mufti gulzar ahmed naeemi 107

استحکام پاکستان: مفتی گلزار احمد نعیمی

9 / 100

استحکام پاکستان
مفتی گلزار احمد نعیمی
امریکہ کے صدر جارج واشنگٹن کو قوم نے تاحیات صدر بننے کی درخواست کی اس نے قبول نہ کی اپنی آخری عمر کاشتکاری میں گزاری ۔امریکہ کا تیسرا صدر تھا مس جیفر سن جب صدربنا تو صدارت سنبھالنے ایوان میں اکیلا آیا اور پیدل چل کر آیا ۔سٹیج پر بڑی کرسی کی بجائے عوام میں بیٹھا۔
پاکستانی صدر سکندر مرزا جب صدارت سے فارغ ہوا تو لندن میں ایک ہوٹل میں ملازمت اختیار کی
ہم بے یقینی کیفیت میں ہیں
ہمارے ہاں ہر دوسرا شخص لیڈر بننے کا شوق رکھتاہے۔ بالخصوص جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ ،مالی پریشانیوںسے آزاد ہوتاہے انہیں مصروفیت چاہیے ہوتی ہے سو وہ سیاست دان بن جاتے ہیں ۔ایسی طرز کی لیڈرشپ کی وجہ سے ملک و قوم تباہ ہو تے ہیں
جب علامہ اقبال ؒ سے کیسی نے پوچھا آپ قائد اعظم محمد علی جناح کو ہی لیڈر کیوں بنانا چاہتے ہیں۔؟تو علامہ نے جواب دیا کہ لیڈر میں دو خصوصیات ہونی چاہییں۔(۱)انمول ہو (۲)صاف شفاف ہو
قیادت کے لیے یہ دو صفات ہونا ضروری ہیں
اسی طرح ایک لیڈر کو ذہین اور دیانت دار ہونا چاہیے۔اگر قائد ذہین نہ ہو تو اسے مسئلہ سمجھ نہیں آتااگر مسئلہ ہی سمجھ نہ آئے تو اس کا حل کہاں سے آئے گا۔پاکستان میں ذہین لوگوں کی کمی نہیں ہے لیکن یہاں سیاسی ذہانت ہمیشہ الٹے رخ چلی اور دیانت کوراستہ نہیں ملا۔دیانت دار اور فکر بیدار،ذہین اور امین سیاست دان اس ملک کو چلا سکتے ہیں ۔اس ملک میں ذہانت یاتو بیرونی ممالک کے آقائوں کے ایجنڈے کو پورا کرنے پر خرچ ہوئی یا ذاتی مفادات کے لیے۔جب عام ذہین افراد نے اپنے سیاست دانوں کے رویوں کو دیکھا تو ذہین لوگ باہر چلے گئے اور پھر مستقلاًوہاں آباد ہو گئے جیسے آجکل ہم (Brain Drain) کہتے ہیں ۔
دیانت داری نہ اوپر والوں کو قبول ہے نہ نیچے والوں ۔آج ہم دیانت دار شخص کو بطور سیاست دان قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔اگر کونی ذہین اور دیانت دار شخص سیاست میں آنے کا اعلان کرے اور وہ سیاست دان ہو تو لو گ اس کا مذاق اڑائیں
آج ہم بے یقینی کی کیفیت سے دو چار ہیں جس کی وجہ سے ہم ترقی کی بجائے تنزلی کا شکار ہیں انگریزی محاورہ ہے
Action follows conviction and not knowledge
دنیا کے ہر کام میں کامیابی کی پہلی سیڑھی کامل یقین ہے۔محض الفاظ اور حروف زلزلہ بپا نہیں کر سکتے جب تک انکی پشت پر یقین کامل نہ کھڑا ہو۔بحر ظلمات میں کشتیاں جلانا اور گھوڑے دوڑانا یقین کامل کا نتیجہ تھا ۔آج کی دنیا کی ترقی کامل یقین کی مرہون منت ہے ۔یقین نہ ہو تو عرب کا ابو الحکم ،ابو جہل کہلاتا ہے۔اگر یقین ہو تو افریقہ کا حبشی بلال ؓ کہلاتا ہے۔آج کی دنیاکا یقین سے خالی تکرار ازلی کے فلسفے میں گم رہتاہے اور دولت یقین کے مالامال اقبال ؒمقام کبریا سے آشنا ہو جاتا ہے۔ سراقہ بن چشم ؓ مرض الموت میں ہیں اطباء علاج کرنے نہیں آئیں گے۔پوچھا گیا کیوں ؟ کہنے لگے میں نے ابھی کسریٰ کے کنگن نہیں پہنے۔جس کی بشارت مجھے سرکار صلی اللہ علیہ وا ٰلہ وسلم نے مجھے دی تھی ۔ہجرت مدینہ کے وقت کفار نے سراقہ کو لالچ دی تھی کہ محمد کو گرفتار کرو تو سونے کے کنگن تمہیں پہنائے جائیں گے ۔سرکار صلی اللہ علیہ وا ٰلہ وسلم کا پچھا کرتے وقت گھوڑا زمین میں دھنس جاتا تھا۔سرکار صلی اللہ علیہ وا ٰلہ وسلم نے فرمایا : سراقہ اسلام قبول کر لو تمہیں شاہ فارس کے کنگن پہنائے جائیں گے ۔سراقہ صحت یاب ہو گیا کچھ مذمت کے بعد ایران فتح ہوا سونے کے کنگن شاہ ایران کے مال غنیمت میں آئے عمر ؓ نے کہا آسراقہ تجھے شہنشاہ ایران کے سونے کے کنگن پہناکر آقاء کی بشارت کو پایہ تکمیل کروں۔
ایک جنگ میں ثابت بن اصیرم مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار تھے ۔اچانک خیال آیا سرکار صلی اللہ علیہ وا ٰلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ اگرمیں اسلام لے آئوں توکیا ملے گا فرمایا: جنت ۔ہاتھ میں کجھو ر کا دانہ تھا وہیں زمین پر پھینکا اور کہا کہ یہ دانہ بھی اب جنت میں جا کر کھائوں گا ۔پلٹ کر کفار پر حملہ آور ہوئے۔شہید ہوئے،سرکارؐ لاشوں کا معائنہ فرما رہے تھے کہ ثابت کی لاش دیکھی اور فرمایا: آئو تمہیں ایک ایسا جنتی دیکھاتا ہوں جس نے نہ نماز پڑھی ہے ،نہ روزہ رکھا ہے ،اور نہ حج کیا ہے لیکن سیدھا جنت میں چلا گیا ہے اور یہ جنتی ثابت بن اصیرم ؓ ہیں مصر کی موجیں حضرت عمر ؓکے یقین سے نکلیں نہ کہ رقع سے ۔حضر شبلی سفر سے واپس آرہے تھے کہ لوگوں کو میدان میں جمع دیکھاکہنے لگے کیا ماجر اہے لوگوں نے کہا کہ استسقاء کی نماز کی ادائیگی کے لئے اکھٹے ہیں قحط پڑ گیا ہے فرمایا : واپس لوٹ جائو تمہاری نماز سے بارش نہیں ہوگی لوگوں نے پوچھا کیوں ۔کہنے لگے تمہیں یقین ہی نہیں ہے کہ بارش ہو گی ۔لوگوں نے پوچھا وہ کیسے فرمانے لگے : اگر یقین ہوتا تو بارش سے بچائو کے لیے کو ئی کپڑا، کوئی چھتری ساتھ لاتے۔
آج وطن عزیز کی زمین خزانے نہیں اگل رہی ۔اسلئے کہ فرزاندان یقین کی دولت سے خالی ہیں ۔آسمان سے تارے توڑ لانے کا ہم دعوی تو کرتے ہیں لیکن تنکا توڑنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے۔واعظ کو اپنی حکایت پر اعتبار نہیں ہے ،شیخ کو اپنی پھونک پر یقین نہیں ہے ہم سب بے یقینی اور بے عملی کی تصویر ہیں توترقی کیسے ہو ۔آب زم زم تک جاری ہوتا ہے جب اس یقین کے ساتھ ایڑیاں رگڑی جائیں گی ان سے ضرور چشمہ جاری ہو گا ۔پانی یقین کی ایڑیوں کو رگڑنے سے نکلتاہے کدال اور پھاوڑوں سے نہیں نکلتا۔
تیرے دریامیں طوفان کیوں نہیں ہے
خودی تیری مسلمان کیوں نہیں ہے
عبث ہے شکوۃ تقدیر یزواں
تو خود تقدریزواں کیوں نہیں ہے؟
آ ج ہم سیاسی الخطاط کا رونا رو رہے ہیں ۔آج ہم ایم بی بی ایس ڈاکٹرکو سیاست دان نہیں مانتے یونیورسٹی اور کالج کا پروفیسر ہو یا قرآن و حدیث کا ماہر اسے سیاست میں آنے کا حق نہیں دیتے ۔ہم چوروں ،سمگلروں ،رسہ گیروں ِ،تھانوں کے ٹا ئوئوں ،کمیشن خوروں ،علم کے دشمنوں ،بنک لوٹنے والوں کو خوش آمدیدکہتے ہیں ۔ملک کا کو ئی مسئلہ حل نہیں ہو رہا ۔مسائل کا حل ہم نے ان لوگوں کے سپر د کر دیا ہے جو مسائل کی جڑ ہیں۔میر تقی میر نے کہاتھا ۔
میر کیاسادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
آج مولانا محمد علی جوہر ، لیاقت علی خان ، نواب زادہ نصراللہ ، ممتاز دولتانہ وغیرہ کی جگہ ہم نے زرداری ، نوازشریف ، فضل الرحمٰن ، اسفند یارولی، ثناء اللہ زہری کو بیٹھا دیاہے۔ہمیں با کردار، صاحب گفتار، اور شاندار لیڈر درکار نہیں ہیں ہمیں تو ایسے لیڈر درکار ہیں جو بگولے کی طرح اٹھیں اور آندھی کی طرح چھا جائیں
قائداعظم کے قیام پاکستان کا مقصد ایک عظیم اسلامی ریاست کا قیام تھا اور اس کی سب سے بڑی دلیل دو قومی نظریہ تھی ۔ آپ نے دو قومی نظریہ کا پرچار کیا علامہ اقبال نے وطن کے پیرہن کو مذہب کا کفن قردار دیا تھا۔آج لوگ ( کچھ مخصوص حلقے ) کہتے ہیں کہ قائداعظم ایک سیکولر ملک چاہتے تھے ۔کچھ لوگ یہ کہتے ہیں پاکستانی کسی نـظریاتی پس منظر کے تحت نہیں بلکہ خالص معاشی مسائل کی وجہ سے قائم ہوا ۔ اگر ایک سیکولر پاکستان بنانا تھا تو بڑے سیکولر ملک ( ہندوستان) میں رہتے ہوئے ایک حل کے لیے ایک اتنی بڑی تحریک اور نئے ملک کی تحریک کی کیا ضرورت تھی جس کے لیے 22لاکھ افراد نے جانوں کے نذرانے پیش کیے
قائد ایسا پاکستان چاہتے تھے کہ جس میں چند خاندانوں کی نہیں بلکہ عوام کی حکومت ہوگی ۔جس میں افراد نہیں ادارے مضبوط ہوں گے۔لیکن 70سال ہوگئے ہیں یہ خواب تشنئہ تعبیر ہے ۔تشکیل پاکستان تو ہوگئی لیکن تکمیل پاکستان نہیں ہوئی۔
ہندوستانی مسلمانوں کے کلچر اور رویوں پر اسلام کاکردار بہت نمایاں ہے اور اسکی وجہ علماء کی ان تھک جدوجہد ہے ۔ بر صغیر میں پہلی اسلامی حکومت قطب الدین ایبک کی ہے جسکی بنیاد اس نے 1192,93میں رکھی ۔یعنی بارہویں صدی عیسوی سے لیکر بیسویں صدی عیسوی تک مسلم حکومت رہی اور اسکی قیادت علماء کے پاس ہی رہی ۔1857ء تک جنگ آزادی تک اسلام کی حکمرانی برصغیر پر چلتی رہی اور علماء نے اس میں بہت فعال کردار ادا کیا ۔
بیسویں صدی کے آغاز میں ووٹ اور جمہوریت کا دور شروع ہوا اور سیاسی جماعتیں بنیں تو چونکہ جمہوریت مغرب سے آئی تھی اس لیے سیاسی قیادت بھی مغربی تعلیم یافتہ لوگوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ۔لیکن پھر علماء معاشرے میں ایک قوت کے طور پر زندہ رہے ۔1857ء کی جنگ آزادی میں بھی سب سے زیادہ قربانیاں علماء نے دیں تھیں ، سب سے زیادہ گردنیں علماء نے ہی کٹوائیں تھیں ۔بر صغیر میں مسلمانوں نے آٹھ سو سالہ دور حکومت میں مسلم علماء کو دربا ر شاہی میں بہت اہمیت و عزت حاصل رہی ۔علماء نے بادشاہوں کی درست سمت رہنمائی کی اکبر بادشاہ نے جب دین الٰہی بنا کر نافذ کرے کی جسارت کی تو حضرت مجدد الف ثانی ؒ کی قیادت میں بڑے بڑے علماء نے مصائب وآلام کا سامنا کیا لیکن اقتدار کے سامنے جھکنے کی بجائے دین کے سامنے جھکے رہے ۔
آج میڈیا اور نام نہاد پاکستانی منکرین نظریہ پاکستان کے حوالے سے نوجوانوں کو مس گائیڈ کر رہے ہیں ۔تصور پاکستان اور پاکستان کی نظریاتی اساس کو دھندلاکرکے پیش کررہے ہیں ،ہمیں او رہمارے نوجوانوں کو یہ بات سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ برصغیر میںدنیائے اسلام کی سب سے بڑی ریاست کیا بغیر کسی نظریے کے وجود میں آگئی تھی ۔کیا بغیر کسی نظریے اور سوچ و فکر کے انہوں نے اپنے ہنسے بستے گھرچھوڑدیے ۔ اپنی جائیدادیں اور کاروبار چھوڑدیے تھے اپنے آبائو اجداد کے قبرستان ہندوستان میں چھوڑ کر ویسے ہجرت کر کے پاکستان آگئے؟کیا بغیر کسی نظریے کے ہم 22 لاکھ مسلمانوں کی قربانی دے کر ہم نے یہ خطئہ عرضی حاصل کیا تھا ۔ہم نے اسلام کے لیے پاکستان حاصل کیا تھا اگر معشیت کے لیے پاکستان بنانا ہوتا تو یہ مسئلہ تو متحدہ ہندوستان میں بھی حل ہو سکتا تھا ۔ ہم نے اسلام کے لیے پاکستان حاصل کیا تھا۔ہم قیام پاکستان سے پہلے بھی مسلمان تھے اور اگر خاکم بدین یہ نہ رہے تو اسلام پھر بھی رہے گا مسلمان ہم پھر بھی رہیں گے اس لیے ضیا الحق نے اندرا گاندھی کو کہا تھا کہ اگر تم نے ایٹم بم پاکستان میں چلایا تو ہم ہندوستان کو ایٹم بم سے اڑا دیں گے او ر یا د رکھو کہ اگر پاکستان مٹ گیا تو مسلمان نہیں مٹیں گے اگر ہندوستان مٹ گیا تو ہندو روئے زمین سے مٹ جائیں گے ۔اس لیے علامہ نے ہماری توجہ اس بات کی طرف دلائی کہ تمہارا دیس اسلام ہے ۔وطن کی محبت کو انہوں نے بت پرستی سے تشبیہ دی تھی ۔
ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اسکا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
یہ بت کہ تر اشدہ تہذیب نوی ہے
غارت گر کا شانئہ دین نبوی ہے
بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام تیر ا دیس ہے تو مصطفوی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں