96

عید الا ضحی کا پیغام…امت مسلمہ کے نام . ابو البشر قاسمی

9 / 100

عید الا ضحی کا پیغام…امت مسلمہ کے نام

ابو البشر قاسمی

عیدالاضحی انسانی تاریخ کی اس عظیم شخصیت حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یاد گار ہے جنہیں اعلاء کلمۃاللہ اور دعوتِ تو حید کے ’’ جرم‘‘ میں دہکتے ہو ئے شعلوں میں ڈالا گیا لیکن خلیل اللہ ں کے عشق الٰہی کا نتیجہ تھا کہ آگ گل گلزار بن گئی ؎
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق عقل ہے محوِتماشائے لبِ بام ابھی
حتیٰ کہ حضرت ابراہیمں کی پوری زندگی ابتلاء وآزمائش اور قربا نیوں کی سو غات سے معمور تھی ۔ نارِ نمرود کے بھڑ کتے ہوئے شعلے… ہجرت… اولاد سے محرومی… اور حکم الٰہی کی تعمیل میںعزیزبیٹے کی قربانی وغیرہ وہ عظیم اسوہ ہائے براہیمی ہیںجو ہر سال عیدالاضحی کے مقدس تہوار کے موقع پر مدعیان توحید کو آئینہ دکھا تے ہیں ۔حضرت ابراہیمں نے عشق الٰہی اور ایثار و قربانی کے انھیں حیرت انگیز جذ بات اورصفات کی بناء پر کفرو شرک اور تمام باطل یلغاروں کا مردانہ وار مقا بلہ کیا ،حتیٰ کہ تمام نمرودی قوتوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔ حق و صداقت اور تو حید کی صدا اس ہمت وجرأت کے ساتھ بلند کی کہ با طل کے پر خچے اڑ گئے اور تمام نمرودی تدا بیر بھسم ہو کر رہ گئیں۔
عیدالاضحی دراصل ہر سال اس عظیم شخصیت کی عظیم الشان یاد کو تازہ کر نے کے لئے آتی ہے جو ایثار و قربانی کا لا فانی شا ہکار اور قر بانی کی عظیم ترین یاد گار ہے۔ ایک مقدس شخصیت ، ایک معصوم ذات ، عشق الٰہی میں سر شاررہنے والا بندہ خدا خلیل اللہ ابراہیمں جس نے اولاد کیلئے دعا ئیں ما نگی تھیں ،سجدوں کی نذر پیش کی تھی اور بھیگی ہو ئی پلکوں کے سائے میں خالق مطلق سے در خواست کی تھی کہ پر ور دگار مجھے صا لح اولاد عطا فرما ۔ اور جب ۹۰ سال کی عمر میں چمن زارِ تمنا میں بہار یں مسکرائیں ، ولد حلیم کی دولت ملی تو خالق کا ئنا ت کی جا نب سے بذریعہ وحی (خواب) اکلوتے عزیز بیٹے کی قر بانی کا منشا ظا ہر ہوا ۔ باپ اپنی آر زوئوںکے مر کز ، امیدوں کے حا صل اور تمنائوں کے پیکر بیٹے سے بے آب و گیاہ سر زمین پر مشورہ طلب کر رہا ہے کہ جان ِ پدر ! ہم رضائے الٰہی کی خاطر تمہیں راہ خدا میں قر بان کر نا چا ہتے ہیں، تمہاری کیا رائے ہے؟ گو یا باپ کو معلوم ہو ا تھا کہ فرزند عزیز کا عہد طفو لیت ایثار پسند تھا کہ بڑے بڑوں کی ہمت اس کا پا سنگ نہ تھی ۔ چنا نچہ فر ما نبر دار بیٹے نے باپ کے اس علم کو عملی جا مہ پہنا تے ہو ئے کہا کہ’’ ابا جان اگر آپ کے رب، میرے رب اور سب کے رب کی یہی مر ضی ہے تو بسم اللہ کیجئے، اسما عیل کی زندگی اس کی رضا پر قر بان ہے ۔‘‘ مورخ کا ہاتھ کپکپارہا تھا کہ اسی وقت ندا آئی ’’اے ابراہیم ! ہم نے تیری قربانی قبول کرلی اور اس بچہ (اسماعیل )کے بدلے اس مینڈھے کو قر بان کر دو۔ ہمیں اسما عیل کی قر بانی مطلوب نہ تھی بلکہ یہ دیکھنا مطلوب تھا کہ بیٹے کی محبت خدا کی محبت پر غا لب تو نہیں آگئی ۔‘‘ بقول علامہ اقبال ؒ ؎
یہ فیضان نظر تھایا کہ مکتب کی کرامت تھی سکھا ئی کس نے اسما عیل کو آداب فر زندی
آفریں، صد آفریں …قربان جا ئیے اس انداز ِو فاپر ۔یہ ایثار وقربانی کی کتنی بڑی مثال تھی ، فدائیت واطا عت کا کیسا عظیم نمونہ تھا، طلب ِ رضا ئے الٰہی کا کیسا بے پا یاں جذبہ تھا۔ خبیر و علیم ذات دیکھ رہی تھی کہ اس کے ایک بندے نے ایک اشارے پر اپنی آر زئوں، اپنی تمنا ئوں اور اپنے مستقبل پر کس طرح چھری پھیر دی یعنی بیٹے کی حلق پر چھری پھیرنے کیلئے تیار ہو گیا تھا اور بیٹے نے بھی اطا عت ِ خدا وندی کے سا منے سر خم کر دیا۔ کیسی تھی یہ قر بانی ! کیسا تھا یہ ایثار! اور کیسا تھا یہ فدائیت واستقامت کا لا فانی شا ہکار! کہ صدیاں بیت گئیں، اِس دوران نہ جا نے کتنے ہی انقلابات آئے ،نہ جانے کتنی تاریخیں بنیں اور مٹ گئیں ، کتنی یادگار یں بنیں اور فنا ہو گئیں، کتنے واقعات ابھرے اور ڈوب گئے لیکن زمانے کا کوئی انقلاب اور تا ریخ کی کوئی تبدیلی ایثار و قر بانی کی اُس عظیم اسلامی تا ریخ کو فراموش کر نے کی جرأت نہ کر سکی۔
اسوہ ٔبرا ہیمی نے ثا بت کر دکھا یا کہ خدا کی محبت اس لا ئق ہے کہ اس کیلئے اپنے مستقبل ، اپنی تمنّائوں اور ہر قیمتی شے کو قر بان کر دیا جائے ۔ اللہ کے احکامات اس بات کے مستحق ہیں کہ اس کی تعمیل میں اپنی عزیز ترین شے بھی قر بان کر دی جائے۔ رضائے الٰہی کا حصول اور حکم خدا کی تعمیل کا یہی وہ جذبہ تھا جس نے حضرت ابراہیمں کے اس عمل کو ایسا مقدس بنا دیا کہ وہ دو سروں کیلئے بھی اسوۂ حسنہ قرار دیا گیا اور ہر صاحب نصاب کو اللہ نے پا بند کر دیا کہ وہ اس روز جا نور کا خون بہا کر(قربانی کرکے) اس واقعہ کو یاد کرے اور راہ خدا میں ایثار وقر بانی کے جذبہ سے سر شار ہو جا ئے ۔
حضرت ابراہیم خلیل اللہں کی اس بے مثال یا دگار کا دوام وثبات اس لیے بھی ہے کہ ان کے جذبات کی سچا ئی ،قلب کاخلوص اور دل کی صداقت اس قر بانی میں شا مل تھی۔ حتیٰ کہ قر بانی دینے والا جہانِ وفامیں خون سے نقش ونگار بنا رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ بار گاہ ایزدی میں دست بد عابھی تھا’’ اے اللہ! ہماری نسل میں سے ایسی امت پیدا کر جو ہماری طرح مو من ومسلم ہو۔‘‘ ایک طرف دعائیں تھیں جو پر خلوص سینوں سے کلمات بن کر نکل رہی تھیں ،دوسری طرف قوموں اور ملکوں کا فیصلہ ہو رہا تھا۔ بطور ِانعام امت مسلمہ نسل ابراہیم ؑکو عطا کی جارہی تھی ۔ قدرت کا انعام اسی لیے تھا تا کہ ایثار وقر بانی کی یہ داستان رہتی دنیا تک زندہ وتابندہ رہے۔
لہٰذا ہم مسلمانوں کے پیش نظر یہ بات رہنی چا ہیئے کہ عید الاضحی کے مو قع پر قر بانی کا عظیم مقصد محض جا نور وں کی قر بانی یا ان کا خون بہانا نہیں ہے بلکہ یہ قر بانی حق کی راہ میں اپنی خوا ہشات و جذبات، اپنی متاع عزیز حتیٰ کہ اپنی زندگی تک قر بان کر دینے کی حسین تمہید اور آغاز باب ہے ۔ضروری ہے کہ ہم قر بانی کے وقت بطور خاص قر بانی کے مفہوم کو مدّ نظر رکھیں۔
آج باطل کے پر ستار دین ِ حق کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے پر تلے ہو ئے ہیں ۔اللہ کے نور کو پھو نکوں سے بجھانے کی سعی مسلسل ہے ۔ اسلام اور اہل اسلام پر چہار جانب سے دشمنا نِ اسلام کی یلغار ہے ۔اس نا زک صور تحال میں یہ قر بانی دراصل ملت براہیمی سے مطا لبہ کر رہی ہے کہ ہمیں سید نا ابرا ہیمں کی طرح حق کی راہ میں اپنی خوا ہشات ، اپنا وطن، اپنی متاع عزیز حتیٰ کہ جان کی بھی قر بانی دینے کیلئے تیار رہنا چاہئے ۔ چنانچہ عید قر باں کے موقع پر ہم سب مسلمان عہد کریں کہ راہ خدا میں کسی بھی قر بانی سے دریغ نہیں کر یں گے ،خدا کے دین پر کسی بھی صورت میں آنچ نہیں آنے دیں گے اور اعلا ء کلمۃاللہ اوردین کی حفا ظت کیلئے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔( انشاء اللہ )
آج عالم اسلام میں جذبۂ ایثار وقر بانی کا احیاء وقت کی سب سے بڑی پکار ہے ۔ اے کاش کہ ہم راہ حق میں آرہی آزما ئشوں کا مردانہ وار مقا بلہ کرتے ہوئے ہر محاذ پر دشمنوں سے ٹکر لیںاور اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کو غا لب کر نے کیلئے اٹھ کھڑے ہوں ۔
عید الاضحی کی صورت میں ہمیں ہر سال یہی سبق یاد دلا یا جا تا ہے۔ قربانی کی ادا ئیگی ہر سال ہمیں یہی پیغام دیتی ہے۔ کیا ہم اس حیات بخش پیغام پر کان دھر نے کیلئے تیار ہیں…؟؟
شرک کے اڈے آج بھی ملت ابراہیمی کو بت شکنی کیلئے چیلنج دے رہے ہیں ۔مدعیان تو حید کو سید نا ابرا ہیمں کا اسوہ یاد دلا رہے ہیں ۔دور ِ حاضر کا مشرک اقتدار نمرودی عزائم اورفرعونی قو توں سے لیس ہو کر تو حید کے خلاف شرک کی ہوا ئیں چلا رہا ہے اور ان ہوائوں سے آج بھی نار نمرود بھڑ کا ئی جا رہی ہے۔ یہ دراصل ہمارے عشق کا امتحان اورہمارے ایمان کی آزما ئش ہے۔
اسلام آج بھی اللہ کی محبت کا دم بھر نے والے اورذکر وعبادت میں مشغول رہنے والے بزر گوں سے ان کے بیٹوں کی قر بانی مانگ رہا ہے کہ وہ حضرت ابراہیمں جیسا باپ بنیں جو اللہ کی راہ میں اپنے بیٹے کو قر بان کر دینے کاجذبہ رکھتا تھااور نو جوانان ِاسلام سے مطا لبہ ہے کہ وہ اللہ کیلئے اسما عیل ں جیسا بیٹا بنیں جو اطا عت خدا وندی کی راہ میں اپنی جان عزیز بھی پیش کر دیتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں