116

مشورہ کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں

مشورہ کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں
انسان کو زندگی میں بیشتر ایسے امور پیش آتے ہیں جن کے کرنے اور نہ کرنے میں وہ تذبذب کا شکار ہوتا ہے . وہ سَرِدست خود یہ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ ان حالات میں اسے کیا کرنا چاہئے ؟ اور کام کے کس رخ کو اختیار کرنے میں اس کے لئے خیر و بھلائی ہے اور کس میں نہیں ؟.
شریعت کشمکش کی اسی صورتِ حال میں یہ ہدایت دیتی ہے کہ ایسے تمام مواقع پر ازخود فیصلہ کرنے اور اپنی عقل و دانش پر اعتماد کرنے کے بجائے متعلقہ کام کے ماہرینِ فن ، اربابِ نظر اور ہمدرد وبہی خواہ افراد سے رائے معلوم کرلی جائے ، پھر باہمی غور و فکر کے بعد جس جانب دل مائل ہو ، اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اختیار کر کیا جائے ، اسی کو شرعی اصطلاح میں ” مـشـــورہ یـــا مــشــــاورت “ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
صالح ، کامیاب اور پرامن زندگی گزارنے کے لئے مشاورتی نظام اپنانا از حد ضروری ہے ، بلاشبہ مشورہ خیر و برکت ، عروج و ترقی اور نزولِ رحمت کا ذریعہ ہے ، اس میں نقصان و شرمندگی کے پہلو کے پائے جانے کا امکان بہت کم ہوتا ہے ۔
اسلام نے ہمیں عبادات ، معاملات ، تجارت ، سیاست ، عدالت . قیادت اور طب وغیرہ کے ان تمام شعبوں میں مکمل رہنمائی فراہم کی ہے جن سے نوع بشر کا کوئی تعلق و واسطہ ہوتا ہے ، اسلام کی ان ہی عالمگیر اور روشن تعلیمات کی وجہ سے وہ دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کا دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکا .
اسلام اپنے پیرو کاروں کے لئے ہر اعتبار سے ترقی کا ضامن ہے ، لہذا اس نے انھیں بے یار ومددگار نہیں چھوڑا ، بلکہ زندگی کے اہم اہم امور میں مشورہ کا حکم دیا اور اس سے مدد حاصل کرنے کی تاکید کی تاکہ بعد میں پشیمانی اور ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے .
مشورہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں ” شـــوریٰ ” نام کی ایک سورت ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے ساتھ مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے . ارشاد ربانی ہے . ” وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ ( آل عمران ) .
اسی طرح مومنین کے بارے میں بھی ارشاد فرمایا گیا ” وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ ” اور جو اپنے ( اہم ) معاملات باہمی مشورے سے چلاتے ہیں .
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! ” مَــا شَـــقٰـــی عَــبْــدٌ بِـمَـشْـــوَرَةٍ وَمَـا سَـعِــدَ بِـاسْــتِــغْـــنَـــاءِ رَأیٍ ” یعنی کوئی بھی انسان مشورہ سے کبھی نا کام اور نامراد نہیں ہوتا اور نہ ہی مشورہ ترک کر کے کبھی کوئی بھلائی حاصل کرسکتا ہے . ( قرطبی 161/4)
ایک موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا! ” مَاخَابَ مَنِ اسْتَخَارَ وَلَا نَدِمَ مَنِ اسْتَشَارَ ” جس نے استخارہ کیا وہ نا کام نہیں ہوا اور جس نے مشورہ کیا وہ شرمندہ نہیں ہوا “. ( المعجم الأوسط للطبرانی ، 6816 )
ایک اور موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا! ” اَلْمَشْوَرَةُ حِصْنٌ مِنَ النِّدَامَةِ وَ أمْنٌ مِنَ الْمَلَامَةِ “ مشورہ شرمندگی سے بچاؤ کا قلعہ ہے اور ملامت سے مامون رہنے کا ذریعہ ہے “. ( ادب الدنیا والدین ، 277/1 )
حضرت علی کا یہ قول بھی کتنا جامع ہے کہ ” اَلْاِسْتِشَارَةُ عَیْنُ الْهدَایَةِ وَ قَدْ خَاطَرَ مَنِ اسْتَغْنٰی بِرَأیِه “.
مشورہ عین ہدایت ہے اور جو شخص اپنی رائے سے ہی خوش ہوگیا وہ خطرات سے دوچار ہوا .
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعہ پر ارشاد فرمایا! ” اِسْتَشِیْرُوْا ذَوِيِ الْعُقُوْلِ تُرْشَدُوا وَ لَاتَعْصَوْهُمْ فَتَنْدَمُوا “. ( مسندِ شہاب ، 673 ) . عقلمندوں سے مشورہ کرو ، کامیابی ملے گی اور ان کی مخالفت کرو گے تو شرمندگی ہوگی .
حضرت عبداللہ بن الحسن نے اپنے صاحبزادہ محمد بن عبداللہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ” جاہل کے مشورہ سے بچو اگرچہ کہ وہ خیر خواہ ہو جیسا کہ عقلمند کی دشمنی سے بچتے ہو “. ( المدخل ، 29/4 ) .
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا! ” اَلْمُسْتَشَارُ مُوٴتَمَنٌ “.( ترمذی ) یعنی جس شخص سے مشورہ کیا جاتا ہے وہ امانت دار ہوتا ہے ، لہذا اسے امانت داری کا پورا حق ادا کرنا چاہئے .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ’’ میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مقابلہ میں کسی کو نہیں دیکھا جو اپنے اصحاب سے کثرت سے مشورہ کرتا ہو “. ( مسند احمد )
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کسی آدمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مقابلہ میں لوگوں سے زیادہ مشورہ کرنے والا نہیں دیکھا ‘. ( شرح السنة )
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے غزوۂ بدر کے دن لوگوں سے مشورہ فرمایا ‘‘. ( مسند احمد )
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا! ” کوئی انسان مشورہ کے بعد ہلاک نہیں ہوتا ‘‘. ( ابن ابی شیبہ ، 2076 )
ایک روایت میں ہے کہ “ مَنِ اسْتَبَدَّ بِرَأْيِهِ هَلَكَ وَ مَنْ شَاوَرَ الرِّجَالَ شَارَكَهَا فِي عُقُولِهَا ”
جس نے مشورہ نہ کرکے فقط اپنی رای پر اعتماد کیا سمجھو وہ ہلاک ہوگیا اور جس نے لوگوں سے مشورہ کرکے قدم آگے بڑھایا حقیقت میں وہ ان لوگوں کے ہم عقل ہوگیا اور کامیاب ہوگیا .
تخلیق آدم علیہ السلام کے موقعہ پر اللہ نے فرشتوں سے جس چیز کا تذکرہ کیا تھا اور ان کی رائے معلوم کی تھی جس کی تفصیل ( سورۃ البقرۃ/30) کے ذیل میں دیکھی جاسکتی ہے ، اُس سے در حقیقت فرشتوں سے مشورہ طلب کرنا مقصد نہیں تھا بلکہ انسانوں کے دل و دماغ میں مشورہ کی اہمیت پیدا کرنا مقصود تھا تاکہ خالق کائنات کے اس عمل کو پوری کائنات میں نمونہ بنایا جائے .
وحی کے ذریعہ اگرچہ بہت سے امور میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی رہنمائی کر دی جاتی تھی ، مگر حکمت اور مصلحتوں کے پیش نظر چند امور کو آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی رائے اور صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا ، ان ہی مواقع میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو صحابہٴکرام رضی اللہ عنھم سے مشورہ کا حکم دیا گیا ، تاکہ امت میں مشورہ کی سنت جاری ہوسکے اور لوگ یہ سمجھیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو مکمل فہم و بصیرت ہونے کے باوجود مشورہ کا حکم دیا گیا تو پھر ہم اس کے زیادہ محتاج اور ضرورت مند ہیں .
مشورہ کے حکم کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ایک انسان جب اپنی رائے پر عمل کرتے ہوئے کوئی کام کرتا ہے اور وہ اس میں ناکام ہو جاتا ہے تو بہت سی زبانیں لعن طعن کرنے لگتی ہیں اور ملامت کا ایک سلسلہ چل پڑتا ہے جس کے نتیجہ میں بڑی ذلت محسوس ہوتی ہے ، لیکن اگر مشورہ کے بعد کوئی کام کیا جائے تو عام طور پر اس میں ناکامی نہیں ہوتی ، اللہ تعالیٰ مشورہ کی برکت سے خیر کی راہیں کھول دیتا ہے اور اگر فیصلہ ، تقدیر کے سبب مشورہ کے تحت بارآور اور نتیجہ خیز نہیں ہو سکا تو بھی اس میں لوگوں کے سامنے شرمندگی اٹھانی نہیں پڑتی ، اس لئے کہ اس میں صرف اسی کی عقل و فکر شامل نہیں ہے بلکہ مختلف اربابِ نظر اور ماہرینِ فن کی رائیں اور عقلیں شامل ہیں ، ملامت کس کس کو کی جائے اور ملامت کرنے والا بھی اپنی اصابتِ رائے کی ضمانت نہیں دے سکتا ، اس لئے مشورہ میں دیگر اہم فائدوں کے ساتھ ا یک بڑا فائدہ ملامت اور طعن و تشنیع سے نجات بھی بتایا گیا ہے .
ایک شاعر مشورہ کی اسی افادیت کے پیشِ نظر کہتا ہے ،
الرأیُ کَاللَّیْلِ مُسْوَدٌّ جَوَانِبُہ
وَاللَّیْلُ لَایَنْجَلِی الّا بِالْاِصْبَاح
فَاضْمُمْ مَصَابِیْحَ آرَاءِ الرِّجَالِ الٰی
مِصْبَاحِ رَأیِکَ تَزْدَدْ وُضُوْءَ مِصْبَاح
رائے تاریک رات کی طرح ہے کہ اس کے اطراف سیاہ ہیں اور رات کا اندھیرا بغیر صبح کے زائل نہیں ہوتا ، لوگوں کی رائے کی مشعل کو اپنے چراغ کے ساتھ ملا لینے سے تیرے چراغ کی روشنی زیادہ ہوجائے گی .
بعض حکماء کا قول ہے . ” مِنْ حَقِّ الْعَاقِلِ أَنْ یُضِیْفَ الٰی رَأیِه آرَاءَ العُقَلَاءِ ، یَجْمَعُ الٰی عَقْلِه عُقُوْلَ الْحُکَمَاءِ فَانَّ الرَّأیَ الْفَذَّ رُبَّمَا ذَلَّ ، وَالْعَقْلَ الْفَرْدَ رُبَّمَا ضَلَّ ”.
عاقل کا فرض یہ ہے کہ اپنی رائے کے ساتھ عقلاء کی رائے کا اضافہ کرے اور اپنی عقل کے ساتھ حکماء کی عقل کو جمع کرے کیوں کہ اکیلی رائے بسا اوقات ذلت کا سبب بنتی ہے اور پھسل جاتی ہے اور تنہا عقل بسا اوقات گمراہ کا سبب بن جاتی ہے “.
چوں کہ مشورہ میں شریک افراد بڑی مشقتوں سے حاصل کئے ہوئے تجربات کی روشنی میں رائے دیتے ہیں تو مشورہ کرنے والے کو اہم اور قیمتی باتیں مفت مل جاتی ہیں جن کو اگر وہ خود حاصل کرنا چاہے تو بآسانی حاصل نہ کر سکے . اسی لئے حکیم لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” تجربہ کار تجھ کو وہ رائے دیتا ہے جو اس کو نہایت گراں قیمت پر ملی ہے یعنی نہایت مشقت و تحملِ مصائب کے بعد حاصل ہوئی ہے اور تو اس کو مفت بلا تعب اڑاتا ہے .
مشورہ ہمیشہ ایسے شخص سے کرنا چاہئے جس کو متعلقہ معاملہ میں پوری بصیرت اور تجربہ حاصل ہو چنانچہ دینی معاملات میں ماہر اور صاحبِ نظر عالمِ دین سے مشورہ کرنا چاہئے ، غرض جس طرح کا معاملہ ہے اسی فن کے ماہرین اور تجربہ کار کا انتخاب کیا جائے کیوں کہ تجربہ کے بغیر صرف عقل کامیابی سے ہمکنار نہیں کر سکتی ، گویا مشورہ لینے کے لئے عقل اور تجربہ دونوں کا بیک وقت موجود ہونا نہایت ضروری ہے . ایک دوسرے کے بغیر صحیح رہنمائی نہیں مل سکتی . یہ بات ملحوظ رہے کہ اپنی رائے کو محض ایک معمولی رائے سمجھنا چاہئے ، نہ کہ حتمی فیصلہ تاکہ مشورہ کاحقیقی فائدہ حاصل ہوسکے اور مشورہ میں عمر کی قید نہیں . ہر وہ شخص جس میں مشورہ کی اہلیت پائی جاتی ہو ، یعنی عقلمند تجربہ کار اور متقی وغیرہ ہو تو اس سے مشورہ لیا جاسکتا ہے خواہ عمر کم ہو یا زیادہ ، مشورہ کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں ہے .
سیدنا حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بعض اوقات حضرت عبد اللہ بن عباس کی رائے پر فیصلہ نافذ فرماتے تھے حالانکہ مجلس میں اکثر ایسے صحابہ موجود ہوتے تھے جو حضرت عبد اللہ بن عباس سے عمر ، علم اور تعداد میں زیادہ ہوتے تھے .
مشورہ کے اعتبار سے لوگ تین طرح کے ہوتے ہیں .
ایک وہ پاک دامن عقل مند مسلمان ہے جو اپنے معاملات میں مشورہ کرتا ہے ، جب اُس کے سامنے کوئی معاملہ آتا ہے اور اُسے اس سلسلہ میں اشتباہ ہوتا ہے تو وہ ( مشورہ کے بعد قائم ہونے والی ) اپنی رائے کے ذریعے سے اُس معاملہ سے ( سرخرو ہو کر ) نکل جاتا ہے .
دوسرا وہ پاک دامن مسلمان جو ذی رائے ( اور عقل مند و سمجھ دار ) نہیں ہوتا ، لیکن جب کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو وہ ذی رائے اور اہل مشورہ لوگوں کے پاس جاتا ہے ، پھر اُن سے مشورہ کرتا ہے اور اُن سے رائے لیتا ہے ، پھر رائے دینے والوں کے مشورہ کے مطابق اُس کام کو اختیار کرتا ہے ۔
اور تیسرا وہ آدمی ہے جو کہ سمجھ بوجھ نہیں رکھتا ، نہ تو کسی خیر خواہ سے مشورہ کرتا ہے اور نہ ہی کسی خیر خواہ کا کہنا مانتا ہے .
بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ جس شخص میں یہ پانچ خصلتیں اور عادتیں ہوں اُس سے مشورہ کرنا چاہئے ۔
ایک یہ کہ مشورہ دینے والا کامل عقل مند اور متعلقہ معاملہ میں تجربہ رکھتا ہو .
دوسرے یہ کہ مشورہ دینے والا شخص متقی اور پرہیز گار ہو .
تیسرے یہ کہ مشورہ دینے والا مشورہ لینے والے کا ہم درد اور خیر خواہ ہو .
چوتھے یہ کہ مشورہ دیتے وقت مشورہ دینے والا رنج و غم اور ذہنی اُلجھن کا شکار نہ ہو اس لئے کہ ایسی صورت میں اُس کی رائے میں درُستی اور سلامتی باقی نہیں رہتی .
پانچویں یہ کہ کوئی ایسا معاملہ نہ ہو کہ جس میں مشورہ دینے والے کی اپنی ذاتی غرض اور نفسانی خواہش شامل ہو .
معلوم ہوا کہ مشورہ ایک مہتم بالشان امر ہے ، اس سے رشد و ہدایت اور خیر وصلاح وابستہ ہے ، جب تک مشاورت کا نظام باقی رہے گا فساد اور ضلالت و گمراہی راہ نہیں پاسکے گی . امن اور سکون کا ماحول رہے گا . مشورہ کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مشورہ کی برکت سے خیر کی راہیں کھول دیتا ہے اور اگر فیصلہ تقدیر کے سبب مشورہ کے تحت کیا ہوا کام بار آور اور نتیجہ خیز نہیں ہوسکا تو بھی اس میں لوگوں کے سامنے شرمندگی نہیں اٹھانی پڑتی ، اس لئے کہ اس میں صرف اسی کی عقل و فکر شامل نہیں ہے بلکہ مختلف اہل رأی و نظر اور ماہرین فن کی عقلیں شامل ہوتی ہیں . لہذا طعن و تشنیع اور لعن طعن کی بات پیش نہیں آتی . مشورہ کے ذریعہ بہت ساری انفرادی و اجتماعی مشکلات حل ہو جاتی ہیں . دو فکروں کا ٹکراؤ گویا بجلی کے دو مثبت و منفی تاروں کے ٹکرانے کے مانند ہے جس سے روشنی پیدا ہوتی ہے اور انسان کی زندگی کی راہ روشن ہوجاتی ہے .
مگر افسوس ! کہ آج دیگر اعمالِ خیر کی طرح مشورہ کی سنت بھی ہماری زندگی اور معاشرہ سے رخصت ہوتی جا رہی ہے جس کے بھیانک نتائج ہمارے سامنے ہیں ، ساری محنتوں مشقتوں اور کوششوں کے باوجود ناکامی ہمارے حصہ میں ہے ، ہر طرف انفرادی و اجتماعی امور میں خلفشار اور انتشار پایا جاتا ہے . بسا اوقات ناکامی اور نقصان کے بعد مشورہ نہ کرنے پر افسوس بھی ہوتا ہے مگر اب کیا حاصل ؟
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اہم اور قابلِ غور مسائل میں کام کے آغاز سے پہلے ہی مشورہ کو اپنا معمول بنایا جائے تا کہ محنتیں بار آور اور نتیجہ خیز ثابت ہوں ، یقینا مشورہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی ہے اور ہزار دینی و دنیوی فوائد بھی . اے کاش! امتِ مسلمہ کی زندگی اور معاشرہ میں مشورہ کی سنت کا رواج ہوتا .
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے اہم امور کو رائے مشورہ کے ساتھ انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے . آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں