Ansaar abbasi articles 104

کورونا سے مقابلے کا بہترین نسخہ

سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ٹی وی ٹاک شو میں بلائے گئے معروف ڈاکٹر عظمت جو ماہرِ علاج بالغذا ہیں، کی باتیں سننے کو ملیں جس میں اُنہوں نے بتایا کہ عام غذا کے استعمال سے ہم کیسے کورونا وائرس کا بہتر مقابلہ کر سکتے ہیں اور کس طرح اپنے اندر اس وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کر سکتے ہیں۔

یہ انٹرویو ایک نجی ٹی وی چینل پر اینکر عمران خان کے شو میں نشر ہوا اور فراہم کردہ معلومات کی وجہ سے سوشل میڈیا پہ وائرل بھی ہوا۔ میرا مقصد ڈاکٹر عظمت صاحب کی باتوں کو قارئین تک پہنچانا ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ایسے وقت میں اس سے استفادہ کر سکیں جب کورونا بہت تیزی سے پاکستان میں پھیل رہا ہے۔

ڈاکٹر عظمت کے مطابق پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ کورونا وائرس تقریباً ہر فرد کو ہو گا، کسی کو آج تو کسی کو کل، کسی کو دو ماہ بعد تو کسی کو سال، دو سال بعد۔ اس کی ویکسین کب تیار ہوتی ہے اُس کا ساری دنیا کو انتظار ہے لیکن ڈاکٹر عظمت کے مطابق اس وائرس کا مقابلہ کئی ایسی چیزوں سے کیا جا سکتا ہے جو ﷲ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں یعنی قدرتی چیزوں اور غذا سے ہی آپ اپنی قوتِ مدافعت کو بہتر بنا سکتے ہیں اور اس کے ذریعے ہمارا جسم اس وائرس کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ جب ہماری قوتِ مدافعت ٹھیک ہو گی تو کورونا وائرس کے جسم میں داخل ہونے کے کم سے کم اثرات ظاہر ہوں گے اور شاید آپ کو پتا بھی نہ چلے اور کورونا وائرس کو آپ کے جسم کی اینٹی باڈیز شکست دے دیں اور ایسا بہت سے کیسوں میں ہو بھی رہا ہے۔ اس قوتِ مدافعت کو کیسے بڑھایا جائے اس کے لیے ڈاکٹر عظمت نے جو نسخہ بتایا وہ آپ بھی سن لیں۔ سب سے پہلے اپنا ہاضمہ ٹھیک رکھیں، کیونکہ ہماری قوتِ مدافعت کے سسٹم کا اسّی فیصد تعلق دراصل ہمارے معدے کے نظام سے ہے۔

اگر معدے کا نظام ٹھیک نہیں تو اس کو ٹھیک کرنے کے لیے سب سے پہلے دہی کا استعمال کریں۔ لہسن اور ادرک کا خوب استعمال کریں۔ لہسن معدے میں پائے جانے والے وائرس کو ختم کرتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے مطابق سالن میں پکا کر کھانے سے لہسن کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ لہسن کے کھانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ لہسن کی تُری (پھانک) کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر لیں، اُسے پانچ سات منٹ تک چھوڑ دیں پھراُسے کھانے کے بعد نگل لیں۔ ایک دن میں لہسن کی ایک پھانک یعنی ایک تُری کافی ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے مطابق اس طرح لہسن آپ پچیس تیس دن کھائیں گے تو آپ کے اندر سے لہسن کی بو آنے لگے گی بس پھر آپ اسے کھانا چھوڑ دیں۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ لہسن کے ذریعے جو قوتِ مدافعت آپ کے جسم کو چاہیے تھی، وہ مہیا ہو گئی ہے۔

اس کے بعد ڈاکٹر عظمت نے ادرک کی بات کی اور کہا کہ بہترین طریقہ یہ ہے کہ ادرک کا قہوہ پیا جائے۔ ادرک anti-aging کیساتھ ساتھ قوتِ مدافعت اور نظام انہضام کے لیے بھی بہت بہترین غذا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق ایک چمچ کدوکش کی ہوئی ادرک کو چھ کپ پانی میں ابالیں یہاں تک کہ پانی آدھا رہ جائے، آپ کا ادرک کا قہوہ تیار ہے۔

اس میں شہد یا شکر ملا کر پی لیں اور کم از کم ایک کپ قہوہ روزانہ ضرور پئیں۔ ادرک کا قہوہ دل اور خون کیساتھ ساتھ کینسر سیلز کے خاتمہ کے لیے بھی بہت مفید ہے۔ کھانے میں پکا کر ادرک کھانے کا کوئی زیادہ فائدہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے قوتِ مدافعت کو بہتر بنانے کے لیے وٹامن اے کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے اورنج رنگ کی خوبانی اور آم کھانے کا مشورہ دیا۔ اگر ہاضمہ ٹھیک نہیں بھی ہے تو اورنج رنگ کی خوبانی اور آم قوتِ مدافعت کو بڑھانے کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوں گے۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے لونگ کے بارے میں بتایا کہ یہ دنیا میں سب سے طاقتور غذا ہے۔

لونگ کھانے کے بارے میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ جب آپ چائے پئیں یا ادرک کا قہوہ پینے لگیں تو دو لونگ اُس میں ڈال دیں۔ جب چائے یا قہوہ پی لیں تو پیالی میں بچے لونگ کو چپا کر کھا لیں۔ شروع کے دنوں میں اس سے مرچیں بھی لگیں گی لیکن آپ اس طرح لونگ کو چائے یا ادرک کے قہوہ میں کھاتے رہیں۔

زیتون کے پتوں کی بے پناہ اہمیت پر بھی ڈاکٹر صاحب نے بات کی اور کہا کہ ان پتوں کا قہوہ بھی بنا کر پیا جا سکتا ہے اور پیس کر پائوڈر کی صورت میں بھی آدھا چمچ کھایا جا سکتا ہے۔ ہلدی کو دودھ کے ساتھ لینے کے بھی بہت فائدے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ہلدی، دارچینی اور ملٹھی کو رات کو لینے کا مشورہ دیا ہے۔

سات آٹھ گھنٹے سونے اور ورزش کرنے کا بھی ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے۔ اگر نیند اچھی نہیں تو قوتِ مدافعت میں کمی ہو گی۔ چکی کا آٹا کھائیں، چینی کو زندگی سے نکال دیں۔ ڈاکٹر صاحب اور بھی کچھ بتانا چاہ رہے تھے لیکن شو کا وقت ختم ہو گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں