Mufti Gulzar Ahmed Naeemi 66

مظلوم غزہ اور بے حس مسلمان حکمران .تحریرمفتی گلزاراحمد نعیمی

9 / 100

مظلوم غزہ اور بے حس مسلمان حکمران
تحریر: مفتی گلزاراحمد نعیمی
ایک دفعہ پھر القدس کی بے حرمتی کی جارہی ہے اور اس کے باسیوں کے معصوم خون سے اس کے درودیوار رنگین کیے جارہے ہیں۔14 مئی 1948ء کو برطانیہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے تعاون سے معرض وجود میں آنے والی ناجائز ریاست اسرائیل کی بنیاد فلسطینی مسلمانوں کے خون نا حق پر رکھی گئی۔انکو ان کے آباد وطن سے بے دخل کیا گیااور انکی جگہہ صیہونی تحریک کے یہودیوں کو مختلف ممالک سے لاکر یہاں بسانے کا آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے۔آج کے موجودہ ظلم وستم اور مسجد اقصی کی بے حرمتی کا معاملہ بھی ماضی سے جڑا ہوا ہے۔فلسطینیوں پر حالیہ ظلم تشدد کا آغاز بھی شیخ جراح کے علاقے میں درآمد کیے گئے یہودیوں کی آباد کاری سے شروع جب یروشلم کی ایک نام نہاد صیہونی عدالت نے ستر سال سے آباد مسلمانوں کو بے دخل کرنے اور انکی جگہہ یہودیوں کو آباد کرنے کے احکامات جاری کیے۔مسلمانوں کی مزاحمت پر مسجد اقصی میں نماز ادا کرنے والے پرامن مسلمانوں پر تشدد کیا گیا مسجد کی بے حرمتی کی گئی اور اس کے بعد غزہ پر بارود برسانے کا سلسلہ شروع ہوا جو ابھی تکی جاری ہے۔مسجد اقصیٰ جو مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اسکی بے حرمتی کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔اس پر مسلمانوں کا خاموش رہنا یا محض احتجاج کرنا قابل افسوس بات ہے۔ابھی تک دوسو سے زائد مظلوم فلسطینی شھید ہوچکے ہیں۔ کئی بوڑھے بچے جوان اور خواتین شدید زخمی ہیں۔ان مظلوموں کے حق میں ابھی تک مسلمان ممالک او آئی سی کے پلیٹ فارم سے ایک قرارداد منظور کرنے کے قابل ہوسکے ہیں جو بہت ہی شرم کی بات۔
اسرائیل نے ہر جنگی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔شہری آبادی پر بمباری تو اسکا معمول بن چکا ہے اور اسے وہ اب کوئی جرم نہیں سمجھتا۔ان تازہ حملوں میں اس نے فلسطین کے میڈیا ہاؤسز پر بھی بمباری کر کے انکو تباہ کردیا ہےتاکہ اسکے مظالم کی تشہیر نہ ہوسکے۔مگر آج کے سوشل میڈیا کے دور میں اس کے ہرہر جرم کو طشت از بام کیا جارہا ہے اور پوری دنیا اسکی سنگین مظالم کو بچشم خود ملاحظہ کررہی ہے۔لیکن بہت ہی افسوس کا مقام ہے کہ مغربی حکومتیں اور امریکہ ان قیامت خیز مظالم پر خاموش تماشائی ہی نہیں بلکہ اس ناجائز صیہوتی ریاست کا طرفدار بن چکا ہے۔امریکہ نے مسلم امہ کے ساتھ ہمیشہ منافقت کی ہے اور مغرب نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔مگر مغربی اور امریکی عوام کو خراج تحسین پیش نہ کرنا ناانصافی ہوگی جنہوں نے اسرائیل کے ان مظالم پر بہت ہی پر اثر احتجاج کیا ہے۔ان احتجاجوں سے پتہ چلتا ہے کہ مغربی اقوام اسرائیل کے معاملے میں اپنی حکومتوں کے ساتھ نہیں ہیں۔وہ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
جب ہم مشرق وسطی کو دیکھتے ہیں تو عوام تو شاید ان مظالم پر اندر ہی اندر کڑھ رہے ہوں اور وہ ان مظالم پر غمزدہ بھی ہوں مگر عرب ممالک کے حکمرانوں کو ذرا بھی غم نہیں ہے کہ ان کے عرب فلسطینی مظلوم بھائیوں کے ساتھ اسرائیل کیا کررہا ہے۔آپ ذرا ان عرب حکمرانوں کو دیکھیں کہ اسرائیل صبح وشام باردود کی بارش کررہا ہے اور یہ اس کے خلاف ایک غیر مؤثر سی قرارداد پاس کس کر کے اپنے فریضہ سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں۔میں اکثر کہتا ہوں کہ سعودی عرب نے اکتالیس ممالک کا اتحاد صرف اور صرف ایران کے لیے بنا رکھا ہے۔اس کا اور کوئی مقصد نہیں ہے۔عراق اور شام میں امریکہ نے بے شمار مسلمانوں کو داعش القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروپوں سے ذبح کروایا لیکن اس اتحاد نے ان دہشت گردوں پر ایک گولی بھی نہیں چلائی۔اب اسرائیل نے غزہ میں بھی مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیا ہے لیکن یہ اتحاد ٹس سے مس نہیں۔چاہیے تو یہ تھا کہ اس اجلاس میں او آئی سی اسرائیل کے اعلان جہاد کرتی اور اسے صفحئہ ہستی سے مٹا کر دم لیتی۔لیکن ایسا کچھ نہیں ہو اور شاید نہ ہوسکے۔عرب ممالک امریکہ کے حکم کے بغیر ایک قدم بھی نہیں اٹھاتے۔اگر اردن شام مصر اور ترکی اس ناجائز ریاست پر یکبارگی حملہ آور ہوجائیں تو اسرائیل چند گھنٹوں میں خاک کا ڈھیر بن سکتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان اپنے قیام سے لیکر اب تک فلسطین کے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔قائد اعظم محمد علی جناح نے اسے ناجائز ریاست کہا ہے اور آج بھی پاکستان کا بچہ بچہ اسے ناجائز ریاست ہی کہتا ہے۔پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے پاسپورٹ کا حامل اسرائیل کا سفر نہیں کرسکتا۔میرے خیال میں اسلامی دنیا میں صرف پاکستان نے ہی اپنے پاسپورٹ کے حاملین پر یہ پابندی لگا رکھی ہے۔یہ اصل میں اس ریاست کے ساتھ نفرت اور فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا واضح اظہار ہے۔پاکستان دنیا میں ہر پلیٹ فارم پر اسرائیل کے مظالم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اور یقینا اٹھاتا رہے گا۔
ہمارے کچھ جذباتی لوگ پاکستانی حکومت اور اداروں پر تنقید کررہے ہیں کہ انہوں نے ابھی تک اسرائیل کے خلاف جنگ کا اعلان کیوں نہیں کیا۔میں گزارش کروں گا کہ ہمیں ہر وقت ہر چیز کو جذباتی ہوکر نہیں دیکھنا چاہیے۔ہماری براہ راست کوئی سرحد اسرائیل کے ساتھ نہیں لگتی۔جب تک مصر ترکی اور اردن اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع نہیں کرتے تو ہم براہ راست نہیں کرسکتے۔جب عرب ممالک نے اسرائیل کے خلاف جنگیں کیں تو پاکستان نے انکابھرپور ساتھ دیا۔1948 میں پاکستان کو بنے صرف ایک سال ہوا تھا عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی تو قائد اعظم نے سربراہ ریاست کی حیثیت سے لاکھوں رائفلز اور مصر کو ایک لڑاکا طیارہ بھی دیا تھا۔ہمارے پائیلٹس نے ائرفورس اور انفرنٹری کے جوانوں نے عربوں کے ساتھ شانہ بشانہ ہوکر اسرائیل کے ساتھ جنگیں لڑیں ۔ہماری ائر فورس نے اسرائیل کو بہت نقصان پہنچایا تھا۔اب جب عرب خود بزدل ہوکر بیٹھ گئے ہیں تو پاکستان کیا کرے؟ وہ نہ صرف خاموش ہیں بلکہ اسرائیل کو تسلیم بھی کررہے ہیں۔جب یہ ممالک اسرائیل کو تسلیم کر رہے تو تو انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ہم اسرائیل کو مسئلہ فلسطین کے حل پر قائل کریں گے۔مگر یہ محض اسلامی دنیا کو مطمئن کرنے والی بات تھی۔آج اگر انہیں کہا جائے کہ آپ تسلیم کرنے کے فیصلے کو واپس لیں تو وہ کبھی بھی ایسا نہیں کریں گے۔
اسلامی جمہوریہ ایران فقط ایک ایسا اسلامی ملک ہے جو فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور انکی ہر قسم کی مددونصرت بھی کررہا ہے۔آج فلسطینی مسلمان جو مزاحمت کررہے ہیں تو اس کے پیچھے ایران کی قوت ہی کارفرما ہے جبکہ اکتالیس ممالک کا اتحاد تو ستو پی کے خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہے۔
ہم سب پاکستانیوں کے دل اہل فلسطین کے ساتھ دھڑک رہے ہیں اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم پر غمزدہ ہیں۔ اللہ کرے ایسے حالات پیدا ہوں کہ ہمارے جوان اسرائیل کے خلاف عملی جہاد میں حصہ لینے کے قابل ہوسکیں اور اسکو نیست ونابود کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں