113

مایوسی، خوف و غم کیسا!آؤ قرآن کی طرف.تحریر فاروق طاہر

10 / 100

مایوسی، خوف و غم کیسا!آؤ قرآن کی طرف
فاروق طاہر
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا نائب،اپنا خلیفہ بنا یا۔خلافت زماں کی اہم ذمہ داریاں تفویض کرنے سے پہلے اس نے انسان کو علم و عرفان کی دولت سے سرفراز کیا تاکہ وہ کائنات اور اپنی تخلیق کی وجہ سے بہتر طریقے سے واقف ہوجائے۔انسان کو اپنے فرض منصبی سے عہدہ برا ہونے اور اپنی پیدائش اور اس وسیع کائنات کی تخلیق کے خدائی منشاءو مقصد سے آگہی کے لئے علم بے حد ضروری ہے۔اس کی پیدائش و تخلیق کائنات کے رازِسربستہ کو معلوم کئے بغیر نہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے شناسا ہوگا اور نہ ہی مطلوبہ انداز میں اپنے فرائض انجام دے سکے گا۔
ذمہ داریوں سے آگہی اور خدائی منشاءکے مطابق اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے انسان کے پاس قرآن کی شکل میں ایک عظیم ابدی روشن ہدایت موجود ہے۔قرآن کریم قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے ہدایت کا منبع و مرکز اور فوز وفلاح کا اصل سرچشمہ ہے۔یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں انسانی معاشرے کے تمام فطری تقاضے جو اسے اجتماعی یا پھر بغیر کسی علاقائی و جغرافیائی اختلاف کے انفرادی طورپر بھی لاحق ہوسکتے ہیں یا آنے والے کسی بھی دور میں پیش آسکتے ہیں کی تکمیل کےتمام سامان موجود ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول قرآن کا واقعہ تاریخِ انسانیت کا سب سے عظیم و مہتم بالشان واقعہ ہے۔ قرآن کا نزول انسانی تاریخ میں جہاں ایک نئے دور کے آغاز کا نقیب ہے وہیں انسان کی علمی و تہذیبی عروج اور ارتقاءکے باب میں ایک اہم موڑبھی ہے۔ انسان ،دنیا فطرت اور کائنات کے جن حقائق و معارف سے آشنا نہ تھا اسے قرآن نے اس سے آشنا کیا۔ اس نے انسانی عقل کے بند دروازوں کو واکیا، خفتہ صلاحیتوں کو بیدار کیاجس کے بل پر انسان مظاہر کائنات کی غلامی سے نکل کر اس کی تسخیر ،اور زندگی و مابعد زندگی کے اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لئے اپنی صلاحیتوں کے استعمال کی جانب متوجہ ہوا۔
یہ قرآن کا عظیم فیض بلکہ معجزہ ہی ہے کہ جس نے صحرا نشینوں کو تہذیب و تمدن کا پیشوا اور نقیب بناکر دنیا کی امامت و سیادت پر فائز کردیا اور صدیوں تک دنیا کی سرداری انھیں کے ہاتھوں میں رہی۔وہ اپنی سرداری سے اس وقت معزول ہوگئے جب انھوں نے خدائی احکامات اور تمسک بالقرآن کے حقیقی تقاضوں کو پورا کرنا چھوڑدیا۔آغاز ِرسالت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے اعدائے اسلام جس چیز سے خوف زدہ رہے ہیں وہ دراصل یہ قرآن مجید ہی ہے۔انھوں نے اسے ہر طرح سے ہدف(Target) بنانے کی کوشش کی جس میں نصوص میں اشتباہ پیدا کرنے سے لے کر اس کی اعلیٰ تعلیمات و ہدایات کی اشاعت اور وسعت پذیری پر قدغن لگانا بھی شامل ہے۔
آج بھی باطل اپنی ماضی کی تمام تر ناکامیوں اور شرمندگی کے باوجود اب بھی اپنی حرکتوں سے تھکا نہیں اورنہ باز آیا ہے وہ گھات میں ہے اور چاہتا ہے کہ کوئی ایک لمحہ بھی ایسا ضائع نہ ہونے دے جس سے وہ اس کتاب حق سے امت کو شک و شبہہ میں گرفتار کرتے ہوئے کوئی زد اور ضرب پہنچاسکے ۔باطل طاقتیں اظہار ہمدردی کا ڈھونگ رچاتے ہوئے وہیں اس بات کی غمازی بھی کرتے ہیں کہ امت بحیثیت مجموعی قرآن کے تعلق سے عظیم کوتاہی و بے پروائی کاشکار ہے۔ درحقیقت آج ہم قوت و عزت کے اصل سرچشمے پر نگاہ مرکوز کرنے کے بجائے دیگرثانوی اعمال کی بھول بھلیوں میں کھوئے ہوئے ہیںاور اسے ہی اپنا اصل کام اور مقصد حیات تصور کئے ہوئے ہیں۔
اپنی پسپائی کے بیرونی اسباب و علل پر غور کرنے سے زیادہ آج ہمیں اپنے ذاتی احتساب کی ضرورت ہے۔ اللہ کے وعدے نہ کبھی بدلے ہیں اور نہ اس کی سنت کبھی بدلے گی ۔اس کے بتائے راستے سے روگردانی کی سزا ہر ایک کو ملتی ہے اورآج ہمیں بھی مل رہی ہے۔ملک کے ناگفتہ پرآشوب حالات چیخ چیخ کر ہم سے کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنی اصل سے کٹ چکے ہیں۔وہ راستہ جو ہمارے اسلاف کا راستہ تھا ہماری نظروں سے گم ہوچکا ہے یا مادی وسائل کے گردو غبار نے اسے ہماری نظروں سے اوجھل کردیا ہے۔ ہاں وہی راستہ جو قرآن کا سیدھا راستہ ہے۔ یہ وقت رجوع الی القرآن کا ہے اور رجوع الی القرآن کی کی عظیم تحریک کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کا ہے۔
رجوع الی القرآن کے سلسلے میں مرکزی اہمیت قرآن کریم کے فہم و تدبرکو حاصل ہے کہ لوگ قرآن میں غوروفکر کیوں نہیں کرتے ©”افلایتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا“ (بھلا یہ لوگ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے یا (ان کے)دلوں پر قفل لگ رہے ہیں ۔سورہ محمد24)قرآن کے نزول کا اساسی مقصد بھی یہی ہے جیسا کہ ارشاد ہے” ہم نے یہ بابرکت کتاب اس لئے نازل کی ہے کہ لوگ اس کی آیات میں غورو فکر و تدبر کریں اور عقل والے سمجھیں اور سبق حاصل کریں“۔ (سورہ ص 29)حضرت عبداللہ اپن مسعور ؓ فرماتے ہیں کہ اگر علم چاہتے ہو تو قرآن کے معنی میں غور کرو کہ اس میں اولین و آخرین کا علم ہے ۔قرآن کی صفات ،ذکر ،ہدیٰ ،شفا،موعظتہ،ذکریٰ، رحمتہ بیان ،بلاغ وغیرہ براہ راست اسے سمجھ کر پڑھنے کے عمل سے وابستہ ہیں۔
قرآن کریم ایک زندہ جاوید کتاب اور ایک بولتا مرقع ہے۔ اس کے آئینے میں ہر فرد اور ہر قوم اپنا مقام و انجام دیکھ سکتی ہے۔ قرآن انسانی اخلاق و صفات کو بیان کرتا ہے اور اس میں انسانیت کے اعلیٰ اور ادنیٰ ہر طرح کے نمونوں کی تصویریں موجود ہیں۔کہیں کسی مطلق العنان فرماں رواکے نام سے مثلاً فرعون،کہیں کسی سرکش وزیر کے نام سے جسیے ہامان،کہیں کسی متکبر اور بخیل سرمایہ دار کے نام سے مثلاً قارون کہیں کسی ظالم و جابر قوم کے نام سے جیسے عاد کہیں مشہور و ماہر صنعت قوم کے نام سے مثلاً ثمود،یہ تمام لازوال انسانی نمونے ہیں جو کسی زمان و مکان کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں اور یہ تمام نمونے انسانی فطرت کے مختلف کمزور پہلوؤں اور گوشوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
آج بھی دنیامیں مذکورہ انسانی نمونے اپنی فانی طاقت کے نشے میں بدمست کسی نہ کسی شکل میں کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔قرآن کریم نے ان افراد اور جماعتوں کے انجام پر روشنی ڈال کر آئندہ کے لئے اپنے مخاطبین کو متنبہ کردیا ہے ۔”جو لوگ گزرچکے ہیں ان میں بھی خدا کا یہی دستور رہا ہے اور خدا کا حکم مقرر ہوچکا ہے۔“(الاحزاب 38)۔امام طبریؒ فرماتے ہیں””مجھے اس قار ی قرآن پرحیرت ہوتی ہے کہ کیسے وہ قرآن کریم کی تلاوت سے لطف اندوزہوتاہے جب کہ وہ اسکے معانی ومطالب سے واقف نہیں۔”رجوع الی القراان سے ہمیں اپنے تمام مسائل کے حل مل جائیں گے۔مسلمانوں کو ملکِ عزیز اور تمام عالم میں اپنی بے بضاعتی و بے مائیگی کو وقار و عظمت رجوع الی القرآن اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر عمل پیرائی ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔
شداد،نمرود،فرعون،ہامان،قارون جیسے متکبر وظالموں کا قلع قمع بھی قرآن کی تعلیمات پر عمل آوری ہی سے ممکن ہے۔دنیا کو امن و آشتی کا گہوار ہ بھی قرآن اور نبی کی سیر ت پاک ہی بناسکتی ہے۔قرآن کریم اور سیرت رسول میں زندگی کے ہر مسئلے کا حل موجود ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ہم اس کی جانب رجوع کریں۔قرآن کریم کے مطالعے اور اس میں فکرو تدبر سے ہمیں یقین ہوجائے گا کہ یہ ایک مکمل دستور حیات ہے۔اس میں جہاں کارجہاں بانی کا تذکرہ موجود ہے ، وہیں صلہ رحمی، حسن سلوک کا ذکر بھی ہے،تعلیم وتربیت ،درس وتدریس کے اصول بیان کیئے گئے ہیں،مظلوم کے ساتھ ہمددردی اور ظالم کے پنجے توڑنے کے احکامات بھی ہم کو قرآن کریم میں ملتے ہیں،نیکی کو عام کرنے بدی پر وار کرنے کا پیغام ہے الغرض زندگی کے تمام شعبوں میں عدل و توازن اور انصاف کے قیام و برقراری کی تعلیمات و اصول موجو د ہیں۔
قرآن کریم کے مطالعے اور اس میں تدبر سے ہمیں یقین ہوجائے گا کہ یہ ایک مکمل نظام زندگی اور دستور حیات ہے۔اس کتاب مقد س کی آیات کی تلاوت سے زندگی مابعد زندگی کے اسرار و رموز عیاں ہوجاتے ہیں ۔یہ ماضی ،حال اور مستقبل کو واضح طور پر پیش کرنے والی ایک کھلی کتا ب ہے۔ اس قرآن مقدس میں آیاتِ وعدہ ایک ہزار،آیات وعید ایک ہزار،آیات امر ایک ہزار،آیاتِ نہی ایک ہزار،آیاتِ تحریم 250،آیاتِ تحلیل 250،آیاتِ تسبیح ایک ہزار،آیاتِ مثال ایک ہزار ،آیات قصص ایک ہزار،آیات متفرقہ 66 موجود ہیں۔(قرآن ایک نظر میں از محمد میاں صدیقی) ۔ان آیات سے زندگی کے تما م شعبوں کااجمال و تفصیل سے احاطہ ہوجاتا ہے اور یہ انسانوں کی ہردم رہبری و رہنمائی اور ہدایت کا فریضہ بھی انجام دیتی ہیں۔
قرآن کریم میں انسانی زندگی کی بہتر ی کے لئے کئی احکامات بیان کئے گئے ہیں جن میں پانچ نمازیں،اوقات نماز،وضو،تمیم ،غسل،زکوة،رمضان ، رمضان کے روزے اس کے احکام،اعتکاف،طواف ،حج و عمرہ ،قربانی نکاح محرمات نکاح(جن عورتوں سے نکاح حرام ہے)رضاع،طلاق او ر اس کے اقسام،عدت اور اس کی اقسام وغیرہ شامل ہیں اس کے علاوہ حرام اشیاءو حرام امور جیسے سود ،شراب ،زناء،فحش کام،بے حیائی،متعہ ،جوا،کم تولنا،کم تولنے کی خرابی،جھوٹ بولنا،ناحق قتل،بے جا خرچ کرنا ،اولاد کا قتل کرنا،لواطت (بدفعلی) ،جادو ٹونا کرنا اپنے حدود سے تجاوز کرنا وغیرہ کے متعلق بھی احکامات ہمیں ملتے ہیں۔اس کے علاوہ قرآن کریم ایمان،کفر،منافقت جزا، سزا ، حدود اللہ، ترکہ و میراث اور زندگی مابعد زندگی سے متعلق مسائل اور ان کے حل کے بارے میں ہمیں خدائی احکامات سے واقف کرواتا ہے۔
بلاشبہ قرآن کریم ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں انسانوں کی رہنمائی کے فرائض بہ درجہ اتم انجام دیتا ہے۔ لیکن انسانوں کو اس حقیقت تک پہنچنا بے حد ضروری ہے کہ یہ بنی نوع انسان کی رہنمائی کے فرائض کس طرح انجام دیتا ہے۔یہ ایک مکمل ضابطہ حیات کیوں اور کیسے ہے اور اس میں نسل انسانی کی تمام مشکلات کا حل کیسے پوشیدہ ہے؟۔ان سوالات کا جواب نہایت سادہ اور مختصر ہے ۔ اس کا محض پڑھ لینا کافی نہیں ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس کا پڑھ لینا اجر و ثواب کا باعث ہے لیکن تلاوت سے بڑا مرحلہ اس کو سمجھنا ہے۔قرآن کو سمجھنے کے بعد اس پر عمل کرنا ہی اس کے نزول کا حقیقی مقصد ہے۔موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن پر عمل تو کجا اسے سمجھ کر پڑھنا بھی چھوڑدیا ہے۔
آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان پورے طور پر قرآن کریم کو سمجھیں تاکہ عمل کی راہ آسان ہو۔ طویل و ضخیم فنی بحثوں اور مناظرانہ موشگافیوں سے بھری تفاسیر کے بجائے آسان عام فہم ترجمے اور سہل تفاسیر سے قرآن اور قرآن فہمی سے لوگوں کو قریب کیا جاسکتا ہے۔ملک عزیز میں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ رہن سہن اور میل جول کے باعث جو جاہلانہ رسوم ،بدعات اور توہم پرستی ہم میں درآئی ہے اس کے خاتمے کے لئے قرآن وسیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر فرد تک پہنچانا ضروری ہے۔ہمیں انگریزی یا خواہ کسی دوسری ملکی زبان پر کتنا ہی عبور و دسترس کیوں نہ حاصل ہوجائے لیکن افہام و تفہیم میں ہمیشہ مادری زبان ہی موثر کردار ادا کرتی رہی ہے۔
آج ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ اپنی مادری زبان اردو سے بالکل نابلد ہے۔دین و تہذیب سے فیض یاب ہونے کے لئے اسے اردو زبان کوسرکاری مشنریز کی اسکیمات و مراعات پر تکیہ کئے بغیر اپنے طور پر سیکھنا چاہئے تاکہ دین و تہذیب سے آشنائی ہو۔اگرعام طبقہ ااپنی مادری زبان میںبولنے ، سمجھنے ،پڑھنے اورلکھنے کے لائق ہوجائے گا تب وہ دین و تہذیب سے بھی محروم نہیں رہے گا ۔ اسلامی علوم کا خزینہ عربی کے بعد سب سے زیادہ اردو زبان میں موجود ہے۔نئی نسل میںاردو زبان کی نوشت وخواند سے قرآن فہمی کا ذوق عام ہوگا۔ قرآن اللہ کے بندوںکے نام اللہ کا آخری پیغام ہے۔اب بندوں کو اپنی اور کائنات کی حقیقت سے آشنائی کے لئے قرآن اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کرنا ہوگا اور دنیا و آخرت کی کامیابی کے لئے اللہ رب العزت سے ہدایت کاملہ کی دعامانگنی چاہئے۔اگر مسلمان اپنی زندگیوں کوقرآن اور سنت کے مطابق درست کرلیں تو یقینا دیگر اقوام عالم بھی اسے متاع عزیز اور نعمت عظمیٰ سمجھ کر ضرور ا پنائیں گی۔
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار
جو حرف ‘قل العفو میں پوشیدہ ہے اب تک اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں