10

فلسطینیوں کے لئے طبی امداد بھیجنے کا فیصلہ

7 / 100

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فلسطینی مجروحین کے لئے طبی امداد اور سامان بھیجنے کی منظوری دی گئی ہے۔قبل ازیں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور بہت سی رفاہی تنظیموں نے اسرائیلی حملوں میں زخمی فلسطینیوں کے علاج معالجے کے لئے ادویات ،مرہم پٹی اور عملہ بھیجنے کی خواہش کی تھی۔پاکستان ،ترکی ، ملائشیا اور ایران فلسطین کے نہتے باشندوں پر اسرائیلی حملوں پر امت مسلمہ کی ترجمانی کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے رجوع کر رہے ہیں تاہم جنگ بندی اور زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی فوری نوعیت کے معاملات ہیں ۔ غزہ پر اسرائیلی طیاروں اور میزائیلوں کے حملوں سے ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں، عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں جبکہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت فلسطینی شہید ہوتے جا رہے ہیں۔اسرائیل کی مسلسل آٹھویں روز بمباری سے فلسطین کے مہاجر کیمپ میں موجود ایک ہی خاندان کے دس افراد شہید ہو گئے ہیں۔ یتیم اور بے سہارا بچوں کے لئے قائم مرکز کی عمارت بھی دھماکے سے تباہ ہوچکی ہے۔ ہسپتال زخمیوں سے بھر ے پڑے ہیں۔اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے طبی سہولیات کا فقدان ہے۔فلسطینی وزارت صحت نے مسلسل ہونے والی بمباری کی وجہ سے شہادتوں میں اضافے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ غزہ کی رفاہ سرحد سے کئی شدید زخمیوں کو مصر منتقل کیا گیا جن میں بچے بھی شامل ہیں۔حملوں مین بڑی تعداد میں لوگوں کے زخمی ہونے اور ناکافی سہولیات کے پیش نظرفلسطینی میڈیکل ایسوسی ایشن (فلمڈ) نے صحت کے اداروں کو طبی امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی میں مقیم فلسطینی ڈاکٹروں نے مشرقی القدس اور غزہ میں اسرائیل کے حملوں اور قتل عام کی مذمت کی۔بیان میں یہ وضاحت کی گئی کہ 74 سال سے فلسطین پر قابض وحشی صیہونی قوتیں خواتین یا بچوں کا امتیاز کیے بغیر دنیا کی آنکھوں کے سامنے قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ فلسطینی عوام اپنے مقامی وسائل ہی سے وطن کا دفاع کررہے ہیں۔ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان دنوں طبی امداد کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے لہذا ہم تمام سرکاری اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کو فوری امداد کے لئے فلسطینی طبی اداروں کی فوری امداد کی اپیل کرتے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی میں مقیم فلسطینی معالجین ، اپنا فرض ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پاکستان کی قیادت اور عوام کی طرح ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور ترک عوام ہمیشہ فلسطین کے حق ٰ کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔ ہلال احمر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ترکی کی ہلال احمر نے مشرقی القدس اور غزہ میں موجود اپنے مستقل نمائندوں کے ذریعے فلسطینی عوام کے لئے امدادی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ترکی کے ہلال احمر نے مسجد اقصی اور غزہ میں فلسطینیوں پر اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں سامنے آنے والی صورتِ حال پر فوری طبی امداد کے لیے پانچ لاکھ لیرے مالیت کا طبی سازو سامان روانہ کیا ہے۔ہلال احمر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ، ترکی کی ہلال احمر نے مشرقی القدس اور غزہ میں موجود اپنے مستقل نمائندوں کے ذریعے فلسطینی عوام کے لئے امدادی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، اس طرح ترک ہلال احمر فلسطینیوں کو فوری امداد بہم پہنچانے والی تنظیم بن چکی ہے۔فلسطین کی مرکزی ہلالِ احمر کی اطلاع پر القدس میں ترک نمائندوں نے پانچ لاکھ لیرے مالیت کی ہنگامی طبی سامان کی فراہمی شروع کی۔ترکی کی ہلاِ احمر کی ویب سائٹ پر بڑی تعداد میں ترک باشندوں نے فلسطین کے لئے امداد دینے کا بتایا۔ پاکستان میں اس طرح کے عطیات کے لئے حکومتی نگرانی میں آن لائن عطیات کا نظام وضع کر کے فلسطینی بھائیوں کی مدد کی جا سکتی ہے۔ یہ صرف جنگ کی بات نہیں، عمعمی حالات میں بھی فلسطینی طبی سہولیات سے محروم رہتے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی زندانوں میں زیر حراست درجنوں مریض فلسطینیوں کے ساتھ جیل عملہ دانستہ غفلت کامظاہرہ کرتے ہوئے انہیں طبی سہولیات سے محروم رکھے ہوئے ہے جس کے نتیجے میں اسیران کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب مریض قیدیوںکے اہل خانہ نے اپنے پیاروں کی زندگیاں بچانے کے لیے عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کر رکھی ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی محکمہ امور اسیران کے وکیل معتز شقیرات نے اسیران کی طرف سے بھیجے گئے ایک مکتوب کا حوالہ دیا ہے۔ اس مکتوب میں کہا گیا کہ صیہونی زندانوں میں پابند سلاسل مریض قیدی صیہونی جیلروں کے رحم وکرم پر ہیں۔ کئی فلسطینی مریض جیل ہسپتال الرملہ میں بدترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔مکتوب میں کہا گیاہے کہ اسرائیلی انتظامیہ اور جیلر دانستہ طور پر فلسطینی اسیران بالخصوص مریض قیدیوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ ہسپتالوں اورجیلوں میں بیمار پڑے فلسطینی سسک سسک کر جی رہے ہیں۔ انہیں جیل کے اندر اور باہر کسی قسم کی طبی سہولت مہیا نہیں کی گئی ۔قیدیوں کا کہنا ہے کہ جیل انتظامیہ قیدیوں کی بیماریوں کی تشخیص نہیں کراتی اور نہ ہی انہیں پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کی اجازت دی جاتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ انہیں عارضی آرام دینے والی گولیاں’پین کلر‘ دیے جاتے ہیں اور نیند اور بے ہوشی کی دوائیوں کے ذریعے انہیں مسلسل تکلیف میں رکھا جاتا ہے۔ فلسطینی باشندوں کی روح اور بدن گھائل ہیں ،ممکن ہے پاکستان براہ راست یہ امداد نہ پہنچا سکے اس صورت میں ترکی کے ذریعے یہ امداد فلسطینی بھائیوں تک پہنچائی جا سکتی ہے۔اس وقت فلسطینیوں کو ہماری ہمدردی اور محبت کی ضرورت ہے ۔ہمیں اس محبت کا مرہم رکھنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں