111

سی پیک:خوش آئند عزائم

گوادر سے کاشغر تک طویل پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ 21ویں صدی میں شاہراہ ریشم کی توسیع ہے، جس میں گوادر بندرگاہ، ریلویز اور موٹر ویز کے ذریعے تیل، گیس اور دیگر مصنوعات کی کم وقت میں ترسیل کرنا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے دنیا کے اس سب سے بڑے منصوبے نے پاک چین دوستی کو مزید مضبوط کیا ہے تاہم اس گیم چینجر منصوبے کی اندرونی اور بیرونی سطح پر مخالفت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے اتحادِ ثلاثہ نے مذکورہ منصوبے کی راہ روکنے میں دشمنی کی سبھی حدیں پار کر لیں، یہاں تک کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے ریکارڈ بیان کے مطاق وہ سی پیک کی ناکامی کی خاطر بلوچستان اور کراچی کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کے مشن پر تھا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان نے ایسی تمام سازشوں کا بخوبی مقابلہ کرکے انہیں ناکام بنایا۔ بدھ کے روز اسلام آباد میں چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے صحافیوں کو بتایا کہ سی پیک منصوبے میں کوئی رکاوٹ نہیں، خنجراب سے گوادر تک دونوں روٹس تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے، دوسرا مرحلہ نہایت اہم اور جلد شروع ہوگا، چین اور پاکستان نے سی پیک پر امریکہ کے خدشات کو سرے سے رد کر دیا ہے جن میں کرپشن کے الزامات اور بجلی کے نرخوں کے زیادہ ہونے کی بات تھی۔ پیش بندی کرلی جائے تو مستقبل کے متوقع نقصانات سے باآسانی بچنا ممکن ہو جاتا ہے۔ دنیا دیکھے گی کہ کورونا سے قبل اور بعد کے حالات یکسر مختلف ہوں گے، بعد کے حالات معاشی استحکام کے لئے جان توڑ محنت اور حکمت عملی کے متقاضی ہوں گے، ان حالات میں اگر سی پیک فعال ہو جاتا ہے تو کورونا کے متاثرین میں سب سے پہلے ہمارا خطہ استحکام کی راہ پر گامزن ہوگا۔ چین اور پاکستان نے بروقت سی پیک کی تکمیل کا احسن فیصلہ کیا ہے جس میں اب نہ کوئی رکاوٹ آنی چاہیے نہ کوئی تاخیر ہونی چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں