103

ناصبیت کے روز بروز بڑھتے ہوئے خطرات

8 / 100

تحریر : پروفیسر عون محمد سعیدی مصطفوی بہاولپور

ناصبیت کے روز بروز بڑھتے ہوئے خطرات

رافضیت کی ایمان شکن موجوں کے غالب تھپیڑوں کے بعد اب اہل سنت کو ناصبیت کی امڈتی ہوئی دین دشمن لہروں کی شدت کا سامنا ہے ..
میں ایک عرصے سے احباب کو خبردار کرتا چلا آ رہا ہوں کہ اہل سنت کو اب تک جس طرح حب اہل بیت کے نام پر رافضیت کے اژدہا نے شدید ترین نقصانات سے دو چار کیا ہے، بالکل اسی طرح اس کے رد عمل میں حب صحابہ کے نام پر ناصبیت کا بل کھاتا ہوا سانپ بھی اپنا پھن پھیلائے ان کی صفوں میں گھس چکا ہے..
اب یہ تو ایک حقیقت ہے کہ نہ تو رافضیت کی ضد میں ناصبیت کو سپورٹ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ناصبیت کی ضد میں رافضیت کے ہاتھوں میں ہاتھ دیا جا سکتا ہے.رافضیت و ناصبیت کے اس خارزار میں اہل سنت کا راستہ انتہائی معتدل متوازن، منفرد اور جداگانہ ہے.
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جب آپ ناصبیت کے خلاف صف آرا ہونے لگتے ہیں تو اس کے حامی اپنے تحفظ کے لیے بڑی چابک دستی سے آپ کا رخ رافضیت کی طرف موڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب آپ رافضیت کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تو اس کے حامی اپنے بچاؤ کے لیے بڑی حکمت عملی سے آپ کو ناصبیت کی تباہ کاریوں کی طرف متوجہ کرنا شروع کر دیتے ہیں . ان سنگین حالات میں اہل سنت کا فرض یہ ہے کہ وہ ان دونوں باطل نظریات سے بے زاری کا اظہار کریں . نہ رافضیت کے خوں خوار بھیڑیے کو اپنی گود میں بٹھائیں اور نہ ہی ناصبیت کے زہریلے سانپ کو اپنی آستینوں میں پالیں.

یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ رافضیوں کی توندیں عجمی ممالک کے مال سے بڑھتی ہیں جبکہ ناصبیوں کی جیبیں عرب ممالک کے خفیہ تعاون اور چندوں سے گرم ہوتی ہیں،
اہل سنت کے درمیان رافضیت کی صف بندی تو پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے جبکہ ناصبیت کی صف بندی اب ہونے جا رہی ہے، کچھ متنازعہ شخصیات اور جماعتیں اس سلسلے میں پیش پیش اور سرگرم عمل ہیں، آپ سوشل میڈیا پر انہیں ایک دوسرے کی بھرپور حمایت کرتے دیکھیں گے.

اہل سنت میں سرایت شدہ رافضیت کی حقیقت تو الحمد للہ کھل کر دنیا کے سامنے آ چکی ہے، اس کے حاملین سیدنا امیر معاویہ سیدنا ابو سفیان، سیدتنا ہندہ، دیگر صحابہ کرام حتی کہ خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی عظمت و شان پر طرح طرح سے حملے کرتے ہیں .
جبکہ ناصبیت جو حالیہ ادوار میں ہی نہایت خاموشی سے اہل سنت میں پنجے گاڑتی پھر رہی ہے اس کی طرف بہت سے احباب کی توجہ نہیں جا رہی ہے.

ہم اہل سنت کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمت کر کے نیم رافضیت کی طرح ناصبیت کے اس زہریلے خوش نما سانپ کا سر بھی پوری قوت کے ساتھ کچل دیں ورنہ تھوڑے ہی عرصے بعد یہ ایک بہت بڑا اژدہا بن کر بےشمار لوگوں کے ایمان کو بری طرح نگل جائے گا اور ہم کچھ بھی نہ کر سکیں گے.
آئیے دیکھتے ہیں کہ ناصبیت کی کیا کیا علامات ہیں جن سے ہم اسے پہچان سکتے ہیں .
ناصبیت بنیادی طور دفاع صحابہ کے نام پر اہل بیت کی شان گھٹانے کا نام ہے. اس کے حاملین آپ کو اس طرح کے خیالات کا اظہار کرتے نظر آئیں گے.

(1) واقعہ کربلا کی ذمے داری یزید پہ عائد نہیں ہوتی.

(2) اسلام تو خلفاء راشدین تک مکمل ہو چکا پھر کربلا میں کون سے اسلام کی تکمیل ہوئی تھی.

(3) امام حسین کا یزید کے خلاف اٹھنا ان کی اجتہادی خطا تھی.

(4) امام پاک کا ارادہ بن گیا تھا کہ یزید کی بیعت کر لینی چاہیے.

(5) یزید کی بیعت درست تھی کہ 75 صحابہ کرام نے اس کی بیعت کی تھی.

(6) امام حسین نے کربلا میں یزید کو امیر المؤمنین کہا

(7) اہل بیت نے یزید کی بیعت کی اور کبھی نہیں توڑی۔

(8) امام حسین کو کربلا میں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا اس لیے انہوں نے تین شرائط پیش کی تھیں.

(9) سانحہ کربلا کوئی کفر و اسلام کی جنگ نہیں تھی (یعنی حق و باطل کی بھی نہیں تھی)

(10) امام حسین کا یزید سے اختلاف فقط انتظامی امور کا تھا.

(11) امام حسین کا یزید کے خلاف اقدام کوئی خروج نہ تھا بس آپ نظام حکومت میں بہتری لانا چاہتے تھے.

(12) امام حسین کی مظلومانہ شہادت میں اصل کردار کوفیوں کا تھا جنہوں نے آپ کے ساتھ دھوکہ کیا نہ کہ یزیدیوں کا.

(13) یہ ناصبی آپ کو مروان کی بڑھ چڑھ کر تعریف اور دفاع کرتے نظر آئیں گے.

(14) یزید پہ شخصی لعنت اگرچہ اہل سنت میں مختلف فیہ ہے لیکن ناصبی کو یزید پہ لعنت کا سن کر سخت تکلیف ہوتی ہے اور وہ اس پہ شدید بے چینی کا اظہار کرتا ہے.

(15)حضرتِ علی کرم اللہ وجہہ الکریم، سیدہ کائنات اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہم سے ان کی عقیدت بس واجبی سی ہوتی ہے، جس کا اظہار وہ صرف فیس پروٹیکشن کے لیے کرتے ہیں.

(16) یہ لوگ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یوم تو دھوم دھام سے مناتے ہیں، جو کہ قابل تحسین ہے، لیکن ان کے ہاں حضرت علی و دیگر اہل بیت کے ایام میں کما حقہ دھوم دھام نظر نہیں آتی.. حالانکہ قرآن کے مطابق فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والے اور بعد میں ایمان لانے والے صحابہ کرام کے درمیان درجات کا بہت بہت زیادہ فرق ہے.. اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فرمان کے مطابق سیدنا علی، سیدنا معاویہ سے مراتب میں اتنے بلند و بالا ہیں کہ ان کا کوئی شمار ہی نہیں ہے.. بالکل اسی طرح حسنین کریمین اور سیدہ کائنات کے مرتبے بھی ان سے بے شمار گنا بلند ہیں.
جب آپ ان کے سامنے فرق مراتب کی یہ بات کریں گے تو وہ جواب میں فٹ سے کہیں گے کہ آپ کی بات اگرچہ ٹھیک ہی ہے لیکن نفس صحابیت میں تو یہ سب برابر ہیں، (حالانکہ اس سے کسی بھی سنی کو انکار نہیں)

(17) اگر اہل بیت کے ایام میں انہیں ذکر اہل بیت کرنا پڑے تو دوران تقریر خاص انہماک سے ان کا تذکرہ کرنے کی بجائے درمیان میں بار بار موضوع کا رخ دوسری طرف موڑنے کی کوشش کریں گے. لیکن جب صحابہ کرام کے ایام ہوں تو وہاں پوری یکسوئی اور انہماک سے ان کا تذکرہ کریں گے جو کہ فی نفسہ مستحسن ہے اور بالکل قابل اعتراض نہیں ہے.

(18) اگر کوئی شخص ادب، عقیدت اور محبت کے جملہ قرینوں کو پورا کرتے ہوئے ذکرِاہلِبیت کر رہا ہو تو انہیں اس میں رافضیت کی بو محسوس ہونے لگ جاتی ہے اور یہ اسے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں.

(19) یہ لوگ طرح طرح سے سادات کی شان کم کرنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں، اہل بیت کون کون ہیں؟ یہ ان کا خاص پسندیدہ موضوعِ تحقیق ہوتا ہے. ایسے ایسے حوالے ڈھونڈ کے لانا جن سے سادات کی شان میں کمی واقع ہو، ان کا من پسند مشغلہ ہوتا ہے.

(20) اہل بیت کی شان میں وارد اکثر روایات انہیں موضوع اور ضعیف نظر آتی ہیں. ان کے راویوں پر وہ طرح طرح سے جرح کرتے نظر آتے ہیں. اور اگر مجبورا کچھ روایات کو درست ماننا پڑ جائے تو پھر ان کے مفہوم میں اس طور پر ڈنڈی مارتے ہیں کہ اہل بیت کی زیادہ عظمت و شان ظاہر نہ ہو.

(21) اس طبقے کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اگر خدانخواستہ کوئی شخص اہل بیت کی بے ادبی کا ارتکاب کر لے تو یہ فورا ہی اس کے ارد گرد پروانوں کی طرح اکٹھے ہو جاتے ہیں، اس کی ہلا شیری کرتے ہیں، اسے تحفظ فراہم کرتے ہیں،اس کی بات کی تاویلیں کرتے ہیں، اس کی طرف سے مناظرے کرتے ہیں، اسے نت نئے حوالہ جات ڈھونڈ کر دیتے ہیں.

(22) یہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تو خطا سے پاک سمجھتے ہیں، اور بالکل درست سمجھتے ہیں، لیکن جب اہل بیت اطہار پر خطا کا جھوٹا الزام آ جائے تو انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے اور یہ بالکل اہل بیت کا دفاع نہیں کرتے بلکہ طرح طرح کی تاویلیں کر کے ان کی خطا ثابت کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں.

حالیہ دنوں میں جبکہ ایک ایسے ہی مولانا نے سیدہ کائنات حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خطا پر کہا تو ناصبیت اور اس کا گٹھ جوڑ دونوں کھل کر سامنے آ گئے.
دنیا بھر کے جید مستند اور معتمد علماء اہل سنت کے بار بار منع کرنے، مذمت کرنے اور رجوع و توبہ کا مطالبہ کرنے کے باوجود یہ لوگ اپنی خطا پر ابلیسی ضد کے ساتھ مصر رہے اور سیدہ کائنات کو خطا پر ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا. نعوذبااللہ.

نوٹ : اندریں حالات ہم نے اپنا فرض جانا کہ اہل سنت و جماعت کو اس نئے اٹھتے ہوئے فتنے سے خبردار کریں تاکہ وہ رافضیت کی طرح اپنی صفوں میں موجود ناصبیت کی ان کالی بھیڑوں کا بھی بھرپور محاسبہ کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں