india chahbahar removed from chahbahar project 229

بھارت چابہار ریلوےمنصوبہ سے فارغ۔ مفتی گلزاراحمد نعیمی

8 / 100

بھارت چابہار ریلوےمنصوبہ سے فارغ۔
آج کی میڈیا کی شاید سب سے بڑی خبریہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے بھارت کو چابہار کی بندر گاہ کے ریلوےمنصوبہ سے فارغ کردیا ہے۔اب ایران نے اس منصوبہ کو بھارت کے اشتراک کے بغیر مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ منصوبہ چابہار سے زاہدان تک 68 کلومیٹر ریلوے ٹریک بچھانے کا ہے جسے مسقبل میں افغانستان کےصوبہ نمروز کے دارالحکومت زارانج تک توسیع دی جانی ہے۔اس منصوبہ کی تعمیر کےلیے حکومت ایران نے بنیادی طور پر چالیس کروڑ ڈالرز کی رقم مختص کر دی ہے۔اس منصوبہ کو ایران نےمارچ 2022 تک مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔بھارت کی کثیر الاشاعت انگریزی اخبار “دی ہندو” نے اس خبر کو بڑی شہ سرخی کے طور پر شائع کیا ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ بھارت کو اس منصوبہ سے الگ کیا جانا بھارت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ایران کا یہ فیصلہ عین اس وقت سامنے آیا ہےجب یہ چین کے ساتھ 25 سال پر مبنی ایک طویل تزویراتی دوستانہ شراکت کا معاہدہ کرنے جارہا ہے۔اخبار نے اس خدشہ کا بھی اظہار کیا ہے کہ چابہار بندرگاہ بیجنگ کو لیز پر بھی دی جاسکتی ہے۔
ایران نے نئی دہلی کو اس منصوبہ سے نکالنے کی وجہ اگرچہ فنڈز کی عدم فراہمی بتائی ہے مگر میرے خیال میں اس کے پیچھے اور بھی کئی محرکات ہوسکتے ہیں۔
میرے خیال میں جب بھارت نے امریکہ کو اس خطہ میں سرپرست مانا ہے اس وقت سے اسکا واضح جھکاؤ امریکہ کی طرف ہے بلکہ اگریی کہا جائے کہ اب وہ امریکہ کے ایک پالتو کی حثیت اختیار کر چکا ہے جیسے مشرق وسطی میں اسرائیل ہے۔یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ایران کا پوری دنیا میں پہلا دشمن امریکہ ہے اور دشمنوں کے دوست بھی ظاہر ہے دشمن ہی ہوتے ہیں۔اس لیے ایران بھارت تعلقات میں وہ پہلی سی گرمجوشی نہیں رہی۔اس کا اندازہ آپ اس سے بھی لگا سکتے ہیں کہ لداخ کی عبرت ناک اور شرمناک بھارتی شکست پر ایرانی قیادت کا بھارت کی حمایت میں کوئی بیان نہیں آیا۔یہ بات ذھن میں رہنی چاہیے کہ ممالک کی دوستیاں مفادات کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔مفادات کی بنیاد پر دوستیاں بنتی ہیں اور مفادات کی ہی بنیاد پر دوستیاں دشمنیوں میں بدل جاتی ہیں۔میری ذاتی رائے کے مطابق ایران اور بھارت کے درمیان بھی مستقبل میں یہی کچھ ہونے جارہا ہے۔اسی اصول کی بنیاد پر عوامی جمہوریہ چین نےایران کے جوہری معاہدہ کی حمایت کی ہے اور ایک دفعہ پھر اس نے ایران کے جوہری معاہدہ کی بھرپور حمایت کا اعلان بھی کردیا ہے۔چین پوری دنیا سے تلاش کرکر کے امریکی مخالفین کے ساتھ دوستانہ مراسم استوار کررہا ہے۔میرے خیال میں چین کا ایک بڑی معاشی قوت کے طور پر منظر عام پر آنا دنیا کے لیے مفید رہے گا۔روس کے انہھدام کے بعد امریکہ ایک واحد سپر پاور کے طور پردنیا کا جو استحصال کررہا تھااس میں ضرور فرق پڑے گا۔
چابہار منصوبہ سے بھارت کی علمداری کا خاتمہ یا جزوی اخراج پاکستان کے لیے یقینا ایک مفید عمل ہے۔ایران بھارت سے جتنا دور ہوگا اتنا ہی دو مسلم ہمسائیہ ممالک کی ایک دوسرے کے قریب آنے کی راہ ہموار ہوگی۔پاکستان ایران نہ صرف ہمسایہ ممالک ہیں بلکہ اسلامی روایات اور دین کے مضبوط بندھن میں ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔اس سے افغانستان میں بھارتی مداخلت کا راستہ بند ہوگا۔بھارت کی افغانستان میں عملی مداخلت نے پاکستان کی سالمیت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔افغانستان کی ناعاقبت اندیش قیادت نے پاکستان کے لیے جتنے مسائل کھڑے کیے ہیں ان کے پیشے امریکہ اور بھارت ہی ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت کے ساتھ ہمارے اختلافات کبھی ختم ہونے والے نہیں ہیں لیکن ایران ، افغانستان اور چین سے ہمارے کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ان تینوں ممالک کے ساتھ ہر سطح پر تعلقات مضبوط کرنے میں ہمیں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔چین کے ساتھ ہمارے پہلے ہی بہت ہی مضبوط دوستی کے رشتہ ہیں بلکہ ہمارا دعوہ ہے کہ یہ تعلقات کوہ ہمالیہ سے بلند اور شہد سے میٹھے ہیں۔پاکستان اور چین کے کئی دہائیوں سے پاکستان کے ساتھ باعتماد دوستی کا رشتہ ہےچین کی ہم نے کئی موقعوںنپر مدد کی اور چین نے بھی ایک وفاشعار ساتھی کی طرح ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دیا۔اب سی پیک بننے کے بعد تو گویا دونوں ممالک ایک ہوگئے ہیں۔فاصلے سمٹے ہی نہیں بلکہ ختم ہوگئے ہیں۔ایسے ہی تعلقات ہمارے افغانستان اور ایران کے ساتھ ہونے چاہییں جو برادر اسلامی ممالک ہیں۔
پوری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ کی آنکھوں پر ہمیشہ مفادات کی پٹی بندھی رہتی ہے اور اس کے منافقانہ طرز سیاست نے اسے پوری دنیا میں بہت بری طرح بے نقاب کردیا ہے۔امریکہ ایک مفاد پرست ملک ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں وہ صرف اپنے مفادات کوہی دیکھتا ہے۔اس نے کسی موقع پر ہمارا کھل کے ساتھ نہیں دیا۔اب جبکہ لداخ میں بھارت کو چین نے ذلت آمیزاور رسوا کن شکست سے دوچار کیا تو امریکہ اس کے آنسو پونچھنے تک بھی نہیں آیا۔اس لیے امریکہ پر کسی صورت اعتماد نہیں کرنا چاہیے اور اس کے حصار سے ہمیں ایک اچھی اور بااصول حکمت عملی کے ذریعے نکلنا چاہیے۔خطہ کے معروضی حالات سے ہمیں فائدہ اٹھانا ہوگا۔اللہ تعالی نے ہمیں بہت مضبوط عسکری قوت عطا کی ہےاور عسکری قوت کی قیادت یقینا حطے کی بدلتی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہوگی۔جنرل باجوہ ایک زیرک سپہ سالار ہیں وہ بھارت اور ایران کے تعلقات کی بدلتی نوعیت سے ضرور فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی بنا چکے ہوں گے۔ان شاء اللہ۔
جہاں تک میری معلومات ہیں ایران بھی پاکستان کے ساتھ مضبوط برادرانہ تعلقات کا ہمیشہ خواستگار رہا ہے۔ہمارے تعلقات میں کچھ رکاوٹیں ہیں۔کچھ ختم ہورہی ہیں اور کچھ ان شاء اللہ جلد ختم ہوجائیں گی۔اس ۔یں کوئی شک نہیں کہ ہم اسلامی اخوت کے رشتوں میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں مگر لمحہ موجود میں ہمیں ایک دسورے کے ساتھ پائیدار معاشی وسیاسی تعلقات کی اشد ضرورت ہے۔مشرق وسطی میں اسلامی ممالک کے تعلقات کی بگڑتی صورت حال بیت تشویشناک ہے۔اگر ایران اور پاکستان کے باہمی تعلقات ایک اچھی سطح پر پہنچ جائیں تو یہ اسلامی ممالک کے تعلقات بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں