154

پردہ . حافظ محمد جمیل (ریسرچ سکالر جامعہ نعیمیہ ، اسلام آباد

پردہ
تحریر- حافظ محمد جمیل (ریسرچ سکالر جامعہ نعیمیہ ، اسلام آباد)
آج مسلم معاشرےمیں گھریلو نظام تباہی کی جانب رواں دواں ہے۔ ایک وقت تھا کہ لبرل دنیا کے اندر جب طلاق کی شرح بیان کی جاتی تو ان کو یہ تسلیم کرنا پڑتا تھا کہ مسلم معاشرے میں شرح طلاق نہ ہونے کے برابر ہے۔ دین اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو انسان کی تمام پہلوؤں سے رہنمائی کرتاہے۔زندگی کا کوئی بھی ایسا گوشہ نہیں ہے جس میں رہنمائی کے لئے فرد کو دینِ اسلام راہ میسر نہ کرے۔ تاریخ اس بات پرگواہ ہے کہ جس نے دین اسلام کو چُنا اور اس پر کما حقہ عمل پیرا ہوا، زندگی کے کسی بھی موڑ پر اس کو مایوسی، شرمندگی وناکامی کا سامنا نہیں ہوا۔ گھریلو نظام کی ناکامی کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اسلامی تعلیمات سے روگردانی کر کے مغربی روایات کو اپنا لیا ہے۔ ان کے رہن سہن میں داخل ہونے کی کوشش کی ، ان کے لباس کو نیو ٹریند کا نام دے کر جو بے حیائی اور فحاشی کا سب سے بڑا سبببنا ہے کو ترجیحی بنیادوں پر بڑھ چڑھ کر اپنایا۔اسلامی پردے کی تعلیمات و حدود کو اپنے آپ سے کوسسوں دور رکھتے ہوئے مردو زن خاص طور پر خواتین نے (الا ما شاء اللہ )جو انڈین یا مغربی فلموں ، ڈراموں میں دیکھا ویسالباس، ہار وسنگھار کے ساتھ باہر جانے کو ترجیح، غیر مردوں سے خوش الحانی سے گفتگو ، بڑوں کے روکنے پر ان کو تنگ نظری کا طعنہ ۔۔۔کو اپنانے کی کوششیں کیں۔ اس بات کو بُھلا دیا کہ ہم مسلمان ہیں اور وہ غیر مسلم۔ جبکہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد ہم نے دُنیاوی اعمال کا حساب دے کر اس کےمطابق جزا و سزا کا حقدار ہونا ہے۔ ان کے ہاں مر گیا تو آگ میں پھینکو ، جلاؤ اور معاملہ ختم۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے “مَن تَشَبَّہَ بِقَومٍ فَھُوَ مِنہُ1” یعنی جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے۔ یہ اب انسان کی مرضی پر ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس قوم سے تشبیہ دلواتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے فرامین کے مطابق اپنا اوڑھنا بچھوڑنا بنا کر اللہ کو راضی کرتے ہوئے اُخروی زندگی میں سر خرو ہو جائیں گے یا پھر اپنے آپ کو ان میں سے بناتا ہے جن کے بارے میں قرآن و احادیث میں متعدد مقامات پر سخت وعیدیں بیان ہوئی ہیں۔
جو صاحب ایمان ہے وہ کبھی بھی ایسے لوگوں سے نہیں ہو سکتا جو اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہوں۔ اس بارے میں خود خالق کائنات کا فرمان ہے۔
﴿لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ﴾2
ترجمہ: تم نہیں پائو گے ان لوگوں کو جو حقیقتاً ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور یوم آخرت پر کہ وہ محبت کرتے ہوں ان سے جو مخالفت کر رہے ہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی۔
اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ اور اس کے رسول کریم ﷺ کی رضا پر چلنے والوں کے لئے اجرکا بھی فرما دیا
﴿وَيُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ﴾
ترجمہ: اور انہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ہیں۔
ابن تیمیہ نےلکھا ہے کہ ظاہری طور پر کسی کے ساتھ مشابہت اپنا نا دل میں اس کے بارے میں محبت پیدا کر دیتا ہے ، جس طرح دل میں موجود محبت ظاہری مشابہت پر ابھارتی ہے 3۔
ہمیں چاہیے کہ دین اسلام کی مہیا کی گئی راہ پر چلیں، جو پردہ کے حوالہ سے مرد وزن کے لئے ہدایات دی گئی ہیں ان پر عمل پیرا ہوں۔ تاکہ دنیاوی و اُخروی زندگی احسن پیرائے میں گزر سکے۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے
ترجمہ: اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے۔ اور مؤمن عورتوں سے بھی کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور وہ اپنی زینت کا اظہار نہ کریں ‘ سوائے اس کے جو اس میں سے از خود ظاہر ہوجائے اور چاہیے کہ وہ اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیوں کے ُ بکلّ مار لیا کریں 4۔
اس آیت سے واضح ہوا کہ پردہ صرف عورتوں کے لیے نہیں ہے بلکہ مردوں کے لئے بھی حکم ہوا ہے ۔ مرد کا ستر (وہ حصہ جس کا چھپانا ضروری ہے ) ناف سے لےکر گھٹنوں کے نیچے تک ہے ۔ مرد کا یہ حصہ اگر کوئی دیکھتا ہے تو عموما ًگھر وں میں کئی قسموں کے لباس کا ٹرینڈ چلا ہوا ہے یہ سونے کا لباس ، یہ فلاں یہ فلاں۔۔۔دیکھنے اور دیکھانے والا دونوں گنہگار ہیں 5(سوائے زوجہ کے)۔
رسول اللہ ﷺسے سوال کیاگیاکہ ہم کس قدر شرمگاہیں کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی بیوی کےسوا ہر کسی سے اپنی شرمگاہ کو چھپاؤ، انہوں نے عرض کی: آدمی کبھی آدمی کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا :تب بھی تمہاری ہر ممکن یہی کوشش ہونی چاہیے کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھ سکے پھر سوال کیا گیا کہ آدمی کبھی تنہا ہوتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تواور زیادہ مستحق ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔
عورت کا بھی دوسری عورت کے سامنے ستر کا کھولنا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو جس سے جنسی جذبات ابھریں ، زنا سے تشبیہ دی گئی ہے جیسا کہ رسول کریم ﷺ کا فرمان ہے آنکھ کا زنا دیکھنا ہے ، زبان کا زنا بولنا ہے ، دل کا زنا یہ ہے کہ وہ خواہش اور آرزو کرتا ہےپھر شرمگاہ اس خواہش کو سچا کرتی ہے یا جھٹلاتی ہے6۔یعنی ایسا دیکھنا،سننا ،بولنا یا اس کی خواہش کرنا جس سے جنسی جذبات جنم لیں اسی زمرےمیں شامل ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں دنیاو آخرت میں اپنے مولا کی خوشنودی کے لئے ان چیزوں کو درست استعمال میں لانا چاہیے ۔وہ تمام ویب سائٹس ، ایپس یا جو بھی برائی پیدا کر کے ہمیں اپنے خالق و مالک سے دور کر رہے ہیں ان کو ختم کر دینا چاہیے ۔اللہ پاک بھی ارشاد فرماتا ہے اپنی مقدس کتاب میں
﴿وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلاً﴾7
ترجمۃ: زنا کرنا تو بہت دور کی بات ہے تم اس کے قریب بھی نہ جاؤ۔ بلاشبہ وہ بڑی بےحیائی اور واضح طور پر برائی کا کام ہے اور بہت برا طریقہ ہے
یعنی ہر اس راہ کو چھوڑ دینا چاہیے جو زنا کی راہ پر لے جائے ۔
اللہ تعالی نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے ہیں ۔اسی طرح مردکو عورت کے لیے اور عورت کو مرد کے لئے پیدا کیا ہے ۔پھر اس عظیم ذات نے مرد اور عورت کے تعلق کے لیے ایک نظام وضع کیا ہے جس اسلامی تعلیمات میں نکاح کا نام دیا گیا۔ نکاح کے بعد اللہ نے مرد و عورت کو ایک دوسرے کے لئے حلال کر دیا ہے جیسے کہ فرمان الہی ہے
﴿اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَاۗىِٕكُمْ ۭ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ﴾8
ترجمہ: حلال قرار دیا گیا ہے تمہارے لیے روزہ کی راتوں میں اپنی عورتوں کے ساتھ بےپردہ ہونا ، وہ تمہارے لیے بمنزلہ لباس کے ہیں ، اور تم ان کے لیے بمنزلہ لباس کے ہو۔
لیکن اس کے علاوہ کے لئے شریعت اسلامی نے کچھ قیود لاگو کی ہیں ۔
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی اور آپ کے پاس میمونہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں تو عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور یہ معاملہ ہمیں حجاب کا حکم ملنے کے بعد کا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اس سے حجاب کرو ہم نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ نابینا نہیں نہ ہمیں دیکھتا ہے اور نہ ہی پہنچانتا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم دونوں نہ دیکھنے والیوں میں سے ہو؟ کیا تم اسے نہیں دیکھتیں؟9
اس حدیث مبارکہ میں مرد کو غیر عورت اور عورت کو غیر مرد کو دیکھنے پر سختی سے منع کیا گیا ہے ۔ آج عورتیں اور ان کے لباس کا حال کسی آنکھ سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن رسول کریمﷺ کے اس فرمان کو ہر گز نظر انداز نہ کیا جائے ۔
دوزخیوں کی دو قسمیں ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا۔ ایک تو وہ لوگ جو جن کے پاس کوڑے ہیں بیلوں کے دُموں کی طرح ، لوگوں کو اس سے مارتے ہیں۔ دوسری وہ عورتیں جو پہنتی تو ہیں مگر ننگی ہیں۔ سیدھی راہ سے بہکانے والی خود بہکنے والی ، ان کے سر بختی اونٹ (اونٹ کی ایک قسم) کے کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہونگے ، وہ جنت میں نہیں جائیں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی ان کو نہ ملے گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی دور سے آتی ہے10۔
اللہ تعالی نے تو عورت کو چلنے کا طریقہ بھی سیکھا دیا ہے ۔
”اور عورتیں اپنے پاؤں (اس طرح زمین پر) نہ ماریں کہ ان کی پوشیدہ زینت (زیور کی جھنکار) ظاہر ہوجائے “11
آج مغربی دنیا الزام لگاتی ہے کہ اسلام نے عورت کو حقوق نہیں دیے ۔ جب کہ حقیقت یہ ہےکہ اسلام نے ہی عورت کو حقوق دیے ہیں اسلام سے پہلے عورتوں کا حال،دنیا تاریخ سے واقف ہے۔اسلام نے تو عورت کو بیٹی کے روپ میں والدین کے لئے رحمت بنا دیا،ماں کے روپ میں اس کے قدموں کے نیچے جنت کو رکھ دیا۔ مغرب نے تو عورت کو حقوق دیےہی نہیں ہیں ۔مغربی تہذیب میں عورت کے لیے حقوق ہیں ہی نہیں۔ اس نے تو عورت کو مرد کے قائم مقام کر کے پھر دیا ہے جو کچھ دیا ہے۔ کمال تو یہ تھا کہ عورت کو عورت رکھتے ہوئے ، گھر کی زینت رکھتے ہوئے اس کے حقوق مقرر کرتی لیکن نہیں ، اس مغربی تہذیب نے پہلے عورت کو عورت سے نکال کر مرد کے قائم مقام کیا ا س سے تمام وہ کام لیے جو مرد سے لیے جاتے ہیں پھر جا کر حقوق مقرر کیے، تو حقیقت میں یہ حقوق عورت کے لیے نہ ہوئے بلکہ اس عورت کے لیے ہوئے جو مرد کے قائم مقام ہو کر سارا دن مرد کی طرح کام کرتی ہے نہ کہ وہ عورت جو گھر کی زینت ہے۔ مردکے لیے سکون کا باعث ہے۔
امر ِمجبوری عورت کو باہر جانے کی شریعت اجازت دیتی ہے لیکن حدود و قیود کا خیال رکھتے ہوئے ۔یقینا یہ واقعہ سبق اموز ہو گا
ایک صحابیہ رضی اللہ تعالٰی عنھا جن کا نام ام خلاد رضی اللہ تعالٰی عنہا تھا۔ ان کے بیٹے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی جگہ گئے اور شہید ہوگئے ۔اللہ رب العزت کی شان کہ یہ اپنے بیٹے کی معلومات کیلئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائیں ۔جس وقت یہ آئیں تو مکمل طور پر پردے کی حالت میں تھیں ۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تمھارا جوان بیٹا شہید ہوگیا ہے ۔ ایک صحابی رسول اکرم صلی علیہ وآلہ وسلم نے جب ان کو دیکھا تو فرمایا کہ دیکھو اتنی بڑی خبر کہ جوان بیٹا شہید ہوگیا ہے۔ یہ خبر سن کر بھی یہ عورت اتنا کامل پردے کی حالت میں نکلی ۔ تو ام خلاد رضی اللہ تعالٰی عنھا فرمانے لگیں *”میرا بیٹا فوت ہوا ہے حیا فوت نہیں ہوئی”
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تین طرح کےلوگ ہیں جن کی آنکھیں (جہنم کی) آگ نہیں دیکھیں گی؛ ایک وہ کہ جن کی آنکھ اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی رہی ، دوسرے وہ کہ جن کی آنکھ اللہ کے خوف سے رو دی اور تیسرے وہ کہ جس نے اپنی نگاہوں کی حفاظت کی۔12
پردہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ نماز کو مسجد میں ادا کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے جس کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں تو وہ اکٹھی کی جائیں، پھر نماز کا حکم دوں تو اس کے لیے اذان کہی جائے۔ پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ لوگوں کی امامت کرے پھر ایسے لوگوں کی طرف نکل جاؤں (جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے) اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔ لیکن عورت کے لیے افضل گھر میں نماز ادا کرنا ٹھہرا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ خواتین کی بہترین مساجد ان کے گھروں کی چاردیواری ہے13۔
لہذا ضروری ہے کہ مرد و زن مسلمان ہونے کے ناطہ سے اسلامی تہذیب کو اپنائیں ۔عورتیں بی بی فاطمہ الزھراءسلام اللہ علیہا اور امھات المومنین کی سیرت کو اپنائیں اور مرد صحابہ کے عمل کو اپنا کر دنیاوی او ر اخروی زندگی میں کامیاب ہوں۔
حوالہ جات:
1۔ سنن ابو داود شریف 4031
2۔ المجادلہ :22
3۔ اقتضاء الصراط المستقیم جلد1، ص 549
4۔ سورۃ النور 30-31
5۔ مشکوۃ شریف
6۔ البخاری ،حدیث : 6243
7۔ سورہ الاسراء :32
8۔ البقرہ :187
9۔ سنن ابی داؤد، حدیث:4112
10۔ صحیح مسلم , حدیث : 5704
11۔ سورة النور :31
12۔ طبرانی
13۔ مسند امام احمد،حدیث:297

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں