mazhar-barlas articles 133

مگر یہاں سوچتا کون ہے؟ مظہربرلاس

ہمارے افسران بیرونی دنیا کو محفوظ ٹھکانہ کیوں سمجھتے ہیں، انہیں یہ خیال کیوں نہیں آتا کہ جس ملک نے انہیں افسری بخشی، انہوں نے اس ملک کو اس قابل نہیں بنایا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد یہاں رہ سکیں یا اپنے بچوں کو یہاں رکھ سکیں۔دھرتی ماںکا کوئی بھی قرض ہوتا ہے، دھرتی اپنے بچوں سے بھی کچھ تقاضا کرتی ہے مگر کیا عجب کہانی ہے کہ دوران ِسروس فرائض کی اعلیٰ کہانیاں گھڑنے والے ریٹائر ہوتے ہی کسی دوسرے ملک کو مسکن بنا لیتے ہیں، ساری زندگی وطن سے وفا کے گیت گانے والے ریٹائر ہوتے ہی کسی اور ملک میں پناہ ڈھونڈتے ہیں یہ سب کیا ہے ؟ میں نے یہ اذیت ناک کہانی بودی سرکار کے سامنے رکھی تو وہ بولے ’’ یہاں ایماندار کون ہے ؟یہاں تو دیانتداری کا درس دینے والے بھی دیانتدار نہیں ، یہاں تو لوگوں نے مذہب کے نام پر بھی دکانیں کھول رکھی ہیں کیا آپ کو معلوم نہیں کہ بڑے بڑے خطیب اور پیر صاحبان کروڑوں میں کھیلتے ہیں اور ان کے چاہنے والوں کی اکثریت کے پائوں ننگے ہوتے ہیں ،میں نے تمہارے وہ کالم پڑھے ہیں جو ملک کے انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے لکھے گئے تھے مگر آج آپ نے بڑا ہی تکلیف دہ سوال کر دیا ‘‘ یہ کہہ کر بودی سرکار کسی گہری سوچ میں چلے گئے تو میں نے عرض کیا حضور!میرا وطن ہے، مجھے تکلیف ہوتی ہے کہ جو لوگ یہاں کماتے ہیں وہ اس دھرتی سے وفا کیوں نہیں کرتے، مجھے تو وہ لوگ بھی زہر لگتے ہیں جنہوں نے اس پاک وطن کو بےدردی سے لوٹا، جنہوں نے اس ملک کے نظام کو برباد کیا، میں نے دکھی دل کے ساتھ آپ سے پوچھا ہے کہ آخر میرے دیس کے ساتھ ہی یہ سب کیوں ہو رہا ہے ؟بودی سرکار نے پہلو بدلا اور کہنے لگے ’’پھر کسی وقت اس پر بات کریں گے‘‘ میں نے کہا کہ کیا ہم اس وقت بات کریں گے جب سارا چمن لٹ جائے گا، جب یہاں چڑیاں بھی چہچہانا بند کر دیں گی، آخر ہم انتظار کیوں کریں ،چوری آج ہو رہی ہے تو ہم برسوں بعد اس پر بات کریں؟۔میری یہ باتیں سن کر بودی سرکار جلال میں آکر بولے ’’یہاں یہی تمہارے ادارے کرتے ہیں جب لوٹ مار ہو رہی ہوتی ہے تو بالکل خاموش رہتے ہیں جب مال کسی دوسرے ملک میں پہنچ کرٹھکانے لگ جاتا ہے تو تب تمہارے اداروں کو ہوش آتا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ تمہارے ملک کے اداروں کے لوگ بھی اس کھیل میں پوری طرح ملوث ہوں؟آپ نے دیکھا نہیں کہ اکثر بڈھے ریٹائر ہو کر سچ بولتے ہیں دوران ملازمت وہ کیوں سچ نہیں بولتے، یہی ان کی منافقت ہے یہ لوگ اپنے ایک پائو گوشت کے لئے پورا اونٹ ذبح ہونے دیتے ہیں، کیا تم سوچتے نہیں کہ اگر تمہارے ادارے جاگ رہے ہوتے تو ملک اس طرح لٹتا؟اگر تمہارے ملک میں انصاف ہوتا تو یہ حالات کبھی نہ ہوتے ،کبھی کسی نے پوچھا کہ ایک ہزار افسران کا کیا بنا، جن کی فہرست ایف آئی اے نے سپریم کورٹ میں پیش کی تھی، 719افسران نے تو اپنی دوہری شہریت ظاہر کر دی تھی اور باقیوں نے اسے چھپایا تھا ۔سپریم کورٹ نے تو فیصلہ دے دیا تھا کہ ایسے افراد کو ملازمت نہیں د ی جا سکتی کیونکہ وہ ریاست کے مفاد کے لئے خطرہ ہیں۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے تو ایسے ججز کی فہرست بھی طلب کی تھی جو دوہری شہریت کے حامل ہیں، ایک فہرست اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے بھی طلب کی گئی تھی کہ ایسے تمام افسران کے نام پیش کئے جائیں جو دوہری شہریت کے حامل ہیں، اس حوالےسے فیصلہ ہوا تھا کہ ہر سال کے اختتام پر پارلیمنٹ میں ایسے افسران کی فہرست پیش کی جایا کرے گی جو دوہری شہریت کے حامل ہوں یا جنہوں نے دوہری شہریت والوں سے شادی کررکھی ہو، یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ افراد ریاست کے لئے خطرہ ہیں پارلیمینٹ اس حوالے سے قانون سازی کرے ۔آپ کو یاد ہے کہ اس حوالے سے کچھ نہ ہو سکا ۔آپ کو معلوم ہے کہ ایک ہزار ایک سو سولہ افسران غیر ملکی شہریت رکھتے ہیں جبکہ ایک ہزار دو سو انچاس افسران کی بیگمات دوہری شہریت کی حامل ہیں ،اب تو معاشرے میں یہ سوال بھی شدت سے جنم لے رہا ہے کہ کتنے جج اور جرنیل ریٹائرمنٹ کے بعد دوسرے ملکوں میں رہ رہے ہیں ایسا کیوں ہے ،کسی نے سوچا کیونکہ یہ تمام افراد ذمہ دار عہدوں پر رہے ہیں ،ان کے پاس ملکی راز ہیں مگر یہ باتیں کون سوچتا ہے آپ کبھی کینیڈا، امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور آسٹریلیا میں جاکر دیکھیں ،کس طرح آپ کے ملک کےحاضر سروس افسران کے بیوی بچے رہ رہے ہیں ان کا خرچہ کون برداشت کرتا ہے یہ خرچہ اس ملک کے غریب عوام کی ہڈیوں سے نکلتا ہے‘‘

بالکل درست فرمایا بودی سرکار، آپ نظر بھی کمال کی رکھتے ہیں، حال ہی میں مقبول ترین لیڈر عمران خان نے چارسدہ میں بہت بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ ایسے لوگوں کو ووٹ نہ دینا جن کی جائیداد یا پیسہ باہر کسی دوسرے ملک میں ہو، اپوزیشن میں رہ کر عمران خان یہی کرسکتا ہے اس سے اگلا کام حکمرانوں کا ہے مگر وہ یہ کام نہیں کریں گے وہ تو سوچیں گے بھی نہیں کہ بقول سرور ارمان؎

سر جھکائے ہوئے مقتل میں کھڑے تھے جلاد

تختہ دار پہ لٹکی ہوئی خودداری تھی

خون ہی خون تھا دربار کی دیواروں پر

قابضِ تخت وراثت کی ریاکاری تھی

اپنا تبصرہ بھیجیں