hamid saeed kazmi sahib ka bian about minhajul quran 115

اختلاف رائے اور ردعمل کے آداب. از قلم : مفتی ارشاد حسین سعیدی

13 / 100

اختلاف رائے اور ردعمل کے آداب
محترم صاحبزادہ سید حامد سعید کاظمی صاحب کا بیان اور منھاج القرآن کے وابستگان کی دل آزاری

از قلم : مفتی ارشاد حسین سعیدی

گزشتہ دنوں جانشین امیر ملت پیر سید منور حسین شاہ صاحب جماعتی مدظلہ العالی کی صدارت و میزبانی میں آستانہ عالیہ امیر ملت رحمۃ اللہ تعالی علیہ علی پورسیداں شریف ناروال میں ” عظمتِ سیدہ فاطمة الزھراء وشان سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللّه تعالی عنہم کانفرنس ” منعقد ہوئی جس میں پاکستان بھر سے مختلف آستانوں کے وارثان و سجادہ نشینان کے علاوہ جید علماء کرام اور دنیی جماعتوں کے نمائندگان نے شرکتِ کی ۔ یہ کانفرنس بنیادی طور پر آصف اشرف جلالی صاحب کے انتہائی متنازعہ بیان اور پھر مضحکہ خیز تاویل در تاویل کے لا متناہی سلسلہ سے پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق تھی۔

اس کانفرنس میں صاحبزادہ سید حامد سعید شاہ صاحب کاظمی نے بھی شرکت کی۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ میری معلومات کے مطابق آصف اشرف جلالی صاحب کے بیان کے بعد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ العالی کے سیریز خطابات بعنوان ” دفاع شان سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا ” سے بھی پہلے انتہائی مدلل رد عمل ایک خط کی صورت میں حضور غزالی زماں ، رازی دوراں قبلہ احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے فیضان علمی کے وارث شیخ الحدیث صاحبزادہ سید ارشد سعید شاہ صاحب کاظمی کی طرف سے آیا تھا جو کہ جلالی صاحب کو بھجوایا گیا تھا۔ بہرحال اس مذکورہ کانفرنس میں سید حامد سعید شاہ صاحب کاظمی نے اظہار خیال کرتے ہوئے معروضی صورتحال کو سنوارنے اور اس کی اصلاح کرنے کے حوالے سے اپنی تجویز بھی پیش کی کہ اپنے لوگوں کو اہل سنت سے نکالنے کی بجائے ان کو کسی طرح سے سمجھایا جائے۔ وہ سواد اعظم اہلسنت و جماعت کی پارہ پارہ صورتحال پر دل گرفتہ بھی نظر آئے۔ یہ سب باتیں مسلک حق کے لئے ایک صاحب درد شخصیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ لیکن انہوں نے منھاج القرآن اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ العالی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کچھ نا مناسب الفاظ کا استعمال فرمایا۔ ان کے الفاظ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔ انہوں نے فرمایا کہ

” ایک پہلے ہی وہ فرقہ طاہریہ ……طاہر القادری کی صورت میں ۔۔۔۔۔ دیکھیے ہم اس کو کتنا ہی برا کہیں لیکن بہرحال یہ ماننا پڑے گا کہ ساری دنیا میں اس کے پیروکاروں کی تعداد گنیں تو وہ لاکھوں سے نکل کر کروڑوں تک جا پہنچتی ہے ”

حضور والا ! اگر آپ نے یہ کلمات کسی نجی محفل میں کہے ہوتے تو یقینا یہ سطور لکھنے کی بھی ضرورت نہیں تھی مگر یہ بات چونکہ ایک قومی سطح کی کانفرنس میں کی گئی ہے اور پوری قوم نے سنی ہے جس سے معتدل مزاج رکھنے والے افراد کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور بالخصوص شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ العالی سے عقیدت رکھنے والے لاکھوں ، کروڑوں افراد کے جذبات مجروح ہونے ہیں۔ ممکن ہے کہ سبقت لسانی کے باعث ایسا ہوا ہو۔ مگر جتنا بڑا منصب ہو ، زبان سے ادا ہونے والے کلمات کا درجہ بھی اتنا بڑا ہوتا ہے۔ اور آپ جیسی ہستی سے اس قدر غیر محتاط الفاظ کے صادر ہونے کو معمولی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے اس تحریر کی ضرورت پیش آئی ہے۔

حضور والا ! آپ کا احترام و تعظیم نہ صرف اس عاجز کے دل میں ہے بلکہ ان ہزاروں ، لاکھوں دلوں میں بھی موجود ہے جن میں عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع روشن ہے ، جو مسلک حق اہلسنت و جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو اہل بیت اطہار ، صحابہ کرام ، اولیاء و صالحین کی نسبتوں سے پیار کرتے ہیں۔ جو اکابرین مسلک حق بالخصوص حضور غزالی زماں ، رازی دوراں سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمتہ اللہ تعالی علیہ کے ساتھ کسی بھی طرح سے کوئی نسبت رکھتے ہیں۔ مگر بقول قلندر لاہوری علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ

خُوگرِ حمد سے تھوڑا سا گِلا بھی سُن لے

حضور والا ! بصد عجز و نیاز عرض ہے کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ العالی کے ماننے والے کوئی فرقہ نہیں ہیں۔ حضور شیخ الاسلام مدظلہ العالی کی سینکڑوں تصانیف اور ہزاروں خطابات اس بات کی گواہی کے لیے کافی ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ ” امت ” کی بات کی ہے۔ اجتماعیت کی بات کی ہے۔ باہمی اتحاد و یگانگت کی بات کی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ سواد اعظم اور اکابرین امت کے مسلک پر قائم رہنے کا اقرار بھی کیا ہے اور پرچار بھی کیا ہے۔ اسی طرح ان کے پیروکاروں کی طرف سے آج تک اپنے آپ کو نہ تو ایک فرقہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ایک فرقہ ہونے کا کوئی تاثر دیا گیا ہے۔ ان کے ماننے والوں نے نہ تو سواد اعظم اہل سنت و جماعت کے عقائد سے ہٹ کر کوئی عقائد وضع کیے نہ ہی اکابرین امت کے راستے سے جدا کوئی راستہ اپنایا۔ نہ ہی کوئی مخصوص شکل وصورت اختیار کی اور نہ ہی کوئی مخصوص پگڑیاں اور لباس پہنے۔ نہ ہی کسی پر آج تک کیچڑ اچھالا اور نہ ہی کسی پر کفر کے فتوے لگائے۔ نہ ہی اکابرین اہل سنت کے خلاف کتابیں لکھیں اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی تقریریں کیں۔ بلکہ اسلاف و اکابرین امت کی روایات پر کاربند ہیں۔

عصر حاضر میں اسلام کی حقانیت کو دلیل سے ثابت کرنا ، ترویج و اشاعت دین میں جان و مال کی قربانی کیلئے ہر وقت تیار رہنا ، اقامت و احیاء اسلام کیلئے جان کی بازی تک لگا دینا ، غلبہ دین حق کی جدو جہد میں ہر وقت مصروف رہنا ، اصلاح احوال امت کیلئے کوئی لمحہ فروگزاشت نہ کرنا ، فروغ اتحاد امت کو اپنا شعار بنانا اور نوجوان نسل کو دلیل کے ساتھ عقیدہ حق کا شعور دینا ان کا طرہ امتیاز ہے۔ کیا ایسی روایات رکھنے والوں کو ایک فرقہ قرار دیا جانا چاہیے ؟ کیا یہی قرین انصاف ہے ؟

وسیع القلبی سے متصف یہ لاکھوں کروڑوں امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے وفادار خادم اپنی مثال آپ ہیں۔ منھاج القرآن کے وابستگان اپنے اپنے علاقے میں تمام سیاسی ، سماجی اور دینی جماعتوں کے ساتھ بالعموم اور مسلک حق اہلسنت و جماعت کی تمام تنظیمات کے ساتھ کھلے دل سے ، اتحاد و اتفاق سے ، احترام و رواداری سے چلتے رہے ہیں اور چل رہے ہیں۔ کیا ایسے کشادہ فکر و ذہن کے حامل لوگوں کو فرقہ قرار دے کر ان سے اپنی نفرت و بیزاری کا یوں اظہار کرنا مناسب ہے ؟

منھاج القرآن کے ماننے والے اس قافلہ شعور و انقلاب میں شامل ہونے سے پہلے جن جن آستانوں سے بیعت تھے ، آج تک انہیں نسبتوں کے بندھن میں جڑے ہوئے ہیں۔ انہیں کبھی بھی اپنے اپنے آستانوں سے رشتے ناطے توڑنے کیلئے نہ تو مجبور کیا گیا اور نہ ہی ایسی کوئی ترغیب دی گئی۔ اور جو اس قافلے کا حصہ بننے سے پہلے کہیں بیعت نہیں تھے ان پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی بلکہ وہ بعد ازاں اپنے اطمینان قلب کے ساتھ مختلف آستانوں سے بیعت ہوتے رہے ہیں۔ اور اب بھی ہوتے رہتے ہیں۔ کیا ایسی وسیع القلب اور وسیع المشرب قیادت کو بیک جنبش قلم ایک فرقے کا بانی قرار دے دینا مناسب ہے ؟

منہاج القرآن کی قیادت یا مرکز کی طرف سے اپنے کارکنان کو کبھی بھی دوسری جماعتوں اور تنظیمات کے اجتماعات میں جانے یا تعاون کرنے سے منع نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی منہاج القرآن کے مرکزی یا مقامی اجتماعات میں کسی عالم دین یا مذہبی شخصیات کو اپنے اجتماعات میں دعوت دینے میں کسی قسم کے بخل کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ کیا پھر بھی ان پر یہ الزام لگانا مناسب ہے کہ وہ ایک فرقہ ہیں ؟

تعجب ہے کہ آپ نے کس دلیل کی بنیاد پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ العالی کے ماننے والوں کو ایک فرقہ قرار دے دیا ؟؟؟

حالانکہ وہ اپنے عقائد ، نظریات ، معمولات ، آداب ، اقوال و اعمال اور طرز عمل کے اعتبار سے اسی سواد اعظم کا آئینہ ہیں اور اسی مسلک حق کے پیروکار ہیں جس کا تسلسل چودہ سو سال سے جاری و ساری ہے۔
ا
گر محض کسی شخصیت سے عقیدت کی بنیاد پر کسی کو ایک ” فرقہ ” قرار دے دینا ہی قرین انصاف ہے تو پھر ہر قابل ذکر شخصیت کے عقیدت مندوں کی کچھ نہ کچھ تعداد معاشرے میں موجود ہے۔ تو پھر جتنے مشائخ ہیں ان تمام کے ماننے والوں کو بھی ایک فرقہ قرار دے دیا جائے ؟
جتنے پیران کرام ہیں ان کے مریدین کو بھی ایک فرقہ قرار دے دیا جائے ؟
جتنے قابل ذکر مدارس ، دارالعلوم یا جامعات موجود ہیں۔ ان کے طلبہ ، اساتذہ اور وابستگان کو بھی ایک فرقہ قرار دے دیا جائے ؟

تمام دینی جماعتوں کے رہنماؤں کے ماننے والوں کو بھی ایک فرقہ قرار دے دیا جائے ؟

اس پیمانے پر تو پھر کوئی بھی سواد اعظم کا حصہ نہیں رہے گا بلکہ الگ الگ فرقہ شمار کیا جائے گا !!!

باقی رہا شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ العالی کیلئے آپ کی طرف سے لفظوں کا انتخاب !!!

اس پر بھی حیرت کے سوا میرے پاس لکھنے کو کچھ نہیں۔ آپ اپنی شخصیت اور منصب کو دیکھیں ! اپنی نسبت کو دیکھیں ، جس کانفرنس میں آپ تشریف فرما تھے وہاں بیٹھے ہوئے اکابرین کے جم غفیر کو دیکھیں ، سواد اعظم کے لیے جس فکر و درد کا آپ اظہار فرما رہے ہیں ، اس کاز کو دیکھیں ، اور پھر آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ کیا شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ العالی کیلئے آپ کو یہ عامیانہ انداز زیب دیتا ہے ؟؟؟
دوسری طرف آپ آصف اشرف جلالی صاحب کو تو بار بار ” صاحب ” کہتے نظر آ رہے ہیں ، جو کہ ہمارے مطابق اچھی بات ہے ، مگر غیر جانبداری کا مظاہرہ فرماتے ہوئے محض اظہار مروّت کے لیے اگر ” طاہرالقادری ” کے ساتھ بھی کچھ کلمات لگا دیتے تو آپ کے اپنے بیان میں وزن پیدا ہو جاتا۔

اس مذکورہ کانفرنس میں منہاج القرآن کا وفد بھی موجود تھا۔ اور آپ سے چند لمحات قبل منہاج القرآن علماء کونسل کے مرکزی ناظم علامہ میر محمد آصف اکبر صاحب نے بھی چند کلمات ادا کیے۔ اگر ان کا اظہار خیال آپ کی گفتگو کے بعد ہوتا اور وہ آپ کی بات کے ردعمل میں کچھ کہتے تو اس کانفرنس میں ہونے والی کسی بھی قسم کی نا خوشگواری کا ذمہ دار کون قرار پاتا ؟

حضور والا ! شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ العالی نے کسی نئے فرقے کی بنیاد نہیں رکھی بلکہ سواد اعظم کے عقیدہ و مشرب کی ہی خدمت کی ہے اور کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس نوجوان نسل کو لادینیت اور بے راہروی میں مبتلا ہونے سے بچایا ہے جو نام نہاد مذہبی طبقے کے طور طریقوں سے متنفر ہوتی جا رہی تھی۔

انہوں نے اس نوجوان نسل کو بد مذہب ہونے سے بچایا ہے جن کے آباء و اجداد تو محبت و عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور نسبت اولیاء کی عقیدتوں کے جذبوں سے سرشار تھے مگر ان کی اولادیں قصے کہانیوں کی بجائے براہ راست قرآن اور حدیث کی دلیل مانگ رہی تھیں۔

انہوں نے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی اس نوجوان نسل کو عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسیر بنایا ہے جو مادیت کے گڑھوں میں گرنے کے قریب پہنچ چکے تھے۔
انہوں نے قلندر لاہوری علامہ اقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے فارمولے ” شراب کہن در جام نو ” کا اسلوب اپنایا اور اور دلیل کی بنیاد پر اسلام کی حقانیت اور عقیدہ حق کو سمجھنے کی طلب رکھنے والوں کو گمراہی سے بچا کر ہدایت کی دہلیز پر کھڑا کر دیا۔

عقیدہ توحید کو ڈھال بنا کر انبیاء و صالحین کی تعظیم کے باب میں غلط فہمیاں پیدا کرنے والوں کا راستہ روکا۔
بدعت کی بے بنیاد تاویل کرکے میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر معمولات اہلسنت و جماعت پر طعن و تشنیع کرنے والوں کو جواب دیا اور عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دھوم مچانے والوں کو دلیل کی زبان سکھائی۔

انہوں نے ذات رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ، عشق ، ادب اور تعظیم کے جذبہ ایمانی کو اہل ایمان کے دلوں میں پھر سے جلاء بخشی۔

ان کی تالیف کردہ سینکڑوں تصانیف اور بیان کردہ ہزاروں موضوعات پر مشتمل خطابات نے سواد اعظم کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آپ کے اپنے اعتراف کے مطابق آج وہ لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگوں کے دلوں میں دھڑکتے ہیں۔ جبکہ ان کو اہل سنت سے نکالنے کا اعلان کرنے والوں ، ان پر طرح طرح کے فتوے صادر کرنے والوں ، ان کے خلاف طرح طرح کی کتابیں ، رسالے اور مضامین لکھنے والوں کے سب عقیدت مند اور پیروکار ایک پلڑے میں رکھیں اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ العالی کے ماننے والوں کو ایک پلڑے میں رکھیں تو یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ کون اللہ تعالی اور اس کے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل و کرم اور اپنی خداداد صلاحیت ، محنت اور حکمت عملی کے نتیجے میں سواد اعظم کا وارث و امام بن گیا اور کون خواب غفلت میں سوتے سوتے سکڑ کر ایک محدود گروہ اور فرقہ بن کے رہ گیا !!!

حضور والا ! یہ بھی عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جس ہستی کے لیے آپ نےکشادہ دلی اور اپنے زبان و بیان میں لفظوں کی سخاوت کا مظاہرہ نہیں فرمایا ، ان کا عالم یہ ہے کہ عوامی محافل ہوں یا نجی مجالس ہم نے ہمیشہ ان کی زبان سے حضور غزالی زماں رحمۃ اللہ تعالی اور ان کے خانوادہ کے لیے وہ ادب اور تعظیم دیکھا اور سنا ہے جو کسی شاگرد کا اپنے استاد کے ساتھ ہو سکتا ہے۔

آج تک ان کے تعارف پر چھپنے والی ہر کتاب میں حضور غزالی زماں رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا نام نہایت ادب اور تعظیم کے ساتھ انتہائی نمایاں رقم ہوتا ہے۔

چند سال قبل مرکز منہاج القرآن لاہور میں منعقد ہونے والی ” صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کانفرنس ” میں خصوصی خطاب کے لیے جب آپ کے برادر محتشم جگر گوشہ حضور غزالئ زماں سید ارشد سعید شاہ صاحب کاظمی مد ظلہ العالی تشریف لائے تو کس شان سے ان کا استقبال ہوا اور کن کلمات کے ساتھ حضور شیخ الاسلام مدظلہ العالی نے نہایت عجز و انکساری سے ان کا ذکر فرمایا ، اس کی گواہی آپ انہیں سے لے سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ سانحہ ماڈل ٹاؤن بپا ہونے کے بعد اور دھرنے سے قبل جب آپ خود ان سے ملاقات کے لیے تشریف لائے تو جو احترام ہر آنکھ نے دیکھا وہ یقیناً آپ کو یاد ہوگا۔

نیز انہی ایام میں جب جگر گوشہ غزالئ زماں سید سجاد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنے صاحبزادہ صاحب کے ساتھ تشریف لائے تو اس ملاقات میں اس عاجز نے خود مشاہدہ کیا۔ جس کمال عاجزی و انکساری اور احترام سے حضور شیخ الاسلام مدظلہ العالی پیش آئے اور ان سے ملاقات میں جس قدر اپنے شیخ و استاذ کی نسبت کا پاس رکھا۔ وہ لائق تقلید ہے۔

اور جب کچھ حاسدین و معاندین کی سازشوں کے باعث آپ کے لیے حج سکینڈل کا جال بچھایا گیا اور آپ ایک نہایت مشکل وقت میں تھے تو منہاج القرآن کی قیادت اور کارکنان کی طرف سے آپ کے لیے کلمہ خیر اور نیک خواہشات کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔

بس آپ سے بصد عجز و نیاز التماس ہے کہ سواد اعظم اہلسنت و جماعت کے وسیع تر مفاد کیلئے ، دین کی آبرو کے تحفظ کیلئے اور نوجوان نسل کو دین اور دین کے نام لیواؤں سے مزید متنفر ہونے سے بچانے کے لیے ایک دوسرے کے احترام کے کلچر کو فروغ دیجیے اور اپنے منصب اور تقدس کو قائم رکھتے ہوئے ایسے الفاظ کے استعمال سے گریز کیجیے۔ اس تحریرمیں میرے لفظوں کی بیباکی سے آپ کے دل پر جو بوجھ آیا ہو ، اس کے لیے معافی کا خواستگار ہوں۔

یہ تحریر پڑھنے والے تمام بھائیوں اور بہنوں سے درخواست ہے کہ براہ مہربانی تعصب سے بالاتر ہوکر میری ان گزارشات کو پڑھیے اور اہل سنت و جماعت کو مزید کسی نقصان سے بچانے کے لیے ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے ایک دوسرے کے عزت اور احترام کے کلچر کو فروغ دیجیے۔ بہت شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں