mazhar-barlas articles 73

سندس کے نام. مظہر برلاس

انسان چلے جاتے ہیں، یادیں رہ جاتی ہیں، بائیس برس پہلے اسلم کھوکھر نے مری میں شاندار مشاعرے کا اہتمام کیا تھا، دیگر شہروں سے آنے والے اور ہم قافلے کی صورت مری کو روانہ ہوئے۔ ہماری ویگن میں کافی نابغۂ روزگار شخصیات تھیں مگر منو بھائی کی گفتگو سے سب محظوظ ہوئے۔ قدرت نے منو بھائی کو کمال حسِ مزاح سے نوازا تھا مگر اُن کا دل دکھوں کی بستی تھا۔ اس دل میں دکھوں سے زیادہ احساس کا ڈیرہ تھا۔ ’’سندس‘‘ اسی احساس کی علامت ہے۔ ’’سندس‘‘ تھیلیسیمیا میں مبتلا ایک بچی کا نام تھا۔ اس نام کو منو بھائی کا احساس مل گیا۔ اس احساس میں اور لوگ بھی شامل ہو گئے تو سندس فائونڈیشن بن گئی۔ منو بھائی اپنی زندگی کے آخری سانس تک سندس فائونڈیشن کے احساس میں مبتلا رہے۔ منو بھائی کی پنجابی شاعری بھی معاشرے سے احساس کو مرنے نہیں دیتی۔ منو بھائی کے بتانے کے برسوں بعد مجھے ایک دن بیت المال کے سابق ایم ڈی عابد وحید شیخ کہنے لگے ’’آئیں ہمارے ساتھ چلیں، ہم نے ایف نائن پارک میں تھیلیسیمیا والے بچوں کے لئے ایک مرکز بنایا ہے، بیگم کلثوم نواز اس کا افتتاح کریں گی‘‘۔ مجھے یاد ہے کہ ہم وہاں خوشگوار موسم میں گئے، ابھی بارش ہو کے تھمی تھی شاید۔ یہاں پھر سے سندس فائونڈیشن کی یاد آئی، یادوں نے منو بھائی کی تصویر بنا ڈالی۔ ایک دن سوچا کہ لاہور جائوں اور احساس سے بھرپور سندس فائونڈیشن کے مرکزی سنٹر کو دیکھوں، اُن عظیم لوگوں کو دیکھوں جنہوں نے موت کی بانہوں میں رہنے والوں کو سنبھال رکھا ہے، اس کشتی میں بیٹھے بچوں کو دیکھوں جو موت کے بھنور میں زندگی کی رونقوں کا نظارا کرتے ہیں۔ شادمان لاہور میں سندس فائونڈیشن کے صدر محمد یٰسین خان سے ملاقات ہوئی، ایسے میٹھے انسان بہت کم جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ملک میں چھ سنٹرز چلا رہے ہیں، ان چھ سنٹروں میں چھ ہزار سے زائد تھیلیسیمیا کے مریض ہیں۔

خواتین و حضرات! معاشرے میں بہت سے لوگوں کو تھیلیسیمیا کے مرض کے بارے میں زیادہ پتا نہیں۔ ایک روز ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر نجم شاہین کھوسہ بتانے لگیں ’’یہ وہ بیماری ہے جس میں روزانہ ہم ننھے فرشتوں کو زندگی کی بازی ہارتے دیکھتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان بچوں کی مائوں کو تڑپتا ہوا، سسکتا ہوا دیکھتے ہیں۔ تھیلیسیمیا ایک ایسی بیماری ہے جو موروثی ہے اور یہ جینیاتی خرابی کے باعث والدین سے اولاد میں منتقل ہوتی ہے جس میں خون کے سرخ خلیے ناکارہ بن جاتے یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ خون کی شدید کمی ہو جاتی ہے، اس مرض میں مبتلا بچوں کی رنگت زرد ہو جاتی ہے، انہیں سانس کی تکلیف ہوتی ہے اور یہی موت کی طرف سفر ہوتا ہے۔ ان بچوں کی خصوصی نگہداشت کرنا پڑتی ہے، اس کے لئے خون چاہئے، تھیلیسیمیا اور اسی طرح کی موروثی بیماریوں سے بچنے کے لئے خاندان کے اندر شادیوں سے گریز کرنا چاہئے، اگر خاندان میں شادی ضروری ہو تو پھر لڑکے اور لڑکی کا ٹیسٹ کروانا چاہئے، مثبت ہونے کی صورت میں شادی نہیں کرنی چاہئے۔ تھیلیسیمیا کی تین قسمیں ہیں مائنر، انٹر میڈیا اور میجر۔ جس کو مائنر ہوتا ہے، وہ تو زندگی گزار لیتا ہے مگر مرض اگلی نسل میں منتقل کر دیتا ہے اور اگلی نسل میجر تھیلیسیمیا کا شکار ہو جاتی ہے۔ تھیلیسیمیا انٹرمیڈیا میں خون کی کمی رہتی ہے جسے دوائیوں سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ تھیلیسیمیا میجر میں بچوں کی زندگی کا دیا روشن رکھنے کے لئے بار بار خون لگایا جاتا ہے، ان بچوں کو خون کی ضرورت ہر ہفتے یا دوسرے ہفتے پڑتی ہے۔ پاکستان میں ہر سال پانچ ہزار مریض اوسطاً سامنے آتے ہیں اور آبادی کا سات سے آٹھ فیصد حصہ اس کا شکار ہوتا ہے، جو ادارے اس سلسلے میں کام کر رہے ہیں، انہیں صرف خون کی نہیں، دوائیوں اور دوسرے لوازمات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کی طرف سے دی گئی رقم انسان بچانے کے کام آتی ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ’’جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے گویا پوری انسانیت کی جان بچائی‘‘۔

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ ماہر ڈاکٹر کے ساتھ ساتھ شاعرہ بھی ہیں۔ پھر سے سندس فائونڈیشن کی بات کرتے ہیں جہاں یٰسین خان کی سربراہی میں چھ مختلف شہروں میں تھیلیسیمیا میں مبتلا بچے زندگی کی بہاروں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان بچوں کی موت وقت سے پہلے ہو جاتی ہے مگر خون اور نگہداشت سے زندگی کے برسوں کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ دکھ کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ان بچوں کی زیادہ سے زیادہ عمریں پچیس تیس برس ہو سکتی ہیں، نگہداشت نہ کی جائے تو یہ لمحوں میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، موت ہر دم ان کے استقبال کے لئے کھڑی ہوتی ہے۔

سندس فائونڈیشن ایک تحریک کا نام ہے۔ گزشتہ برسوں میں لاکھوں مریضوں کی نگہداشت کرنے والی سندس فائونڈیشن موروثی بیماریوں کے حوالے سے آگاہی مہم بھی چلاتی ہے۔ رمضان کے بعد یہ فائونڈیشن ’’سندس‘‘ کے نام سے اسپتال شروع کر رہی ہے، آپ کے صدقات، خیرات، زکوٰۃ اور خدا ترسی کیلئے دیے گئے روپے پیسے آپ کی زندگی کی اگلی منازل کو آسان بنا دیں گے۔ آیئے سندس فائونڈیشن کے ساتھ۔ ابھی یٰسین خان کو فون کیجئے، انسانوں کی زندگی بچائیے۔ زندگی بچانے کے لئے اس نمبر 0333-4211261پر بات کیجئے۔ کہیں مجھے محسنؔ نقوی کی زبان میں یہ نہ کہنا پڑ جائے کہ

اداسیوں کا یہ موسم بدل بھی سکتا تھا

وہ چاہتا تو میرے ساتھ چل بھی سکتا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں