hazrat-asma-ra 37

حضرت اسما ء رضی اللہ تعالیٰ عنہا) Hazrat Asma (R.A)

Hazrat Asma (R.A)
حضرت اسما ء رضی اللہ تعالیٰ عنہا)

تعارف:

حضرت اسماٗءؓ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی بڑی صاحبزادی تھیں۔ آپؓ ہجرت سے 27 سال پہلے مکہ میں پیدا ہوئیں ۔اُن کی والدہ کا نام قتیلہ تھاجو قریش کے ایک مشہور اور نامور سردار عبد العزیٰ کی بیٹی تھیں ۔ عبداللہ بن ابو بکرؓ ان کے حقیقی بھائی اور حضرت عائشہؓ ان کی سوتیلی بہن تھیں۔

قبولِ اسلام:

حضرت ابوبکر صدیقؓ سب سے پہلے حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے ۔ ان کے مسلمان ہونے کے چند روز بعد حضرت اسماؓ ء ایمان لائیں۔ یہ سترہویں مسلمان خاتون تھیں۔ ان کی والدہ قتیلہ نے چونکہ اسلام قبول نہیں کیا اس وجہ سے حضرت ابوبکرؓ نے اُن کو طلاق دے دی۔

ذات النطاقین کا لقب:

حضور نبی کریمؐ کو مکہ کے کافروں نے جب بہت تنگ کیا یہاں تک کہ قتل کرنے کے درپے ہوگئے تو آپؐ نے مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے جانے کا ارادہ کیا۔ حضرت ابوبکرؓ بھی آپؐ کے ہمراہ ہوئے ۔دونوں حضرات نکل کر مکہ سے تھوڑے فاصلے پر ایک پہاڑ میں جس کو جبل الثور کہتے ہیں اس کے ایک غار میں بیٹھ ر ہے تا کہ کافر ان کو پہنچ نہ پائیں ۔تین دن تک اسی غار میں بیٹھے رہے۔ حضرت ابوبکرؓ کو اسی وجہ سے یارِغار کہتے ہیں ۔کافر چاروں طرف ان کی تلاش میں گھوڑے دوڑاتے رہے ۔بارہا اِسی غار کے منہ پر سے گزرے لیکن ا للہ تعالیٰ نے ان کو محفوظ رکھا۔

حضرت اسماءؓ چپکے سے رات کو کھانا لے کر جاتی تھیں۔ اور غار میں ان کو کھلا کرآ تی تھیں۔ ان کے بھائی عبداللہؓ جواب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے دن بھر کافروں کے اراد و ں اور مشوروں کا پتا لگایا کرتے تھے۔ رات کو غار میں پہنچ کر تمام خبریں سنا دیا کرتے تھے۔ عامر حضرت ابوبکرؓ کا چرواہا ان کی بکریاں غار کے منہ پر لاتا تھا۔ بقدر ضرورت دودھ دے جاتا تھا اور حضرت اسماءؓ اور عبداللہؓ کے نقش قدم کو اپنی بکریوں کے کھروں سے مٹا دیتا تھا تاکہ کفار کو اس کے ذریعے سے غار کا سراغ نہ لگ جائے۔آخرکار کفار تھک ہار کر بیٹھ گئے مگر ابھی تک ان کو کسی قدر امید باقی تھی۔ سو اونٹ کا انعام اس شخص کے لئے مقرر کیا گیا جوحضرت محمدؐ کو گرفتارکرکے واپس لائے۔ تیسرے دن رات کو جب حضرت اسماءؓ کھانا لے کر گئیں تو آپ ﷺ نے ان سے کہا کہ حضرت علیؓ سے جا کر کہو کہ وہ کل رات کے وقت ہمارے لئے تین اونٹ اوررہبر تلاش کر کے اسی غار پر بھیجیں ۔

حضرت علیؓ نے ایسا ہی کیا۔ حضرت اسماءؓ زادِ راہ تیار کر کے لے آئیں۔ دسترخوان کو باندھنے کیلئے رسی کی ضرورت ہوئی مگر وہاں رسی کہاں ۔ حضرت اسماءؓ نے نطاق( ایک رومال عرب کی عورتیں اوپر کمر پر باندھتی ہیں) کھول کر دو ٹکڑے کردیئے 1 سے دسترخوان باندھا دوسرے سے مشکیزے کا منہ۔ اِسی دن دربارِ نبوت سے انکو ذات النطاقین کا لقب ملا۔

جذبہ ایثار:

حضرت ابوبکرؓ جب اسلام لائے تو ان کے پاس چالیس ہزار دینار یعنی تقریباً ایک لاکھ روپے تھے۔ وہ تمام دولت انہوں حضرت محمد ؐ اور دین اسلام کی امداد میں صرف کردی ۔ہجرت کے وقت کل 5000 درہم یعنی ڈیڑھ ہزار روپے کے آس پاس باقی رہ گئی تھی۔ وہ بھی عبداللہؓ سے منگواکر اپنے پاس رکھ لی کہ مدینہ میں آنحضرت ﷺ کے کام آئیں گے اور بال بچوں کو اللہ کے بھروسے پر چھوڑ کر چلے گئے۔حضرت اسماؓ ان لوگوں کو رخصت کر کے گھر آئیں۔ صبح کو ابو قحافہؓ حضرت ابوبکرؓ کے والد جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے بعد میں اسلام لائے ان کے گھر میں آئے بہت بوڑھے ہو گئے تھے۔

آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا تھا۔ بہت رنج کے ساتھ کہنے لگے کہ نہایت افسوس ہے کہ ابوبکرؓ خود بھی چلے گئے اور تمام مال بھی ساتھ لے گئے تم لوگوں کے لیے کچھ نہ چھوڑا۔ حضرت اسماءؓ نے ان کی طبیعت کو تسکین دلانے کے لیے ایک تھیلی کنکر اور پتھر سے بھر کر اسی طاق میں رکھ دی جس میں حضرت ابوبکرؓ روپے رکھا کرتے تھے۔ اور ان سے کہا کہ دادا ابو وہ تو ہمارے لئے بہت کچھ چھوڑ گئے ہیں۔ اور انکا ہاتھ لے جاکر اس طاق پر رکھ دیا۔ ابو قحافہؓ سمجھے کہ حقیقت میں یہ روپے ہیں۔ انکو اطمینان ہوگیا۔ اور بولے خیر تب کچھ حرج نہیں۔ مدینہ میں پہنچ کر حضرت ابوبکرؓ نے تین اونٹ بھیجے اور عبداللہؓ کو لکھا کہ تم سب کو لے کر چلے آؤ چنانچہ وہ حضرت عائشہؓ اور انکی والدہ ام رومانؓ اور حضرت اسماؓ ء کو لیکر مدینے روانہ ہوئے۔

ازدواجی زندگی:

حضرت اسماء کا نکاح حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے ساتھ ہوا جو نبی اللہ ؐ کے پھوپھی زاد بھائی بھی تھے اور جن کو حواری کا لقب ملا تھا۔ خود حضرت اسماءؓ کی زبانی روایت نقل کی گئی ہے کہ جب میرا نکاح زبیرؓ کے ساتھ ہوا۔ ان کے پاس کچھ نہ تھا نہ کوئی غلام تھا نہ کچھ مال تھا۔نہ سامان تھا صرف ایک گھوڑا تھا ۔ میں ہی اس گھوڑے کی سائیسی دیاکرتی تھی ۔آنحضرت ؐ نے زبیرؓ کو ایک نخلستان عطا فرمایا تھا۔ جو مدینہ سے دو میل کے فاصلہ پر تھا۔ میں وہاں سے کھجور کی گھٹلیاں روزانہ اپنے سر پر اٹھا کر لاتی خود ہی دلتی پھر گھوڑے کو کھلاتی۔ اس کو پانی پلاتی۔اس کا ساز سیتی، گھر کا جو کچھ کام کاج ہوتا وہ بھی میں ہی کرتی تھی ۔ مجھے اچھی روٹی پکانانہیںآتی تھی۔ آٹا گوندھ کر اپنے پڑوس میں انصار کی بیویوں کو جو نہایت خلوص اور محبت رکھنے والی تھیں اور دوسروں کا کام کرکے ان کو دلی خوشی ہوتی تھی، دے آیا کرتی تھی وہ پکا دیا کرتی تھیں ۔اس قدر دشواری اور مشکل میں دیکھ کر میرے باپ نے میرے پاس ایک غلام بھیج دیاجس کی بدولت مجھ کو کام سے سبکدوشی ہوگئی۔ انہوں نے غلام کیا بھیجا گویا مجھے آزاد کر دیا۔

اولاد:

ان کے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہوئیں جن کے نام یہ ہیں:۔
(۱) عبداللہ
(۲) عرو ہ
(۳) منذر
(۴) عاصم
(۵) مہاجر
(۶) خدیجہ
(۷) ام الحسن
(۸) عائشہؓ

نڈر اور بہادر:

حضرت زبیرؓ عرب کے ان لوگوں میں سے تھے جو بہادری میں بے مثال مانے جاتے ہیں ۔وہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اور ان کے بعد بھی برابر لڑائیوں میں شریک رہے۔ شام اور مصر کی فتوحات میں ان کے بڑے کارنامے ہیں ۔حضرت اسماءؓ بھی ان کے ساتھ جایا کرتی تھیں۔ جنگ یرموک جو شام میں سب سے بڑی لڑائی ہوئی اس میں بھی موجود تھیں۔ حضرت عمرؓ نے ایک ہزار درہم سالانہ اِن کی تنخواہ مقرر کی تھی۔جس زمانہ میں سعد بن العا صؓ مدینہ شریف کے حاکم تھے اس زمانے میں وہاں چوریاں بہت ہونے لگی تھیں۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا اپنے سرہانے خنجر رکھ کر سویا کرتی تھیں۔

سادگی اور درویشی کی زندگی:

ان کے بیٹوں کے تاریخ اسلام میں بڑے بڑے کارنامے ہیں۔ حضرت عروہ ؓ بہت بڑے محدث ہوئے ہیں۔ حضرت عبداللہؓ جو بعد ہجرت کے اسلام کے اولین فرزند تھے بعد میں خلیفہ بنے ۔باوجود یہ کہ حضرت اسماءؓ کے گھر میں دولت کی کچھ انتہا نہ تھی مگر وہ اپنی سادگی پرقائم رہیں۔ ہمیشہ موٹاکپڑا پہنتیں اور درویشی کے ساتھ زندگی بسر کی۔ان کے بیٹے حضرت منذرؓ جب عراق کی لڑائی فتح کرکے لوٹے توکچھ زنانے خوبصورت کپڑے ان کے لئے لائے۔ انہوں نے منظور نہ کیے۔ اور واپس کردیے۔ منذرؓ پھر موٹے کپڑے لے کر خودآئے۔ اور ان کی خدمت میں گئے اور پیش کئے بہت خوش ہوئیں اور کہنے لگی کہ ہاں مجھ کو ایسے ہی کپڑے پہنایا کرو۔

سخاوت:

فیاضی جو عرب کا اصلی جوہر ہے ۔حضرت اسماءؓ کے مزاج میں بہت تھی ۔اپنے تمام بال بچوں کو ہمیشہ نصیحت کیا کرتی تھیں کہ مال اپنا اور دوسروں کا کام نکالنے کے لئے ہے نہ کہ جمع کرنے کے لئے۔ اگر تم اللہ کی مخلوق سے اپنے مال کو روکو گے تو اللہ بھی اپنی نعمتوں کو تم سے روکے رکھے گاجو تم نے صدقہ کیا وہی دراصل تمہارا ذخیرہ ہے اور وہ کبھی کم نہ ہوگا۔ ان کو کبھی کبھی دردِ سر کا دورہ ہو جایا کرتا تھا۔ اس وقت جو کچھ ان کے پاس ہوتا تھا غریبوں کو بانٹ دیا کرتی تھیں اور جس قدر غلام ہوتے تھے سب کو آزاد کر دیتی تھیں۔ کیوں کے صدقہ سے انسان کی بلائیں رد ہو جاتی ہیں۔

شرک سے نفرت:

شرک کی ایسی سخت دشمن تھیں کہ ان کی ماں قتیلہ کچھ تحفے تحائف لے کر مدینہ میں ان کو دینے آئیں ۔انہوں نے ان کے تحفے لینے سے انکار کردیا۔ گھر میں داخل نہیں ہونے دیا کیوں کہ وہ اب تک مشرک تھیں۔ حضرت عائشہؓ کے پاس کہلا بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تحفے قبول کرو اور ان کو مہمان رکھو۔ تب ان کو گھر میں لا کر مہمان رکھا۔

بیٹے کی حجاج سے جنگ:

60 ہجری میں ان کے بیٹے حضرت عبداللہؓ بن زبیر بن مدینہ سے مکہ میں گئے۔حضرت اسما ءؓ کو بھی جو بڑھاپے کی وجہ سے اندھی ہو چکی تھیں وہیں بلا لیا۔ حضرت عبداللہؓ جیسا فرماں بردار بیٹا ہونا بہت ہی مشکل ہے۔ وہ اپنی بوڑھی ماں کی بہت اطاعت کرتے تھے۔ اور ان کی رضا مندی کو اپنے تمام مقاصد کی کنجی سمجھتے تھے۔66ہجری میں وہ عرب اور عراق کے خلیفہ بنے۔ سات برس خلافت کرنے کے بعد عبدالمالک بن مروان کے وزیر حجاج نے ان پر بڑی بھاری فوج سے چڑھائی کی۔ یکم ذی الحجہ 72 ہجری کو مکہ کا محاصرہ کرلیا۔ چاروں طرف سے رسد کی آمد بند کردی۔ چھ مہینے تک لڑائی جاری رہی۔ حضرت عبداللہؓ کے مددگار بوجہ کمی رسد کے ٹوٹ پھوٹ کرحجاج سے جا ملے۔ اور ان کے پاس تھوڑے سے آدمی رہ گئے۔ آخر شہر پناہ کے دروازے بھی لوگوں نے کھول دیے اور دشمن چاروں طرف سے گھس پڑے۔

پیکرِ عظم وہمت:

حضرت عبداللہؓ اپنی ماں کے پاس گئے انہوں نے کہا کہ بیٹا اگر تو سمجھتا ہے حق پر ہے تومردوں کی طرح لڑ اورذلت کی کوئی بات جا ن کے خوف میں آکر ہرگز برداشت نہ کر۔ عزت کے ساتھ تلوار کھانا زیادہ بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ ذلت کے ساتھ آدمی دنیا کی نعمتیں کھائے ۔ حضرت عبداللہؓ بہادری کے ساتھ لڑے لیکن کیا ہو سکتا تھا آخر زخمی ہوکر گرفتار ہوئے ۔حجاج نے ان کا سر کاٹ کر عبدالمالک کے پاس بھیج دیااور حضرت اسماءؓ کے پاس جا کر کہا تمہارے بیٹے کو میں نے اس لیے قتل کیا کہ اس نے اللہ کے گھر میں بغاوت پھیلائی تھی۔

حضرت اسماء ؓ نے کہا کہ میرا بیٹا بے دین نہ تھا ۔بڑا پرہیزگار عبادت گزار اور اپنی ماں کا فرمانبردار تھا ۔مگر میں نے نبی کریم ﷺ سے ایک حدیث سنی ہے کہ قبیلہ ثقیف سے دو دجال پیدا ہوں گے جن میں سے دوسرا پہلے سے بدتر ہوگا۔ پہلا تو گزر چکا (مختار ثقفی) دوسرا تو ہے۔ حجاج انکے اس بے دریغ اور تلخ جواب سے جل گیا اور اس نے حضرت عبداللہؓ کی نعش چوک میں لٹکا دی۔ اور کہا کہ جب تک حضرت اسماؓ خود آ کر نہ مانگیں وہیں لٹکی رہے۔ تین دن گزر گئے تیسرے دن بھی جب حضرت اسماء ؓ نے سنا کے اب تک نعش لٹکی ہوئی ہے۔ توکہا کہ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ یہ سوار اترے۔ جب یہ جملہ لوگوں نے سنا تو حجاج سے سفارش کی۔ اس نے نعش اتروا دی اور وہ دفن کر دی گئی۔

وصال:

وصال کے وقت حضرت اسماءؓ کی عمر سو برس تھی ان کا کوئی دانت نہیں ٹوٹا تھا اور تمام قوی صحیح و سالم تھے البتہ آنکھوں سے معذور ہو گئی تھیں ۔ حضرت عبداللہؓ کی شہادت کے بیس روزبعد 27 جمادی الاول 73ہجری میں ان کا وصال ہوا اور ان کومکہ میں دفن کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں