jamal ud din afghani 40

جمال الدین افغانی کی داستان حیات

Jamal-ud-Din Afghani (R.A)

تعارف:
جمال الدین افغانی المعروف جمال الدین اسدآباد ی افغانستان کے مشہور سیاسی مفکر تھے جنہوں نے دنیا کے مسلمانوں کو پین اسلام ازم کی تحریک کے لئے تیار کیا۔ وہ انیسویں صدی کے واحد اسلامی راہنما تھے جنہوں نے پوری اسلامی دنیا کو رنگ و نسل، افکار، مسلک اور فرقہ بندی کو بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کاپیغام دیا اور اس مقصدکے لئے وہ دردر کی ٹھوکریں کھاتے رہے۔انہوں نے اپنے نظریات کی وجہ سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں حالانکہ وہ کسی بھی اسلامی ملک یا یورپ کے کسی بھی ملک میں عیش وعشرت کی زندگی گزار سکتے تھے۔ وہ ہندوستان کے مسلمانوں کے غم خوار تھے اور ان کی تعلیمات سے تحریک پاکستان کے تمام مسلمان لیڈر ہی متاثر ہوئے۔ان میں سر سید احمد خان، مولانا محمد علی جوہر، نواب وقارالملک ، نواب محسن الملک اور سب سے بڑھ کر علامہ محمد اقبال جنہوں نے دو قومی نظریہ پیش کیا ،شامل تھے۔
جمال الدین افغانی کو ہندوستان میں جنگ آزادی سے قوی امید ہو چلی تھی کہ برصغیر کے مسلمان غلامی کے طوق کو اتار پھینکیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا تاہم آگے چل کر وہ جمال الدین افغانی کی تعلیما ت پر عمل کرتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوگئے اور ایسے ہی مفکرین کی کوششوں کی وجہ سے پاکستان معرض وجود میں آیا۔علامہ محمد اقبالؒ جمال الدین افغانی کے پیروکاروں میں شامل تھے ،شاید انہی کی تعلیمات کے عین مطابق، یہ اشعار کہے ہوں:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر
جمال الدین افغانی کے سیاسی نظریات :
جمال الدین افغانی نے مسلمان قوم کو متحد ہونے کا جو پیغام دیا اس کے چیدہ چیدہ نکات مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ یورپی ممالک نے معیشت،تجارت اور سائنس و ٹیکنالوجی کو فروغ دے کر دنیا پر قبضہ کر لیا ہے۔
۲۔ یورپی ممالک نے جس قوم کو اور اس تہذیب و تمدن کو پاش پاش کیا ہے، وہ مسلمان ہیں۔
۳۔ مسلمان اس وقت متحد نہیں بلکہ آپس میں فروہی اختلافات کی وجہ سے باہم دست وگریباں ہیں۔
۴۔ مسلمانوں کو مسلک،فرقہ بندی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کر دیا گیا ہے۔
۵۔ اس وقت دنیا کے تمام اسلامی ممالک آزاد نہیں بلکہ کسی نہ کسی طرح یورپی ممالک کے زیر اثر ہیں۔
۶۔ یورپی ممالک ان کو آپس میں باہم شیر و شکر ہونے کا موقع کبھی نہیں دیں گے۔
۷۔ موجودہ مسلمان حکومتیں اس قابل نہیں کہ وہ یورپی اقوام کے اثر وروسوخ کو ختم یا کم کر سکیں۔
ؒ ان نامساعد حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ:
۱۔ تمام مسلمان رنگ ونسل کو چھوڑ کر ایک ہو جائیں۔
۲۔ وہ مل کر مشرق وسطیٰ، ہندوستان اور مرکزی ایشیا کے مسلمانوں کو غلامی سے نجات دلائیں۔
۳۔ مسلمانوں کو ایک طاقت ور قوم بنانے کے لئے ضروری ہے کہ وہ:
ا۔ سائنس و ٹیکنالوجی کو فروغ دیں۔
ب۔ مغربی خطوط پر افواج کی ترتیب نو اور تربیت کریں اور انہیں جدید اسلحہ سے لیس کریں۔
ج۔ ملکی انتظام وانصرام کو جدید خطوط پر استوار کریں۔
د۔ اپنی عوام میں جذبہ حب الوطنی پیداکریں۔
ر۔ مسلم قوم کو مضبوط بنانے کے لئے وہ تعلیمی اداروں کا جال پھیلائیں۔
ز۔ جن اسلامی ممالک کے حکمران جزبہ حب الوطنی سے لیس نہ ہوں اور یورپی قابض اقوام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی اہلیت نہ رکھتے ہوں ، انہیں اقتدار سے محروم کر دیا جائے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم:
جمال الدین افغانی ۱۲۵۴ ہجری بمطابق 1838عیسوی میں کابل کے قریب ایک گاؤں اسدآباد میں پیدا ہوئے۔ان کے والد کو امیر دوست محمد خان والی ا فغانستان نے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا تھا۔ اس وقت جمال الدین افغانی کی عمر آٹھ سال تھی۔ وہ گاؤں سے کابل چلے گئے جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کرنا شروع کردی۔
1848میں جب ان کی عمر دس سال ہوئی تو مزید علوم کی تحصیل کے لئے ان کے والد انہیں ایران کے شہر قزوین لے گئے۔ حصولِ علم کا انہیں اس حد تک ذوق و شوق تھا کہ جمعہ اور عید کے دن بھی چھٹی نہ کرتے۔ والد بہت اصرار کرتے کہ شہر کی تفریح کے لئے چلو تو وہ جواب دیتے کہ مٹی کے بنے ہوئے گھروں کو دیکھ کر کیا کروں گا۔ ناچار والد گھر کو تالا لگاکر چلے جاتے۔ جب پلٹتے تو دیکھتے کہ کتابوں کا ایک انبار لگا ہوا ہے اور اس انبار میں ان کا نونہال بیٹھا مطالعہ میں غرق ہے۔قزوین میں دو سال گزارنے کے بعد 1850 میں جبکہ ان کی عمر کے صرف بارہ سال گزرے تھے ان کے والد انہیں تہران لے آئے اور پنے دوست سلیمان خان کے گھر ٹھہرایا جو اسد آباد کے سابق حکمران بھی تھے۔ تہران میں سید جمال الدین نے اس وقت کی مشہور شخصیت سید صادق مجتہد کو اپنی ذکاوت و بصیرت سے متاثر کیا اور پھر وہ اپنے والد کے ساتھ عراق کی جانب روانہ ہوگئے تاکہ اسلامی علوم کے مرکز نجف میں باقی علوم سیکھ سکیں۔
نجف میں اپنے والد کے ہمراہ شیعوں کے عالمی پیشوا شیخ مرتضیٰ انصاری کی خدمت میں پہنچے۔ شیخ انصاری نے اس کم سنی میں اتنی سنجدگی اور تعلیم و تعلم کی اتنی غیر معمولی استعدار دیکھ کر ان کے لئے ایک گھر کا انتظام کیا۔ جمال الدین افغانی چار سال تک اسلامی و غیر اسلامی علوم کی تحصیل کرتے رہے۔ انہوں نے علم تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، کلام اور عقلی علوم یعنی منطق، فلسفہ یا حکمت الہٰیہ، علم طبیعیات (فزکس)، ریاضی اور ہئیت و نجوم میں مہارت حاصل کی اور ان کے تمام ماخذوں کو کھنگال ڈالا۔ وہ اب ایک طالب علم نہ رہے تھے بلکہ کمسن مفکر اور ایسے اہلِ نظر بن گئے تھے جس کے سینے میں علوم و افکار کا ایک سمند ر موجزن تھا ان کی شہرت نجف کے علمی حلقوں تک پہنچ گئی تھی اور اب ہر محفل میں ان کا چرچہ تھا۔ان کے افکار کی زد میں کچھ ایسے علماء بھی آگئے جو فکری جمود کے حامل اور ہر طرح کی اصطلاحات کے خلاف تھے۔ اس طرح بحث و مباحثہ کا دروازہ کھل گیا اور جمال الدین پوری جراء ت کے ساتھ اپنی بات کہتے رہے۔
1855میں بمبئی میں مغربی طرز پر انہوں نے جدید علوم حاصل کیے۔ وہ ایک سال اور کچھ ماہ تک بمبئی میں رہے اور پھر حج کی نیت سے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ جب ہندوستان خود کو جنگِ آزادی کے لئے تیار کررہا تھا۔ ہمارے لئے یہ واضح نہیں کہ اس جنگِ آزادی میں نہوں نے کیا کردار ادا کیا، لیکن اتنا واضح ہے کہ ان کی غیر معمولی شخصیت اور افکار ونظریات نے تحریک کے سرکردہ افراد کو ضرور متاثر کیا ہوگا۔
جمال الدین افغانی کا مشن:
انیسویں صدی کے اواخر میں مسلم دنیا (بالخصوص مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا و یورپ) کے اندر ایک سیاسی کارکن اور اسلامی مفکر جو اسلامی جدیدیت کے بانیوں میں سے ایک اور پین اسلام اتحاد’’ Pan Islamism‘‘کے زبردست حامی تھے۔ وہ اسلامی الٰہیات سے زیادہ مغربی دباؤ کے جواب میں ایک مسلم ردِ عمل منظم کرنا چاہتے تھے۔وہ شیعہ مسلک کے پیروکار تھے لیکن انہوں نے مسلمانوں کونصیحت کی فرقہ بندی چھوڑ کر اس وقت مغربی اقوام کے سامنے سینہ سپر ہو جائیں۔
جمال الدین افغانی کی سیاسی جد وجہد:
1864 میں امیر دوست محمد خان نے انہیں اپنا مشیر بنالیا اور اپنے بیٹے محمد اعظم خان کا اتالیق بھی۔ دوست محمد خان کے انتقال پراس کے بیٹوں میں تخت نشینی کی جنگ چھڑ گئی جس نے افغانی کو پھر ہندوستان میں پناہ لینے پر مجبور کردیا اس وقت ان کی عمر تیس برس تھی۔
ہندوستان کے مقامی علماء سے ان کا مکالمہ نہ ہوسکا اس لئے وہ مصر چلے گئے۔ مگر برطانوی دباؤ کے تحت مصر کی حکومت نے چالیس دن کے اندر اندر ملک سے نکال دیا۔ وہ ترکی گئے مگر وہاں سے بھی علماء نے دباؤ ڈال کر نکلوادیا۔ 1873 میں دوبارہ مصر آگئے اور وہاں تعلیمی اور سماجی شعبوں میں قابلِ قدر کام کیا۔ انہوں نے اخبار بھی نکالے۔ اب کےبار پھر انہیں مصر سے نکال دیا گیا اور دوبارہ ہندوستان میں آکر حیدر آباد دکن اور بمبئی میں رہنے لگے۔
جمال الدین حیدر آباد دکن میں تھے کہ انہیں ریاضی کے ایک استاد کا خط موصول ہوا ۔ اس خط میں نامہ نگار نے اس حقیقت کا اظہار کیا کہ ان دنوں ہندوستان میں ہر جگہ نیچر ، نیچر کا شور ہو رہا ہے ۔کیا نظریۂ نیچرپرستی دینِ اسلام کے خلاف ہے؟ اگر مطابق ہے تواس میں اور دین میں کیا نسبت ہے؟ اس کے جواب میں انہوں نے نیچریوں کے خلاف اپنا مشہور تحقیقی مقالہ نیچر کا جواب لکھا۔ سب سے پہلے یہ جواب فارسی میں بمبئی سے اور پھر اردو زبان میں ترجمہ ہو کر کلکتہ سے 1883 میں شائع ہوا۔
اس مقالے میں سید جمال الدین افغانی فطرت پسندوں کو دہریہ یعنی خدا کا منکر قرار دیتے ہیں اور ان کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ وہی لوگ ہیں جو تین سو یا چار سو سال قبل مسیح سے مختلف شکلوں اور نگ و روپ میں ظاہر ہوتے رہے ہیں۔ان کے عقائد پر ذرہ سا غوروفکر کیا جائے تو واضح ہوجائے گا کہ یہ کس طرح معاشرے میں انتشار اور اجتماعی بے چینی پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔ دین ہی معاشرے کے افراد کو ایک دوسرے سے پیوست رکھتا ہے اور دین کے بغیر ہر گز تمدن استوار نہ ہوسکے گا، حالانکہ اس گروہ کی بنیادی تعلیم مذہبوں اور ادیانِ الہٰی کو صفحہ ہستی سے مٹانا ہے۔
جمال الدین نے آغاز میں کائنات کے بارے میں فطرت پرستی کے نظریات کو بیان کیا، ڈارون کے نظریہ پیدائش کوبھی عقلی دلائل، تجربہ اور مشاہدے کی مدد سے مسترد کردیا۔ بعد ازاں وہ یورپی فلسفیوں کے مادی نظریات کی طرف اشارہ کرتے اور پھر موضوع سخن کو کمیونزم اور سوشلزم کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ ثابت کرتے ہیں کہ اشتراکیت نے کس طرح اقوامِ عالم کو غلط اور فرسودہ نظریات میں الجھا رکھا ہے۔ آخر میں وہ دینِ اسلام اور اس پر ایمان لانے اور اس کی اہمیت اور امتیاز کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جمال الدین لکھتے ہیں کہ مذہب انسان کے لئے تین عقائد لے کر آیا اور انسانی جان میں تین صفات ودیعت کرتا ہے۔ پہلا عقیدہ یہ ہے کہ انسان یقین کے ساتھ اعتراف کرتا ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے۔ دوسرا یہ کہ اس کا دین تمام ادیان سے بہتر ہے۔ تیسر ا یہ عقیدہ کہ انسان اس لئے دنیا میں بھیجا گیا ہے تا کہ اس سے زیادہ وسیع دنیامیں پہنچنے کی تیاری کرے اور ظلم، ناانصافی اور اچھائیوں اور برائیوں سے ملی جلی اس تنگ و تاریک دنیا سے نکل کر ایسے پاک و پاکیزہ عالم میں جانے کے لئے رختِ سفر باندھے جس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔جو تین صفات مذہب ودیعت کرتا ہے وہ احیا، امانتداری اور سچائی ہیں۔
جمال الدین نے ایرانی مجتہدین سے اصالتاً اور خط و کتابت کے ذریعے تعلق قائم رکھا۔ انہیں معلوم تھا کہ اغیار کی بالادستی کے باوجود ایرنی علماء کا عوام میں اثرورسوخ مسلمہ حقیقت ہے، لہٰذااس سے فائدہ اٹھا کر اسلامی اصولوں کے مطابق انقلابی اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کا خیال تھا کہ اگر ایران کی سرزمین سے انقلاب برپا ہوتا ہے تو عین ممکن ہے کہ عالمِ اسلام کی تقدیر بدل جائے۔ جمال الدین امتِ مسلمہ کو درپیش مسائل پر غوروفکر کرنے اور ان مشکلات کو حل کرنے کی فکر میں رہتے تھے۔ یہی جذبہ انہیں نہ صرف بہت سے ممالک کا محرک اسلامی نظام کا نفاذبنا بلکہ ان کی مساعی کا اثر ہو ااور بعض ممالک میں پان اسلامزم کی تحریک کی بنیاد رکھی گئی۔ جمال الدین کے سیاسی شعور اور اہداف کے حصول کی تڑپ کا اندازہ ان خطوط سے لگایا جاسکتا ہے جو انہوں نے ایرانی روحانی قائدین کو لکھے۔
افغانی مطلق العنان شخصی حکومت کے خلاف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جس قوم کو اپنے معاملات خود طے کرنے کا اختیار نہیں وہ زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔ نہ وہ جہالت اور نہ ہی وہ افلاس کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ یہ حکومت عدم استحکام پیدا کرتی ہے اور عدم استحکام تباہی لاتا ہے۔وہ جمہوریت کے حامی ہیں مگر کہتے ہیں کہ امورِ مملکت ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہوں جو اہل اور اعلیٰ اخلاق کے حامل اور قومی مفادات کےمحافظ ہوں۔
جمال الدین افغانی کی تجویز کردہ اصلاحات:
افغانستان میں جمال الدین ؒ کی طرف سے کی جانے والی اصلاحات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔پہلا حصہ ان اصلاحات پر مشتمل ہے جو انہوں نے اپنی اقامت کے دوران انجام دیں۔انہوں نے افغانی قوم میں شعور پیدا کرنے اور بیداری کی روح ڈالنے کےلیے افغانستان کی مختصر سی تاریخ لکھی جس کا عنوان ہے ’’تتمتہ البیان فی تاریخ الافغان ۔‘‘ اس کے علاوہ ’’شمس النہار ‘‘نامی جریدہ شائع کیا اور اپنی تقریری اور تحریروں کے ذیعے سے افغانیوں کو برطانیہ کی سازشوں سے آگاہ کیااور ان کے خلاف جہادکرنے کی ضرورت پرزور دیا ۔دوسرا حصہ ان اصلاحی آرا ء پر مشتمل ہے جنہیں وہ روانگی سے قبل امیر شیرعلی خان کے سپرد کر گئے تھے تا کہ انہیں عملی جامہ پہنایا جا سکے ۔ان اصلاحی تجاویز کی تفصیل یوں تھی : ’’سیاسی استقلال کا علان ، دربار کے امور کی اصلاح ،وزرا ء پر مشتمل کا بینہ کی تشکیل، فوج و سپاہ کی تنظیم ،فوج اور سول امور کی نگرانی کے لیے تعلیمی اداروں کا قیا م،قومی زبان پشتو کی طر ف تو جہ، فوجی و عسکری القابات واعزازات کوبیرونی زبانوں سے افغانی زبان میں منتقل کرنا ، اخبار وجرائد کا قیام ، شفاخانہ ، ڈسپنسری ،ہوٹل،مسافر سر ائے اور پوسٹ آفس جیسے اداروں کا قیام عمل میں لانا اور نئے شہروں کی بنیاد ڈالنا شامل ہے۔‘‘ ان کی یہ اصلاحات افغان قوم کو ایک مقصد کے قریب لانے میں بہت موثر ثابت ہو تی ہیں اور کچھ سال گزرنے کے بعد اسی افغانستان میں برطانیہ کے قو نصل جنرل سمیت دس ہزار سے زیادہ سپاہیوں کو قتل کر دیا جاتا ہے اور یوں افغانستان اپنی شجاعت اور حریت کا عملی ثبوت پیش کرتا ہے ۔
جمال الدین افغانی کی تصانیف:
ان کی مندرجہ ذیل کتب و رسائل مشہور ہیں:
۱۔ استعماریت کے خلاف مسلمانوں کا جواب۔
۲۔ تتمتہ البیان فی تاریخ الافغان۔
۳۔سید جمال الدین افغانی کا فطرت پسندوں کی نفی میں مضمون ۔
اعزازات:
جمال الدین افغانی کو زندگی میں اتنی پذیرائی نہ ملی جس کے وہ مستحق تھے۔ وہ اپنی زندگی میں تمام مسلم دنیا کے عوام میں ایک بہت ہی مقدس ہستی کے طور پر مانے جاتے تھے اور لوگ انہیں دل و جان سے چاہتے تھے لیکن مسلم دنیا کے حکمران ان کو انگریز وں اور دوسری اقوام کے دباؤ میں آکر ملک بدر کر دیتے تھے۔ اس کے باوجود بھی انہوں نے ہمت نہ ہاری اور میدان کار زار میں ڈٹے رہے۔ ان کی وفات کے بعد تمام مسلم دنیا نے اختلافات بھلا کر انہیں سیاسی راہنما تسلیم کر لیا اور ساتھ ہی ان کی عظمت کوبھی مان لیا گیا۔

سیاسی خدمات کے اعتراف میں:
۱۔ حکومت افغانستان نے ان کے نام پر یونیورسٹی قائم کی اور ان کا مقبرہ بھی یونیورسٹی کے احاطے میں بنایا۔
۲۔ پاکستان کے کئی بڑے شہروں مثلاًکراچی، پشاور ، اسلام آباد وغیرہ میں کئی سکولوں اور سڑکوں کے نام ان کے نام پر رکھے گئے ہیں ۔
۳۔ علامہ محمد اقبالؒ نے ان کو بہت عزت و تکریم دی اور ان کی تعلیمات کے عین مطابق شاعری سے مسلمان قوم کو وہی پیغام دیا جو جمال الدین افغانی کا اصل پیغام تھا۔
۴۔ ایران میں ان کے نام پر شاہراہ کا نام رکھا گیا۔
جمال الدین افغانی کے چند اقوال:
وہ اپنے وقت کے ذہین و فطین سیاسی ومذہبی راہنما تھے۔ان کے ان اقوال سے ان کی مجموعی بصیرت جھلکتی ہے:
۱۔ یہ مذہبی عقائد کی بات نہیں کہ وہ غلط ہیں یا صحیح بلکہ وہ عقائد زہر قاتل ہیں جو مسلمانوں کو جدید سائنسی علوم سے روکتے ہیں۔
۲۔ آزادی کے پرچم کا سب سے بہترین رنگ آزادی کے مجاہدین کے لہو کا رنگ ہے۔
۳۔ وہ قوم جو ایک گھنٹے کے لئے اپنے حق کے لئے لڑتی ہے، اس قوم سے بہتر ہے جو ساری زندگی کسی جابر قوم کی صرف لفظی مخالفت کرتی ہو۔
۴۔آزادی تحریر و تقریر کا حق جدوجہد سے لیاجاتا ہے، مانگا نہیں جاتا اور کسی غلام ملک کی آزادی محض تقاریر سے حاصل نہیں ہوتی۔
۵۔ راہنما وہ ہوتا ہے جو لوگوں کی رہنمائی اپنے فعل سے کرے ،نہ کہ محض احکامات دے کر۔
جمال الدین افغانی کے آخری ایام :
جب وہ ہندوستان میں قیام پذیر تھے توحکومتِ برطانیہ نے انہیں کلکتہ میں نظر بند کردیا۔ نظربندی کے خاتمہ پر وہ افغانستان چلے گئے۔ مہدی سوڈانی کی تحریک کے دوران انہوں نے مصر اور برطانیہ میں بات چیت کرانے کی کوشش کی مگر ناکام ہوئے۔ آخر کار وہ روس چلے گئے جہاں انہوں نے روسی حکومت کو باور کروایا کہ وہ مسلمانوں پر لگائی گئی مذہبی پابندیاں اٹھالے۔اس میں انہیں کافی کامیابی حاصل ہوئی۔ اسی دوران انہوں نے ایران کا بھی مختصر سا دورہ کیا اور روس واپس چلے گئے۔ دو برس بعد وہ جرمنی کے راستے پیرس پہنچ گئے۔پھر ایران آئے اور شاہِ ایران کو اصلاحات کے نفاذ کے لئے کہا مگر شاہ نے ان کی تجویز کردہ اصلاحات مسترد کردیں اور جلال الدین افغانی کو ایران بدر کردیا۔
ایران سے ملک بد ر ہونے کے بعد وہ لندن گئے جہاں سے ترکی پہنچے۔ ترکی کا خلیفہ عبدالحمید ان کو پین اسلام ازم کے لئے کچھ اسطرح استعمال کرنا چاہتا تھا کہ ان کی شہرت کے بل بوتے پر وہ ترکی کے اندر سازشوں کا قلع قمع کر سکے اور ترکی کی قیادت میں تمام مسلمان دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے۔ وہ خود اس متحدہ محاذ کا انچارج بن جائے اور ترکی کی جنگ تمام دنیا کے مسلمان مل کرلڑیں۔ چنانچہ خلیفہ نے ان کو استنبول میں رہنے کے لئے ایک گھر دیا اور ان کا وظیفہ بھی مقرر کر دیا جس سے وہ کافی حد تک پر سکون ہو کر تحریر و تقریر میں مصروف ہوگئے۔
وفات:
9 مارچ 1897ء میں وہ گلے کے کینسر کی وجہ سے استنبول میں انتقال کرگئے۔بعد میں افغان گورنمنٹ کی درخواست پر ان کی لاش کو 1944میں کابل لایا گیا جہاں انہیں کابل یونیورسٹی کے احاطے میں سرکاری اعزازکے ساتھ دفن کیا گیا ۔ آج بھی ان کا مقبرہ ہر عام و خاص کی زیارت کا مرکز ہے۔ آج جو بھی سیاح کابل جاتا ہے ان کے مزار پر ضرور حاضری دیتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں