے گئے ۔مسلم کمہاروں نے اپنے فن کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے مٹی کے برتنوں پرپالش کر کے انہیں مزید چمک دار اورکا رآمد بنایا۔
جب آپ کھانا کھائیں تو غور سے چینی کے برتنوں کو دیکھیں۔کیا مٹی سے بنی ہوئی یہ پلیٹیں قیمتی دھاتوں سے مشابہت رکھتی ہیں؟۔یہ سب کچھ ان مسلمانوں کی محنت کا ثمر ہے جو ہم سے ہزاروں سال پہلے اپنے زرخیز دماغ کو کام میں لائے۔
Key-9۔ مسلمان فیشن کے میدان میں :
ہر زمانے کے انداز بدلتے رہتے ہیں، لہذا یہ بات حیران کن نہیں کہ موجو دہ ز مانے کے لباس کے بہت سے انداز اور خیالات بارہ سو سال پرانے سپین سے یورپ تک پہنچے جب سپین پر مسلمانوں کی حکومت تھی۔ کہا جاتا ہے کہ زریاب نامی ایک مسلمان ایک بہترین مو سیقار اور ادب کا استاد ہونے کے ساتھ ساتھ نویں صدی میں فیشن کو متعارف کروانے والا شخص بھی تھا ۔اس زمانے کا بغداد آج کے پیرس اور نیویارک جیسا تھا اورہر قسم کے فیشن کا آغاز بغداد سے ہوتا تھا اور یہ مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا اسپین جا تاتھا اور وہاں سے سفر کرتا ہوا مغربی ممالک میں جا پہنچتا تھا۔مسلم دنیا کے لیے بغداد اس زمانے کا بہت بڑا ثقافتی اور تحقیقی مرکز تھا۔ کہا جاتا ہے کہ زریاب مسلم دنیا سے اور بھی بہت سے نئے طور طریقے لیکر آیا جن میں کٹلری اور خطا طی بھی شامل تھے ۔ کھیلوں کی دنیا میں شطرنج اور پولوکو بھی اسی نے یورپ میں متعارف کروایا۔ یہی وجہ ہے آج وہ یورپ میں ایک سلیقہ مندشخص کے طور پر جانا جاتاہے۔
کہا جاتا ہے کہ جب قرطبیوں نے اس کے تجویز کردہ بالوں کے انداز کو ایک نئی شکل دینے ، اور سپین سے اس کے لائے ہوئے چمڑے کے فرنیچر کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تو یورپ کے ممالک نے بھی زریاب کے ہیر سٹائل کی تقلید کی۔ایک فرا نسیسی تاریخ دان نے بارہ سو سال بعد زریاب کی ایجادات کوسراہتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنے وقت کے اعتبار سے گرمیوں اور سردیوں کے نت نئے لباس متعارف کراوئے۔ اس نے گرمیوں اورسردیوں کے علاوہ درمیانے موسموں کے لیے بھی بہترین لباس متعارف کروائے۔اس کے ذریعے سپین میں مشرقی طرز کے اعلیٰ قسم کے لباس متعارف ہوئے جو فیشن کی دنیا میں خوبصورت اضافہ تھے۔اس کارکر دگی کی بناء پر زریاب کو آج بھی فیشن کی دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آج کے تمام مسلم ممالک میں کوئی بھی،گلی،کلب،کیفے ایسا نہیں ہے جہاں اس کی بنائی ہوئی چیزیں موجود نہ ہوں۔مغربی ممالک میں بھی اس کی خد مات کو بہت زیادہ سراہا گیاہے۔
انسان وقت کے ساتھ ساتھ اپنے رہن سہن کے طور طریقے بدلتا رہتا ہے۔مسلمانوں نے اس سلسلے میں بہت سی خدمات سر انجام دیں۔خاص طور پر اندلس میں موسمی اثرات کے عین مطابق رہن سہن کے مہذب طور طریقے متعارف کروائے ۔اس کے علاوہ ہر موسم کے اعتبار سے کھانے اور پہننے میں آرام دہ اور پرسکون لباس متعارف کروائے ۔سردیوں کےلباس خاص قسم کی کپاس اور اون سے تیار کیے جاتے تھے،اور زیادہ تر گہرے رنگ کے ہوتے تھے۔گرمیوں کے کپڑے شوخ رنگ کے ہوتے تھے اور ان کی تیاری میں ریشم اور کپاس استعمال کی جاتی تھی۔قرون وسطی ٰ کے دو بہترین قلم کار ،الصقتی اور ابن ابدان نے سب سے پہلے کارک تلوے والے جوتے بنائے۔بعض کاریگر تو جوتے کی ایڑی میں ریت پیوست کر دیتے تھے تاکہ ایڑھی کو او اونچااور نمایاں کیا جا سکے ۔اندلس کی فتح کے بعد مسلمانوں کی دیکھا دیکھی عیساؤں نے بھی ان کے رہن سہن کے انداز اپنا لئے۔
بطور مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ ہر آنے والے فیشن کو فوراً ہی نہیں اپنا نا چاہیے جو فیشن تہذیب اور تمدن سے عاری ہو اس سے ہمیں بچنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔اگر مسلمان اپنے دین پر سو فیصد عمل کریں تو دیگر مذاہب کے پیروکار خود بخود ان کے طور طریقے اپنانے کی طرف مائل ہو جائیں گے۔جس طرح مسلمانوں نے سائنس ،جغرافیہ اورطب میں بہت سی خدمات انجام دیں اسی طرح سادگی کو بھی اپنا شعار بناکرہم دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان قائم کر سکتے ہیں۔
Key-10۔قالین:
انسان اللہ تعالی ٰ کی پیاری مخلوق ہے اور وہ اپنی زندگی میں نئی نئی تبدیلیاں لاتا رہتا ہے ۔آج سے تقریباً پانچ سو سال پہلے فرش کو ڈھاپنے کے لیے خوبصورت قالین ایران کے مسلمانوں نے ایجاد کیا اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی خوبصورتی میں مزید نکھار پیدا ہوتا چلاگیا ۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلے عرب،فارس اور انا طولیہ کے دیہاتی لوگوں نے قالین ایجاد کئے۔ اس وقت آندھی اور طو فان سے بچنے کے لیے قالینوں کی مدد سے خیمے بنائے جاتے تھے۔اس کے علا وہ گھر یلو زندگی کو مزید آرام دہ بنانے کے لیے ان قالینوں کو فرش پر بچھانے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ان کی مدد سے پردے ،کمبل اور بیگ وغیرہ بھی بنائے جاتے تھے۔
کہا جاتا ہے مسلما نوں نے قالینوں میں مزید خوبصورتی بھی پیدا کی۔مسلمانوں ہی کی محنت کی بدولت دباغت دینے کا طریقہ متعارف کراویا گیا۔مسلمانوں کے بنائے ہوئے قالین اپنے اعلیٰ معیار کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور ہوئے ۔آج کل ہر قسم کے قالین دستیاب ہیں۔ ہال کے فرش کو ڈھاپنے کے لیے بھی قالین کا استعمال کیا جاتا ہے،اور اسے چھوٹی دری کے طور پر نماز پڑھنے یا بیٹھنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ یورپ میں قالین بہت تیزی سے امارت کی علامت بنتے چلے گئے۔مسلمانوں کے بنائے ہوئے قالینوں کو بہت زیادہ خریدا گیا ۔ وکٹوریہ اور البرٹ کے عجائب گھرں میں انہیں نمائش کے طور پر رکھا گیا۔انگریزوں کو فارسی قالین اتنے پسند آئے کہ انہوں نے خصوصی طور پر ایران سے قالین بنانے والوں کو انگلینڈ بلوایا۔وقت کے ساتھ ساتھ قالین بنانے کا کام باقاعدہ پیشہ بنتا گیا ۔اس کے لیے فیکٹریاں قائم کی گئیں ۔انیسویں صدی میں بعض تاریخی واقعات اور تنازعات کی بناء پر فارسی قالین کی فیکڑیاں زوال کا شکارہوگئیں۔آج کل سب سے زیادہ بکنے والے قالین شمالی افریقہ کے قالین سمجھے جاتے ہیں۔
قرون وسطیٰ کی تصویریں ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ قالین کب اور کہاں استعمال کیے جاتے تھے۔یورپ میں چودھویں اور پندرویں صدی میں سب سے پہلے قالین عیسائیوں کے مذہبی تہوار کی تصویروں میں استعمال کیے گئے۔ وینس کے شہری کارپٹس کا استعمال کھانے کے میزوں کے اوپر اور نیچے کرتے تھے اور الماریوں اور کھڑکیوں پر بھی ظاہری طور پر کارپٹس استعمال کیے جاتے تھے ۔اسی طرح پندرویں صدی میں ایک بار پھر یورپ کے شرفا ء کے گھروں کی کھڑکیوں اور بالکونیوں پر کارپٹس استعمال ہونے لگے۔آج کے جدید اور ترقی یافتہ دور میں قا لینوں کی خوبصورتی میں مزید نکھار پیدکیا جا رہا ہے ،اور یہ نفیس بناوٹ والے کارپٹس گھروں اور دفاتر کی خوبصوتی میں اضافہ کرنے کا ایک آسان اور سستا ذریعہ بن چکے ہیں ۔خوبصورت کارپٹس سے جگہ کو مزید خوبصورت بنایا جا سکتا ہے۔قالین کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تہذیب یافتہ لوگوں کے گھروں میں آج بھی ہمیں قیمتی قالین نظر آتے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ کارپٹس کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں ۔گھر ،دفاتر اور تقاریب کے وقت ہال میں سجاوٹ کے طور پر بھی خوبصورت قالین استعمال کیے جاتے ہیں ۔لہذا یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ہاتھ سے بنی ہوئی چیزوں کی قدروقیمت کسی بھی زمانے میں کم نہیں ہوئی۔خاص طور پر گاؤں وغیرہ میں جہاں تعلیم کا اتنا زیادہ رجحان نہی ہوتا ، وہاں عورتیں اپنے ہاتھ سے محنت کرتی ہیں اور خوبصورت نقش ونگار بناتی ہیں پھر ان قالینوں کو شہروں میں مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے،اور قابل تحسین نمونوں کو نمائش کے لیے بڑی بڑی نمائش گاہوں میں پیش کیا جاتا ہے۔
Key-11 ۔ سکول کے موجد بھی مسلمان تھے:
اگرچہ سکولوں کی بنیاد مسلمانوں سے پہلے یونانیوں کے دور میں رکھی گئی لیکن ان کو باقاعدہ علمی درسگاہ کے طور پر استعمال کرنے کا سہرا مسلمانوں کے سر جاتا ہے ۔مسلمانوں کے دور میں سکولوں کی جگہ مسجدیں تربیت گاہ کے لئے استعمال ہونے لگی۔ نبی ﷺ نے جب ہجرت مدینہ کی تو سب سے پہلے مسجد کی بنیاد رکھی جس میں باقاعدہ درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس کے علاوہ مختلف قبائل کی طرف اہل علم کو تعلیم کی اشاعت کے لیے نائب بنا کر بھیجا۔ان کی قربانیوں کی بدولت علم ہر جگہ پھیلاور انہوں نے دوردراز کے ممالک کے سفر کیے۔آپﷺکے دور مبارک میں ابتداء میں مساجد کی تعداد سات تھی۔ اسی دوران سکول قائم کئے گئے اور نویں صدی میں تقریباً ہر مسجد میں بچوں کے لیے سکول تعمیر کیے گئے اور داخلے کے لیے ابتداء میں چھ سال کی عمر کے بچے کو داخل کیا جاتا تھا۔اس زمانے میں عام طور پر مفت ٹیوشن دی جاتی تھی یا پھر بہت مناسب قیمت پر جو سب کی پہنچ میں ہوتی تھی۔ان سکولوں کی سب سے بہترین بات یہ تھی کہ بچے کو سب سے پہلے اللہ تعالی کے ننانوے نام سکھائے جاتے اور قرآن پاک کی آسان آیات یاد کروائی جاتی تھیں۔دسویں صدی میں آہستہ آہستہ درس وتدریس کا کام مسجدوں سے سکولوں میں منتقل ہونے لگا۔سب سے پہلے سکول مساجد میں قائم کیے گیے۔دسویں صدی کے ایک ماہر تعلیم نے اپنے ایک بیان میں سکولوں کے بارے میں کہا کہ ، سکول ہمیشہ کسی مصروف جگہ پر تعمیر کرنے چاہیں ،سکول سیکھنے سکھانے کی ایک جگہ ہے ،نہ کہ کھانے پینے کی تفریح گاہ لہذا بچوں کو یہاں پیسے لیکر نہیں آنا چا ہیے۔استاد کو ہر لحاظ سے اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے ادا کرنا چاہیے۔ہمیں یہ سوچنا چا ہیے کہ ہم ایک نسل تیار کر رہے ہیں ،اور یہ بچے ہمارے پاس امانت ہیں ،اور ایک دیانت دار مسلما ن کبھی بھی امانت میں خیانت نہیں کرتا۔یہ بچے نہ صرف ہمارے ملک کے لیے ایک قیمتی خزانہ ہیں بلکہ پوری امت کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہیں۔بعد کے زمانے میں دوسر ی اقوام نے مسلمانوں کی دیکھا دیکھی سکول قائم کئے اور آج لفظ سکول دنیا کے ہر ملک میں بولا اور سمجھا جاتا ہے۔
Key-12۔ مسلمانوں نے معلم کے بیٹھنے کا فطری طریقہ اپنایا:
اگر ہم مسلمانوں کے تعلیمی نظام پر نظر ڈالیں تو یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ آپﷺ کے مبارک دور میں مسجدوں میں سیکھنے سکھانے کے لئے حلقے بنائے جاتے تھے اور کرسی کا استعمال بالکل نہیں کیا جاتا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ معلم کے دل میں فخر اور غرور پیدا نہ ہو کہ وہ مرتبے میں اپنے طلبہ سے اعلیٰ و عرفیٰ ہے۔ تعلم کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ آپﷺ درمیان میں تشریف فرما ہوجاتے اور صحابہ کرامؓ آپﷺ کے اردگرد آلتی پالتی مارکر بیٹھ جاتے۔
اگرہم دین اسلام کی روشنی میں دیکھیں تو استاد کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور استاد کی اہمیت کے بہت سے فضائل بھی بیان کئے گئے ہیں۔استاد کا ادب نہ کرنے والے بچے کبھی بلند مقام حاصل نہی کر پاتے۔ایک مخلص اور محنتی استاد معاشرے کے اندر بہت ساری تبدیلیاں رونما کر سکتا ہے۔استاد کو روحانی والدین کا درجہ بھی دیا گیا ہے۔حضرت علیؓ کا فرمان ہے کہ جس نے مجھے ایک حرف بھی پڑھا دیا میں اس کا غلام ہوں۔ہمارے اکابرین اور اسلاف اپنے استادوں کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے ۔صحابہ کرامؓ آپﷺ کا بہت زیادہ ادب و احترام کیا کرتے تھے ۔قرآن پاک میں بھی اللہ رب العزت کا ارشاد مبارک ہے کا مفہو م ہے :اے ایمان والو اونچی آواز میں نبی ﷺ کو مت پکارو جس طرح آپس میں تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔اس سے ہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی اپنے استاد کے سامنے بلند آواز سے بات نہیں کرنی چاہیے۔ان کے سامنے ادب کے ساتھ بیٹھنا چاہیے۔ انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کرنی چاہیے۔ انہیں فضول سوالات کر کے پریشان نہیں کرنا چاہیے۔ان سب باتوں کے باوجود آپﷺ نے کبھی خود کو دوسروں سے ممتاز نہیں کیا۔سب کے ساتھ ہمیشہ ایک جیسا سلوک کیا اور معلم کا طلبہ کے حلقے میں بیٹھنا عاجزی کا اظہار کرتا ہے۔
اس کے برعکس اگر ہم سکول اور یونیورسٹیوں کے نظام تعلیم کو دیکھیں تو وہاں استاد کے بیٹھنے کے لئے ایک الگ کرسی کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ایک اونچی جگہ اس لئے بنائی جاتی ہے تاکہ استاد کی بات کو توجہ سے سناجائے جو کہ غلط طریقہ ہے۔
زمانہ قدیم میں کسی کو استاد منتخب کرنا اس وقت کے خلیفہ یا مفکرین کا کام ہو تا تھا۔ عباسیوں کے اولین دور میں بغداد شہر کے منتخب کردہ استاد کا نام عقیل تھا۔ بعض اوقات قابلیت وتجربہ کی بدولت ہمہ جہت خوبیوں والے خطیب کو ایک ہی وقت میں دو مسجدوں کا خطیب مقرر کیا جاتا تھا۔آپﷺ کے دور میں ہر مسجد میں سیکھنے سکھانے کے لئے ہر شعبہ کے الگ الگ حلقے بنائے جاتے تھے۔ مثلاً ،ایک حلقہ میں حدیث مبارک کا درس دیا جاتا تھا،ایک حلقے میں عربی گرائمر ،اور ایک حلقے میں علم النحو کی تعلیم دی جاتی تھی۔اس زمانے میں ہر کوئی اپنے کام کے ساتھ بہت مخلص ہوا کرتا تھا۔جب خلیفہ وقت ایک مرتبہ کسی کو منتخب کر دیتے تھےتو وہ ساری زندگی اسی مقصد کے تحت زندگی گزار دیتے تھے۔ اس سلسلے میں ہمیں بہت سی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ کس طرح ان لو گوں نے اپنی ساری زندگی دین اور دنیا کی بھلائی کے لئے وقف کر دی۔جیسا کہ ایک مسلم سکالر بوعلی سینا نے اپنی زندگی کے پچاس قیمتی سال اس خدمت میں گزار دیئے ،۸۰ سال کی عمر میں ۱۲۰۱ ء میں ان کی وفات ہوئی۔مسلمانوں کی روایت تھی کہ ایک کی وفات پر اس کی جگہ دوسرے استاد کو مقرر کر لیا جاتا تھا۔ اس کے محنتی اور مخلص ہونے کی وجہ سے ایک مشہور استاد شریف ابو جعفر جو پہلے جامعہ المنصور کی خدت کے لئے مقرر کئے گئے تھے ،کچھ عرصہ بعد وہ مشرقی بغداد کے ایک مشہور ادارے میں خدمات سر انجام دینے لگے۔
آجکل انسان جلدی جلدی ترقی اور سب کچھ حاصل کرنے کی غرض سے اپنے کام میں کسی ایک ادارے کے ساتھ مخلص نہیں ہوتا۔ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر ہمیں کسی جگہ خدمت کا موقع ملے تو ہمیں پوری دیانت داری کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ اگرہم کسی ایک پیشہ کی بات کریں ،مثلا ً،استاد ہی کی ذمہ داری پر غور کریں تو آجکل کے اساتذہ کا حال یہ ہے کہ دو چار پیسوں کے لئے روز روز ادارے تبدیل کرتے رہتے ہیں۔اس سے بچے کتنا نقصان ہوتا ہے کوئی احساس نہیں کرتا۔بار بار استاد کے تبدیل ہونے کی وجہ سے بچوں پر بہت بھی براا ثرپڑتا ہے اور اسی وجہ سے بچے کی بنیاد کمزور رہ جاتی ہے ۔
دوسری طرف بیٹھنے کی کرسی تو آنی جانی چیز ہے۔ آج اگر ہمارے پاس ہے تو یقیناًکل کسی اور کے پاس چلی جائے گی۔ لہذا مسلمانوں کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے اور سادگی سے زمین پر بیٹھ کر پڑھانا چاہیے۔
Key-13۔ کتب خا نہ:
یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ انسان نے کتابیں لکھنے کا کام تقریباً پانچ ہزار سال پہلے شروع کیا۔تحریر کے لئے درخت کی چھال، چمڑے اور کاغذ کا استعمال ہوتا رہا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کاغذ تو چینیوں نے ایجاد کیا لیکن کاغذ پر لکھی جانے والی نادر کتابوں کے تحفظ کا کام سب سے پہلے مسلمانوں نے کیا۔ یوں لائبیریوں کے قیام کا سہرا بھی مسلمانوں کے سر جا تا ہے۔
مسلمان کاغذ بنانے کے فن سے آگاہی رکھتے تھے اورچاہتے تھے کہ وہ اپنے بزرگوں کے کارناموں، ایجادات اور خدمات کو کسی نہ کسی طریقے سے آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ بنائیں۔اس لئے انہوں نے کتابوں کی اشاعت کے کام کا آغاز کیا ۔آٹھویں صدی میں عباسی دور میں خلیفہ الما مون نے عربی زبان میں کتابوں کا ترجمہ لکھوانے کے لئے ایک معقول معاوضہ ترجمہ کرنے والوں کو ادا کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ جب کتابوں کی تعداد بڑھنے لگی تو ضرورت ایجاد کی ماں کے مصداق عباسی دور ہی میں بے شمار کتب خانے تعمیر کیے گئے ۔مسلم اور غیر مسلم دونوں کے استفادہ کے لئے ہزاروں کی تعداد میں کتابیں رکھوائی گئیں۔کسی بھی سائنسی کتاب سے بھی پہلے جو کتاب وجود میں آئی وہ اس دنیا کی سب سے عظیم کتاب قرآن پاک تھی جو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ پر پیغامات کی صورت میں نازل ہوتی رہی۔ان آیا ت کو آپﷺ کے کئی صحابہ اکرامؓ فوراًزبانی یاد کر لیتے تھے ۔ آپﷺ کے حکم پر صحابہ کرامؓ نے قرآن پاک کومحفوظ بنانے کی غرض سے قلمبند کرناشروع کر دیا ۔لکھنے کے لئے انہیں جو بھی چیز میسر آتی اسی پر لکھنا شرو ع کر دیتے۔اس طرح آغاز میں قرآن پاک کو ہڈیوں ،کپڑوں اور پتھروں پر لکھا جاتا رہا۔ دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمرؓ کی صاحبزادی حضرت حفصہؓ نے سب سے پہلے قرآن پاک کو مکمل کروایا۔آیات کو سورہ اورابوب میں ترتیب وار لکھوایاگیا اور کس سورت کو کس جگہ رکھنا ہے کی نشاندہی نبی حضرت محمد ﷺ نے خود فرمائی۔اس طرح مختلف جگہوں پر قرآن پاک کو محفوظ تو کرلیا گیا لیکن اس کو ایک مکمل کتاب کی صورت میں لانا بہت ضروی تھا۔ چنانچہ تیسرے خلیفہ حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے دور مبارک میں یہ کام سر انجام دیا،اور آپؓ نے لکھنے اور پڑھنے کو اور مزید آسان بناتے ہوئے قرآن پاک پر اعراب لگوائے۔حضرت عثمان غنیؓ کے دورخلافت کے قرآن پاک کے نسخے آج بھی دنیا کی بڑی بڑی لائبریریوں میں موجودہیں۔قرآن پاک کا موجودہ نسخہ بھی مستند ہے ۔قرآن پاک کی ترویج سے کتب کا سلسلہ شروع ہوا جن کی حفاظت کے لئے لائبریریاں قائم کی گئیں ۔
چنانچہ مسلمانوں نے مساجد میں کتب خانے بنائے جنہیں دارالکتب کہا جاتاتھا۔
علم مومن کی میراث ہے ۔لہذامسلمانوں کو کتب سے خصوصی لگاؤ تھا۔اس کے مقصد کے لئے انہوں نے بے شمار کتب خانے تعمیر کئے۔عوامی لائبریر یوں کے ساتھ ساتھ بعض مفکرین نے اپنی ذاتی لائبریریاں بھی بنائیں۔ایک انگریز تاریخ دان ایڈورڈ نے کتابوں کے رسیا ایک مسلمان حکیم کا قصہ قلمبند کیا ہے۔اس کے بقول ایک مرتبہ حکیم کو بخارا کے بادشاہ نے شاہی طبیب کی حیثیت سے نوکری کی پیش کش کی۔ حکیم اپنی پڑھائی میں اس قدر محو تھا کہ اس نے بادشاہ کی دعوت کومسترد کر دیاکیونکہ وہ اپنی کتابوں کو چھوڑ کر وہاں جانا نہیں چاہتا تھا اوراسے اپنی کتابیں ساتھ لیکر جانے کے لئے چار سو اونٹوں کی مدد درکار تھی۔
قرون وسطیٰ کے ایک تاریخ دان کا کہنا ہے کہ وہ دوسو جلدوں پر مشتمل کتابیں نکلواکر پڑھتے تھے۔اس سے ہمیں کتاب کی اہمیت کا اندازہ ہو تا ہے کہ اگر کتابیں نہ ہوتیں تو آج زمین پر انسانی ترقی کا کوئی وجود ہی نہ ہوتا۔کتاب ایک بہترین ساتھی ہے ۔آج اگر ہم تنہا ہی میں ہوں تو کتاب تنہائی دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ہمیں اپنی دینی کتابوں کا بہت زیادہ ادب واحترام کرنا چاہیے۔کیونکہ ا دب کے بغیر علم نہیں آتا اور علم کے بغیر ہم عمل نہیں کر سکتے۔مشہور قول ہے:باادب با نصیب ، بے ادب بے نصیب۔
Key-14۔ریاضی اورالجبرا کی ایجاد:
مقدار ،ڈھا نچے ،حجم ،تبدیلی اور نقشے وغیرہ کے مطا لعے کو علم الحساب یا ریاضی کہتے ہیں۔اسے ہم ضروری حساب کتاب کا سائنسی علم بھی کہہ سکتے ہیں۔اس حساب کتاب میں گنتی اور پیمائش دو بنیادی عوامل ہیں۔ان میں ہندسے اور نقطے اہم علامات کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔علم الحساب میں اشکال اور حرکات کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے۔علم الحساب اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ خود بنی نوع انسان۔عملی ریاضی کو قبل ازتاریخ کے لوگ بھی استعمال کرتے تھے۔ان لوگوں کی ریاضی اتنی اچھی تھی کہ وہ غیر مادی چیزوں مثلاً دنوں ،موسم اور سالوں کا حساب باآسانی رکھ سکتے تھے۔
علم ریاضی میں بہت سی نئی دریافتیں کرنے کا سہرا مسلمانوں کے سر ہے۔ان میں سب سے نمایاں نام ا بو جعفر محمد بن موسیٰ الخوارزمی کاہے ۔وہ خوارزم میں پیدا ہوئے۔انہوں نے سب سےپہلے دنیا میں الجبرا کا تعارف کروایا۔یونانی ریا ضی دانوں نے جیومیٹری کے بارے میں جو خیالات پیش کئے تھے حقیقت میں الخوارزمی نے ان کی بنیاد پر الجبرا متعارف کروایا،جس سے دنیا میں ایک نیا انقلاب رونماہوا۔حقیقی اور غیرحقیقی اعداد کو اکھٹاکرنے کے نظرئیے کو الجبرا کہتے ہیں۔اس علم کی ہمیں روزمرہ کے معاملات میں بہت ضرورت پڑتی ہے۔کاروباری معاملات میں بھی حساب کتاب کی لمحہ بہ لمحہ ضرورت پیش آتی ہے۔اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کے دسویں صدی میں،حساب کتاب کے تین مختلف طریقے ہواکر تے تھے۔ ان میں سے ایک انگلیوں پر گننا،دوسرا جنسی اجزا،اور تیسرا عربی ہندسوں کے ذریعے حساب کتاب کرنا تھا۔وقت کے ساتھ ساتھ یہ علم اتنی وسعت اختیار کرتا گیا کہ اسے مزید کئی اقسام اور شاخوں میں تقسیم کرنا پڑا۔جیسا کہ ریا ضی،عملی ریاضی،الجبرا،جیو میٹری، ٹرگنونو میٹری،شما ریات اور کمپیوٹر سائنس وغیرہ۔ریا ضی کے علم کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے،اس کے ارتقاء اور اس کی ترقی میں مسلمان ریاضی دانوں کا بڑا اہم اور شان دار کردار رہا ہے۔مثال کے طور پر خوارزمی اور عمر خیام نے الجبرا اور لاگر تھم ایجاد کئے۔لاگر تھم ایک ایسا علم ہے جو موجودہ کا لکو لیٹر اور کمپیوٹر میں بنیادی اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔یہ علم آج کے زمانے میں بہت ترقی کر چکا ہے۔تمام حساب کتاب مشینی ہونے کی وجہ سے انسان کو طویل رقوم یاد نہیں رکھنا پڑتیں۔
آج ہم حساب کے نظام سے واقف ہیں جوصفر سے شروع ہوتا ہے اور اربوں کھربوں تک چلاجاتاہے۔ مسلمان سائنسدان بعض ہندسوں کی اہمیت سے بہت زیادہ متاثر تھے ،جیسے 0 اور ، ان کو وہ اللہ تعالی کی ۹۹ صفات سے مشابہ سمجھتے تھے ،جیسے اللہ تعالی کی عظیم ذات سے نہ پہلے کچھ ہے اور نہ ہی بعد میں کچھ ہے،وہ لا شریک ہے اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔وہ اپنی صفات اور کمالات میں بے مثال ہے۔بالکل اسی طرح صفر سے پہلے بھی کوئی ہندسہ نہیں آتااور یہ دونوں ہندسے دنیا کے ہر قسم کے کمپیو ٹر میں استعمال کئے جاتے ہیں ۔
محمد بن موسیٰ الخوارزمی مشہور و معروف ریا ضی دان تھے جنہوں نے موجودہ استعمال ہونے والے ہندسے ایجاد کئے۔انہوں نے الجبرا کے علم کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ آپ نے ریاضی پر دو کتابیں تصنیف کیں ۔ ایک حساب اور دوسری الجبرا پر تھی۔ریاضی کی ایک شاخ الجبرا کو الجبرا کا نام محمد بن موسیٰ الخورزمی نے ہی دیا۔ آپ نے آٹھویں صدی میں الکتاب المختصر فی الحساب الجبر و المقابلہ لکھی جس سے الجبرا کا لفظ استعمال ہونے لگاجس کے بغیر کمپیوٹر کی ایجاد ممکن نہ تھی۔اگرچہ ریاضی کا مضمون بہت خشک ہوتا ہے مگر اس میں چندد لچسپ کھیل بھی ہوتے ہیں ،جن سے ذہن تیز ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں