Mother Teresa 33

Mother Teresa کون تھیں ان کی زندگی پر ایک مختصر تحریر

Mother Teresa

ابتدائی زندگی:
مدرٹریسا کا اصل نام اگنس گونگزے بوجزیہو( Agnes Gonxhe Bojazhiu ) تھا ۔ وہ اگست 1910 کو میکسیکو کے دارالخلافہ سکوپجے (Skopje ) میں پیداہوئیں۔ ان کے والد کا نام نکولا (Nikola ) تھا اوروالدہ کا نام ڈرا نا بوجیکسہیو(Drana Bojaxhiu ) تھا ۔ ان کے والد نکولابیک وقت ادویا ت کے ٹھیکیدار اوردیگر سازو سامان کا کاروبار کرتے تھے۔ مدرٹریسا جب آٹھ سال کی ہوئیں توان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ اس المیے کے بعد ان کی والدہ نے انکی دیکھ بھال ،پرورش اورتربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ ان کی والدہ نے دنیاوی اور عیسائیت کی تعلیم سے انکے دل ودماغ کو روشن کیا۔ مدرٹریسا مذہبی اعتبار سے رومن کیتھولک عیسائی تھیں ۔ وہ پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھیں۔ انہیں پڑھائی کے ساتھ ساتھ گانا گانے کابھی شوق تھا۔ بارہ سال کی عمر سے ان کارجحان مذہب اور انسانیت کی خدمت کی طرف ہو گیا اور اسی لئے جب وہ اٹھارہ سال کی ہوئیں توانہوں نے راہبہ (Nun ) بننے کا فیصلہ کیا۔
تعلیم :

مدرٹریسا نے اپنی ابتدائی تعلیم سکوپجے(میکسیکو) کے ایک پبلک سکول سے حاصل کی ۔ وہ اس دوران پبلک سکول سکوپجے کی مذہبی سوسائٹی کی سرگرم رکن رہیں۔ ۔انہوں نے اپنی مذہبی تعلیم وتربیت آئیر لینڈ کے شہر ڈبلن اورانڈیا کے شہر کلکتہ سے حاصل کی ۔ 18 سال کی عمر میں انہوں نے آئر لینڈکے مشہور مذہبی و تعلیمی ادارے (Blessed Mary Virgin ) میں داخلہ لیا ۔اس ادارے کو (Sisters of Loreto ) بھی کہتے ہیں۔ اس ادارے میں داخل ہونے کے بعدوہ میری ٹریسا کہلانے لگیں۔ اس ادارے میں انہوں نے ایک سال تک انگریزی بولنے کی تربیت حاصل کی ۔1937 میں مذہبی حلف برداری کے بعد انہوں نے لی سہوکاس جو ایک غیر ملکی مذہبی ادارہ تھا، سے رابطہ استوار کرلیا۔ 1987 میں انہوں نے سوشل سائنس میں ڈاکٹرکی اعزازی ڈگری حاصل کی۔
عملی زندگی :
کہتے ہیں کہ دنیا میں بہت سے لوگ صر ف اپنے لئے جیتے ہیں لیکن اس د نیا میں کچھ ایسے عظیم لو گ بھی پیدا ہوتے ہیں جو دوسروں کیلئے جیتے ہیں۔وہ دوسروں کی تکلیف اوردکھ درد کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے محسو س کرتے ہیں اور شاید اسی لئے شاعر نے کہا ہے:
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انساں کو
ورنہ اطاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
ایسے لوگوں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی لو گ انہیں برسوں سے یاد کرتے ہیں۔کچھ ایسے ہی لوگوں میں ایک عظیم ہستی کا نام مدرٹریسا ( Mother Teresa) ہے ۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی انسانیت کی خدمت میں گزاری اور اس دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی وہ اسی طرح زندہ جاوید ہیں جیسے وہ پہلے تھیں ۔
ان کی خدمات:
رومن کیتھولک ہائی سکول کے تحت کام کرتے ہوئے مدرٹریسا کو وہاں رہنے والوں کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ کلکتہ کے غریب عوام کی حالت زار نے مدرٹریسا کے دل پر گہرا اثر مرتب کیا۔ انہوں نے صرف مذہبی خدمت انجام دینے کی بجائے انسانی خدمت کو اپنی زندگی کااولین مقصد بنالیا اور اسی جذبے سے وہ آئرلینڈ سے کلکتہ (انڈیا) منتقل ہوگئیں ۔ 1929 میں وہ کلکتہ آ گئیں اوریہیں مستقل رہائش اختیار کر لی ۔1931 میں انہوں نے سینٹ میری سکول میں پڑھانا شروع کیا ۔انہوں نے 1948 میں کلکتہ میں مفلوک الحال افرادکے درمیان ایک مینسٹری سروس کا آغاز کیا اوراپنی تمام عمر غریبوں کی خدمت کیلئے وقف کردی ۔ چونکہ یہاں ہندوستان اوربنگال کے غریب بچے پڑھتے تھے اس لئے انہیں ہندی اوربنگالی زبانوں پر عبور حاصل ہو گیا ۔ 1944 میں وہ سینٹ میری ہائی سکول کی پرنسپل منتخب ہو گئیں۔وہ اپنے کام میں پورے جوش و جذبے سے مشغول ہو گئیں۔ تاہم انہیں کلکتہ کی غربت ، لاچاری اوربیماریاں اداس رکھتی تھیں ۔ ان کا من غریب عوام کیلئے پریشان رہتا تھا۔ اپنے دل کو اطمینا ن اورسکون پہنچانے کیلئے وہ کلکتہ کے غریب علاقوں میں جایاکرتی تھیں اوروہاں غریب لوگوں سے باتیں کیا کرتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روٹی کی بھوک سے زیادہ پیار کی بھوک ہوتی ہے۔ اس لئے جہاں بھی جائیں پیارپھیلائیں اورجن سے بھی بات کریں ، چہرے پرہنسی لاکر بات کریں۔جب بھی کسی کے پاس سے گزرو تواپنے چہرے پر ہنسی اور مسکراہٹ سجا کر گزرو۔ اس طرح دوسروں کو خوشی و مسرت کا احساس ہوتا ہے اور لوگ اپنا دکھ درد بھول جاتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے غریب عوام کی خدمت کیلئے مشنری آف چیرٹی (Missionary of Charity ) کے نام سے ایک خیراتی ادارے کی بنیا د رکھی تاکہ کلکتہ کے غریب عوام کی باقاعدہ امدادکی جاسکے ۔ وہ ہر اتوار کو غریب علاقوں میں جا کر لوگوں کی مدد کیا کرتی تھیں۔ انہوں نے بھوک سے بلکتے بچوں اور بیماروں کے لئے ایک فلاحی ادارہ بنایا جس کا مقصد بھوک اوربیماری سے مرنے والوں کی مدد کرنا تھی۔اس زمانے میں کوڑ ھ کی بیمار عام تھی اور کوڑ ھ اورجزام جیسی موذی بیماریوں کے ہاتھوں لاتعداد لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے تھے۔
انہوں نے 1950 سے 1960 کے درمیان کوڑ ھ کے مریضوں کیلئے ہسپتال ، کلینک اوریتیم خانے بنائے جہاں وہ خود آکر بیماروں کی خدمت کیاکرتی تھیں۔ مدرٹریساکاکہنا تھا کہ امن کی شروعات صرف ایک مسکراہٹ سے ہوتی ہے ۔ تیرہ لوگوں کے ساتھ انہوں نے اپنے خیراتی و فلاحی کام شروع کیا اورآج ہزاروں لوگ ان کے خیراتی اداروں میں مصروف عمل ہو کر بیماروں اور دکھی افراد کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ مشنری آف چیریٹی میں آج ہزاروں نرسیں اورسینکڑوں ادارے مختلف ملکوں میں غریبوں کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ مدرٹریساکاکہنا تھاکہ آپ سو آدمیوں کو کھانا نہیں کھلاسکتے تو صرف ایک آدمی کو کھلادیں ۔انہوں نے بھارت سے باہر بھی بہت سے ممالک میں خیراتی ادارے کھولے ۔ اس ضمن میں سب سے پہلے انہوں نے وینزویلامیں ایک خیراتی ادارہ قائم کیا ۔ اس کے بعد 1970 کی دہائی میں انہوں نے ایشیا ،افریقہ ،یورپ اورامریکہ میں کئی مقتدر خیراتی ادارے کھولے۔ انہوں نے انڈیامیں بیماری میں مبتلا لوگوں کے علاج معالجے کیلئے یورپ میں لاتعداد ہسپتال بنائے اور انہیں وہاں بھیجا جہاں سے وہ تندرست ہو کر واپس اپنی زندگی میں ہنسی خوشی لوٹ آئے۔ 1982 میں انہوں نے ریڈکراس کے ساتھ مل کر بیروت(لبنان) میں جنگی علاقے کو عبور کر کے 37 بے یارومددگار پھنسے ہوئے بچوں کو وہاں سے نکال کر اپنی سرپرستی میں پروان چڑھایا۔ انہوں نے آرمینیا اورایتھوپیا میں زلزلے سے متاثرہ لاکھوں لوگوں کی مدد کی۔ انہوں نے 1984 میں امریکہ میں سب سے پہلے ایک خیراتی ادارہ قائم کیا اوربہت کم عرصے میں19 دوسرے خیراتی ادارے قائم کر کے یہ ثابت کیا کہ کام پیسے سے نہیں بلکہ جذبے سے ہوا کرتا ہے ۔ انہوں نے چیرٹی برادرز کے نام سے ا لبانیا کے شہر تیرانا میں خیراتی ادارے قائم کئے ۔ محبت ،پیار، رحم دلی اورشفقت کے جذبے سے سرشارہونے کے باعث لوگوں نے انہیں مدرٹریسا کاخطاب دیا اور وہ بعد ازاں وہ اسی نام سے مشہور ہوئیں۔ وہ اساتذہ اورطلبہ میں بہت مقبول تھیں۔ انہوں نے نوجواں لڑکیوں کو پڑھایا اور لکھایا۔ ان کا دل ہمیشہ غریب عوام کے درد سے سرشار اور بھرا رہتا تھا۔ غریبوں کی خدمت کرکے انہیں خوشی حاصل ہوتی تھی۔ وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دلی خواہش غریبوں کی مدد کرنے سے پوری کردی۔
انہوں نے اپنی نے عملی زندگی کا آغاز 1948 میں اس وقت شروع کیا جب انہوں نے عیسائی کلیسا کو خداحافظ کہہ کر سفید ساڑی پہنے ہوئے کلکتہ کی غریب دنیا میں ہمیشہ کے لئے بسیرا کرنا شروع کیا۔ انہوں نے غریب لوگوں کی خدمت کرنا اورغریبوں میں رہنا اپنی زندگی کا اہم مقصد بنا لیا۔ انہوں نے یہ عقیدہ اپنایا کہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غریب لوگوں کی خدمت کیلئے اس دنیا میں بھیجا ہے ۔ ان میں فیاضی سخاوت اورانسان دوستی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہو اتھا ۔ وہ اپنے کام میں اس قدر مگن رہتی تھیں کہ جب 1965 میں پوپ جان پال ششم ان سے ملنے انڈیا آئے تو مدرٹریسا نے انہیں اطلاع دی کہ وہ غریب عوام کی خدمت میں اتنی صرف ہیں کہ ان کے پاس پوپ سے ملنے کیلئے وقت نہیں۔پوپ ان کی انسان دوستی کے جذبے سے بہت متاثر ہوئے۔ وہ غریب لوگوں سے اسقدر محبت کرتی تھیں کہ جب ان کو نوبیل انعام سے نوازا گیا تو انہوں نے نوبیل انعام قبول کرنے سے انکار کردیا اور اسے دنیاوی عزاز قرار دیکر مسترد کردیا۔ انہوں نے ایک تحقیق کی جس کے نتیجے میں یہ مطالبہ کیا کہ 92000 ڈاکٹر کا بجٹ غریبوں کی مدد کیلئے الاٹ کیا جائے۔ ان کا ادارہ شفاف دل بہت اہمیت کا حامل تھا جس کا بنیادی مقصد غریب اور نادار مریضوں کا علاج کرنا تھا ۔وہ اس ادارے میں ان مریضوں کو لاتی تھیں جن کو ڈاکٹر وں نے لا علاج قرار دیاہوتاتھا۔
مدرٹریسا کا کام صرف بھارت یا کلکتہ تک ہی محدود نہ تھا بلکہ دنیا کے کئی حصوں تک پھیلا ہوا تھا لیکن 1990 میں ان کی گرتی ہوئی صحت نے ان کی کارکردگی کو متاثر کرنا شروع کردیا ، اس کے باوجود وہ اپنی خدمات سرانجام دیتی رہیں۔ جب ایک رپورٹر نے مدرٹریسا کو غریبوں کی مدد کرنے کیلئے اس کی زندگی کے مقصد کو خراج تحسین پیش کرنے کی کوشش کی تو اس نے جواب دیا ” یہ خدا کا کام ہے” اس میں خراج تحسین پیش کرنے کی ضرورت نہیں ۔ سب لوگ ان کی خوبیوں کو سچے اورمقدس خوبیاں خیال کیا کرتے تھے۔ اورلوگوں سے بے پناہ محبت اوررحم دلی کی وجہ سے لوگ انہیں “Mother” ” کہنے لگے ۔ ایک فرانسیسی سینٹ Therese سے آپ بہت متاثر ہوئیں اورخود کو (Teresa ) ٹریسا کہلاوانے لگیں ۔ انہوں نے1985 میں اقوام متحد ہ کی جنرل اسمبلی کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایڈز کے مریضوں کیلئے ہسپتال کھولنے کا اعلان کردیا جس کی دنیا کے بے شمار ممالک نے تائید و مدد کی۔
ان کا مقام :
مدر ٹریسا نے جب آنکھ کھولی تو انسانیت کو بھوک ، افلاس اور بیماری کے علاوہ لامتناہی جنگوں کی بھٹی میں جلتا ہوا پایا ۔ چونکہ وہ بچپن میں خود بھوک، افلاس اور پیار کی کمی کا شکار ہوئیں تھیں ( والد بچپن میں مر گئے تھے)پس انہوں نے اپنے آپ کو مذہب کے خول سے باہر نکالا اور انسانیت کی فلاح و بہود کے لئے وقف کر دیا۔ اور اسی وجہ سے وہ قابل عزت اور انسانیت کی نجات دہندہ تصور کی جاتی ہیں۔ ان کی ہمت ، بہادری اور نیکی کے کام اور ناداروں سے قلبی محبت کرنے کی وجہ سے لوگ جوق در جوق ان کے جھنڈے تلے آکر جمع ہونے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے گروہ میں لاکھوں کام کرنے والے لوگوں کا اضافہ ہونے لگا۔یہی وجہ ہے کہ ان کے بنائے ہوئے فلاحی اداروں اور سکولوں سے لاکھوں بچے اور نادار لوگ مستفید ہوئے اور آگے چل کروہ ایک کامیاب فلاحی نظام دینے میں کامیاب ہوگئیں۔اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ مدر ٹریسا ان چند انسانیت کے تیمادار وں میں شامل ہیں جنہوں نے اندھیرے میں محبت کے دیپ جلائے تو بے جا نہ ہوگا۔
اعزازت :
1 ۔ حکومت ہند نے انہیں (Padma Shari ) پاؤ ماشاری جواہر لال نہروایوارڈ اوربھارت رتنا Bharat Ratna (جو کہ ہندوستان کا سب سے اعلیٰ ترین سیول ایوارڈ ہے) سے نوازا گیا۔
2 ۔ 1962انہیں Roman Magsaysay Award سے اس لئے نوازا گیا کہ پوری دنیا کی اس وقت ایک مصروف شخصیت بن گئی تھیں۔
3 ۔ 1971 میں غریبوں کی مدد کی وجہ سے انہیں The First Pope John xxiii Peace Prize سے نوازا گیا۔
4 ۔ 1979 میں غریب اورمظلوم عوام کی خدمت کے صلے میں انہیں نوبل کے امن انعام (Nobal peace prize ) سے نوازا گیا۔
وفات:
انہوں نے خرابی صحت کیوجہ سے 1997 میں مشینری آف چیریٹی کی سربراہی چھوڑ دی۔ چند دن بیمار رہنے کے بعد 5 ستمبر 1997 کو 87 سال کی عمر میں وفات پائی ۔ وہ انڈیا کے شہر کلکتہ میں مدفون ہوئیں۔ انہوں نے 13 آدمیوں کے ساتھ چیریٹی مشن کے سفر کا جو آغاز کیا تھاآج 5 ہزار سے زیادہ سسٹر ز اس میں کام کر رہی ہیں۔ ان کی 610 فاؤنڈیشنیں دنیا کے 123 ممالک میں غریب و نادار افراد کی مدد میں مصروف عمل ہیں۔ مدرٹریسا کے پاس پیسہ نہیں تھا مگر ان کے پاس غریب لوگوں کی مدد کا جذبہ موجودتھا جس کی وجہ سے وہ دنیا کی عظیم ہستی بن گئیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں