dunia main wabain q aaati hain 95

دنیا میں وبائیں کیوں آتی ہیں. تحریر:حافظ محمد جمیل

دنیا میں وبائیں کیوں آتی ہیں
(قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک فکری مطالعہ)
تحریر:حافظ محمد جمیل
کرونا وائرس چمگاڈر کا سوپ پینے والوں سے پھیلا، چین کے ایک شہر سے پھیلا ، مصنوعی طور پر امریکہ میں بنا اور چین میں پھیلایا گیا، کرونا وائرس “ون ورلڈ آرڈر” کیلئے ایک اسرائیلی پالیسی ہے ۔اس طرح کی بہت سی اور مختلف سی افواہیں و خبریں سننے کو ملیں ۔لیکن اسلامی تعلیمات کی روشنی میں وباؤں کے آنے کو دیکھیں تو اس کی وجو ہات کچھ اور نظر آتی ہیں ،و ہ ہیں ہمارے بُرے اعمال۔جی ہاں! قرآنی آیات اور رسول اللہ ﷺ کے فرامین میں یہ بہت سورج کی روشنی کی طرح عیاں ہے کہ جب بھی تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو وہ تمہارے اعمال کے سبب ہو گی۔جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے
وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُواْ عَن كَثِيرٍ (الشورٰی:30 )
ترجمہ “اور جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے تو اُس (بد اعمالی) کے سبب سے ہی (پہنچتی ہے) جو تمہارے ہاتھوں نے کمائی ہوتی ہے حالانکہ بہت سی(کوتاہیوں) سے تو وہ درگزر بھی فرما دیتاہے “۔
یعنی تم پر جو بھی مصیبتیں آتی ہیں وہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے ہی آتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کی سزا نہیں دیتا ۔اگر وہ تمام گناہوں کی سزا دیتا تو دنیا میں کوئی بھی انسان باقی نہ ہوتا۔ بلکہ وہ بعض سے زیادہ گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اور بعض گناہوں کی سزا دیتا ہے ۔ اس لئے کہ لوگ گناہ والے کام کرنے سے باز آ جائیں۔ جیسے فرمان خداوندی ہے
لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
ترجمہ “تاکہ (اللہ) انہیں بعض (برے) اعمال کا مزہ چکھا دے جو انہوں نے کئے ہیں، تاکہ وہ باز آجائیں”۔
ماضی میں جو وبائیں آئیں اگر ان کا جائزہ لیا جائے تو ان کے متعلق بھی اللہ سبحانہ تعالی کا فرمان یہی ملتا ہے کہ ان میں وباء اپنے خالق سے ناطہ توڑنےاور حکم عدولی کی وجہ سے آئی ۔
جیسا کہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 59 میں فرمان باری تعالی ہے۔
فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُواْ قَوْلاً غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنْـزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُواْ رِجْزاً مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُواْ يَفْسُقُونَ
ترجمہ “پھر (ان) ظالموں نے اس قول کو جو ان سے کہا گیا تھا ایک اور کلمہ سے بدل ڈالا سو ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے (بصورتِ طاعون) سخت آفت اتار دی اس وجہ سے کہ وہ (مسلسل) حکم عدولی کر رہے تھے”۔
ہم کس سطح پر کھڑے ہیں؟ ہمارا اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے ناطہ کتنا ہے اور جو کچھ ہمارے نیک اعمال ہیں ان میں سے کتنے ریاکاری سے پاک ہیں؟ اس کا جائزہ ہر انسان بذات خود کر سکتا ہے۔ ہمارے اندر وہ کونسی بُرائی ہے جس کا وجود ہو لیکن بطور مسلمان غیر مسلم کی بات نہیں کرتے یہ جاننے کے باوجود بھی کہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ نے ان سے سختی سے منع فرمایا ہے ، نہ صرف منع فرمایا ہے بلکہ اکثر پر وعیدیں بھی سنائی ہیں کرتے چلے آ رہے ہیں۔
سود
“اے ایمان والو! دوگنا اور چوگنا کر کے سود مت کھایا کرو اوراللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ”۔(آل عمران: 130 )
“جو سود سے باز نہ آئے اللہ اور اس کے رسول پاک ﷺ نے جنگ کا اعلان فرمایا ہے “۔ (البقرہ: 279)
لیکن انفرادی طور پر تو بجا اس کو بعض ممالک میں سرکاری طور پر اختیار کیا جا چکا ہے۔
ناپ تول میں کمی
“اور پیمانے اور ترازو(یعنی ناپ اور تول) کو انصاف کےساتھ پورا کرو”۔(الانعام:152)
“بربادی ہے ناپ تول میں کمی کرنےوالوں کے لئے”۔(المطففین:1)
طعنہ زنی کرنا
“ہلاکت ہے ہر طعنہ دینے والے کےلئے (اور ہر) عیب لگانے والے (کے لئے )”۔(الھمزہ:1)
شراب
“اے ایمان والو! بیشک شراب اور جوا اور (عبادت کیلئے) نصب کیے گئے بت او ر (قسمت معلوم کرنے کیلئے) فال کے تیر (سب) ناپاک شیطانی کام ہیں۔ سو تم ان سے پرہیز کرو تاکہ تم فلاح پاؤ”۔ (المائدہ: 90)
“شیطان یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور کینہ ڈلوادے اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے کیا تم (ان شر انگیز باتوں سے ) باز آؤ گے”۔ (المائدہ:91)
جس کی کھلے عام خریدو فروخت اور استعمال جاری ہے ۔
زنا
اور تم زنا (بدکاری) کے قریب بھی مت جانا، بے شک یہ بے حیائی کا کام ہے اور بہت ہی بری راہ ہے “۔ (الاسراء: 32)
تہمت لگانا
“بے شک وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاکدامن بے خبر عورتوں پر وہ لعنت کیے گئے ہیں دنیا اور آخرت میں اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے “۔(النور: 23)
قتل کرنا
کسی ایسی جان کو قتل کرناجسے بغیر حق قتل کرنا اللہ نے حرام فرمایاہے ، جو شخص یہ کام کرے گا وہ سزائے گناہ پائے گا۔ (الفرقان: 68)
رشوت اور ناحق مال کھانا
“”اور ایک دوسر ے کا مال نا حق نہ کھایا کرو ، نا حاکموں کو رشوت پہنچا کر کسی کا کچھ مال ظلم و ستم سے اپنا کر لیاکرو، حالانکہ تم جانتے ہو”۔(البقرہ: 188)
ناشکری کرنا
“اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لے آؤ، اور اللہ (ہر حق کا) قدر شناس ہے (ہر عمل کا) خوب جاننے والاہے “۔ (النساء: 147)
پردہ کا حکم
“اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادیں کہ ( باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اوپر اوڑھ لیا کریں”۔ (الاحزاب: 59)
منافق کا انجام
“بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے اور آپ ان کے لئے ہر گز کوئی مددگار نہ پائیں گے”۔(النساء: 145)
منافق کون ہے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے ” جب بات کرے گا تو جھوٹ کہے گا،جب وعدہ کرے گا تو اس کے خلاف کرے گا،جب اس کو امانت دار سمجھا جائے تو خیانت کرے گا، جب جھگڑا کرے گا تو بد زبانی کرے گا”۔(صحیح مسلم)
غیبت کرنا
“نہ پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی کیا کرو، کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ و ہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے ،سو تم اس سے نفرت کرتے ہو اور (ان تمام معاملات میں ) اللہ سے ڈرو”۔(الحجرات: 12) جب رسول اللہ ﷺ سے غیبت کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا”اپنے بھائی کا اس طرح سے تذکرہ کرنا جو اسے با پسند ہو ۔ عرض کیا گیا کہ آپ کا کیا رائے ہے اگر وہ اس میں موجود ہوجسے میں بیان کر رہا ہوں؟آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو تم بیان کر رہے ہو اگر وہ اس میں موجود ہے تو تم نے غیبت کی اور اگر وہ اس میں موجو د نہیں جو تم بیان کر رہے ہو تو تم نے اس پر تہمت باندھی”۔
جھوٹ بولنا
إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللّهِ وَأُوْلـئِكَ هُمُ الْكَاذِبُونَ
ترجمۃ “بیشک جھوٹی افترا پردازی (بھی) وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اور وہی لوگ جھوٹے ہیں”۔
اسی طرح بہت سی ایسی برائیوں سے اللہ تعالی نے سختی سےمنع فرمایا لیکن ہم ۔۔۔۔؟جس کے نتیجے میں اللہ سبحانہ و تعالی نے سورۃ الروم آیت 41 میں فرمایا
﴿ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾
ترجمہ “بحر و بر میں فساد ان (گناہوں) کے باعث پھیل گیا ہے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کما رکھے ہیں تاکہ (اللہ) انہیں بعض (برے) اعمال کا مزہ چکھا دے جو انہوں نے کئے ہیں، تاکہ وہ باز آجائیں”۔
سورہ النساء کی آیت 79 میں ارشاد الہی ہے
﴿ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِكَ﴾
ترجمہ “اور جب تجھے کوئی برائی پہنچے تو (سمجھ کہ) وہ تیری اپنی طرف سے ہے” ۔
بعض مقامات پر تو رسول اللہ ﷺ نے برائیوں کے نام کے ساتھ ان گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے آنے والی بلاؤں، وباءوں ، مصیبتوں اور بیماریوں کا ذکر بھی فرما دیا۔
سنن ابن ماجہ کی حدیث شریف ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
1۔ پہلی یہ کہ جس قوم میں فحاشی اعلانیہ ہونے لگے تو اس میں طاعون اور ایسی ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان سے پہلے لوگوں میں نہ تھیں۔
2۔ اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو وہ قحط ،مصائب اور بادشاہوں (حکم رانوں) کے ظلم و ستم میں مبتلا کر دی جاتی ہے ۔
3۔ اور جب کوئی قوم اپنے اموال کی زکوٰۃ نہیں دیتی تو بارش روک دی جاتی ہے اور اگر چوپائے نہ ہوں تو ان پر کبھی بھی بارش نہ برسے۔
4۔ اور جو قوم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے عہد کو توڑ دیتی ہے تو اللہ تعا لی غیروں کو ان پر مسلط فرما دیتاہے جو اس قوم سے عداوت رکھتے ہیں پھر وہ ان کے اموال چھین لیتے ہیں ۔
5۔ اور جب مسلمان حکم ران کتاب اللہ کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ، بلکہ اللہ تعالی کے نازل کردہ نظام میں ( مرضی کے کچھ احکام) اختیار کر لیتے ہیں (اور باقی چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالی اس قوم کو خانہ جنگی اور ) باہمی اختلافات میں مبتلا فرما دیتے ہیں
آئیے جائزہ لیجیے کونسی خطا ہم میں نہیں ہے اور کونسی مصیبت و آفت کا ہمیں سامنا نہیں۔
ایک مرتبہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایاکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ نے فرمایا “جب لوگ کسی ظالم کو دیکھیں اور ظلم سے اس کا ہاتھ نہ روکیں تو قریب ہےکہ اللہ تعالی ان سب پر اپنا عذاب عام کر دیں “(ترمذی، ابو داؤد) ۔دیکھ لیں جب کشمیر میں ظلم کرنے والے کے ہاتھوں کو کسی نے نہیں روکا تو اللہ کا عذاب عام ہو چکا ہے ۔جس کی صورت حال ہر کسی کے سامنے بالکل واضح ہے۔ (اللہ ہمیں اس وباء سے محفوظ فرمائے)
رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ” نیک کاموں سے عمر بڑھتی ہے ، دعا تقدیر کو ٹال دیتی ہے اور بیشک آدمی اپنے کسی گناہ کی وجہ سے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے “۔(ابن ماجہ)
ہمارےمعاشرےمیں رزق کی صورت حال ؛نوجون لڑکے مساجد میں مانگتے نظر آتے ہیں، لوگ اپنے جسم کے اعضاء بیچنے پر مجبور ہو گئے ہیں، لوگوں کہیں بھوک سے نہ مر جائیں سرکاری سطح پر اس طرح کرونا کے لئے تدابیر نہیں کی جا سکیں ۔ جس سطح پر کرنے کی ضرورت تھی۔
اگر کوئی یہ کہے کہ میں نے اپنے آپ کو بالکل نیک سیرت رکھا ہوا ہے پھر میرے لیے یہ سب کیوں؟ تو وہ ان فرامین کو ذہن نشین کرے۔ فرمان باری تعالی ٰہے سورہ الانفال آیت 25۔
﴿ وَاتَّقُواْ فِتْنَةً لاَّ تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنكُمْ خَآصَّةً وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾
ترجمہ “اور اس فتنہ سے ڈرو جو خاص طور پر صرف ان لوگوں ہی کو نہیں پہنچے گا جو تم میں سے ظالم ہیں (بلکہ اس ظلم کا ساتھ دینے والے اور اس پر خاموش رہنے والے بھی انہی میں شریک کر لئے جائیں گے)، اور جان لو کہ اللہ عذاب میں سختی فرمانے والا ہے”۔
لہذا اس وباء سے چھٹکارے کےلئے ضروری ہے کہ صبرو استقامت کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کریں ، توبہ و استغفار ، اپنے گناہوں پر خوب شرمندگی کے ساتھ اللہ کے حضور گڑ گرائیں کر معافی طلب کریں اور آئندہ سے اللہ کی رضا کے مطابق زندگی بسر کرنے کا عہد کریں اور جو غیر مسلم ہیں وہ ایمان لے آئیں تو یقینا نہ صرف اللہ سبحانہ و تعالی ہمارے گناہوں کو معاف فرماتے ہوئے اس کرونا وائرس نامی وباء سے محفوظ فرمائے گا بلکہ ہمارے گناہوں کو بھی نیکیوں میں تبدیل فرما دے گا۔ جیسے اللہ تعالی نے سورہ الفرقان کی آیت 70 اور 71 میں ارشاد فرمایا
﴿ إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُوْلَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا وَمَن تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مَتَابًا﴾
ترجمہ “مگر جس نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا تو یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ جن کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا، اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔اور جس نے توبہ کر لی اور نیک عمل کیا تو اس نے اللہ کی طرف (وہ) رجوع کیا جو رجوع کا حق تھا”۔
سورہ التحریم کی آیت 8 میں ارشاد فرمایا
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾
ترجمہ “اے ایمان والو! تم اللہ کے حضور رجوعِ کامل سے خالص توبہ کر لو، یقین ہے کہ تمہارا رب تم سے تمہاری خطائیں دفع فرما دے گا اور تمہیں بہشتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں رواں ہیں “۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا (اے لوگو) تمہارا رب ارشاد فرماتا ہے “اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں انہیں رات میں بارش سے سیراب کروں گا، دن میں ان پر سورج کو طلوع کروں گا اور انہیں کڑک کی آواز تک نہ سناؤ ں گا”۔(مسند امام اعظم)
نماز پنجگانہ کی باقاعدگی اختیار کریں۔ صدقہ و خیرات کا کثرت سے اہتمام کریں۔اس کے ساتھ ساتھ اس وباء سے بچنے کے لئے اللہ پر توکل کرتے ہوئے ظاہری جائز اسباب و تدابیر بھی اختیار کریں ۔صبر کے دامن کو ہر گز نہ چھوڑیں ۔ بے جا واویلا نہ کریں۔ دنیا والوں کی مجلس میں اللہ کا شکوہ نہ کریں ،جب ثابت قدمی کا مظاہر ہ ہو گا تو یہ آفت رحمت میں تبدیل ہو جائے گی اور رفع درجات کا سبب بنے گی ۔جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے فرامین ہیں
“یعنی کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو کسی مسلمان کو پہنچےمگر وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے یہاں تک کہ کانٹا جو اس کے پاؤں میں چبھتا ہے “۔
حضرت ابو موسی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “بندے کو جو کوئی ہلکی یا سخت مصیبت پیش آتی ہے تو وہ اس کے گناہ کا نتیجہ ہوتی ہے اور اللہ بہت گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں”
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا” مومن کی بیماری اس کے گناہوں کے لئے کفارہ ہوتی ہے “۔(شعب الایمان)
اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں التجا ہے کہ وہ عظیم ذات ہمیں اس وباء سے محفوظ فرمائے اور ہمارے گناہوں کو معاف فرماتے ہوئے اپنی رحمتوں اور نوازشوں سے نوازے۔
آخر میں چند دعائیں احادیث کی روشنی میں بیان کی جارہی ہیں اگر ان کا معمول بنا لیا جائے تو یقینا اللہ تعالی ہم سب کو اس وباء سے اپنے حفظ و امان میں رکھے گا۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئْ الْأَسْقَامِ ۔ (سنن ابوداؤد جلد اول)
ترجمہ : اے اللہ میں تجھ سے پناہ چاہتا ہوں برص کی بیماری سے، پاگل پن سے، کوڑھ کی بیماری سے، اور تمام نقائص سے اور تمام بیماریوں سے ۔
اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّآمَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ۔ ( صحیح مسلم)
ترجمہ : میں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ۔
بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْ ءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآ ءِ وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (صحیح ابن ماجہ: 332/2)
ترجمہ : اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین اور آسماں میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہی سننے والا جاننے والا ہے ۔
اَلّٰلھمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ وَ لَا تُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَ عَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ ۔
ترجمہ : اے اللہ نہ مار ہمں اپنے غصے کے ساتھ اور نہ ہلاک کر ہمیں اپنے عذاب کے ساتھ اور ہمارے سابقہ گناہ معاف فرما ۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَ تَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ وَ فُجَآءَۃِ نِقْمَتِکَ وَ جَمِیْعِ سَخَطِکَ ۔ (صحیح مسلم)
ترجمہ : اے اللہ میں تیری پنا ہ میں آتا ہوں تیری دی ہوئی نعمت کے زائل ہونے سے اور تیری عافیت کے پھیرنے سے اور تیری اچانک پکڑ سے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں