103

انتخابی اصلاحات

سیاسی جماعتوں کی طرف سے ممکنہ یا ماضی کے تناظر میں اٹھائے جانے والے اعتراضات کا آئندہ اعادہ نہ ہونے کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی کی پیش کردہ 39تجاویز پر مبنی رپورٹ کی منظوری دے دی ہے جس میں الیکشن کمیشن کے طریق کار میں تبدیلی، انتخابی نتائج کی بروقت ترسیل و اعلان، سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابات سے چار ماہ قبل الیکشن پلان کو حتمی شکل دینا، حلقہ بندیوں کے وقت اور امیدواروں کے ایجنٹوں کی تعداد کا تعین، انتخابی اخراجات اور بیرون ملک پاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق نکات سر فہرست ہیں۔ ان تجاویز کو عملی شکل دینے اور عمل درآمد موثر بنانے کے لئے قانون میں ترامیم کی جائیں گی۔ نئے چیف الیکشن کمشنر کی تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے تعیناتی کے بعد پی ٹی آئی حکومت کا یہ دوسرا بڑا اقدام ہے جو 2023میں ہونے والے منصفانہ انتخابات کے پُرامن انعقاد کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔ منصفانہ اور پرامن انتخابات کا بروقت شیڈول کے مطابق انعقاد پائیدار جمہوری نظام کی روح ہے۔ تاہم قیام پاکستان سے اب تک ملک میں تیرہ الیکشن ہو چکے ہیں اسے بدقسمتی کہیے کہ ہر مرتبہ ان کے منصفانہ ہونے پر انگشت نمائی ہوئی جبکہ گزشتہ ادوار سے حلقہ بندیوں، پولنگ ایجنٹوں کے تعین، انتخابی اخراجات، پولنگ کے اوقات کار اور گزشتہ الیکشن میں بیرون ملک پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے سے متعلق سیاسی حلقوں میں بے چینی پائی جا رہی تھی۔ ماضی میں عام انتخابات کے انعقاد کے بعد دھاندلی کے نام پر ملک میں جو حالات پیدا ہوئے، اس سے جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچااب ضروری ہوگا کہ قانون سازی کا عمل بروقت مکمل ہو اور تمام سیاسی جماعتوں کا اس پر تعاون ناگزیر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں