Hassan-Nisar-articles 202

دونوں طرف آگ برابر لگی ہے . حسن نثار

حسن نثار

ہم میں سے کتنے فیصد لوگوں کی تربیت کچھ اِس انداز اور ایسے ماحول میں ہوئی ہے کہ وہ اپنی اپنی سیاسی وابستگیوں سے اوپر اٹھ کر صرف اور صرف ایک ’’پاکستانی‘‘ بن کر سوچ سکیں؟

مجھے اِس کا کوئی اندازہ نہیں لیکن میری خواہش ضرور ہے کہ اللّٰہ جسے توفیق دے وہ چند لمحوں کیلئے یہ سوچنے کی زحمت ضرور کرے کہ یہ کون لوگ تھے جو اپنے کروڑوں ہم وطنوں کو خطِ غربت پر رینگتے ہوئے دیکھنے اور عام آدمی کے حالات سے واقفیت کے باوجود مکمل بےحسی اور ڈھٹائی، بےشرمی اور بےحیائی کے ساتھ اربوں روپیہ اجاڑتے رہے۔

مجھے ابھی تک اپنے کانوں اور آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا کہ ’’روٹی، کپڑا، مکان‘‘ کے لارے لگانے والے مداریوں اور ووٹ کو عزت دینے والے بہروپیوں نے سرِعام اون دی ریکارڈ یہ جمہوری واردات کی ہے۔نواز شریف 541کروڑ،آصف زرداری 316کروڑ،شہباز شریف عرف خادمِ اعلیٰ 872کروڑ روپے اپنی اپنی سیکورٹی اور کیمپ آفسز کے چکر میں اجاڑ گئے۔

اور میں اپنی تمام تر جمہوری کمینگی کے ساتھ سوچ رہا ہوں کہ اگر یہ اربوں روپے اتنے ہی ’’خلوص‘‘ کے ساتھ تعلیم اور صحت پر خرچ ہوتے تو کتنے لاکھ لاوارث افتادگانِ خاک کو کتنا ریلیف مہیا کیا جا سکتا تھا؟یہ ظلم بھی ہوتا تو شاید قابلِ قبول ہوتا لیکن یہ تو ننگا چٹا انتقام ہے….

عوام سے یہ بھیانک انتقام ایسا ہی ہے جیسے کسی پیاس سے مرتے ہوئے شخص کو دیکھ کر کوئی سفاک، کوئی سنگدل آدمی پانی کو گندی نالی میں بہا کر اپنے اس کارنامے پر تالیاں بجانے لگے، یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے بھوک سے بلکتے سسکتے لوگوں کو دیکھ کر کوئی جنونی اناج کے گوداموں کو آگ لگا دے۔

ظالمو! لوٹو، ضرور لوٹو، جی بھر کے لوٹو لیکن یہ لوگ تو اس مقروض ترین ملک کے وسائل کو باقاعدہ ضائع کرتے اور بھاڑ میں جھونکتے رہے۔ ’’سیکورٹی‘‘ کی بھی کوئی نہ کوئی حد تو ہوتی ہو گی لیکن غلیظ بدبودار انائوں کی تسکین کا شاید نہ کوئی حساب ممکن ہے نہ جواب۔نواز شریف اور 541کروڑ روپے کا اجاڑا اور وہ بھی کس کھاتے میں؟

چھوٹے میاں 872کروڑ روپیہ کس جنون کی بھینٹ چڑھا گئے تو یہاں نحوست نہ برسے گی، پھٹکار کی بھرمار نہ ہو گی، ویرانیوں کے سونامی نہیں آئیں گے تو کیا ہو گا؟ اور کمال دیکھو کہ حکمران خاندان کو زوال کی زد میں آئے عرصہ ہو گیا، ساری سیکورٹیاں، تام جھام خس و خاشاک کی طرح بہہ چکا،جاتی امرا جائے عبرت کا نمونہ، نہ بندہ نہ بندے کی ذات، الو بولتے ہیں۔

سناٹوں کا راج ہے لیکن مجال ہے کہ ان میں سے کسی کو کوئی خراش تک بھی آئی ہو۔ ’’محفوظ‘‘ تھے، ہیں اور اللّٰہ چاہے تو رہیں گے لیکن اربوں روپیہ غارت کر کے عوام سے یہ انتقام میری سمجھ سے بہت ہی باہر ہے۔

کوئی ماہرِ نفسیات ہی تاتاریوں سے کہیں زیادہ اس ظالمانہ رویہ کی ڈائی سیکشن کر سکتا ہے یا شاید یہ اصلی جاتی امرا (امرتسر والا) کے کوئی اثرات ہوں۔

نیم خواندہ لوگ ماضی کے اِن مہم جوئوں کو بہت ظالم اور بےرحم سمجھتے ہیں جو یلغاروں کے دوران انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنوا دیا کرتے تھے حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اس بظاہر سفاکانہ عمل کے پیچھے دراصل رحم کا جذبہ کارفرما ہوتا تھا کہ اتنا خوف اور سہم پھیلا دیا جائے کہ مزاحمت کم سے کم ہو کیونکہ اگر مزاحمت ہی نہ ہو گی تو قتلِ عام کیسا؟

نادر شاہ جیسے پاگل ابنارمل جنگجوئوں کو چھوڑ کر اکثریت اسی اصول پر چلتی تھی کہ کم سے کم جانی نقصان پر زیادہ سے زیادہ علاقہ پر قبضہ کیا جائے لیکن یہ کون لوگ ہیں؟ ان کی کیا نفسیات ہے؟ ان کی اصل ترجیحات کیا ہوتی ہیں؟ شاید یہ خود بھی نہ جانتے ہوں۔

دوسری طرف وہ لوگ جو ان ’’منگولوں‘‘ کو اپنا مسیحا سمجھتے ہیں اور ناقابلِ تردید ثبوتوں کے باوجود ان کے سحر یا عشق میں مبتلا رہتے ہیں تو پھر ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہو، جتنا بھی ہو ….. بہت کم ہے کہ اگر ذلت اور اذیت ہی ان کی پسندیدہ خوراک ہے تو کوئی کیا کر سکتا ہے…..جتنی ملے کم ہے۔

’’دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی‘‘ایک طرف ظلم ڈھانے کی آگ دوسری طرف ظلم سہنے بلکہ ’’انجوائے‘‘ کرنے کی آگ کیا سابق حکمرانوں سے ایک ماہ کے اندر اندر یہ وصولیاں ممکن ہوں گی؟ یا ’’جمہوریت کا حسن‘‘ اس کا رستہ روک لے گا۔

اسحاق ڈار کو ’’ہجویری ہائوس‘‘ کی نیلامی رکنے پر مبارک ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں