162

کرونا وائرس: اسلامی نقطہ نظر سے حکومت اور عوام کی ذمہ داریاں.تحریر: محمد نادر وسیم

کرونا وائرس: اسلامی نقطہ نظر سے حکومت اور عوام کی ذمہ داریاں
تحریر: محمد نادر وسیم
اس وقت تقریباً پوری دنیا متعدی وبا کرونا وائرس میں مبتلا ہے۔ دن بدن یہ وباخطرناک رفتار سے پھیلتی جا رہی ہے۔ ہر ملک اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے اپنے تیئں بھرپور اقدامات کررہا ہے۔ دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی یہ بیماری خطرناک رفتار سے بڑھ رہی ہے اور دن بدن اس سے متاثرہ لوگوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔اس کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت و اپوزیشن اور حکومت وعوام سب کا ایک پیج پر جمع ہونا ضروری ہے۔ عوام اور حکومت میں باہمی تعلقات کافقدان ہو تو یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہو سکتا۔ حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ اسے عوام کے بھرپور تعاون کی اشد ضرورت ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ وہ قومیں اس طرح کی آزمائشوں اور امتحانوں میں کامیاب ہوتی ہیں جو سینہ تان کر ان کا مقابلہ کرتی ہیں۔چونکہ پاکستان بھی اس وقت کرونا وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور عوام اور حکومت نے مل کر اس جنگ کوفتح کرنا ہے اس لیے مناسب سمجھا گیا ہے کہ ایسے حالات میں حکومت اور عوام کی ذمہ داریوں کے بارے میں کچھ اظہار خیال کیا جائے۔چونکہ عوام کا تعاون سب سے اہم ہے اس لیے پہلے عوام پر عائد ذمہ داریوں کا جائز لیتے ہیں۔
اطاعت امیر
عوام اور شہریوں کا بنیادی فرض، ریاست کی طرف سے جاری ان احکام کو بجا لانا ہے جو شریعت کی حدود کے اندر ہوں، جب تک خلاف شرع حکم نہ ہو تو اسے قبول کرنا اور پھر اس پر عمل کرنا فرض ہے۔اس سلسلے میں قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(یَا یھاالَّذِینَ آمَنْوا اَطِیعْوا اللَّہَ وَاَطِیعْوا الرَّسْولَ وَاْولِی الاَمرِ مِنکْم فَاِن تَنَازَعتْم فِی شَیء ٍ فَرْدّْوہْ اِلَی اللَّہِ وَالرَّسْولِ)یعنی اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں، پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے، تو اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو۔
اور حدیث میں ہےتنگی و آسانی، خوشی و ناخوشی ہر حال میں بات کا سننا اور ماننا ضروری ہے۔اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان مبارک ہے۔ مسلمان آدمی پر (حاکم کا حکم) سننا اور اطاعت کرنا،خواہ اسے پسند ہو یا نہ ہو، اس وقت تک واجب ہے، جب تک اسے اللہ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیا جاتا۔
ایسے وقت میں کہ جب یہ وبا بڑی تیزی کے ساتھ ملک کے کونے کونے میں پھیلتی جا رہی ہے تو اس کی روک تھام کے لیے حکومت جو ہدایات جاری کر رہی ہے، ان پر عمل کیا جائے۔ جہاں جہاں جانے سے حکومت اور طبی ماہرین منع کر رہے ہیں، وہاں جانے سے گریز کیا جائے۔ جن اوقات میں کاروباری مراکز بند کرنے کا کہا گیا ہے،ان کو بند رکھا جائے۔ جہاں حکومت نے دفعہ144نافذ کی ہے یا لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے، اسے اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ خلاف شرع نہیں ہے، مخصوص حالات میں اگر حکومت ایسے اقدامات کرتی ہے تو اسکا ساتھ دیں اور اپنی ذمہ داری پوری کریں۔
احتیاطی تدابیر
بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ اس سے انکار نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بیماری سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا اور اس کا علاج کرنا بھی ضروری امر ہے۔ موجودہ صورت حال میں ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ حکومت اور طب کے ماہرین جو ہدایات جاری کرتی ہے اس پر مکمل عمل کیا جائے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا فرض ایمانداری کے ساتھ نبھائیں جبکہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں تب یہ وبا ءرُکے گی، ورنہ جو ہا چکا ہے اس سے بھی بڑے نقصان کا اندیشہ ہے۔
حفظان صحت کے اصولوں پر عمل
اسلام ہمیں حفظان صحت کے بارے میں ایسے اصول اور تعلیمات عطا کرتا ہے جن میں ہماری دنیاوی و اخروی فلاح کا راز مضمر ہے۔ ہمیں بطور مسلمان ہر وقت بالعموم اور ایسے حالات میں بالخصوص ان تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایسی بیماری ہے جس کی کوئی دوا تیار نہیں ہوئی۔اس پر قابو پانے کا سب سے اہم ذریعہ قوت مدافعت اور جسمانی طہارت و نظافت ہے۔نبی کریم ﷺنے ہمیں پہلے سے ہی حکم دیا ہے۔ المؤمن القوی خیر من المؤمن الضعیف یعنی طاقتور مومن،کمزور مومن سے بہتر ہے۔
یہ حدیث جسمانی، روحانی، علمی غرض ہر لحاظ سے طاقتور اور مضبوط بننے کی ترغیب دیتی ہے۔ اسلام نے ہمیں نظافت کے جو اصول دیے ہیں ان پر عمل کیا جائے۔ پانچ وقت کی نماز پڑھیں، اچھی طرح وضو کریں، روزانہ غسل کریں، ماحول کو صاف ستھرا رکھیں۔ اس طرح کے اقدامات کر کے ہم اس وبا پر قابو پا سکتے ہیں۔چونکہ یہ بیماری اختلاط سے زیادہ پھیلتی ہے اس لیے ہمیں بلا ضرورت اختلاط سے بچنا چاہیے۔ سنن و نوافل گھر میں پڑھنے کا زیادہ اجر ہے۔ جب تک اس وبا کا خطرہ ہے تو ہمیں چاہیے کہ سنتیں وغیرہ پڑھ کر مسجد جائیں، باجماعت نماز پڑھنے کے بعد بقیہ نماز بھی گھر جا کر پڑھیں۔
سنجیدگی اپنانا
ہمارے معاشرے میں عموما دیکھا گیا ہے کہ حکومت کے اکثر فیصلوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا، انہیں شک و شبہ سے دیکھا جاتا ہے، یا ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلام کی تعلیم ہے کہ اپنے حکمرانوں کے ہر حکم پر عمل کرو جب تک خلاف شرع حکم نہ دیں۔آج کل سوشل میڈیا نے یہ کام بہت آسان کر دیا ہے۔ اس وجہ سے حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس طرح کے لوگوں کو ٹھٹھہ و مذاق سے روکنے کے لیے راتوں کو گلیوں کے چکر لگایا کرتے تھے۔
تجربات سے فائدہ اٹھانا
حکومت کو چاہیے کہ اس وبا سے نبٹنے کے لیے دوسرے ممالک باخصوص پڑوسی ملک چین کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھائے۔ اسلامی تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنگامی حالات میں صحابہ کرام سے مشاورت کرتے تھے۔ غزوہ خندق کے موقع پر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے خندق کھودنے کا مشورہ دیا تو اس پر عمل کیا اور کامیابی حاصل کی۔حالیہ اطلاعات کے مطابق انہوں نے تقریبا اس پر قابو پا لیا ہے۔ ہمارے وزیر اعظم صاحب کے بقول حکومت، چین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ان سے مدد لے رہی ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ کاوش لائق تحسین ہے۔
حکومت کے ساتھ وفاداری اور تعاون
ریاست سے دلی خیرخواہی رکھنا، عوام پر فرض ہے۔ ہر وقت ریاست کے مفاد کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ اس کے نقصان کو بالکل گوارا نہ کیا جائے۔ریاست کے ساتھ دلی وابستگی رکھی جائے۔ ہر وقت اس کے خیرخواہ ہوں۔ حدیث مبارکہ میں ہے۔ دین خیر خواہی کا نام ہے۔ اللہ اور اس کے رسول مسلمانوں کے حکام اور عوام سے قلبی لگاؤ رکھنا دین ہے۔تمام ریاست کے عوام کا فرض ہے کہ دوسرے کے ساتھ تعاون کریں قرآن پاک میں ہے۔وَتَعَاوَنْوا عَلَی البِرِّ وَالتقَّوَی یعنی نیکی اور تقوی پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔
اب اس وقت جہاں جہاں حکومت عوام سے تعاون کی اپیل کر رہی ہے تو بطور ذمہ دار قوم ہر شہری پر فرض ہے کہ ہر ممکن طریقے سے حکومت کا ساتھ دے۔ حکومت کے ہر فیصلے کو شک و شبہ کی نظر سے نہ دیکھے، حکومت اور عوام میں منافرت نہ پھیلائے، بلکہ ریاست کے وفادار شہری ہونے کے ناطے حکومت کے ہر حکم پر عمل کرے جس سے اس وبا کی روک تھام ہو سکتی ہو۔ سوشل میڈیا پر ریاست کے ساتھ وفاداری اور محبت کے رشتے کو پروان چڑھانے کے متعلق اظہار خیال کو جائے ناکہ عوام میں خوف و ہراس پیدا کیا جائے۔
اگر تعاون نہیں کرسکتے تو کم ازکم رکاوٹ بھی نہیں بننا چاہیے۔ ہمسایہ ملک چین کی مثال ہمارے سامنے ہے، وہاں کی عوام نے حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کیا، جو بھی حکم دیا گیا، اجتماعی مفاد کے پیش نظر وہ اسے بجا لائے اور اس امتحان میں کامیاب ہوگئے۔
جانی ومالی قربانی
شہریوں کا فرض ہے کہ جب بھی کوئی مشکل وقت آئے تو ایک دوسرے کی خاطر جان و مال قربان کرنے میں تاخیر نہ کریں، ملکی دفاع میں خون کا آخری قطرہ اور مال کی آخری کوڑی بھی صرف کرڈالیں، اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے مال اپنا نہیں، بلکہ سب کا سمجھتے ہوئے کھلے دل سے خرچ کریں۔لہذا موجودہ صورتحال میں اگر اجتماعی مفاد کے لیے مارکیٹیں بند رکھنا کا حکم جاری کرتی ہے تو ملک و ملت کے لیے قربانی سمجھ کر اس حکم پر عمل کیا جائے۔ ایک دوسرے کے لیے قربانی کا حکم ہمیں قرآن سے بھی ملتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے۔وَیْؤثِرْونَ عَلی اَنفْسہِم وَلَوکَانَ بِہِم خَصَاصَۃ اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو۔
سیرت میں اس کی کافی مثالیں ملتی ہیں۔ مثلاًہجرت مدینہ کے موقع پر انصار صحابہ نے مہاجرین کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا۔
نظم وضبط کا مظاہرہ
کسی بھی ریاست بالخصوص اسلامی ریاست میں نظم و ضبط کا ہونا اشد ضروری ہے جب تک نظم و ضبط کا فقدان ہو تو مقاصد کا حصول تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ نظم و ضبط کی پابندی کسی قوم کے اخلاقی معیار بلند ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔ بلکہ کسی قوم کی ترقی کا دارومدار بھی نظم و ضبط پر ہے۔تخلیق کائنات، تخلیق انسان اور عقائد و عبادات وغیرہ میں غور کریں تو ہمیں نظم و ضبط کا درس ملتا ہے۔ سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ نظم و ضبط کی پابندی فرمائی اور اس کی حوصلہ افزائی فرمائی۔
افواہوں اور سوشل میڈیا کی غیر مصدقہ اطلاعات سے پرہیز
کبھی کبھی بیماریاں اتنا نقصان نہیں پہنچاتی جتنا کہ افواہیں اور غیر مصدقہ خبریں پہنچاتی ہیں۔اسلام ہمیں اس سے سختی سے منع کرتا ہے۔قرآن میں ہے۔یاایھَا الَّذِینَ آمَنْوا اِن
جَاء کْم فَاسِق بِنَبَا ٍ فَتَبَیَّنْوا۔یعنی اے ابمان والو! اگر کوئی بدکار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی خوب پرکھ کرلیاکرو۔اور نبی کریم نے فرمایا: کفی بالمرء کذبا ان یحدث کل ما سمع.یعنی کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کردے۔
انڈیپینڈنٹ نیوز ویب سائٹ کے نامہ نگار عبد اللہ جان کے مطابق کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال سے وابستہ متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر سید فیصل محمود کا کہنا ہے کہ دنیا میں وباؤں سے ہونے والے نقصان میں افواہوں اور غلط معلومات کے پھیلائے جانے کا زیادہ دخل ہوتا ہے۔بین الاقوامی ادارہ صحت نے وباؤں سے متعلق افواہوں کے لیے ایک نئی ٹرم کا اختراع کیا ہے جسے ’اِنفوڈیمک‘ کہا جاتا ہے۔ایپی ڈیمک (وبا) اور انفارمیشن (معلومات) کے امتزاج سے بننے والی اس ٹرم کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل محمود نے کہا: بعض اوقات کسی وبا کی نسبت اس سے متعلق افواہیں اور غلط معلومات زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں، جس سے بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔
حکومت کی ذمہ داریاں
درج ذیل سطور میں ہم حکومت پر عائد ذمہ داریوں کا جائز لیتے ہیں۔
مشاورت سے فیصلے
اگر حکومت ایسے مخصوص حالات میں کوئی پابندی عائد کرے تو مختلف اداروں، اسٹیک ہولڈرز، ذمہ داران کو اعتماد میں لے۔ معروضی حالات کا جائزہ لے کر فیصلے کرے تاکہ امن عامہ، قومی یکجہتی، عوام اور حکومت کے درمیان تعلقات وغیرہ متاثر نہ ہوں۔یہ حکم ربانی ہے۔وَاَمرْھْم شْورَی بَینَہْم یعنی ان کے درمیان فیصلے باہمی مشاورت سے ہوتے ہیں۔پاکستان میں بہت سے مسالک کے لوگ بستے ہیں اور ہر مسلک کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اس لیے مذہبی معاملات چونکہ حساسیت کے حامل ہوتے ہیں لہذا انکے بارے میں علماء و ذمہ داران کو اعتماد میں لیا جائے۔موجودہ صورتحال میں نماز باجماعت، جمعہ کے اجتماع، نماز جنازہ کے اجتماع وغیرہ کے حوالے سے ایسے فیصلے کیے جائیں جو شریعت سے متصادم نہ ہوں اور قوم و ملت کے مفاد میں ہوں۔
حفاظتی اقدامات
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کورونا وائر س کی درآمد کو روکنے کے لئے تمام ائیر پورٹس پر مسافروں کی مکمل جانچ کے لئے بین الاقوامی معیار کے مطابق اقدامات کرے، تمام ہوائی اڈوں پر ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو تعینات کرے۔ جو بھی مسافر باہر سے آئے ان کا مکمل طبی معائنہ کرے۔حکومت کے ساتھ ساتھ باہر سے آنے والے مسافروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ائیر پورٹ پر عملے کے ساتھ مکمل تعاون کریں ان کو تمام معلومات دیں۔حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے لئے حفاظتی مراکز قائم کرے۔مسلح افواج اور فلاحی اداروں نے بھی اس وبا کو روکنے کے لئے حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ان کے ساتھ فوری طور پر رابطہ کریں۔
ذخیرہ اندوزی پر کنٹرول
جب عوام کو ضرورت ہو تو ایسی صورت میں اشیائے ضرورت کی ذخیرہ اندوزی حرام ہے۔مشکل کی اس گھڑی میں وفاقی اور چاروں صوبوں کی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہرطرح کے ذخیرہ اندوزں پر نظر رکھیں۔ ادارے بند ہونے کی وجہ سے بہت سارے ڈیلی ویجیز ملازمین بے روزگار ہوئے ہیں۔ کام نہ ہونے کی وجہ سے دیہاڑی دار مزدور بھی مشکلات کا شکار ہے۔ ضروری ہے کہ اس طرف بھی توجہ دی جائے۔تاکہ عوام اور حکومت کے درمیان منافرت پیدا نہ ہو۔ حکومت اگر ان حالات میں اشیائے خورد ونوش سستی نہیں کر سکتی تو کم از کم اتنا ضرور کریں کہ قیمتیں مزید نہ بڑھیں۔ اسی طرح حکومت کو چاہیے کہ ادویات کی ذخیرہ اندوزی پر بھی نظر رکھیں۔
حکومت اور عوام اپنی ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ رجوع اللہ تعالی کریں،دعا و مناجات کے ذریعے اللہ تعالی سے مددونصرت طلب کریں۔ خدانخواستہ اگر کوئی اس میں مبتلا ہوجاتا ہے تو صبر و تحمل کے ساتھ اس کو برداشت کرے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر حکومت اور عوام اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ان کو پورا کریں، تو اس آزمائش میں ہم کامیاب ہو سکتے ہیں اور ایک بار پھر عظیم قوم ہونے کا ثبوت دے سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں