غنیۃالطالبین| Ghuniatul Talibeen 22

غنیۃالطالبین کا خلاصہ تصنیف شیخ قادر عبدالقادر جیلانی | Ghuniatul Talibeen

21 / 100

Ghuniatul Talibeen
غنیۃالطالبین کا خلاصہ
(از شیخ قادر عبدالقادر جیلانی)

مصنف کا تعارف:
امام السالکین، قدوۃالعارفین الشیخ عبدالقادر جیلانی امت مسلمہ کی ایک مایہ ناز شخصیت ہیں۔ آپؒ عظیم المرتبہ حنبلی عالم ، واعظ اور بلند پایہ محدث و فقیہ ہونے کے ساتھ ولایت کے نہایت اعلیٰ مقامات پر فائز تھے۔ آپ ؒ سلسلہ قادریہ کے بانی تھے۔ آپ کا شمار اولیاء کرام اور صوفیائے عظام میں ہوتا ہے۔آپؒ کا سلسلہ نسب اپنے والد ماجد کی طرف سے امام حسنؓ سے جا ملتا ہے اور والدہ ماجدہ کی طرف سے امام حسینؓ تک جا پہنچتا ہے ۔
آپؒ ۴۷۰ہجری بمطابق ۱۰۷۷ کو بحیرہ خزر کے جنوبی صوبے جیلان (گیلان) کے ایک گاؤں نیف میں میں پیدا ہوئے۔ آپ ؒ کا انتقال ۱۰ ربیع الثانی ۵۶۱ہجری ۱۱ ،اپریل ۱۱۶۶ء کو بغداد میں ہوا۔بغداد میں ہی آپؒ کا مزار مبارک مرجئع خلائق عام ہے۔ آپؒ کے فیوض و ہدایات اور روحانی تعلیم و تربیت سے آپؒ کی زندگی میں ہی دنیا کا گوشہ گوشہ جگمگا اٹھا ۔ آپؒ کے اس نور عام سے اکناف عالم منور اور تاباں ہو گئے جس کے لازوال اثرات رہتی دنیا تک قائم اور ثابت رہیں گے۔ آپؒ کے وعظ کے ابتدائی چھ سال بعد آپ کے شیخ المخرمی نے اپنا مدرسہ آپ کے حوالے کر دیا جس میں آپ کے اہم مشاغل یہ تھے۔افتاء ، درس تفسیر ، حدیث ،فقہ بالخصوص وعظ جس کے لئے ان کی شہرت دور دور تک پھیل گئی جو بے شمار شاگردوں کو کھینچ لائی بہت سے یہودی اور عیسائی اس سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے اس سلسلہ و عظم و درس کا اثر ایک تحریک سے زیادہ ثابت ہوا۔نہایت قانع ،کلمہ حق کے اظہار میں بیباک تھے جس سے دربار خلافت بھی متاثر ہوتا تھا۔غرباء کے مونس و معاون تھے۔
کتاب کا پس منظر:
یہ کتاب ’’ غنیہ الطالبین ‘‘ دینِ اسلام کا بے بہا سرمایہ اور دینِ اسلام کا مکمل نچوڑ ہے۔یوں توروزِ اول ہی سے کتاب و سنت کی تشریح اور وعظ و تذکیر کی کتب کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا۔ لیکن ان کتب میں وہ معروف کتب کہ جن کی فہرست میں ’’ غنیہ الطالبین ‘‘ ہے۔یہ کتاب حضرت شیخ عبدالقادرؒ کی تصنیف ہے اور عوام و خواص میں اس قدر مقبول و معزز ہے کہ جس طرح حضرتِ شیخ خود تھے۔
کتاب کے اہم نکات:
زیر نظر کتاب ۲۲ (بائیس) ابواب پر مشتمل ہے۔ تمام ابواب میں قرآن و سنت کے مضامین کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔کتاب کا آغاز حمدو نعت سے کیا گیا ہے۔پہلے باب میں ایمان و اسلام ، دوسرے میں زکوٰۃ ، تیسرے میں روزہ، چوتھے میں اعتکاف اور پانچویں میں حج وہ عمرہ کے بارے میں تفصیل بیان کی گئی ہے۔اس کے بعد کے ابواب اورمضامین میں دینِ اسلام کے مختلف ارکان اور زندگی کےتمام مسائل کے بارے میں رہنمائی کی گئی ہے۔ ذیل میں کتاب کے تمام ابواب کو اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
حمد و نعت:
تمام حمد و ثناء،عزت اور بلندی والی ذات کے لئے ہے جو ایک معبود ہے جو کبریائی کی چادر اوڑھے ہوئے ہے اور اس کا زمین و آسمان میں کوئی شریک نہیں ۔وہ ذات جس نے ا نبیاء اور اصفیاء و اولیاء کو پیدا فرمایا کہ جو ان کی پیروی کرے وہ نیک بخت ہو جاتا ہے اورجو ان کے راستے کی مخالفت کرے وہ بد بخت ہو جاتا ہے اور تمام مخلوق میں سے افضل ترین اور خاتم الانبیاء کی ذات پر بے شمار اور لا متنا ہی درود و سلام ہواور تا قیامت آپ کے پرہیز گار آل اور کامل صحابہ کرام پر رحمتیں ہوں۔
Key-1۔ ایمان و اسلام کا بیان:
پس ہم ان امور کو بیان کرتے ہیں۔جو ہمارے دین میں آنے والے پر واجب ہیں۔جب کوئی اسلام میں داخل ہونا چاہے تو سب سے پہلے وہ کلمہ طیب پڑھے ۔یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ زبان سے کہے اور دین اسلام کے سو ادوسرے تمام مذاہب سے بیزار ہو اور دل میں یہ یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ یگانہ ہے۔ لہٰذااللہ جل شانہ ،نے فرمایا ہے: اِنَّ الدِّیْن عِنْدَ اللہ اِلْاسْلَامُ ترجمعہ :تحقیق دین اللہ کے نزدیک اسلام ہے اور ارشاد کیا ہے وَ مَنْ یَّبْتِغِ غَیْرَ الاِْسْلامِ دِیناََ فَلَن یُّقبَلَ مِنْہُ جو آدمی اسلام کے سوا دوسرے دین کو چاہے گاوہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔پس جب کسی نے کلمہ طیب پڑھ لیا اور دل سے یقین کر لیا تو وہ اسلام میں داخل ہو گیا اور اس کا قتل کرنا اور اس کی اولاد کو قید کرنا اور اس کے مال کو لوٹ لینا حرام ہو گیا اور خدا کے حقوق میں اس نے جو کوتاہی پہلے کی ہے، وہ معاف کی جائے گی۔
Key-2 ۔زکوٰۃ کابیان:
زکوٰۃ اس مسلمان پر واجب ہے ،جس کے پاس مال زکوٰۃ والا ہو اور وہ یہ ہے کہ بیس مثقال وزن کے سونے کا مالک ہو یا دو سو درم چاندی کا یا اسباب تجارت کے ذریعے ان دونوں چیزوں میں سے ایک کی قیمت کے برابر رکھتا ہو۔پانچ اونٹ کا مالک ہو یا تیس گائے اس کی ملک میں ہوں یا چالیس بکریاں جو سال بھر جنگل میں پھرتی رہیں مگر یہ شخص جس کے پاس یہ مال ہو ،غلام یا مکاتب نہ ہو ۔ان دونوں پر زکوٰۃ واجب نہیں۔پس جس پر زکوٰۃ واجب ہے وہ سونے اور چاندی سے دسویں حصہ کی چوتھائی دے ۔اس لئے بیس دینار سے آدھا دینار دینا پڑتا ہے۔کیونکہ بیس دینار کا دسواں حصہ دو دینار ہیں اور دو دیناروں کی چوتھائی آدھا دینار ہے اور دو سو درم سے پانچ درم دے ۔ کیونکہ دو سو کا دسواں حصہ بیس ہے اور بیس کی چوتھائی پانچ ،اور پانچ اونٹوں کی زکوٰۃ میں سے ایک بھیڑ دے جو پشم دار اور چھ مہینے کی ہو یا بکری دینی واجب ہے ۔جو عمر میں ایک سال کی ہو ،اور دس اونٹوں میں سے دو بکریاں دے اور پندرہ اونٹوں کی زکوٰۃ تین بکریاں دینی پڑتی ہیں ۔اور بیس اونٹوں میں سے۴ اور۲۶ اونٹوں کا مالک ہو گا اس کو ان میں سے ایک اونٹنی دینی پڑتی ہے جو عمر کا ایک سال طے کر چکی ہو اور دوسرے میں داخل ہو ۔اور اگر اس پر قدرت نہیں رکھتا تو ایک اونٹ دے ،جس کی عمر کے دو برس گزر چکے ہوں اور تیسرا شروع ہو ۔ اور جس کے پاس چھتیس اونٹ ہوں وہ ان میں سے دو سال کی اونٹنی نکالے اور۴۶ اونٹ ہوں تو ان کی زکوٰۃ ایک اونٹ دینا پڑتا ہے ۔
Key-3۔صدقہ فطر کابیان:
جب کسی کے پاس بال بچوں کی روز مرہ خوراک سے زیادہ ہو تو اس کو صدقہ فطر میں دے ۔عید کے دن اور اس کی رات اپنے نفس اور اپنی بی بی اور اپنے غلام اور اپنی اولاد اور اپنے ماں اور باپ اور اپنے بھائی بہنوں اور اپنے چچا اور چچا زادوں تریتیب وار جس قدر کوئی قریب ہو بشرطیہ کہ ان کا نان نفقہ اس کے ذمہ ہو اور اندازہ اس کا ایک صاع ہے۔ جو وزن میں ۳؍۱ ۵ رطل عراقی ہے۔ یعنی ہندوستان میں جو نمبری سیر مروج ہے اس کے اڑھائی سیر ہو۔کھجوریں ہوںیا منقیٰ یا گیہوں یا جو گیہوں اورجو کا آٹا یا ان کے ستو اور پنیر کے کے لئے ایسا ہی حکم ہے۔
Key-4۔روزہ کابیان:
مسلمان پر رمضان کے مہینے کے روزے رکھنے واجب ہیں۔پس جب رمضان کا مہینہ شروع ہوجائے تو غروبِ آفتاب سے صبح صادق کے ظاہر ہونے تک رات کے کسی بھی وقت نیت کرے کہ وہ روزہ رکھے گا اور ماہِ رمضان کے سارے روزے رکھنے کی نیت کرلے تو یہی کافی ہے اور جب صبح صادق ہوجائے تو کھانے، پینے اور جماع سے پرہیز کرے۔ باہر کی طرف سے کوئی چیز بھی کسی راستے سے پیٹ کے اندر داخل نہ ہواور نہ ہی اپنے بدن سے خون نکالے اور نہ ہی غیر کے بدن سے۔اول وقت میں افطاری کرنا مستحب ہے۔ مگربر ابر ہو تو توقف کرے۔ یہ افضل ہے اور اسی طرح اخیر رات توقف کر کے سحری کھانا افضل کہا گیا ہے۔

Key-5 ۔اعتکاف کا بیان:

مسلمان کے واسطے اعتکاف کرنا مستحب ہے اور اعتکاف کرنے کا حکم اس مسجد میں ہے جس میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کی جاتی ہو اور اس کے واسطے سب مسجدوں سے افضل مسجد جامع مسجد ہے۔ مگر اس میں شرط یہ ہے کہ اعتکاف کے دنوں میں جمعہ آجائے اور روزہ رکھنے کے سوا بھی اعتکاف کرنا درست ہے۔
Key-6۔حج کا بیان:
جب کسی مسلمان پر حج کی شرطیں پوری ہوجائیں تو اس پر حج اور عمرہ واجب ہوجاتا ہے وہ شرطیں یہ ہیں۔ اسلام لانے کے بعد آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، حج کے سفر میں جو خرچ درکار ہو وہ موجود ہو۔سواری رکھتا ہو۔اگر یہ طاقت بھی ہو کہ اگر سواری پر سوار ہوگا تو اس پر قائم اور تندرست رہ سکے گا اور راستہ میں دشمنوں کا خطرہ نہ ہو۔اس سے پاک ہو۔ اپنے اہل و عیال کو بھی اس قدر خرچ دے سکتا ہو کہ وہ واپس آنے تک ان کی کفایت ہو سکتی ہو۔ان کے پورا ہونے کے بعد مسلمان پر حج اور عمرہ ادا کرنا فوراً واجب ہوجاتا ہے اور اگر ان شرطوں کے خلاف کرے۔ اہل و عیال کے حق میں کوتاہی روا رکھے اور قرض دار کا قرض ادا کرکے نہ جائے تو اس صورت میں گناہ گار ہوگا۔
Key-7۔ آداب کا بیان:
سلا م کے ساتھ ابتداء کرنا سنت ہے اور سلام کا جواب دینا ابتداء کرنے سے زیادہ تاکید والا ہے۔ اور اگر الف لام تعریف کے ساتھ سلام کرے تو اس میں اختیار ہے اور سلام مع تعریف کے اس طرح ہے السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ، اور یا اس الف لام کو ترک کرے اس طرح کہے ا سلام و علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔ اس سے زیادہ کچھ نہ کہے۔ ایک حدیث میں وارد ہے کہ حصین کے بیٹے عمر ا نؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی پاکؐ کے پاس ایک شخص جنگل کا رہنے والا آیا اور آکر اسلام علیکم کہا توآپ نے اس کو سلام کا جواب دیا اور جب وہ آدمی بیٹھ گیا تو آپؐ نے اس کو زبانِ مبارک سے ارشاد فرمایا کہ تجھ کو دس نیکیوں کا ثواب عطا ہوا۔اس کے بعد ایک اور آدمی آیا اور اس نے آکر کہا السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ، تو اس پر نبی پاکؐ نے اس کو سلام کا جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو اسے فرمایاکہ تم کو تیس نیکیوں کا ثواب ملا ہے۔
Key-8۔ساتواں باب۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا بیان:
ٍ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ نیکی کا حکم کرتے ہیں اور برے کاموں سے منع کرتے ہیں اور خدا کی حدوں پر نگاہ میں رکھتے ہیں اور پھر فرمایا کہ تم امت میں سے بہتر ہو اور لوگوں کے فائدے کے واسطے پیدا کیے گئے ہو۔شرع کے موافق حکم کرتے ہو اور جو امور خلاف شرع ہیں ان سے منع کرتے ہو اور اللہ جل شانہ، پر ایمان رکھتے ہو۔اور دوسری جگہ یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے بعض مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں بعض کے دوست ہیں جو چیز شرع میں درست ہے اس میں یہ حکم کرتے ہیں اور جو چیز شرع میں منع ہے اس سے منع کرتے ہیں اور رسول مقبول ؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم نیکی کا حکم دو اور جو چیزیں منع کی گئی ہیں ان سے منع کرو ۔اگر ایسا نہ کرو گے تو خداوند تعالیٰ تم میں سے برے آدمیوں کو تمہارے نیکوں پر مقرر کر دے گا۔اور پھر نیک آدمی چاہے کتنی ہی دعائیں کریں وہ قبول نہیں ہوں گی۔
Key-9۔حق تعالیٰ کی معرفت کا بیان:
پروردگار کو پہچاننے کا خلاصہ یہ ہے کہ سمجھے اور یقین کرے کہ خداوند کریم اکیلا،ایک،تنہا اوربے پرواہ ہے۔نہ وہ جنتا ہے اور نہ خود کسی سے جنا گیا ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں اور نہ ہی کوئی چیز اس کی مانند ہے۔ وہ سنتا ہے اور دیکھتا ہے ۔اپنی صفات اور ذات میں وہ یکتا ہے۔ اس کا کوئی مددگار اور شریک اور وزیر نہیں ،کوئی اس کو قوت نہیں دے سکتا نہ کوئی اس کا ہمتا اور مشیر ہے۔ اس کا جسم نہیں جو ٹٹولا جا سکے۔ وہ جو ہر (ایسی چیز جسم دار)نہیں جو محسوس ہو سکے۔نہ وہ عرضی (عارضی بے جسم چیز ) ہے جو دور ہو سکے۔اس کی ترکیب نہ محسوس اجزا سے ہے نہ معقولہ سے۔نہ کوئی اس کی ماہیت ہے اور نہ حد ہے۔سچا اور برحق معبود وہی ہے۔اسی نے آسمانوں کو بلند کیا ہے اور اسی نے زمین کو پست کیا ہے اور بچھایا ہے اس کی طبیعت ایسی نہیں ہے۔جیسی کہ مخلوقات کی طبائع ہیں اور طالعوں کے موافق وہ طالع نہیں وہ ایسا اندھیرا نہیں کہ ظاہر ہو اور نہ وہ ایسی روشنی ہے جو چمکتی ہے۔وہ سب چیزوں کے پاس حاضر ہے۔اپنے علم سے سب چیزوں کو دیکھتا ہے بغیر چھونے کے۔وہ عزیز اور غالب ہے اور سب پر حاکم اور قادر ہے۔وہ رحمت کرنے والا ہے اور گناہوں کو بخشنے والا اور ان کو چھپانے والا۔
وہی عزت دیتا ہے اور وہی مدد کرتا ہے اور بہت مہربان ہے۔وہی ہے جس نے مخلوقات کو بغیر نمونہ کے پیدا کیا ہے اور کرتا ہے۔وہ سب سے پہلے تھا اور سب سے پیچھے رہے گا۔وہ ظاہر ہے اور پوشیدہ بھی،اکیلا ہے۔ وہ معبود ہے۔زندہ ہے۔کبھی نہیں مرے گا ۔وہ ہمیشہ قائم ہے۔وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔اس کا دبدبہ اپنی ذات سے ہے قائم ہے۔وہ سوتا نہیں ۔وہ ایسا غالب ہے کہ کوئی اس کو ضرر پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتا اس قدر بلند رتبہ ہے کہ کسی کی اس تک رسائی نہیں ہے۔اس کے نام بزرگ ہیں اور اس کی بخشش عظیم ہے جتنی مخلوقات ہے،سب اس کے حکم سے ہی فنا ہونے والی ہے جیسا کہ ارشاد کیا ہے کہ جو چیز پیدا کی گئی ہے۔وہ فنا ہونے والی ہے اور باقی رہنے والی وہی ذات ہے جو بزرگ اور صاحب انعام ہے وہ بلند ہے اور اس کا قیام عرش معظم پر ہے ۔اس کی ذات نے سب عالم کو اپنے میں سما لیا ہے اور سب چیزوں کو اس کے علم نے اپنے گھیرے میں کر لیا ہے۔
Key-10۔قرآن سے نصیحت حاصل کرنے کا بیان:
خداوند تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان سے خداوند کریم کے ہاں پناہ مانگو ۔اس کا ذکر سورہ نحل میں درج ہے۔ اور وہ مکہ میں اتری ہے مگر اس کی آخر کی تین آیتیں مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہیں۔ اور اس سورہ کی آیتوں کی تعداد ایک سو اٹھائیس ہے۔ اس کے کلموں کا شمار ایک ہزار آٹھ سو اکتالیس ہے اور سات ہزار سات سو نو حروف ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ جس وقت تو قرآن پڑھنے لگے تو کہہ آعوذباللہ من الشیطان الرجیم یعنی شیطان لعین سے جو لعنت کے ساتھ راندہ گیا ہے۔ اس سے پناہ مانگ اور رسولِ مقبولؐ نے فرمایا ہے کہ شیطان پر آعوذباللہ سے اور کوئی چیز زیادہ سخت اور دشوار نہیں۔ ان لوگوں پر شیطان غلبہ نہیں پاسکتا جو خداوند تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں اور جو لوگ مشرک ہیں ان کو گمراہ کردیتا ہے اور جن آدمیوں نے خدا پر توکل اور بھروسہ کیا ہے۔ ان کے نزدیک نہیں آسکتا اور جو اپنے کاموں میں شیطان کے پیروہوتے ہیں ان کو ضرور گمراہ کردیتا ہے اور مشرکوں کو ان کا شرک زیادہ ہونے میں مدد دیتا ہے۔
Key-11۔ اعوذ کے معنوں کا بیان:
اعوذ کے معنی اللہ جلِّ شانہ، سے پناہ مانگنی اور خلاصی چاہنی اور خدا کی طرف رجوع کرنا اور معاذ کے معنی جائے پناہ کے ہیں۔ پناہ لی اس نے ساتھ اس کہ وہ اس کے ساتھ پناہ لیتا ہے۔ پناہ لینا اور میں پناہ مانگتا ہوں جیسا کہ پناہ مانگنے کا حق ہے اور معاذاللہ کے معنی ہیں خدا کی طرف رجوع کرتا ہوں اور اللہ کے ہاں پناہ لاتا ہوں۔ کہاجاتا ہے کہ یہ میری اس چیز سے جائے پناہ ہے جس سے میں ڈرتا ہوں یعنی یہ مجھے خلاصی دینے والا اور مجھ سے دور کرنے والا ہے۔ پس گویا کہ بندۂ خدا سے پناہ لیتا ہے تاکہ وہ اسے شیطان کے شر سے نگاہ رکھے۔ اور جب کوئی قرآن سے پناہ مانگتا ہے تو اس سے اس کو شفا حاصل ہوتی ہے اور کہا گیا ہے کہ استعاذہ کے معنی حرز اور قلعہ پکڑنا خدا کو۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : شیطان سے ڈرتے رہو اور پھر فرمایا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے اور تم بھی اس سے دشمنی رکھو۔ وہ اپنے گروہ کو اپنی طرف بلاتا ہے تاکہ دوزخ میں وہ اس کے ساتھ جائیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے کیا تم اس کو سمجھتے نہیں ہو۔
اس لئے شیطان کی پیروی کرنی ہر ایک بدبختی اور رنج کی جڑ ہے اور اگر کوئی شیطان سے مخالفت کرے تو اس میں نیک بختی اور نعمت اور راحت اور ہدایت ہے اور عاقبت میں ہمیشہ آرام سے رہے۔
Key-12۔مہینوں کی بزرگی اور مبارک دنوں کا بیان:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سال کے مہینوں کی تعداد بارہ ہے جس دن سے خدا نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اس دن سے خدا نے چار مہینوں کو حرام بتایا ہے،اور اس آیت کا نزول یہ ہے کہ مکہ کی فتح سے پہلے ایک دفعہ مسلمان مدینہ کی طر ف روانہ ہوئے اور مارے خوف کے آپس میں کہنے لگے کہ ایسا نہ ہو حرام کے مہینہ میں مکہ کے کافروں سے جنگ کرنے کا موقع آپڑے پس اللہ جل شانہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جس دن پیدا کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو تو اپنی کتاب یعنی لوح محفوظ میں مہینوں کی تعداد بارہ رکھی اور ماہ حرام چار ہے۔رجب،،ذیقعد،ذی الحج ،محرم۔ان میں سے رجب کا مہینہ تو الگ ہے اور باقی تین سلسلہ وارپے درپے ہیں ۔یہ دین پکا ہے یعنی حساب صاف سیدھا پس ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو کیونکہ اللہ جل شانہ نے ان چار مہینوں کو حرام کیا ہے۔چونکہ ان مہینوں کی بزرگی اور حرمت ثابت ہے اس سبب سے ہی ان مہینوں میں ظلم کرنے کی قطعی ممانعت کی گئی ہے ۔اگرچہ ظلم کرنا سب مہینوں میں منع ہے مگرا ن میں با لخصوص ممانعت ہے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اپنی نمازوں کی نگہبانی کرو ۔ خصوصاً’’وسط کی نماز کی‘‘اس آیت پر اللہ جل شانہ درمیانی نماز کی حفاظت کے لئے حکم دیتا ہے اور وہ عصر کی نماز ہے اگرچہ نگاہ رکھنے کا لفظ سب نمازوں کو محیط ہے مگر خصوصیات کے واسطے وسط کی نماز کو مخصوص فرما دیا ہے ۔یعنی اس کی نگہداشت کو مقدم کیا ہے۔ اسی طرح ان چار مہینوں کو بھی ظلم کرنے سے نگاہ رکھا ہے اور تاکید کی ہے کہ عرب کے مشرکوں میں سے ان مہینوں میں کسی کو نہ مارو۔ہاں اگروہ تم کو مارنا شروع کریں تو پھر تمہارا مارنا بھی جائز ہے ابو یزید روایت کرتے ہیں کہ ظلم کیا ہے ؟اللہ تعالیٰ کی بندگی چھوڑ دینا اور وہ کام کرنے جن کے کرنے سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے اور اس کے سوا اور بزرگوں نے کہا ہے ۔کسی شے کا غیر محل میں رکھنا ظلم ہے۔یعنی جو آدمی کسی کا حق کسی دوسرے کو دیتا ہے وہ ظالم ہے۔ یہ دونوں روایتیں آپس میں مشابہت رکھتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے(تم مشرکوں کو مارو یعنی مکہ کے سب کافروں کو جیسے وہ لوگ تم کو مارتے تھے )یعنی اگر حرام کے مہینے میں وہ تمہیں ماریں تو تم بھی مارو اور اس کو سمجھ لو کہ جو لوگ پرہیز گار ہیں ۔ خداوند کریم ان کی مدد کرتا ہے اور اہلِ تفسیر نے اس فقرہ کے معنوں (الدین القیم)میں اختلاف کیا ہے ۔مقاتل کا قول ہے کہ جو دین حق ہے وہ دین قیم ہے اور دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ سچا دینِ دینِ اسلام ہے اور بعض نے کہا ہے کہ دین قیم وہ ہے جو کجی سے دورہواوربعض یہ کہتے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے جس کے کرنے کے واسطے مسلمانوں کو حکم دیا ہے وہ دین قیم ہے ۔
Key-13۔ایام ہفتہ کابیان:
ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبیِ کریمؐ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے شنبہ کے دن خاک یعنی زمین کو پیدا کیااور پھر اس میں پہاڑ یک شنبہ کو پیدا کیا اور پھر دو شنبہ کو اس میں درخت پیدا کئے اور جس قدر مکروہ اور ناخوش چیزیں ہیں۔ ان سب کو سہ شنبہ کو پیدا کیا اور سب اچھی چیزیں چہار شنبہ کو پیدا کیں۔پنج شنبہ کے روز تمام چارپاؤں کو اس میں پیدا کیا اور پراگندہ کیا اور جمعہ کے دن عصر کے بعد آدمؑ کو پیدا کیا اور یہ آخری پیدائش جمعہ کی آخری ساعت میں عصر سے درمیان کے رات تک ہوئی ۔حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ خدا کے رسول مقبولؐ سے شنبہ کی نسبت سوال ہوا تو آپؐ نے فرمایا کہ یہ روز مکر اور فریب کا ہے۔ عرض کی کہ اے اللہ کے رسول یہ کیونکر ہے جواب دیا اہل قریش نے اسی روز دارالندوہ میں میرے ساتھ مکر اور فریب کیا تھا۔(یہ ایک سرائے کا نام ہے اس کو قریش مکہ نے بنایا تھا۔ اس میں ایک دفعہ سب قریش جمع ہوئے اور انہوں نے مشورہ کیا کہ کسی طرح خدا کے رسولؐ کو مار ڈالیں ۔اس واسطے آپؐ کو حکم ہوا کہ اس جگہ سے ہجرت کرو )۔اس کے بعد عرض کی کہ یک شنبہ کیسا دن ہے ؟فرمایا کہ یہ دن بونے اور عمارت بنانے کا ہے ۔کیونکہ دنیا اور اس کی عمارت کی ابتداء اسی روز میں شروع ہوئی۔ اس کے بعد پوچھا گیا کہ دو شنبہ کیسا دن ہے ؟آپؐ نے فرمایا کہ سفر اور تجارت کا دن ہے آپ کی خدمت میں عرض کی گئی کہ یہ کیونکر ہے ؟آپؐ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ شعیب نبی ؑ نے اسی روز سفر کیا تھا اور تجارت کی تھی ۔اس کے بعد سہ شنبہ کی حقیقت دریافت کی گئی تو آپؐ نے فرمایا کہ یہ خون کا دن ہے ۔سوال کیا گیا کہ یہ خون کا دن کیونکر ہے ؟تو فرمایا حوا کو سب سے پہلے اسی دن حیض کا خون آیا تھا اور آدم ؑ کے بیٹے نے اپنے بھائی کو اسی دن قتل کیا تھا۔اس کے بعدچہار شنبہ کی نسبت پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ یہ بڑا منحوس اور کمبخت دن ہے ۔عرض کی گئی کہ منحوس کیونکر ہے تو خدا وند تعالیٰ نے فرمایا کہ فرعون اور اس کی قوم اسی روز غرق ہوئی تھی اور اسی دن عاد اور ثمود کی قوم ہلاک ہوئی ۔اس کے بعد سوال کیا گیا کہ پنج شنبہ کا دن کیسا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہ دن مرادوں کے پوری ہونے کا ہے اور بادشاہوں کے پاس پہنچنے کا اور ان کی درگاہ میں باریابی حاصل کرنے کا دن ہے۔
Key-14۔ ہمیشہ کے روزے اور ان کا ثواب:
حضرت عمرؓ بن خطاب روایت کرتے ہیں کہ خدا کے رسول مقبولؐ نے فرمایا ہے کہ حضرت داؤدؑ کے روزے سب کے روزوں سے بہتر ہیں۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے۔ جو آدمی ہمیشہ روزے رکھتا ہے وہ اپنے نفس کو خدا کی راہ میں بخش دیتا ہے اور ابی موسیٰ اشعریؓ روایت کرتے ہیں کہ خدا کے رسول مقبولؐ نے فرمایا :جو آدمی ہمیشہ کے روزے رکھتا ہے دوزخ اس کے واسطے اس طرح تنگ ہو جاتی ہے اور آپؐ نے نوے کا عقد کیا (یعنی آپؐ نے انگشت شہادت کو انگوٹھے کی جڑ میں رکھ کر حلقہ بنا کر دکھایا ) اور شعیب سعد بن ابراہیمؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ ہمیشہ روزہ رکھا کرتی تھیں اور یعقوبؓ کہتے ہیں کہ اپنی وفات سے پہلے حضرت سعدؓ نے چالیس برس تک برابر روزے رکھے۔اور ابو ادریسؓ ایک روایت میں لکھتے ہیں کہ ابو موسیٰ اشعریؓ نے اس قدر روزے رکھے کہ ان کا بدن لاغر ہو کر تنکے کی مانند ہو گیا۔ اسی حال میں میں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے کہا کہ اپنے نفس کو اگر تم آرام دیتے تو بہتر ہوتا۔آپؓ نے فرمایا کہ اس حال میں راحت ہے کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ جو گھوڑا دبلا ہوتاہے وہ سب گھوڑوں سے آگے بڑھ جاتا ہے۔
Key-15۔ دن کے اورادکا بیان:
دن کے وقت جو وظیفے پڑھے جاتے ہیں وہ پانچ وقتوں میں منقسم ہے۔اول تو وہ ہیں جو صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد آفتاب کے نکلنے تک پڑھے جاتے ہیں۔اور دوسری نماز ضحی ہے اور زوال آفتاب تک جو کچھ اس نماز میں شامل ہے تیسری زوال کے بعد نماز کی چاررکعت ادا کرنا ان کو اچھی قرات اور ایک سلام سے پڑھیں ۔اور کہا گیا ہے کہ جو آدمی اس کا حامل ہوتا ہے اس پر آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور چوتھے جو وہ ظہر اور عصر کے درمیان پڑھے جاتے ہیں اور پانچویں عصر کے بعد آفتاب کے غروب ہونے تک۔
Key-16۔پانچ وقت کی نمازکا ذکر:
پانچ نمازیں فرض ہیں ۔دو رکعت نماز فجر۔چار رکعت نماز ظہر۔چار رکعت نماز عصر اور مغرب کی تین رکعتیں اور چار رکعت نماز عشاء اور ان کل رکعتوں کی تعداد سترہ ہے۔جب خدا کے حبیب محمدؐ شب معراج پر تشریف لے گئے تو بارگاہ ایزدی سے دن میں پچاس وقت کی نمازیں آپؐ پر فرض ہوئیں مگر خداوند تعالیٰ نے اپنا لطف مبذول فرمایا اور اس میں تخفیف کی وجہ یہی ہوئی کہ بندوں کو آسانی ہواور ان کو زیادہ تکلیف نہ پہنچے ۔اور پچاس وقتوں کا جو ثواب تھا وہ ان پانچ وقتوں میں ہی عطا کر دیا اور یہ ایسی ہی عنایت ہے جیسی کہ لڑائی کے وقت ایک مسلمان کو دس کافروں کا مقابلہ کرنے کے واسطے حکم ہوا ہے اور پھر اس میں تخفیف فرما کر ایک کو دو کے مقابلہ کے واسطے کافی سمجھا گیا ہے اور جیسے پہلے رمضان کے دنوں میں خواب کے بعد کھانا اور پینا اور جماع حرام کیا گیا تھا۔اور پھر خداوند تعالیٰ نے اپنی بندہ نوازی سے خواب کے بعد کھانا پینا اور جماع کرنا حلال کر دیا اور فرمایا کہ سیاہی کے تاگے سے سفید تاگے کے ظاہر ہونے تک تم کھاؤ اور پےؤ۔
Key-17۔نماز جمعہ کا بیان:
نماز جمعہ فرض ہے اور اس کے فرض ہونے پر خدا وند تعالیٰ کا قول ذیل دلالت کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے لوگو! جو ایمان لائے ہو جب نماز جمعہ کے واسطے تم کو بلایا جائے تو اس وقت تم خدا کے ذکر کی طرف دوڑو اور خریدو فروخت چھوڑ دوا ور خدا کے رسول مقبولﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کی نماز تمہارے اوپر فرض کر دی ہے اور فرمایا ہے جو آدمی بغیر عذر جمعہ کی نماز کو چھوڑتا ہے خدا تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے پس جس آدمی پر یہ لازم ہے کہ پانچ وقت کی نماز پڑھے اس کو جمعہ کا فرض ادا کرنا بھی لازم ہے اور یہ اس وقت ہے کہ اپنے وطن میں موجود ہو یا شہر یا کسی ایسے گاؤں میں مقیم ہو کہ اس میں چالیس آدمی بالغ اور آزاد موجود ہوں اور اگر کوئی ایسا گاؤں ہو کہ اس میں چالیس آدمی موجود نہ ہوں اور یا ایسی جگہ ہے کہ وہاں ایک دوسرے گاؤں سے اذان کی آواز سنائی دیتی ہے یا ایسی جگہ میں ہے کہ وہاں سے اذان کا مقام ایک فرسخ کے فاصلہ پر ہے اور یہ فاصلہ بارہ ہزار قدم کا ہوتا ہے تقریباً (آٹھ کلومیٹر) تو ان صورتوں میں اس شخص کو واجب ہے کہ جمعہ کی نماز میں حاضر ہو اور اس سے محروم رہنا اس کو روا نہیں ہے اگر اس کو کوئی عذر ہے اور جماعت جمعہ کو ترک کرے تو اس حال میں وہ معذور ہو گا مثلاً بیمار ہے یا اس کے پاس ایسا مال ہے کہ اس کے ضائع ہو جانے کا اس کو خوف ہے یا اپنے غیر حاضری میں اپنے کسی عزیز کے مر جانے کا اندیشہ ہو یا اس کو بار بار پاخانہ یا پیشاب یا ان میں سے کوئی ایک آتا ہے اور یہ جماعت میں حاضر ہونے سے مانع ہو اور یا کھانا حاضر کیا گیا ہو اور اس کو اس کی حاجت ہو اور یا اس کو خوف ہو کہ اگر میں جمعہ میں حاضر ہوا تو مجھ کو حاکم گرفتار کر لے گا یا ڈرتا ہے کہ قرض خواہ مجھ کو پکڑ لے گا اور کوئی چیز پاس نہیں رکھتا کہ گرفتاری کے وقت اس کو دے کر اپنا پیچھا چھڑائے اور یا سفر میں ہے اور اس سے خوف کرتا ہے کہ اگر میں جمعہ کی نماز میں حاضر ہوا تو پیچھے سے میرا قافلہ کوچ کر جائے گا یا مال کے نقصان کا خوف کرتا ہے اور یا یہ اُمید رکھتا ہے کہ اگر میں جمعہ اور جماعت میں شامل نہ ہوں تو مجھے فلاں مال مل جائے گا یا نیند اس پر اس قدر غالب ہو کہ نماز کا وقت گذر گیا
ہو اور یا مینہ اور کیچڑ اور ہوا کا سخت طوفان ہو اور ان کے ضرر کا خوف ہو ان سب صورتوں میں معذور ہے اور جمعہ کی نماز دو رکعت ہے جو امام کے پیچھے خطبہ کے بعد ادا کی جاتی ہے۔
Key-18۔ہفتہ کے دنوں اور ان کی راتوں میں نماز کا بیان:
ابوسلمہؓ ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر خداﷺ نے مجھے فرمایا کہ جب کبھی تو اپنے گھر سے نکلے تو اس وقت دو رکعت نماز ادا کرکے نکلا کر۔ نماز تمہار ے نکلنے کی برائی کو دور کردے گی اور جب اپنے گھر میں داخل ہو تو اس وقت بھی دو رکعت نماز ادا کر۔ اس سے بھی تیرے داخل ہونے کی برائی دور ہوگی اور انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ خدا کے رسول مقبولؐ نے ارشاد فرمایا : اگر کوئی آدمی فجر کی نماز کے واسطے وضو کرے اورمسجد کی طرف جائے اورجاکر اس میں نماز پڑھے تو ہر قدم کے عوض میں اس کو نیکی عطا کی جاتی ہے اور اس کے مقابلہ میں بدی دور ہوتی ہے اور اس کی نیکی دس درجہ تک زیادہ کی جاتی ہے اور جب نماز کو ادا کرلیتا ہے اور طلوع کے وقت واپس لوٹتا ہے تو اس کے بدن پر جس قدر بال ہوتے ہیں اسی قدر اس کو نیکیاں عطا کی جاتی ہیں اور اس کے سوا مقبول حج کا ثواب بھی اس کو ملتا ہے اور جب رکوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ رکوع کے ہر ایک جلسہ میں دو لاکھ نیکیاں عطا کرتا ہے اور جو آدمی عشاء کی نماز پڑھتا ہے اس کو اس ثواب کے ساتھ ساتھ ایک عمرہ کا ثواب دیا جاتا ہے اورحضرت عثمان بن عفانؓ روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر خداؐ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی آدمی جماعت کے ساتھ نمازِ عشا ادا کرتا ہے تو وہ اس آدمی کی مانند ہوتا ہے جو رات بھر نماز ادا کرتا ہے۔
Key-19۔رات میں نمازوں کی بزرگی کا بیان:
حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ خدا کے رسولِ مقبولؐ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی آدمی یک شنبہ کی رات کو نماز کی بیس رکعت ادا کرے اور ہر ایک رکعت میں ایک دفعہ سورۃ فاتحہ اور پچاس مرتبہ سورۃ اخلاص اور ایک دفعہ سورۃ الفلق اور سورۃ والناس پڑھے اور اپنے واسطے اپنے ماں باپ کے واسطے خدا کی بارگاہ میں سومرتبہ استغفار کی درخواست کرے اور سو دفعہ ہی خدا کے رسولِ مقبولؐ پر درودبھیجے اور اس کے بعد تیسرے کلمے کا آخری حصہ ’’لاحول ولا قوۃ الاّ بااللہ‘‘ پڑھے اور خدا کی طاقت اور قوت کی جانب متوجہ ہو اور پھر کلمۂ شہادت ’’اشہد ان لا اِ لٰہَ الا اللہ‘‘ پڑھ کر یہ کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت آدمؑ خدا کے برگزیدہ ہیں اور خداوند کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور ابراہیمؑ خدا عزوجل کے دوست ہیں اور موسیٰ کلیم اللہ ہیں اور عیسیٰؑ روح اللہ ہیں اور حضرت محمدؐ خدا عزوجل کے حبیبؐ ہیں تو اس آدمی کو ان لوگوں کی تعداد کے موافق اجرو ثواب عطا کیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ کا لڑکا قرارنہیں دیتے اور جو اس کی اولاد نہیں قرار دیتے اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کو ان لوگوں میں اٹھائے گا جو امن پانے والے ہوں گے اور اللہ پر یہ واجب ہوگا کہ نبیوں کے ساتھ بہشت میں اس کو داخل کردے۔
Key-20۔دعاؤں کا بیان:
نمازِ فجراور نماز عصر کے بعد اس دعا کو پڑھا جائے اے اللہ’’ حمد‘‘ شکر کی رو سے تیرے واسطے ہی مخصوص ہے اور از روئے’’فضل‘‘ تمام احسان تیرے ہی ہیں اورسب نیکیاں تیری نعمت سے ہی تمام ہوتی ہیں۔اے اللہ میں تجھ سے فوری کشادگی کی درخواست کرتا ہوں تو دعا کرنے والوں کی دعائیں ہمیشہ قبول کرتا ہے اور کا مل صبر اور تمام بلاؤں سے عافیت اور اندوہ و مصیبت سے سلامتی اپنی رحمت سے تو ہی عطا کرتا ہے اے اللہ تو رحمت کرنے والوں میں سے زیادہ رحیم ہے تو ہمارے اجتماع کو مرحوم اجتماع کر اور ہماری جدائی کو عصمت والی جدائی بنا کسی کو ہم میں سے بد بخت نہ بنا اور نہ ہی محروم کر اور ہماری حاجت کو پورا کر اپنے سوا کسی اور پر اس کو موقوف نہ رکھ اور ہمیں اپنی خیرو برکت کی کشادگی اور اپنے اوپر سچے توکل اور اپنی طرف خالص رغبت سے محروم نہ رکھ اور اپنی نعمت سے ہمارے دلوں کو غنا سے بھر دے اور اپنے روبرو شرم کے کپڑے سے ہمارے منہ ڈھانپ لے اور اپنی رحمت سے دنیا اور آخرت کی نیکی ہم کو نصیب فرما تو تمام رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔اے اللہ صبح اور شام کی نیکی ہم سب کو نصیب کر اور قضاو قدر کی نیکی عطا کر اور صبح اور شام اور قضا و قدر کی بدی ہم سے پھیر دے اے اللہ اس روز میں جس قدر تو نے نیکی اور عافیت اور سلامتی اور غنیمت اور رزق کی فراخی نازل کی ہے اس میں تو ہمارا حصہ بھی ہمیں عطاکر اور وافر حظ مرحمت فرما اے اللہ تو نے جو بدی اور بلا اور شر اور بیماری اور فتنہ آج کے دن نازل کیا ہے اس سے مجھے، تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کومحفوظ رکھ،بے شک تمام رحم کرنے والوں میں سے زیادہ رحم کرنے والا تو ہی ہے۔

Key-21۔مریدوں کے آداب کا بیان:
جس چیز کی عادت پڑ گئی ہواس کے چھوڑ دینے کو ارادت کہتے ہیں اور تحقیقی معنی ارادت کے یہ ہیں کہ مضبوطی کے ساتھ خدا کی طلب کی دل میں تحریک پیدا ہو اور خدا کے سوا دوسری چیزوں کو ترک کر دے۔ پس جب بندہ دنیا اور آخرت کی لذت کے خیالات دل سے مٹا دیتا ہے تو اس وقت اس کی اراد ت خالص ہو جاتی ہے اور پہلے ہر ایک کام کا ارادہ ہوتا ہے اور اس کے بعد قصد اور قصد کے بعد فعل ہوتا ہے اور ارادہ ہر ایک سالک کے راستہ کی ابتداء ہے اور ہر ایک قصد کرنے والے کی پہلی منزل کانام ہے خداوند تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’جو لوگ صبح اور شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں ان کو نہ ہٹا یہ لوگ ہر وقت اپنے اللہ کی خواہش اور عمل اس کا تیسرا مقام چاہتے ہیں‘‘۔پس اس سے ظاہر ہے کہ ان کے ہٹا نے اور دور کرنے سے خدا نے اپنے رسول مقبولؐ کو منع کیا ہے اور دوسری آیت میں فرمایا ہے ’’اپنے نفس کو ان لوگوں سے موافق کر جو صبح اور شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور خدا کی مرضی چاہتے ہیں اور ان کی طرف سے اپنی آنکھوں کو پھیر نہ لے در آنحا لیکہ تو دنیا کی زندگی کی زینت چاہتا ہے‘‘ خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ ان سے موافقت رکھو اور ان سے ملاقات کرو اور ان کی صحبت میں صبر اختیار کرو ان کے وصف میں فرمایا ہے ’’وہ حق تعالیٰ کی ذات کو چاہتے ہیں‘‘ اور اس کے بعد فرمایا ’’ان کی طرف سے اپنی دونوںآنکھیں نہ پھیر کہ تو دنیا کی زینت کی خواہش کرتا ہو پس اس سے ظاہر ہے کہ حقیقت میں ارادت حق تعالیٰ کی ذات کی خواہش رکھنا ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ سب دنیا اور آخرت کی زندگی کی زینت ہے پس مرید تو وہ ہوتا ہے جس میں یہ ذکر کی گئی تمام صفتیں موجود ہوں جو ایسا ہوگا وہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے والا ہو گا اور اس کی اطاعت کرنے والا اور خدا کے سوا دوسری چیزوں سے اپنا منہ پھیر لے گا اور اپنے پروردگار کی اجابت میں غیر کی اجابت سے کنارہ کش ہوگا اور جو شخص ایسا ہونا چاہتا ہے اس کو لازم ہے کہ وہ قرآن وسنت کے احکامات پر عمل پیرا ہو۔
Key-22۔ مبتدی کے بارے میں بیان:
مبتدی کو کیا کرنا چاہئے؟ اور اپنے پیر کا ادب کیوں کر کرے اور جب شیخ صاحب اپنے مرید کو ادب سکھلائیں تو وہ کس طرح سکھائیں؟ مرید کا اعتقاد اول ہی اول اس پر مضبوط کریں کہ گزشتہ بزرگ اور نیکو کار جو اہل سنت ہو گزرے ہیں انکے طریق پر چلے اور نبیوں اور رسولوں اور تا بعین اور ولیوں اور صدیقوں کا عقیدہ اور طریق اختیار کرے ۔
Key-23۔بھائیوں سے میل جول کا طریقہ:
بھائیوں کے ساتھ جوانمردی اور سخاوت سے پیش آئے۔ اپنے اوپر ان کو ترجیح دے اور ان سے کوئی تقصیر سرزد ہوئی ہو تو ان کو معاف کردے۔ ان کی خدمت کی شرط بجالائے اور ان کا ساتھ دے۔ ان پر کوئی اپنا حق ثابت نہ کرے اور نہ ہی ان سے اپنا حق مانگے اور اس کو تسلیم کرے کہ تم سب کا میرے اوپرحق ہے۔ ان کا ساتھ دے اور جو ان کا حق ہو اس کو اداکرے۔ سچائی سے محبت رکھے اور جو کچھ وہ کہیں یا کریں ان سے موافقت اختیار کرے اس میں کچھ قصور اور کوتاہی روا نہ رکھے ہمیشہ اتفاق کرے کیونکہ اس بات میں تاکید کی گئی ہے۔ اپنے نفس کو ضرر پہنچائے اور اگر دیکھے کہ ان سے کوئی تقصیر ہوئی ہے تو ان کو بری کرنے کے لئے اس کے واسطے کوئی تاویل پیدا کرے اور عذر تلاش کرے۔ ان سے مخالفت، مجادلہ اور نفرت نہ کرے ان کے عیبوں سے چشم پوشی کرے اور اگر کوئی ا ن میں مخالفت بھی ہوجائے تو اگر واقعہ میں معاملہ اس کے کہنے کے برخلاف ہو بظاہر اس کے کہنے کو مان لے۔ ہمیشہ اپنے بھائیوں کی دلجوئی کرنا لازم ہے۔ اس کام سے پرہیز کرے جس کو بھائی مکروہ جانتے ہوں اگرچہ ان کی اس میں بھلائی ہی ہو۔کسی کے ساتھ حسد نہ کرے اور اگر کسی بری بات کے سبب سے کسی کے دل پر کلفت کا غبار بیٹھ جائے تو اس سے اس طرح خوش خوئی سے باتیں کرے کہ اس کے دل کا جس قدر رنج اور غبار ہو وہ تمام جاتا رہے ۔ اگر پھر بھی دل صاف نہ ہوں تو مزید احسان کرے اور اگر بھائیوں میں سے کسی سے وہ وحشت اور غیبت کے آزارمیں گرفتار ہے توان کی اس بات کو اپنے دل میں جگہ نہ دے اور ان کو ایسا جتلادے کہ گویا میں اس کو جانتا ہی نہیں۔
خلاصہ :
کتاب ’’غنیہ الطالبین‘‘اسرارورموزِ شریعت ، طریقت ، معرفت اور حقیقت کو سمجھنے کی لاجواب کتاب ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے قرآن و سنت کے تما م پیچیدہ مسائل کی گرہیں کھول کر رکھ دی ہیں اور اپنے ہم عصر اور پہلے سے اولیائے کرا م اور شیوخ کی حیاتِ جاودانی پر روشنی ڈالی ہے۔کتاب کے آخری مضامین میں دعاؤں اور بھائیوں سے میل جول کا طریقہ بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔یہ کتاب شریعت اور طریقت پر جامع اور راہِ سلوک کے مسافروں کیلئے بے مثال اور لاجواب کتاب ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں