122

دنیا و آخرت میں کامیابی کا طریقہ

دنیا و آخرت میں کامیابی کا طریقہ
تحریر- حافظ محمد جمیل (ریسرچ سکالر ، جامعہ نعیمیہ ،اسلام آباد)
قرآن و احادیث میں بہت سے ایسے اصول و امور نظر آتے ہیں جن پر انسان عمل پیرا ہو کر دنیا اور آخرت میں کامیابی کے حصول کو ممکن بنا سکتا ہے ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو استوار کر سکتا ہے۔ جب انسان اپنے خالق حقیقی کے ساتھ رشتہ کو مضبوط کر لیتا ہے تو پھر تمام کامیابیوں کو پا لیتاہے۔ اپنے مالک کے ساتھ تعلق کو قائم کر لینا ، دنیا و مافیہا کی تمام کامیابیوں سےبڑی کامیابی ہے ۔
حدیث پاک کی روشنی میں چند اُمور بیان کیے جا رہے ہیں جن پر عمل انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی سے نوازتاہے ۔ بشرطیکہ وہ عمل صرف و صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کیا جائے ۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
1۔ جو کوئی دنیا کی مصیبتوں اور سختیوں میں سے کسی مسلمان کی مصیبت کو دور کرے گا تواللہ تعالیٰ قیامت کے روز، قیامت کی سختیوں میں سے اس کی کوئی سختی دور فرما دے گا۔
قیامت کا دن ایک ایسا دن ہے جس دن زمین ہلا دی جائے گی ،جو کچھ زمین میں ہے وہ اسے اُگل دے گی ۔انسان کو اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا۔انسان کے اپنے اعضاء انسان کے خلاف گواہ ہو ں گے ۔تمام دوست و رشتے دار جن کے لیے انسان دنیا میں دن ورات کا فرق کیے بغیر محنت کرتا رہا ۔بعض نے تو اس بات کو بھی بُھلا دیا کہ حاصل کیا جانے والا مال یا کوئی چیز آیا حلال ذرائع سے ہے یا ۔۔۔تمام کے تمام ساتھ دینے سے انکار کر دیں گے ۔
اگر خواہش مند ہیں کہ قیامت کے روز آپ کی سختیاں دور ہوں تو آج کی دنیا میں جو لوگ پریشانیوں، مصیبتوں میں مبتلا ہیں، ان کی مصیبتوں کو دور کریں۔اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے بدلےمیں آپ پر اپنا خاص فضل و کرم فرمائے گا۔
2۔ جو کوئی کسی تنگ دست کے لئے دنیا میں آسانی پیدا کرے گا تو اللہ تعالی دنیا و آخرت میں اس کےلیے آسانی پیدا فرمائے گا۔
موجودہ دور میں خاص طور پر کورونا اور مہنگائی جس نے انسان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے کہ وجہ سے تنگ دست ہے اس کے لیے حسب استطاعت آسانیاں پیدا کریں۔ اگر کوئی آپ کے ہاں ملازم ہے تو اس کےساتھ اچھا رویہ اختیار کریں اور ہو سکے تو مقرر وظیفہ سے زیادہ دیں ۔یقیناً اُس کے گھر کے کئی افراد کورونا کی وجہ سے بے روز گار ہو چکے ہو ں گے ۔ خاص طور پر سفید پُوش لوگوں کا خیال کریں جو کسی کےسامنے ہاتھ پھیلانے کی نسبتاً بھوکے رہنے و مرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔اگر آپ دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کریں گے تواللہ تعالی قیامت کے دن آپ کے لئے حساب و کتاب کے وقت آسانیاں پیدا فرمائےگا۔ پل صراط جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اس کا سفر پندرہ ہزار سال کی راہ ہے، پانچ ہزار سال اوپر چڑھنے کے، پانچ ہزار سال نیچے اُترنے کے اور پانچ ہزار سال برابر کے۔ پل صراط بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے اور وہ جہنم کی پشت پر بنا ہوا ہے ، پر آپ کا گزرنا آسان فرما دے گا۔
3۔ جو کوئی کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ تعالی دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔
ایک واقعہ بیان کیا جاتاہے کہ ایک عورت کو ایک نبی کے پاس حاضر کیا گیا اس حال میں کہ لوگ اس کو پتھر مار رہے تھے ،یہ الزام ٹھہراتے ہوئے کہ یہ زانیہ ہے ۔تو اس نبی نے کہا کہ اب وہ شخص پتھر مارےجس نے زندی میں کبھی گناہ نہ کیا ہو تو تمام لوگ وہاں سے چلے گئے۔ واقعہ کے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج جہاں دو چار افرادکی مجلس سجتی ہے وہاں عموماً کسی نہ کسی کی عزت کو اُچھالا جاتاہے۔ اس کے عیبوں کو عیاں کیا جارہا ہوتا ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس سے کوئی خاص مقصودبھی نہیں ہوتا سوائے نفس کو خوش کرنےکے۔اگر آپ اپنے آپ کو بے عیب نہیں سمجھتے تو دوسروں کے عیبوں کو چھپائیں تاکہ اللہ تعالی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی آپ کے عیبوں کو پوشیدہ فرمائے ۔ جب عیب پوشیدہ ہو جائیں گے تو یقینا حساب و کتاب کا معاملہ بھی آسان ہو جائے گا۔
4۔ اللہ تعالی اس وقت تک بندے کی مدد کرتارہتاہے جب تک وہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔
ہر انسان پریشان ہے کہ جو بھی کام شروع کرتا ہے اس کا نتیجہ الٹ آتاہے۔ کام میں برکت نہیں ہے۔ دس منٹ کے کام میں گھنٹہ گزر جاتاہے۔ اس کی اصل وجہ یہی ہےکہ ہم نے مادہ پرستی پر یقین کر لیا ہے۔اپنا کام نکالو دوسرےکا کیا ہوتا ہے ہمیں اس سے کیا غرض۔ جبکہ اسلام کی تعلیمات ہیں کہ دوسروں کے کام آؤ، دوسرو ں کی مدد کرو۔ آپ دوسروں کے کام آؤ گے تو اللہ تعالی تمہارے کاموں کو آسان کر دے گا ۔ سب کام خود بخود کی طرح اعلی ٰ پیرائے میں ہوتے نظر آئیں گے۔
4۔ جو شخص حصول علم کے راستے پر گامزن ہو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ ہموار فرما دیتاہے۔
یہ سب اس لیے کہ علم کے بغیر انسان اللہ کی معرفت کو نہیں پا سکتا۔ علم کے بغیر حلام و حرام میں تمیز نہیں کر سکتا۔ انسان جس شعبہ سے منسلک ہے اس سے متعلقہ تما م ضروری شرعی امور کا جاننا لازم ہے۔ تاکہ ان امور کو شریعت کے دائرے میں کرتے ہوئے اللہ کے حضور سر خرو رہے۔
5۔ جو لوگ اللہ تعالی کے گھر میں بیٹھ کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہوں، قرآن پاک ایک دوسرے سے سنتے اور سُناتے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان پر سکینت نازل فرماتا ہے، ان کو اللہ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے ، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالی ان کا تذکرہ اپنے ہاں فرشتوں میں فرماتاہے۔
مغربی دنیا کے اندر خودکشی کی شرح عروج پکڑ رہی ہے۔ ہمارے کلچر میں بھی جو خود کو اس مغربی تہذیب میں ڈھالنا چا رہے ہیں ان کا حال بھی کچھ انہی جیسا ہے۔ رات کو چند گھنٹے کے آرام کے لیے کیاکیا دوائیاں لینی پڑتی ہیں ۔جبکہ دوسری طرف جنہوں نے قرآن کے دامن کو مضبوطی سے تھاما ہوا ہے ۔ پانچ وقت باقاعدگی سے باجماعت نماز کی ادائیگی بجا لاتے ہیں ۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد تلاوت قرآن کرتے ہیں، اللہ تعالی نے ان کے دلوں کو اطمینان عطا کر رکھا ہے۔ یقین نہ آئے تو چند دن عمل کر کے دیکھ لیں۔ اگر آپ ہر وقت افسردہ رہتےہیں، پریشانی اور مایوسی میں مبتلا ہیں تو تلاوت قرآن اور پانچ وقت با جماعت نماز کی ادائیگی کو یقینی بنائیں تو یہ تمام چیزیں آپ سے کوسسوں دور ہو جائیں گی۔ان شاء اللہ
6۔ جس شخص کو اس کے اعمال موخر کر دیں تو اس کا نَسب اسے مقدم نہیں کرے گا۔
اس میں اُن افراد کے لئے سبق ہے جن کا ماننا یہ ہے کہ ان کی دولت ، شہرت ،دنیاوی عہدے ، دنیاوی تعلقات اور نسب ان کو دنیا و آخرت میں ہمیشہ کامیابی سے استوار رکھے گا ایسا نہیں ہے۔ جب دنیا ہی عارضی ہے تو اس کی چیزیں کسے ابدی ہو سکتی ہیں؟
(مسلم شریف، کتاب الذکر والدعاء، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں