11

ختمِ نبوتؐ اور ناموسِ رسالتؐ. ڈاکٹر عبدالقدیرخان

49 / 100

ختم نبوتؐؐ اور ناموسِ رسالتؐ پر پچھلی کئی صدیوں سے لاتعداد کتب تحریر کی گئی ہیں اور عاشقانِ رسول نے اس مقصد کی خاطر ہزاروں جانوں کی قربانی دی ہے اور کیوں نہ دیتے؟ آپ ﷺ ﷲتعالی کے سب سے عزیز، آخری نبی تھے اور آپؐ نے اپنی پوری زندگی ﷲتعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے اور اس کے پیغامات (قرآن شریف) پوری اُمّت کو پہچانے میں صرف کردی اور اس میں بے حد تکالیف کا سامنا کیا، جنہیں آپؐ نےخندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ مشہور یہودیمصنف مائیکل ہارٹ نے جب دنیا کی 100 طاقتور ترین شخصیات کی فہرست شائع کی تو آپ رسول ﷲﷺ کو پہلی پوزیشن پر درج کیا۔ عیسائیوں اور یہودیوں کے اعتراضات اور احتجاج کے جواب میں اس نے آپؐ کے کردار اور اخلاق کی نہ صرف تعریف کی بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ آپ ؐ واحد شخصیت ہیں جن کی خاطر آج بھی لاکھوں مسلمان جان دینے کو تیار رہتے ہیں۔ کسی اور مذہب کے رہنما کے لئے یہ قربانی کوئی دینے کو تیار نہیں۔

ایک نئی اعلیٰ کتاب بعنوان ’’تحفّظ ختم نبوۃ امام احمد رضا‘‘ ہے۔ اس کے مصنف جناب علّامہ مفتی محمد تصدق حسین، ناظم تعلیمات جامعہ المرکز اسلامی، والٹن، لاہور ہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی بہت بڑے عالم دین تھے، ان کے کروڑوں پیروکار اور چاہنے والے ہیں، وہ ختمِ نبوتؐ کے علم بردار تھے۔ اس کتاب میں مفتی محمد تصدق حسین نے امام احمد رضا خانؒ کی زندگی،کردار اور اخلاق پر روشنی ڈالی ہے اور ختمِ نبوتؐ پر اُن کے بیانات اور تحریریں بیان کی ہیں جن سے ختمِ نبوتؐ اور ناموسِ رسالتؐ کی تصدیق ہوتی ہے۔ دیکھئے اس کتاب میں اِن تمام اِلٰہی احکامات کا تذکرہ ہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمائے ہیںمثلاً میری اور رسول (محمدؐ) کی اطاعت کرو ان کے احکامات پر عمل کرو اور یہ کہ محمدؐ آخری نبی ہیں اور رسولؐ کے ارشادات کہ میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا اور نہ ہی کوئی اور اُمت آئے گی۔ رسول ﷲ کے بارے میں لاتعداد احادیث اور احکام اِلٰہی بیان کئےگئے ہیں جو رسولؐ ﷲ کے ربتہ، مرتبہ اور خاتم النبیینؐ ہونے کی گواہی ہیں۔

آپ اگر کلام مجید بمعہ ترجمہ تلاوت کریں تو آپ کو کئی جگہ فرمانِ الٰہی نظر آئے گا کہ ﷲ کی اور اس کے رسول (محمدؐ) کی اطاعت کرو۔ ان کے احکامات پر عمل کرو۔ سورۃ النساء میں ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو ﷲ اور اس کے رسول کے احکامات مانتے ہیں وہ ان میں سے ہیں جن پر ﷲ کی رحمت ہے (آیت 69 )۔ اسی سورۃ النساءکی آیت نمبر80 میں ﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے جس نے رسول (محمدؐ)کی اطاعت کی اس نے ﷲ کی اطاعت کی۔ ﷲ تعالیٰ نے بار بار انتباہ کیا ہے کہ جو اس کی اور رسول اللہؐ کے احکامات کی نفی کرے گا اس کے لئے بہت سخت عذاب ہے وہ جہنم میں ڈالے جائیں گے جس کی آگ انسانوں اور پتھروں سے تیار کی گئی ہوگی اور گناہگاروں کو اس میں ڈالا جائے گا اور ان کی کھال (جسم کا حساس ترین حصّہ) بار باربدلی جائے گی وہ عذاب اور تکلیف کا مزہ چکھیں گے۔

ہمارے پیارے نبیؐ نے خطبۃ الوداع (عرفات) میں ایک لاکھ افراد سے زیادہ کے سامنے صاف صاف فرمایا تھا۔ ’’اے لوگو! میرے بعد اور کوئی نبی (پیغمبر) نہیں آئے گا اور نہ ہی کوئی اُمّت آئے گی۔‘‘ اس کے بعد اگر کوئی نبوّت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ ﷲ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کی نافرمانی کرے گا اور اس پر بہت سخت عذاب نازل ہوگا اور وہ جہنم میں جائے گا۔ ﷲ پاک نے سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف، سورۃ الانفال، سورۃ محمد اور سورۃ الکہف وغیرہ میں صاف صاف فرمادیا ہے کہ ’’بہرے، گونگے، اندھے ہیں پس یہ اپنی گمراہی سے باز نہیں آسکتے، بہرے گونگے اندھے ہیںپس یہ دیکھ نہیں سکتے، بہرے گونگے اندھے ہیں پس یہ سمجھ نہیں سکتے۔ اور اس نے ایسے لوگوں کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر سیل لگا دی، پردہ ڈال دیا ہے‘‘۔ اور ﷲ بزرگ کے سوا کسی میں قوّت و طاقت نہیں، وہ بڑی حکمت و دانائی والا ہے۔ میری ان لوگوں سے جنہوں نے بتوں کو خدا بنا لیا ہے اور نئے پیغمبر بنالئے ہیں درخواست ہے کہ ﷲ کے فرمودات پر عمل کریں اور نہیں کریں گے تو کافر ہوںگے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ بہت ہی تکلیف دہ جگہ ہے۔

(نوٹ) ایک نہایت اہم واقعہ کی جانب آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ جمعۃ الوداع کے موقع پر یہودیوں نے مسجد اقصیٰ میں فلسطینی مسلمانوں پر قیامت توڑ دی مگر ہمارے نہایت مالدار، طاقتور، زبان کے غازی افراد نے صرف چند سیکنڈ کے لفظی بیان کے سواکچھ نہیں کیا۔ عربوں کے پاس بےشمار افرادی دولت اور قدرتی وسائل ہیں ۔ اِنہی پسماندہ لوگوں نے وقت کے فرعونوں، بازنطینیوں اور ایرانیوں کی نہایت کم قوّت سے اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ کون جنگ قدسیہ اور جنگ یرموک کو یا جنگ یمامہ کو بھول سکتا ہے۔ میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ اسّی کی دہائی میں شام اور مصر گیا۔ باتوں باتوں میں ان کو میں نے مشورہ دیا کہ ان کو چاہئے کہ وہ اپنے آپشن کھلے رکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں