198

سیاست نہیں سیلاب زدگان کی مدد کریں. محمد کان ابڑو

کشمیر میں 2005کا زلزلہ کون بھول سکتا ہے، مگر حالیہ سیلاب اور بارشوں سے آئی تباہی اس سے کئی گنا زیادہ ہے، کشمیر کے زلزلہ میں پوری قوم کراچی سے خیبر تک ایک سیسہ پلائی ہوئی دیواربن گئی.

لوگ جوق در جوق کشمیر پہنچے، تمام قومی رہنما اپوزیشن میں ہوں یا حکومت میں، سب کے سب اس مشن میں لگ گئے کہ کسی طرح زلزلے میں ہونے والے جانی نقصان کو کم کیا جاسکے، ہر جگہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کشمیر پہنچ کر ملبے میں دبے لوگوں کو نکالتے نظر آئے، یہ وہ دور تھا جب ایک آمر حکومت کررہا تھا، لیکن سیاست میں شائستگی ابھی باقی تھی، خواتین کا احترام تھا، اسٹیج پر کھڑے ہوکر مخالفین پر گالیوں کے نشتر نہیں چلنا شروع ہوئے تھے، ہاں کراچی میںایک لسانی جماعت کی طرف سے قتل و غارت ضرور ہورہی تھی جو شہر اور شہری علاقوں پر قبضے کا خواب دیکھ رہی تھی، مگر مجموعی طور پر ملک کی سیاست میں منفی تبدیلی ابھی وارد نہیں ہوئی تھی، عمران خان اس وقت سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی نظر آتے تھے اور بیک ڈور میں پرویز مشرف سے بھی علیک سلیک رکھتے تھے۔

پاکستانی قوم کی تاریخ رہی ہے کہ تمام اکائیاں اپنے اختلافات کے باوجود جب کوئی قدرتی آفت آتی ہےتوایک ہو کراس کا مقابلہ کرتی ہیں، 2005کا زلزلہ ہو یا 2010کا سیلاب، قوم نے اپنے سیاسی و معاشی مسائل ایک طرف رکھ کر اپنا سب کچھ لٹا دیا اور یہ وہ جذبہ ہے، جس کی بدولت بحیثیت قوم ہم بڑے بڑے سانحات سے جلد نکل آئے۔

شائد ایک بڑی وجہ یہ رہی تھی کہ تمام سانحات میں قومی رہنمائوں نے اپنے سیاسی مقاصد ایک طرف رکھ دیئے اور کوئی بھی حکومتی یا اپوزیشن رہنما قدرتی آفات پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرتانظر نہیں آیا اور یہ ہی وجہ تھی کہ وہ تمام سانحات پاکستانی قوم کی مشترکہ اقدارکے مزید مضبوط بننے کی وجہ بنے اور ہم جلد ان سانحات کے نقصانات پورے کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ مگر 2 ماہ ہوگئے ہیں ملک سیلابی صورتحال اور تباہی کا سامنا کررہا ہے.

سندھ اور بلوچستان میں 3 کروڑ لوگ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں، بچے سڑکوں پر مٹی کھانے پر مجبور ہیں، مائیں اپنے بچوں کو گندم ابال ابال کر کھلا رہی ہیں، شیر خوار بچوں پر جو گزرہی ہے وہ میں تحریر کرنے سے قاصر ہوں، یہ ایسی تباہی ہے جو جنگ عظیم میں پولینڈ وغیرہ میںبھی شاید ہی دیکھنے کو ملی ہو۔ خوراک کی قلت اور وبائی امراض انسانوں کے پیارے ہڑپ کرنے کے لیے سندھ پر حملہ آور ہے

سندھی قوم نے ایسا امتحان اس پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ ایسے میں عمران خان اور پی ٹی آئی قوم کو تقسیم کر کےاپنے مخالفین سے تو حساب چکا رہی ہے مگر جو کچھ ان لوگوں کے کارناموں کی وجہ سے سیلاب متاثرین کو بھگتنا پڑ رہا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ جھوٹی ویڈیوز اور تصاویروائرل کرکے پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا سیل پروپیگنڈہ کررہا ہے کہ بیرون ملک سے آئی امداد کو بیچا جارہا ہے ،جو مکمل جھوٹ ہے اور اس بات کی تردید بیرون ممالک سے بھی آچکی ہے ۔

اس پروپیگنڈے سے سب سے بڑا نقصان قومی وحدت کو ہورہا ہے۔ سندھ کے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے پی ڈی ایم اے نے جو گندم اور آٹا پنجاب سے خریدا تھا اسے اپنے قبضے میں کرکے پنجاب حکومت نےمقدمات بناڈالے، دنیا بھر سے سندھ اور سیلاب متاثرین کے لیے امداد آرہی ہے، جو این ڈی ایم اے کے حوالے کی جاتی ہے، سمجھ نہیں آرہا کہ سندھ کو یہ امداد کیوں نہیں دی جارہی ؟ این ڈی ایم اے کے آپریشن مکمل ناکام ہیں، دوسری طرف بعض تنظیمیں بھی کراچی اور ملک بھر سے کروڑوں کا مال جمع کررہی ہیں لیکن یہ کہاں تقسیم ہورہا ہے اس کاکوئی علم نہیں، فوج، نیوی اور سندھ حکومت ہی سڑکوں پر نظر آرہی ہے

سندھ کے ڈپٹی کمشنر ضرور نااہلیت کا منہ بولتا ثبوت ہوں گے لیکن رات دن جاگ کرلوگوں کی مدد کررہے ہیں، سندھ سے منتخب پی ٹی آئی کے درجنوں ایم پی اے اور ایم این اے مجھے کہیں نظر نہیں آرہے، آخر کیوں ؟ سندھ اگر تباہ حال رہا تو پاکستان تباہ حال رہے گا۔

کیا عمران خان سندھ حکومت کی نفرت میں سیاسی محاذ پر ایسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں جن سے سیلاب متاثرین کی بحالی اور امداد کے کام متاثر ہوں؟عوام یاد رکھیں گے کہ ایک تھا عمران خان جس نے سیلاب متاثرین کی بحالی کے مرحلے کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر وہ قدم اٹھایا جس سے سندھ اور بلوچستان کے کروڑوں لوگوں کی زندگی اجیرن ہو سکے، عمران خان خدارا ہوش کے ناخن لیں اور کچھ ماہ کے لیے سیاست ایک طرف رکھ کر قوم کی خدمت کرلیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں