161

انسان کی فطری کمزوریاں.محمد نادروسیم

انسان کی فطری کمزوریاں
محمد نادروسیم
اللہ تعالیٰ نے انسان کوبے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ شمس و قمر، شجر و حجر، چرند پرند اور حیوانات کو اسکے لیے مسخر کردیا ہے۔ اس کے باوجود اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ انسان اپنی فطرت اور طبیعت کے لحاظ سے کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے انسان کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی آٹھ طبعی کمزوریوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ کمزوریاں درج ذیل الفاظ میں بیان کی گئی ہیں۔
1۔انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔
انسان کی طبعی کمزوریوں میں سے ایک کمزور ی اسکا نفسانی خواہشات اور شہوات پر قابو پانے کے لحاظ سے کمزور ہوناہے۔ اس لیے اللہ تعالی نے اس پر احکام میں تخفیف فرمائی ہے۔ارشاد باری تعالی ہے۔”اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف کرے اور آدمی کمزور بنایا گیا“ (النساء:28)
2۔انسان جھگڑالو ہے۔
یہ انسان کی کمزوری ہے کہ جس ذات نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایاہے،اسی کے ساتھ شریک ٹھہرا کر جھگڑنا شروع کر دیتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے۔”اس نے آدمی کو ایک نِتھری بوند سے بنایا تو جبھی کھلا جھگڑالو ہے“۔(النحل:4)
3۔انسان جلد باز ہے۔
انسان کی کمزوریوں میں عْجلت پسندی بھی ہے جو ہر انسان میں کسی نہ کسی حد تک پائی جاتی ہے۔ خوشی، غمی، کامیابی، ناکامی، تنگدستی اور کشادگی، اقتدار اور اختیار ملنے پر انسان کسی نہ کسی موقع پر ضرور جلد باز ہوجاتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے۔”آدمی جلد باز بنایا گیا، اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا مجھ سے جلدی نہ کرو“۔(الانبیاء: 37)جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا وہ ان مواقع پر جلد بازی کا مظاہرہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: تحمل مزاجی اللہ کی طرف سے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔“(سنن الترمذی)
4۔انسان ظالم اور نا شکرا ہے۔
اللہ تعالی نے جس قدر ہم پر انعام فرمائے ہیں اس کا تقاضا ہے کہ ہماری پیشانیاں اس کے حضور میں ہر وقت جھکی رہیں۔ دل اس کی عظمت و کبریائی کے احساس سے لبریز رہیں اور زبانیں اس کی حمد و ثناء کے گیت گاتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔”اور تمہیں بہت کچھ منہ مانگا دیا، اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے، بے شک آدمی بڑا ظالم ناشکرا ہے۔اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ناشکری کرتا ہے۔“ (بنی اسرائیل: 67)اب یہ انسان کی کمزروی ہے کہ اللہ تعالی نے اس کی عزت افزائی کے لیے اتنے سامان کیے لیکن یہ بڑا ظالم اور سخت ناشکرا ہے۔(ضیاء القرآن)
5۔انسان جلد مایوس ہونے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ اگر انسان کو اپنی رحمت سے بہرہ ورفرماتا رہے تو یہ فخر وغرور کرتا ہے۔ اور پھر کبھی اپنے کرم کا ہاتھ پیچھے ہٹائے تو وہ حوصلہ کرنے کی بجائے ناشکری اور مایوسی کااظہار کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔”اور اگر ہم آدمی کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں پھر اسے اس سے چھین لیں ضرور وہ بڑا ناامیدناشکرا ہے۔“ (ھود: 7-9)نا شکراانسان اپنی اس کمزوری کے سبب یہ سمجھتا ہے کہ وہ عزت و جاہ، مال و دولت کی فراوانی کا اپنی ذاتی اہلیت کی وجہ سے مستحق ہے۔
6۔انسان بڑا بخیل واقع ہو ا ہے۔
انسانی طبیعت کا خاصہ ہے کہ وہ سخت کنجوس اور بخیل ہے، کسی ملی یا قومی مقصد کے لیے، کسی نادار اور فقیر کی امداد کیلیے ایک پائی بھی خرچ کرنی پڑ جائے تو ہزار بار سوچتا ہے۔ رحمت الہٰی جیسی نہ کم ہونے والی چیزوں پر بھی اگر یہ قابض ہوجائے تو وہاں بھی اپنی بخیلی اور تنگ دلی نہ چھوڑے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔”تم فرماؤ اگر تم لوگ میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو انھیں بھی روک رکھتے اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہوجائیں، اور آدمی بڑا کنجوس ہے۔“(الاسراء:99)
7۔انسان ظالم اور جاہل ہے۔
انسان فطری طور پر اپنے اوپر ظلم کرنے والا اور جاہل واقع ہوا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے۔”بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور آدمی نے اٹھالی، بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے“۔ (الاحزاب: 72)
اللہ تعالی نے آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کو اختیار اور ارادہ کی آزادی دے کر احکام کی اطاعت کا حکم پیش کیا توانہوں نے اعتراف عجز کرتے ہوئے معذرت خواہی کر دی اور اپنی بے بسی کا اقرار کیا۔ یہی چیز جب انسان کے سامنے پیش کی گئی تو اس نے اپنی ناتوانی اور کمزوریوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس امانت کو اٹھانے کی حامی بھر لی اور اس کو اٹھا کر اپنے آپ کو ابتلاء وآزمائش میں مبتلا کردیا اوراس نے کسی عقلمندی کا ثبوت نہیں دیا۔(ملخص ازضیاء القرآن)
8۔انسان کم حوصلہ ہے۔
انسان کی طبعی کمزوریوں میں ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ تھوڑے حوصلے والا ہے۔ اس کمزوری کی وجہ سے نہ صرف دوسرے کے احسان فراموش کر دیتا ہے بلکہ ایسی حرکات کرتا ہے کہ اسے اپنی کہی ہوئی باتوں اور کیے ہوئے کاموں پر پچھتاوا ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے۔”بیشک آدمی بنایا گیا ہے بڑا بے صبرا حریص، جب اسے برائی پہنچے تو سخت گھبرانے والا، اور جب بھلائی پہنچے تو روک رکھنے والا“۔(المعارج)
پیر کرم شاہ ضیاء القرآن میں لکھتے ہیں کہ انسان کی سرشت میں تین عیب ہیں۔ ایک تو وہ حریص اور کم ظرف ہے۔ ایسی چیزوں کو بھی ہڑپ کرنے کے لئے بیتاب رہتا ہے جو اس کے لئے حلال نہیں ہوتیں۔اس کی کوششیں ہر قیمت پر دولت سمیٹنے کے لیے وقف رہتی ہیں۔ خواہ دولت، رشوت سے ملے، لوٹ کھسوٹ سے ملے، چوری اور راہزنی سے ملے، غذائی اجناس کو سمگل کرکے ملے، یا قوم و وطن سے غداری کرکے ملے، وہ باز نہیں آتا۔دوسرا نقص اس میں یہ ہے کہ وہ بہت گھبرا جانے والا ہے۔ جب مسائل کی گھٹا اس کی زندگی کے افق پر نمودار ہوتی ہے تو اس کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں، اوسان خطا ہو جاتے ہیں، امید کی کوئی کرن اس کو نظر نہیں آتی۔ تیسرا نقص یہ ہے کہ وہ سخت کنجوس اور بخیل ہے، کسی ملی یا قومی مقصد کے لیے، کسی نادار اور فقیر کی امداد کیلیے ایک پائی بھی خرچ نہیں کرتا۔اللہ تعالی ہمیں ان کمزوریوں پر قابو پانے کی طاقت عطا فرمائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں