kabeera gunah krnay s insan kafir hota hai k nhi 133

کبیرہ گناہ کرنے سے انسان کافر ہوتاہے یا نہیں؟.ڈاکٹر حافظ غلام محی الدین نقشبندی

5 / 100

واصل بن عطا حضرت امام حسن بصری کا شاگرد تھا .اس نے امام حسن بصری کے برعکس موقف اپنایا اور کہا کہ کبیرہ سے انسان کافر ہوجاتاہے اور اپنے استاد کے بالمقابل مجلس لگا کر اپنی تبلیغ شروع کردی استاد کی زبان سے نکلا ”قد اعتزل عنا“ اس نے ہم سے اعتزال کیا ہے یعنی رستہ بدل لیا ہے اس دن سے ایک الگ فرقہ بنام معتزلہ معرض وجود میں آگیا شروع میں واصل اکیلا تھا بعد میں اسے ایک محنتی ومخلص ٹیم مل گئی،ابوالہذیل علاف،قاضی احمد بن ابوداود الایادی اورقاضی عبدالجبارجیسے ماہر مناظر ، ادباء میں جاحظ جیسا محیر العقول ادیب ، فن تفسیر میں علامہ زمخشری جیسا بلیغ مفسر ،فلسفیوں میں بشربن معتمر اورنظام ابراہیم جیسے فلاسفہ مل گئے ان کو عروج تب ملا جب حکومت کی پشت پناہی حاصل ہوئی یزید بن ولید اموی خلیفہ نے ان سے تعاون کیا ،عباسی خلیفہ منصور نے اسے بڑھایا اور مامون الرشید نے اسے بام عروج تک پہنچادیا معتصم باللہ اور واثق باللہ نے تو ظلم وتشدد کی انتہاکردی اور متوکل کے دور میں جا کے کم ہوا ہزارہا علماء شہید ہوئے خلق قرآن کے عنوان سے ایسا فتنہ کھڑا ہوا کہ امام مالک سے لیکر امام احمد بن حنبل تک سب صعوبتوں اور شدید تکالیف کو برداشت کرتے رہے شروع میں مسئلہ صرف کبیرہ گناہ کی شرعی حیثیت تھی بعد میں خمسہ مسائل کے عنوان سے الگ موضوعات پہ مناظرے مجادلے کتب رسائل اور کئی صدیوں تک جنگ وجدل چلتا رہا آخر کار ہلاکو خان نے بغداد واسلامی دنیا کو ذلت ورسوائی سے دوچار کیا ۔ایک شخص کے گستاخانہ اختلاف نے کتنے افراد کو تباہ وبرباد کیا؟ کتنے عقل مند لوگ راہ راست سے بھٹکے؟ اسلام کو کتنا نقصان ہوا؟آپ سب کے سامنے ہے ۔اختلاف تو جمیع آئمہ کے مابین بھی رہا کئی ہزار مسائل میں صاحبین اپنے امام سے اختلاف کرتے رہے لیکن وہ قد اعتزل عنا نہیں تھا علمی و ادبی حسنِ اختلاف ہر دور میں ہوا ہماری فقہ کی جمیع منتھی کتب میں تقریبا ہر مسئلہ کے بعد وفیہ نظر اور وفیہ قول ورای وغیرہ کے الفاظ ملتے ہیں یعنی گستاخانہ اختلاف انتشار بن جاتا ہے ۔آج یہی صورتحال ہے قد اعتزل عنا کا اختتام کتنا خطرناک ہوتا ہے یہ کوئی بالغ نظر ہی سمجھ سکتا ہے دوسری طرف وہ صاحب بھی سوچیں کن کے ایک جملہ سے یہ سب فتنہ پیدا ہوا اس کا حل بھی ایک ہی جملہ تھااور وہ جملہ ِ رجوع واقرارِ خطا تھا لیکن افسوس صد افسوس ۔انا و بعض پشت پناہیاں و ناخلف خلیفے ہمیشہ مسائل ختم کرنے کی بجائے بڑھاتے چلے گئے دونوں طرف ایسے ہی آگ لگانے والے شعلہ بیان و تیر سنان موجود ہیں ۔تصفیہ مابین شیعہ وسنی کرواتے کرواتے تبرہ بین اہل سنت پہ آچکے ہیں ۔ظاہر ہے سیاسی قوتوں کے لیے تو یہ صورتحال نہایت سود مند ثابت ہوتی ہے مگر مذہبی اکابرین کے لیے سوچنے کا مقام ہے مدارس پہلے نشانے پہ ہیں مساجد پہ دشمن نگاہیں گاڑے بیٹھا ہے۔سوچنے کی بات ہے اعراس کی اجازت نہیں لیکن ایک دوسرے سے لڑنے کے لیے کانفرنس کی اجازت ہے ۔ علماءکومیڈیا پہ بیان کی اجازت نہیں لیکن آپس میں فتنہ وفساد کو ہوا دینے کے لیے فیض آباد دھرنے پہ دو لیڈروں کو موقع دیا گیاتھا تاکہ بھرپور لڑیں ۔اے کاش!!ہم نئے ہلاکو خان کے آنے سے پہلے پہلے اپنے معاملات گھر بیٹھ کر درست کرلیں ۔الفتنہ اشد من القتل ہم فتنوں کو ختم کرنے والےبن جائیں اپنی داڑھی دوسروں کے ہاتھ پکڑانے سے پہلے خود تصفیہ کے قابل ہوجائیں۔آمین
ڈاکٹر حافظ غلام محی الدین نقشبندی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں