#DelhiRiot2020 326

جلتے مدرسے، چیخیں اور ’آپ کی پہچان‘، تشدد سے متاثرہ گلیوں میں گزرے پانچ گھنٹوں کا احوال #DelhiRiot2020

#DelhiRiot2020
بدھ کی دوپہر کے بارہ بجے شہر کے شمال مشرقی علاقے میں بھڑکنے والی آگ کے تیسرے دن برجپوری علاقے میں عجیب سا سناٹا تھا۔ دور دور تک پولیس کی گشت کرتی گاڑیوں کی آواز کے علاوہ کچھ بھی سنائی نہیں دی رہا تھا۔

گلیوں کے راستے ملبے کے ڈھیر سے بھرے ہوئے تھے۔ کچھ گلیوں میں نوجوان اور ادھیڑ عمر کے لوگ آنکھوں میں سوالیہ نشان لیے بیٹھے تھے۔

پولیس کی موجودگی دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ اس طرح کی تیاری اگر دو روز پہلے کی گئی ہوتی تو اس طرح کے حالات نہ ہوتے۔

سناٹے کو چیرتی ہوئی ایک چیخ کان میں پڑی تو میں اس آواز کی سمت میں بڑھ گئی۔ جن تنگ گلیوں کی طرف سے یہ آواز آئی وہاں پولیس بھی کھڑی تھی۔ گلیوں میں سناٹا بیتی رات کی چیخوں کو خود میں سمیٹے ہوئے تھا۔
میں برجپوری کی گلی نمبر 5 میں پہنچی جہاں سے گزشتہ رات اس گلی کی ایک رہائشی کے جوان بیٹے کو ان کی آنکھوں کے سامنے اٹھا لیا گیا تھا۔ 22 سالہ مہتاب ذہنی مریض تھے۔ منگل کی دوپہر تین سے چار بجے کے درمیان وہ دودھ لینے نکلے تھے لیکن واپس نہیں آ سکے۔

مہتاب کی بھابھی کو آج تک گرو تیغ بہادر ہسپتال سے ان کی لاش نہیں ملی۔ مہتاب کی ماں نے روتے ہوئے بتایا ’بچہ تھا وہ، میں نے بولا تھا مت جا باہر لیکن چائے پینے کی ضد میں پیسے لے گیا۔ اچانک اتنا شور مچا کہ سبھی ڈر گئے۔ گلی کے گیٹ پر تالا لگا دیا گیا۔ میرا بچہ باہر رہ گیا۔ کسی نے گیٹ نہیں کھولا۔ میں اس سے بات کر رہی تھی کہ اگلی گلی سے اندر آ جا لیکن اتنے میں ہیلمٹ پہنے اور ہاتھوں میں ڈنڈے لیے لوگوں کی بھیڑ نے میرے بیٹے کو اٹھا لیا۔‘
اس کے تھوڑی دیر بعد مہتاب کی بہن شازیہ کو فون پر کال آئی کہ ’تمہارے بھائی کو آگ کے حوالے کر دیا ہے۔‘ اس کے کچھ دیر بعد ایک دوسرے نمبر سے فون آیا کہ وہ مدینہ کلینک میں ہے۔‘

یاسمین بتاتی ہیں کہ مہتاب کو پہلے ڈنڈوں اور نوکیلے ہتھیاروں سے پیٹا گیا اور پھر اسے زندہ جلا دیا گیا۔ ’اب تک ہسپتال سے مہتاب کی لاش نہیں ملی ہے۔‘

پولیس کے حرکت میں آنے کے بعد حالات سوموار اور منگل کے مقابلے میں بہتر تو ہیں لیکن جو منظر آنکھوں کے سامنے ہے، جو زخم لوگوں کے دلوں میں لگے ہیں انھیں نہ تو اجیت ڈوبھال کے دورے بھر پائیں گے اور نہ ہی سرکار کی طرف سے دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم۔‘

گلی سے کچھ قدم کے فاصلے پر الہدیٰ فاروقیہ مدرسہ ہوا کرتا تھا جو اب خاک ہو چکا ہے۔ اس مدرسے کو جلا دیا گیا۔ میں مدرسے کے اندر داخل ہوئی۔ مدرسہ اب بھی سلگ رہا تھا۔ بچوں کی کچھ چپلیں پڑی تھیں، کچھ بستے پڑے تھے جن میں ننھے ہاتھوں نے کتابیں سجائی ہوں گی۔ کتابیں جو ہمیں بہتر انسان بناتی ہیں لیکن قرآن کے صفحات پورے ہال میں پھیلے ہوئے تھے۔ اردو زبان میں لکھی گئی کچھ کتابیں آدھی جلی ہوئی تھیں۔
ایک بسکٹ کا پیکٹ بھی پڑا ہوا تھا، جو شاید کسی بچے کو اس کی ماں نے دیا ہو گا بالکل ویسے ہی جیسے میری ماں مجھے گھر جانے پر گھر کی بنی ہوئی کھانے کی چیزیں باندھ کر دیتی ہے۔ اس مدرسے کے مولوی اور تعلیم حاصل کرنے والے بچے کہاں ہیں اس کے بارے میں کسی کو صحیح معلومات نہیں۔

فسادات میں سب سے زیادہ شرمسار انسانیت ہوتی ہے۔ وہ انسانیت جو آپ کے ہی اندر سہم کر، دبک کر رہ جاتی ہے اور آپ کی حیوانیت دیکھتی ہے۔ ایک جھٹکے میں آپ کا کام، آپ کا کردار بے معنی ہو جاتا ہے۔ آپ کی موت اور زندگی کا دارومدار آپ کے نام پر ہوتا ہے۔
کتاب کے پھٹے ہوئے اور تقریباً جلے ہوئے صفحے کو دیکھ ہی رہی تھی کہ پیچھے سے آواز آئی ’یہاں کسی چیز کو ہاتھ مت لگاؤ۔‘ پلٹ کر دیکھا تو نیو یارک ٹائمز کے فوٹو جرنلسٹ اتل تھے۔ میں انھیں دیکھ کر مسکرا دی۔ اب تک یہاں کئی اور صحافی بھی آ چکے ہیں۔

میں نے قدم تیز کیے اور بھاگیرتھی وہار کی طرف چل پڑی۔ یہاں بھی ہندو اور مسلمانوں کی ملی جلی آبادی رہتی ہے۔ یہاں گلی نمبر چار کے مکان نمبر 94 میں رام آدھار کا خاندان رہتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ پچھلے 30 سال سے یہاں رہ رہے ہیں اور کبھی اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس نہیں کیا۔

ایسے وقت میں جب دو گروپ ایک دوسرے کے خلاف زہر اگل رہے ہوں ایسے میں جب کوئی بھروسے کی بات کرتا ہے تو یہ سن کر کانوں کو بھی اچھا لگتا ہے کہ کہیں تو امید کی ایک لو ہے جو نفرت کو ٹھینگا دکھا رہی ہے۔

شام کے ساڑھے پانچ بج چکے تھے۔ پچھلے 5 گھنٹوں میں میں اس علاقے کی کئی گلیوں میں گھوم چکی تھی۔ بھاگی رتھی وہار کی ایک گلی میں کچھ ہل چل تھی۔ میں وہاں پہنچی تو کچھ لوگ بتا رہے تھے کہ کیسے کچھ باہر سے آنے والے مسلمان ان کے گھروں پر حملے کر رہے ہیں۔

کچھ عورتیں بھی باہر آئیں اور چوٹیں دکھائیں جو ان کے مطابق انھیں منگل کو لگی تھیں۔ ان کی باتیں سن ہی رہی تھی کہ بھیڑ میں شامل ایک عورت نے کہا ’انھیں فرق نہیں پڑتا ہے، ان کے تو دس دس بچے ہوتے ہیں۔ یہ تو مرنے کے لیے بھیج دیں گے لیکن ہمارا تو ایک ہی مر جائے گا تو ۔۔۔‘
ان کے جواب میں میں نے کہہ دیا ’بچہ ایک ہو یا دس، اس کے کھونے کا دکھ کم کیسے ہو گا۔‘

یہ کہنے پر میرے سامنے موجود لوگوں نے بہت ہی جارحانہ روپ اختیار کر لیا۔ مجھ سے میرا شناختی کارڈ مانگنے لگے۔ میرا نام پوچھا جانے لگا۔ صورتحال دیکھ کر میں نے پلٹ کر دیکھا تو میں پوری طرح گھر چکی تھی۔ وہاں کھڑے کچھ لوگوں نے میری تصویر بھی کھینچی۔ ’آپ ہمیں اپنا نام بتایے۔۔۔ کہاں سے ہیں آپ آئی ڈی دکھایے۔‘ بس یہی آواز گونج رہی تھی۔

میں یہ سمجھ چکی تھی کہ یہاں سے نکلنے کے لیے مجھے اپنا نام بتانا ہی ہو گا کیونکہ جس طرح میں گھِر چکی تھی، وہاں سے ان لوگوں کی مرضی کے بغیر نکلنا نا ممکن تھا۔ میں نے اپنا نام بتایا تو ایک لڑکے نے میرا فیس بک اکاؤنٹ کھول کر مجھے دکھایا اور پوچھا ’یہ آپ ہی ہیں۔‘ میں نے بولا ہاں۔ اب ان کے لفظوں کی تلخی ختم ہو چکی تھی۔

وہاں کھڑی عورتیں کہنے لگیں کہ ہم جاننا چاہ رہے تھے کہ آپ کون ہیں۔ مجھے زندگی میں پہلی بار اپنے نام کا اس طرح کا اثر دیکھنے کو ملا۔ مجھے اس گلی سے جانے دیا گیا۔

دنیا میں کوئی بھی ٹریننگ کیا ’ماب لنچنگ‘ یعنی ہجوم کے تشدد سے بچا سکتی ہے؟ یہ سوچتی ہوئی میں اپنی گاڑی تک پہنچی۔ دفتر کے راستے میں جلی ہوئی موٹرسائیکلیں اور کئی کاریں سڑکوں پر پڑی تھیں۔ سکول کی بسوں کو بھیں نہیں چھوڑا گیا جس میں سبھی مذہبوں کے بچے بیٹھ کر سکول جاتے ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں