Mufti gulzar Ahmed Naeemi 120

معاشرہ اور اخلاقیات. مفتی گلزار احمد نعیمی

55 / 100

معاشرہ اور اخلاقیات
مفتی گلزار احمد نعیمی
حقوق و فرائض کی بجا آوری میں جب تک توازن اور اعتدال قائم و دائم رہتا ہے اس وقت تک وہ معاشرہ قابل تقلید اور قابل فخر تصور کیا جاتا ہے پھر اس معاشرے میں موجود خوبیوں اور عمدہ باتوں کی پیروی دیگر اقوام بھی کرتی ہیں اور ان کو اپنے ہاں رائج کرنے کی کوشش بھی کرتی ہیںوہ معاشرہ اپنے موجود اوصاف حمیدہ کو فخر و نبساط سے اقوم عالم کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ وہ اپنے معاشرے میں مروجہ اصول وضوابط کو اپنے لیے اس انداز سے مشعل راہ بنا لیتی ہیں جن سے رو گردانی کرنا اور اعراض برتنا نہ ان کے اختیار میں ہوتا ہے اور نہ وہ ان کا تصور کرتی ہیں۔
اس اعتدال و توازن کوقائم رکھنے کی دو ہی صورتیں ہیں۔
-1قانونی -2اخلاقی
قانون لچک دار ہو یا نہ ہو لیکن قوانین کے اندرانصاف روز روشن کی طرح عیاں ہورہا ہو، زندگی کے میدانوں میں انصاف کی فراوانی نظر آرہی ہو، ہر شخص محسوس کرے کہ قانون کی پیروی میں ہی اس کی نجات ہے اور قانو ن سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہ ہوگی۔ قانون پر عملدرآمد کرانے والے افراد قانون کے محافظین اور قانون کے علمبردار نہ صرف قانون کو سمجھتے ہیں، جانتے ہیں اور مانتے ہیں بلکہ قانون پر عمل کرانے میں صرف اور صرف انصاف کو پیش نظر رکھتے ہیں نہ وہ کسی صاحب اقتدار و اختیار سے مرعوب ہوتے ہیں اور نہ انکے’’ سپنوں ‘‘ میں بسنے والی آرزوؤں اور خواہشوں کی تکمیل میں’’ بے دام غلاموں ‘‘ کی مانند ’’رقصاں‘‘ رہتے ہیں ہر طرف انصاف کی حکمرانی اور اس کا بول بالا ہوتا ہے تو ایسا معاشرہ ہزار نقائص کے باوجود بہر حال ایک عرصہ تک قائم رہتا ہے …….لیکن ان خوبیوں کے باوجود…….
قانون کی حکمرانی انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں پر قائم نہیں ہوتی اور بہت سے زاویے ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں قانون کی رسائی نہیں ہوئی ، قانون وہاں پہنچنا بھی چاہے تو نہیں پہنچ پاتا۔
’’محبت و الفت‘‘ کے جذبات میں قانون بے دست و پا ہوجاتا ہے۔
’’نفرت و انتقام‘‘ کے تعلقات میں قانون کی گرفت جکڑ بندیوں سے آزاد ہوجاتی ہے ۔ احترام و تکریم کے ’’پیمانے‘‘ قانون کے ’’ ترازو‘‘ سے تولے نہیں جاسکتے ۔ ایمان و عقیدت کے جزبات ’’اوزان مادی‘‘ سے ’’ماپے اور ناپے‘‘ نہیں جاسکتے۔
’’نسبت روحانی‘‘ کو ’’ قانون کے دریچوں ‘‘ سے ’’ نظر انداز‘‘ نہیں کیا جاسکتا ۔
’’ تحسین والدین‘‘’’ترحیم اولاد و اطفال‘‘ ’’ تعظیمِ اکابر‘‘’’ توقیر اعزاہ و اقرباء‘‘ اور ’’ تکریم انسانیت ‘‘ کو ’’ دنیاوی اوزانوں‘‘ سے وزن نہیں کیا جاتا۔
’’اخلاص و ایثار‘‘ کو ’’ خفیف و ثقیل‘‘ میزانوں میںپرکھا نہیں جاتا اور ان جیسے تعلقات و جذبات و احساسات پر ’’ شہدات عینی‘‘ و ’’ سمعی‘‘ کے احکامات جاری نہیں کیے جاتے۔
البتہ ’’صراط مستقیم‘‘ سے اعراض کرنے والے معاشرے کو’’ بے راہ روی‘‘ پر گامزن ہونے سے بچانے کے لیے اور معاشرے میں توازن و اعتدال پیدا کرنے کے لیے اسلام نے ’’ اخلاقی تعلیمات‘‘ مرجع خلائق بناکر ’’ اخلاقی تربیت‘‘ کے اہتمام و انتظام کے لیے ایسی لطافت و نظافت سے معمور تعلیمات عطا کیں کہ جہاں قانون کی طاقت جواب دے رہی ہو وہاں’’ اخلاقیات‘‘ قانونی قوت سے بڑھ کر اس معاشرے کو ایسی راہوں پر استوار کردے جو ہمیشہ قائم و دائم رہے۔
اور ان ہی خوبیوں والا معاشرہ ایسا معاشرہ ہے جو ا سکام کا مطلوب و مقصود بھی ہے اور جو انسانیت کی فلاح کا دعدیدار بھی ہے۔
’’اخلاق ‘‘’’ خلق‘‘ کی جمع ہے اور’’ خلق ‘‘ کامعنی فطرت اور طبعیت ہے انسان کی باطنی صورت کو بمعہ اس کے اوصاف اور مخصوص معانی کو’’ خلق‘‘ کہتے ہیں جس طرح اس کی ظاہری شکل و صورت کو خلق کہا جاتا ہے۔
امام غزالیؒ لکھتے ہیں:
’’خلق‘‘ ، نفس کی اس راسخ کیفیت کا نام ہے جس کے باعث اعمال بڑی سہولت اور آسانی سے صادر ہوتے ہیں ، ان کے ظاہر کے لیے سوچ و بچار کی ضرورت نہیں ہوتی ۔‘‘
گویا جو افعال و اعمال اتفاقاً کسی شخص سے واقع ہوجاتے ہیں یا کسی عارضی جوش و ولولہ اور وقتی جذبات کے تحت وقوع پذیر ہوتے ہیں چاہے وہ کتنے ہی عمدہ ہوں اوصاف حمیدہ کے حامل ہوں اور خوبیوں سے مزین ہوں انھیں ’’خلق‘‘ نہیں کہا جا سکتا۔
افعال حسنہ مثلاًشجاعت ، سخاوت ، صداقت، ضیافت، عدالت، عبادت ، فرحت، رفاقت ، نظافت ، قناعت ، اعانت، لطافت ، جودت، صبابت، اور حفاظت وغیرہ افعال کی ادائیگی میں اگر دوام اور استمرا ر نہیں…. بغیر کسی تردود اور تکفر کے ان اعمال حسنہ کا بجا لانا نہیں…..ان اعمال ِ صالحہ کے صادر ہونے میں پختگی نہیں…….اور…….انھوں نے فطرت ثانیہ کا رخ اختیار نہیں کیا تو پھر یہ افعال و اعمال ’’ خلق‘‘ میں شامل نہیں کیے جاتے۔
کیونکہ ’’اخلاق‘‘ کے اند راس چیز کو پیش نظر رکھا جاتا ہے کہ وہ اوصاف غیر متزلزل ہوں…..جذباتی پس منظر سے ماوراہوں……..وقتی ماحول کے آئینہ میں وقوع پذیرنہ ہوں۔
’’ اخلاق ‘‘ سے منسوب ہونے کے لیے بلا تکلف مشکل و کٹھن لمحات اور آسان و سہل مراحل میں ادا ہوناضروری ہے تاکہ وہ کیفیت راسخہ اور ہیتِ راسخہ کا مظہربن جائیں۔
’’اخلاق‘‘ ہی کے ذریعے انسان کے دل میں بدی، گناہ اور برائی کے خلاف نفرت اور ناپسندیدگی کے جذبات پیداکیے جاتے ہیں۔
’’اخلاق ہی کے ذریعے معاشرے میں نیکی کے فروغ کے جذبات اور بدی سے نفرت کے احساسات پیدا ہوتے ہیں۔
رحمتِ انسانیت حضور اکرم نور مجسمﷺ نے نہایت اختصار اور جامع کلمات کے ساتھ ’’نظام اخلاق‘‘ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’میرے پروردگار نے مجھے نو باتوں کی وصیت کی ہے میں تمھیں بھی ان باتوں کی وصیت کرتا ہوں، مجھے وصیت کی گئی کہ میں
۱ خلوت وجلوت میں اخلاص کا مظاہرہ کروں۔
۲ خوشنودی اور غصہ دونوں حالتوں میں عدل کروں ۔
۳ ثروت و افلاس دونوں صورتوں میں میانہ روی اختیار کروں۔
۴ جو مجھ پر ظلم کرے میں اس کو معاف کردوں۔
۵ جو مجھے محروم رکھے اس کو عطا کروں۔
۶ جومیرے ساتھ قطع رحمی کرے میں اسے صلہ رحمی کروں۔
۷ میری خاموشی غور و فکر ( کے لیے) ہو۔
۸ میری گفتگو ذکر الٰہی (کے لیے ) ہو۔
۹ میری نگاہ عبرت آموز ہو۔
اور جب معاشرے کے باسی ان مذکورہ اخلاقی اوصافِ حمیدہ کو اپنی فطرت کا حصہ بنالیں گے تو ایسا ہی معاشرہ وجود میں آئے گا جو اسلام اور انسانیت کا مطلوب و مقصود معاشرہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں