حافظ ابن کثیر 40

حافظ ابن کثیر . Hafiz Ibn-i-Kaseer

Hafiz Ibn-i-Kaseer
حافظ ابن کثیر

تعارف:
حافظ ابن کثیرؒ اسلامی دنیا کے مشہور شیخ الحدیث، مفسر قرآن،فقیہ اور مورخ تھے۔آج بھی ان کی قرآن پاک کی تفاسیر کو لاکھوں مسلمان پڑھتے ہیں۔ انہوں نے مشہور کتاب’’ البدایہ و لنھایہ‘‘ کی چودہ جلدیں لکھیں جو علم کے لحاظ سے سمندر اور ضخامت کے لحاظ سے ضخیم ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔اس کتاب میں انسان کی ابتدائی تاریخ سے لیکر ان کے (ابن کثیرکے)مرنے سے چھ سال پہلے کے واقعات کو ترتیب نزولی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ وہ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم دین اور فقیہ امام تیمیہ کے خاص شاگرد تھے اور وہ حافظ ذہبیؒ کی وفات کے بعد مدرسہ اُم صالم اورمدرسہ تنکریہ میں شیخ الحدیث کے مرتبے پر فائز رہے۔ آج بھی اسلامی مدارس میں حافظ ابن کثیرؒ کی کتب کو پڑھایا جاتا ہے۔
تعلیم:
ان کے والد کا انتقال ان کے بچپن میں ہو گیا۔وہ ا پنے والد کے انتقال کے بعد دمشق چلے گئے جہاں اپنی والدہ ماجدہ سے قرآنِ پاک حفظ کیا۔ انہوں نے عربی زبان کے قواعد صرف و نحو حفظ کئے۔نیز کتاب التنبیہ حفظ کی اور اس کی شرح کے لئے علامہ تاج الدین نزاری کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور انہی سے اصولِ فقہ کی تحصیل بھی کی۔ ابن کثیر نے ابتداء میں اپنے بڑے بھائی کمال الدین عبدالوہاب کی صحبت میں علمی مشاغل جاری رکھے جس کے بعد مزید حصولِ تعلیم کے لئے علمائے عصر سے رجوع کیا۔ 711 ہجری میں انہوں نے قرآن پاک حفظ کرلیا اور علمِ تجویز پر قدرت حاصل کی۔ابنِ کثیر نے فقہ کی تعلیم کمال الدین انفراری اور کمال الدین بن قاضی شہید سے حاصل کی اور فروغ شافعیہ میں کتاب التنبیہ مصنفہ شیرازی اور مختصر الحاجب اصول میں پڑھے۔نیز حافظ ابوالحجاج مزی کے پاس رہ کر سیرالرجال کے موضوع پر ان کی عظیم تالیف ’’ تہذیب الکمال‘‘ پڑھی جس کے کچھ حصے ابن کثیر نے موصوف کی بیٹی زینب سے پڑھے۔ ابن کثیر شیخ الا اسلام ابن تیمیہ کے خاص طالب علموں میں سے تھے اور انہوں نے علامہ موصوف سے بہت کچھ سیکھا۔
ذاتی زندگی:
ان کا پورا نام عمادالدین ابو الفد ا، محمد اسمٰعیل بن عمر بن کثیر بن ضوء بن کثیر قریشی دمشقی شافعی تھاؒ ۔ وہ محدث، فقیہ، مفسر اور مورخ ہیں جنہوں نے عربی کی شہرہ آفاق تاریخی کتاب ’’البدایہ والنھایہ‘‘ کی چودہ جلدیں لکھیں۔ ان کی ولادت 1301 کو بصرہ کی قلمرو قریہ جدل میں ہوئی۔ انکے والد کا تعلق بصرہ اور والدہ ماجدہ کا خاندانی تعلق قریہ جدل سے تھا۔ بزرگ عالم اور شیخ الحدیث عرب شیخ مزیؒ نے بلحاظ حسب و نسب اشراف عرب میں شمار کیا ہے اور اسی وجہ سے انہیں اکثر و بیشتر عربی کتابوں میں قریشی لکھا گیا ہے۔ بلکہ خود انہوں نے اپنی کتاب البدایہ و النہایہ میں اپنے والد کے نام کے ساتھ ’’ قریشی‘‘ لکھا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اپنے وقت کے جید عالم دین حافظ مزی ؒ سے خاص تعلق کی بنا پر ان کی صاحبزادی زینب سے شادی کی۔ ان کے ہاں دو بیٹے پیدا ہوئے جن کے نام زین الدین عبدالرحمن اور بدرالدین ابو لبقاء محمد تھے جو بعد میں اپنے وقت کے بلند پایہ محدثین بنے۔
علمی خدمات:
ابن کثیر اپنے وقت کے بہت بڑے مجتہد اور مورخ تھے۔ان کی کتابوں کو آج بھی پڑھا جاتا ہے۔ کئی صدیاں گزر جانے کے بعد بھی ان کی کتابوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی اوریہ ان کی بصیرت اور علم پر بھر اعتماد کا اظہار ہے۔ابن کثیر کے ایک شاگرد شہاب الدین حجی کہتے ہیں کہ ’’ہم نے انہیں حفاظ میں افضل ترین پایا۔ کیونکہ ہم ان سے کتبِ احادیث
کے متن بالکل اس طرح سنے جیسے کوئی بہترین حافظ قرآن و حدیث کے استخراج میں کمال رکھتے تھے اور انہیں اس کی صحت و اسقامت پر مکمل عبور حاٖصل تھا، جس کا اعتراف ان کی تقاریر سننے والے جملہ بزرگانِ علوم دین بھی کرتے ہیں۔ انہیں تمام تفاسیر اور تواریخ زبانی یادتھیں، وہ کسی بات کو بہت کم بھولتے تھے۔ وہ حد سے زیادہ سمجھ رکھنے والے فقیہ اور صحیح الذہن عالم تھے۔انہیں کتاب التنبیہ از اول تا آخر حفظ تھی، عربی زبان و ادب پر انہیں مکمل عبور حاصل تھا۔وہ شعر گوئی میں بھی درجۂ کمال پر فائز تھے۔ میں نے اکثر اوقات ان کی صحبت میں گزارے ہیں اور ان کے علم و فضل سے استفادہ کیا ہے‘‘ (کتاب الدارس از نعیمی)۔حافظ ذہبیؒ نے انہیں ’’معجم المختص‘‘ میں ’’امام، مفتی، محدث البارع، فقیہ، مقنن، محدث، متقن اور مفسر نال‘‘ لکھا ہے جبکہ ابن حجر وغیرہ نے ابن کثیر کو حافظ ذہبی کے حوالے سے ان جملہ صفات سے حامل بتایا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کی صحبت و خدمت میں رہ کر انہوں نے جو عملی، دینی اور اخلاقی تربیت حاصل کی اس نے نہ صرف انہیں علم و فضل میں ایک امتیازی حیثیت بخشی بلکہ اس سے دوسروں نے بھی بعد میں بہت استفادہ کیا۔ وہ اپنی رائے میں استحکام و استقلال رکھتے تھے۔ وہی کچھ فرماتے تھے جس کا ثبوت و دلائل صحیح رکھتے تھے۔ نہ اپنے مذہب و عقائد میں متعصب تھے اور نہ ہی دوسروں سے تعصب رکھتے تھے۔
ان کا مقام :
مفسرین حدیث میں ان کو ممتاز مقام حاصل ہے ۔ان کی تفسیر جلیل ایک بہت عظیم تصنیف ہے جس سے ہم نے اس کے شافعی المذہب ہونے کے بارے میں استفادہ کیا ہے۔ وہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کے خاص انصار میں شامل تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ ان کے شیخ یعنی شیخ الاسلام اور قاضی القضاۃ تقی الدین اسبکی کے مابین وجوہ اختلاف کیاتھیں لیکن انہوں نے اس معاملے میں سختیاں جھیلنے کے باوجودشیخ الاسلام سے اپنا فدویانہ ور نیازمندانہ تعلق نہ توڑا۔
جب ان کی شہرت مصر و دمشق سے دوسرے اسلامی ممالک تک پہنچی تو اسی زمانے، یعنی 1384 کا ذکرکرتے ہوئے خود بیان کرتے ہیں کہ ایک نوجوان بلاد تبریز و خراسان سے بظاہر یہ اردہ لے کر میرے پاس آیا کہ مجھ سے بخاری و مسلم، جامع المسانید اور محشری کی کشاف پڑھے گا۔ لیکن وہ پہلے درس بخاری میں (غالباً) میرا امتحان لینے کے لئے شریک ہو اجس کے بعد مطمئن ہوکر (دوسرے اسباق میں شرکت کے بعد) بولا کہ ’’اگر آپ کی اجازت ہو تو میں یہ احادیث (آپ کی تشریحات کے ساتھ) اپنے ہم وطنوں کو جاکر سنادوں کیوں کہ آپ کے علم و فضل کی شہرت وہاں تک پہنچ چکی ہے‘‘۔ ان سطور سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ’’جامع المسانید‘‘ بھی ابن کثیر کی کتابوں میں شامل ہے اور اس کی شہرت بھی بلادِ مشرق تک پہنچی تھی۔
ابنِ کثیر کے اوصاف میں اور ان کے کردار کی خوبیوں میں یہ وصف بطورِ خاص قابلِ ذکر ہے کہ ان سے جب بھی کسی ایسے مسئلے میں فتویٰ طلب کیا گیا جو بظاہر ارادے کے لحاظ سے صرف استفتاء تک محدود تھا لیکن اس میں فتوے کے خواہش مند کی درحقیقت کوئی ایسی غرض بھی تھی یا نہیں اس میں اس کی کسی ذاتی غرض کا ذرا سا بھی شبہ ہو تو انہوں نے ہمیشہ اصولِ فقہ و شریعت کو پیشِ نظر رکھا خواہ اس میں فتویٰ طلب کرنے والا کوئی مبتد حاکم ہی نہ رہا ہو اور اس کے خلافِ منشا فتویٰ صادر کرنے میں اس کے بغض و غضب کا اندیشہ ہی کیوں نہ ہو۔
تصانیف:
ابنِ کثیرؒ کی تصانیف و تالیفات بے شمار ہیں جن کی صحیح تعداد کا علم نہیں ہے۔ کیونکہ ان میں اکثر اب مفقود ہیں اور اگر وہ کہیں موجود بھی ہیں تو اب تک ان کی نشاندہی نہیں کی جاسکی۔ البتہ انہوں نے اپنی کتب تفسیر میں جگہ جگہ حسبِ موقع ان کی طرف اشارے کئے ہیں۔ بہرحال جو اس وقت دستیاب ہیں ان میں اہم اور مشہور ترین ’’البدایہ و النہایہ‘‘ ہے۔ یہ نہایت نفیس اور مشہور تاریخی کتاب پہلی بار 1368 میں مصر میں طبع ہوئی۔ اسے خود مصنف نے چودہ جلدوں یا حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ اس کا اردو زبان میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، اس میں تخلیقِ کائنات سے لے کر اپنی وفات سے چھ سال قبل تک کے تاریخی حالات درج کئے گئے ہیں۔ ان کی
دیگر تصانیف درج ذیل ہیں:۔
۱۔التفسیر
۲۔السیرۃ النبویۃ
۳۔السیرۃ
۴۔اختصارالعلوم الحدیث
۵۔جامع المسانید و السنن
۶۔التکمیل فی معرفۃ
۷۔ طبقات شافعیہ
۸۔ مناقب شافعی
۹۔شرح صحیح بخاری
۱۰۔ الاحکام لکبیر
۱۱۔الشقات و الصعفاد المجاھیل اور دیگر کئی رسالے و شرحات شامل ہیں۔
وفات:
حافظ ابن کثیر اپنے وقت کے جید فقیہ اور شیخ الحدیث تھے ۔ فتوؤں کے سلسلے میں ان کی صاف گوئی و حق پرستی نے انہیں آخر عمر میں اکثر مشکلات و نقصانات سے دو چار کئے رکھا۔ وہ ہمیشہ بادشاہوں اور احکام کی نفرت اور سزاؤں کا شکار رہے لیکن پھر بھی انہوں نے جو حق سمجھا وہ لکھا اور فرمایا۔ آخری عمر میں بہت زیادہ لکھنے کی وجہ سے ان کی بینائی میں کمی آگئی ۔ان کا انتقال ۲۶ شعبان ۷۷۴ ء بروز جمعرات ہوا(بمطابق 1373 (میں ہوا ۔ان کی تدفین ان کی وصیت کے مطابق شیخ الاسلام کے مقبرے کے پاس دمشق شہرکے باہر مقبرہ ملونیہ میں ہوئی۔وہ اپنے وقت کے مشہور عالم امام تیمیہ کے پہلو میں دمشق میں دفن ہیں۔آج بھی ہزاروں لوگ ان کے مقبرے پر حاضر ہو کر ان سے عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں