professor khursheed ahmed articles 125

بہت روشن ہے مستقبل ہمارا !پروفیسر خورشیداحمد

59 / 100

بہت روشن ہے مستقبل ہمارا !
پروفیسر خورشیداحمد

تابناک مستقبل تو ہمارا مقدرہے، لیکن یہ اسی وقت ہمارا مقدر ہے جب ہم اس کا حق ادا کر دیں گے۔ اس کے لیے دو چیزیں بہت ضروری ہیں۔پہلی چیز خود احتسابی ہے۔آپ دیانت داری کے ساتھ جائزہ لیں کہ ہماری کمزوری کے اسباب کیا ہیں؟ پھر آپ یہ دیکھیں کہ ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے صحیح لائحہ عمل کیا ہو سکتا ہے؟
جدوجہد اور اس کے نتیجے میں کامیابی کے لیے اولین شرط ہے منزل اور مقصد کا شعور، یعنی انسان کا وِژن اوراس کا تصورِحیات ۔میں اگر اس سے ذرازیادہ کھل کر کہوں تو اس کا ایمان اور ایمان کی بنیاد پر اس کا مقصدِ حیات اور زندگی کے اہداف۔اگر یہ کمزوری کا شکار ہو جائیں تو یہ سب سے بڑی مصیبت اور سب سے بڑی ناکامی ہے۔
( ۱) ایمان بالعمل :
آج مسلمانوں کا معاملہ یہی ہے کہ اللہ کی کتاب بھی موجود ہے،اللہ کے رسول ﷺکی سنت بھی موجود ہے،ہماری تاریخ بھی موجود ہے اور صلحائے امت کی کوششیں ، کارنامے اور خدمات بھی موجود ہیں۔لیکن اس کے باوجود عملاً ہم نے بھی زندگی کو خانوں میں بانٹ دیا ہے۔
میں ان کی بات نہیں کر رہا جو دین سے اتنے غافل ہیں کہ صرف دنیا کو اپنا ملجا، ماوی اور اپنا سب کچھ بنا چکے ہیں۔ میں اُن کی بات کر رہا ہوں جو نماز یں پڑھتے ہیں،جو روزہ رکھتے ہیں، جو گڑگڑا گڑگڑا کر دعائیں بھی کرتے ہیں،جو صدقات وخیرات بھی دیتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ اس نماز ،روزہ اور دعاء وصدقات کے اثرات ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگیوں پر بھی پڑنے چاہئیں۔کیا ہماری ذمہ داری صرف نماز پڑھ لینے کی ہے یا جس خدا نے ہمیں نماز پڑھنے کے لیے کہا ہے،اس نے ہمیں یہ بھی کہا کہ اِنَّ الصَّلوٰۃَ تَنھیٰ عَنِ الفَحْشَآئِ والمُنکَر یعنی نماز تو وہ ہے جو انسان کو فحش اور منکر سے روکتی ہے۔دوسرے الفاظ میں جو پوری زندگی کو اللہ کی بندگی میں لانے کا ذریعہ بنتی ہے۔
ہم بڑے اہتمام سے رمضان کا استقبال کرتے ہیں،سحری اور افطار کا اہتمام کرتے ہیں،عید یں مناتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ روزہ توتقویٰ کے لیے ہے۔یہ روزہ تو اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لیے ہے۔قرآن نے تو اس کا مقصد اور حاصل یہ بتایا ہے کہ جس ہدایت، یعنی قرآن سے تمہیں سرفراز کیا گیا ہے اسی پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرواور شکر گزاربن جائو۔
وَلِتُکَبِّرُوْا اللّٰہَ عَلیٰ مَا ھَدٰ کُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ۔ ( البقرہ:۱۸۵)
گویاروزہ تو اس مقصد کے لیے ہے کہ ہم قرآن کے پیغام کو پھیلائیں،اللہ کی حاکمیت کو قائم کریں اور دین کی سربلندی کی جدوجہد میںمسلسل مصروف رہیں۔
ایمان کی فکر اور ایمان کے مطابق زندگی گزارنے کا عزم ہماری قوت کی پہلی بنیاد ہے۔ضرورت ہے کہ ہم اپنا جائزہ لے کر یہ دیکھیں کہ ایمان، ایمان کے تقاضے، زندگی کا مقصد، اس کے اہداف اور وژن، اور اس وژن کے ساتھ ساتھ پھر ایمان اور عمل کے تعلق کی کیا کیفیت ہے؟
اسلام میںایسا کوئی تصور موجود نہیں ہے کہ ایمان عمل کے بغیر ہو،جس طرح عمل ایمان کے بغیر ممکن نہیں ہے اسی طرح ایمان بھی عمل کے بغیر نا مکمل اور بے ثمر ہے، یہ دونوں ساتھ ساتھ ہیں۔لہٰذا ہماری پہلی کمزوری ایمان کی، تصورِ زندگی کی، مقصود حیات کی، ہدف کی اور منزل کے شعور کی ہے۔ اگر اسے ہم درست کر لیں تو باقی تمام معاملات صحیح رخ پر آسکتے ہیں۔ اور جب تک یہ درست نہ ہو تو تابناک مستقبل ایک خواب اور سراب رہے گا۔
(۲) اخلاقی قوت :
ایمان کے ساتھ دوسری بنیادی چیز اخلاقی قوت ہے۔اخلاقی قوت کی بنیاد ایمان ہے اورعبادات اس قوت کو پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں۔یہ وہ قوت ہے جو انسان کو سکھاتی ہے کہ وہ ظلم کو برداشت نہ کرے بلکہ اسے چیلنج کرے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن نے صاف کہا کہ اگر تم اخلاق کے اعلیٰ مقام پر ہو گے تو پھر تم میں سے ہرایک ۱۰دشمنوں کے لیے کافی ہوگا۔ اور اگر تمہارے اخلاق کمزور ہو جائیں گے تو تم دو کے لیے کافی ہو جائو گے۔ لیکن آج معاملہ یہ ہے کہ ہم ایک کا مقابلہ کرنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے۔
اس لحاظ سے ہماری دوسری کمزوری یہی اخلاقی قوت کی کمزوری ہے اور اخلاقی قوت ایمان اور عبادات کے ساتھ پیدا ہوتی ہے، امر با لمعروف اور نہی عن المنکر سے جلا پاتی اور دعوت الیٰ الخیر اور قربانی سے اس میں نمود اور ترقی ہوتی ہے۔
(۳) مادی وسائل کی ضرورت :
تیسری اہم بات مادی قوت ہے۔اگر آپ مادی قوت کو حاصل کرنے میں غفلت برتتے ہیں اور مقابلے کی قوت پیدا کرنے کی فکر نہیں کرتے تو صرف ایمان اور اخلاق کے ذریعہ سے آپ یہ بازی نہیں جیت سکتے۔ اسلام ہم میں حقیقت پسند ی پیدا کرتا ہے اور فطرت کے قوانین کے احترام کی تلقین کرتا ہے۔
اسلام کی خوبی ہی یہ ہے کہ اس کی قوت اس کے اندر ہے۔ اس نے ایمان، اخلاق اور مادی قوت ،ان تینوں کو ایک وحدت میں تبدیل کردیا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بات کا حکم نہیں دیا کہ قوت حاصل کرو، اتنی قوت کہ دشمن پر تمہارا خوف اور دبدبہ قائم ہو سکے اور تم اس کو منہ توڑ جواب دے سکو :
وَاَعِدُّوْالَھُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّ ۃٍ وَّ مِن رِّبَاطِ الخَیلِ تُرْ ھِبُونَ بِہ عَدُوَّاللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمْ وَاٰخَرِینَ مِن دُو نِھِم، لاَ تَعلَمُونَھُمْ اَللّٰہُ یَعلَمُھُمْ۔ (الا نفال :۶۰)
’’اور تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعدا ء کو خوف زدہ کرو جنھیں تم نہیں جانتے مگراللہ جانتا ہے۔‘‘
قرآن میں طاقت کے حصول اور گھوڑوں کو تیار رکھنے کی جو بات کہی گئی ہے وہ محض گھوڑوں تک محدود نہیں بلکہ وہ اس بات کی دعوت ہے کہ اپنے وقت کی بہتر ین معاشی،سائنسی، عسکری ٹیکنا لوجی کو اپنی گرفت میں لائو۔ اس بارے میں قرآن نے بڑے پیارے انداز میں اپنی بات کہی ہے کہ یہ قوت اتنی ہونی چاہیے کہ تمہارے دشمن کو خوف ہو جو دراصل تمہارا دشمن ہی نہیں ، اللہ کا دشمن بھی ہے اور یہ دشمن وہ ہیں جنھیں تم جانتے ہو اور وہ بھی جن کو تم نہیں جانتے لیکن اللہ کو ان کا علم ہے۔
اجتماعی نظام کی اصلاح کے لیے قوت کا حصول ضروری ہے۔ یہ مادی قوت اگر اللہ کے دین کی سر بلندی اور امت مسلمہ کے شہداء علیٰ الناس کے مشن کو ادا کرنے کے لیے ہو تو یہ عبادت ہے۔ یہ دنیا پر ستی اور مادہ پرستی نہیں ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ دیا ہی اس لیے ہے کہ اسے ہم مسخر کر کے اُن اخلاقی مقاصد اور نظریات کے غلبے کے لیے استعمال کریں جو استخلاف کی بنیاد پر ہمارے ذمے کیے گئے ہیں۔

(۴) معاشرے کا بگاڑ :

ان تین بنیادی چیزوں کے بعد پھر میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ اس وقت جہاں انفرادی طور پر الحمدللہ ہمارے معاشرے کے اندر بہت خیر موجود ہے اور میری طرح جن افراد کو بھی دنیا کے گوشے گوشے میں جانے کا موقع ملا ہے، وہ یہ گواہی دے سکتے ہیں کہ خراب مسلمان معاشرہ بھی اپنے اندر بڑا خیر رکھتا ہے۔ لیکن اس اعتراف کے بعد بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ آج مسلم معاشرہ، مسلمانوں کا اجتماعی نظامِ قانون، اخلاق،معیشت سب زبوں حالی کا شکار ہیں۔ اس پر پردہ ڈالنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں سمجھنا چاہئے کہ یہ بگاڑکی گرفت میں ہیں اور خود پورے معاشرے اور ریاست کی اصلاح اور تعمیر نو، تابناک مستقبل کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ انفرادی اصلاح کافی نہیں۔دعوت،نیکی کا حکم، برائی کو مغلوب کرنے نیز معاشرے اور ریاست کو شریعت اسلامی کے مطابق منظّم اور سرگرم کرنا بھی دنیا اور آخرت کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔

( ۵) قیادت کا بگاڑ :

پانچویں چیز مسلمانوں کی قیادت کا بگاڑ ہے۔اور میں یہاں ’قیادت‘ کے لفظ کو اس کے وسیع ترین مفہوم میں استعمال کر رہا ہوں جس میں گھر کا سربراہ، استاد اور تعلیمی ادارے کا سربراہ، معاشی حیثیت سے قیادت کے مقام پر فائز لوگ اور پھر اجتماعی اور سیاسی قوت اور سربراہی ہے۔ اس وقت امت مسلمہ کا بہت بڑا مسئلہ قیادت کا بگاڑ اور اسلامی معیار سے کوسوں دور ہونا ہے۔ عوام کی خامیاں اپنی جگہ،مگر قیادت کا بگاڑ اصل خرابی ہے۔ عوام الناس، عمل میں خواہ کتنے بھی گئے گزرے ہوں، ان کی اپنی خواہشات،اور تمنا ئیں سب کا ہدف دورِ رسالت مآب اور دورِ خلافت راشدہ ہی ہے۔
آپ کسی اَن پڑھ بڑھیا سے پوچھ لیں کہ تم کون سا نظام چاہتی ہو؟وہ کہے گی کہ’’ مجھے وہ عدل چاہیے جو حضرت عمر فاروق صنے دنیا کو دیا تھا۔‘‘ یہ احساس موجود ہے۔ لیکن قیادت،اس کا قبلہ،اس کی وفاداریاں،اس کی ترجیحات سب بگاڑ کا شکار ہیں اورعوام اور قیادت کے درمیان ایک سمندر حائل ہے۔ صرف سمندر ہی نہیں بلکہ ان کے درمیان مسلسل کشمکش ہے اور اب عالم یہ ہے کہ اس قیادت میں ایسے بدنصیب بھی ہیں جن کو یہ تک کہنے کی جسارت ہوتی ہے کہ’’ کیا میں لوگوں کے ہاتھ کاٹنا شروع کروں،اور اس طرح پوری قوم کو لنجا کردوں۔‘‘انھیں داڑھی اور حجابکا تمسخر اڑاتے ہوئے بھی کوئی شرم نہیں آتی۔یہ بگاڑ بڑا بنیادی بگاڑ ہے۔
ہمیں ان پانچوں دائروں میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ ان میں سے ہم کسی ایک کو بھی اگر نظر انداز کرتے ہیں تو پھر تابناک مستقبل ایک خواہش تو ہو سکتا ہے، حقیقت نہیں بن سکتا۔ یقین جا نئے! اِن میں سے کوئی مشکل اور کوئی سبب بھی ناقابلِ تسخیر نہیں۔ہم نے آج بھی ان گئے گزرے حالات میں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کس طرح افراد کی زندگیاں بدلتی ہیں؟ کس طرح قوموں کی تقدیریں بدلتی ہیں؟

( ۶) مزاحمت ہی اصل طاقت :

استعمار کی منصوبہ بندی ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ تعلیم کو تبدیل کرو،مدرسوں کو سیکولر رنگ میں رنگو۔ جہاد کا لفظ آج نہیں، پہلے دن سے دشمنوں کا ہدف رہا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ اسلام پر غالباً دوسری صدی ہجری کے اندر پہلی تنقیدی کتاب جو ایک عیسائی عالم کی طرف سے آئی ہے، اس میں اصل ہدف جہاد اور نبی پاک ﷺ کی ذات ہے۔ یعنی نبی پاک ﷺکی ذاتِ مبارک اور جہاد کا تصور ہمیشہ سے اصل ہدف رہے ہیں۔ فرانسیسی ،برطانوی اوراطالوی استعماری دور کا مطالعہ کر لیجیے،سب کے سامنے اصل ہدف جہاد تھا۔خواہ وہ السنوسی کی تحریک ہو، خواہ وہ الجیریا کے عبدالقادر کی تحریک ہو،خواہ وہ صومالیہ کی تحریک ہو، خواہ برعظیم کے شاہ اسما عیل شہیدؒ کی تحریک ہو۔ ہر جگہ آپ دیکھیں گے کہ جہاد ہی نے استعمار کا راستہ روکا اور جہاد ہی کو استعمار نے ہدف بنایا۔یہ نئی نہیں ،بڑی پرانی حکمتِ عملی ہے۔اور بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ پتہ نہیں کیا کر لیں گے لیکن جہاد کا تصور ہو یا نبی اکرم ﷺ اور ان کی سنت کی مرکزی حیثیت ،دشمن کی ساری یلغار کے باوجود ان پر کوئی دھبہ نہیں آسکا اور نہیں آسکتا۔جھوٹی نبوتیں تک برپا کی گئیں لیکن دین حق پر کوئی آنچ نہ آئی۔اسلام کو دبانے کی جتنی کوششیں ہوئیں ،وہ اتنا ہی مستحکم ہوا ۔ ؎
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے اتنا ہی یہ ابھرے گا، جتنا کہ دبا دیں گے
تاریخ میں ہم پر بڑے سخت دور گزرے ہیں۔شاید سب سے سخت دور وہ تھا جب چنگیز اور ہلاکو کی فوجوں نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ اور مسلمانوں کی مایوسی اور بے بسی کا عالم یہ تھا کہ مورخین لکھتے ہیں کہ اگر کوئی تاتارمسلمانوں سے کہتا تھا کہ تم لیٹ جائو اور انتظار کرو کہ میں اپنے گھر سے اپنی تلوار لے آئوں اور اس سے میں تم کو ذبح کروں تو وہ لیٹے رہتے تھے۔ حتیٰ کہ وہ اپنا خنجر لاتے اور ان کو ذبح کر دیتے ۔ یہ کیفیت تھی مسلمانوں کی، لیکن اس کے بعد دیکھئے کہ دو سو سال کے اندر اندر پھر حالات بدل گئے اور انہی تاتاریوں کے دل و دماغ کو اسلام نے مسخر کرلیا۔جنھوں نے مسلمانوں کو فتح کیا تھااسلام نے ان کو فتح کرلیا اور بقول اقبال ؎
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
وہی تاتار جو مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھا رہے تھے اور شہدا کے سروں سے مینار بناتے تھے،انھی کے ذریعہ پھر ۴۰۰سال تک مسلمانوں کی حکمرانی کا نظارہ چشمِ تاریخ نے دیکھا۔ لہٰذا تاریخ کے نشیب و فراز سے پریشان نہ ہوں۔لیکن اس میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ میرا اور آپ کا ردِعمل کیا ہوتا ہے؟ غلامی یہ نہیں ہے کہ ہمارے ہاتھوں میں زنجیریں پڑ جائیں اور ہمارے پائوں بیڑیوں سے جکڑ ے ہوئے ہوں، بلکہ غلامی یہ ہے کہ ہم ظلم کی بالا دستی کو قبول کرلیں اور مزاحمت کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔جہاد نام ہی مزاہمت کا ہے۔ جہاد نام ہے ظلم اور کفر کے غلبے کے خلاف جدوجہد کرنے کا۔خواہ وہ قلم سے ہو،زبان سے ہو، ذہن سے ہو،مال سے ہو یا جان سے ہو۔یہ سب اس کی مختلف شکلیں ہیں۔ اور اس وقت دشمنوں کا یہی ہدف ہے کہ مسلمانوں میں روحِ جہاد باقی نہ رہے۔ ان کا ہدف ہماری قوتِ مزاحمت ہے،شر سے سمجھوتہ نہ کرنے کا جذبہ ہے۔حالات کے آگے سپر نہ ڈالنے کا داعیہ اورمقابلے کا جذبہ و امنگ ہے۔اقبال نے ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ میں ابلیس کی اس پریشانی کا اظہار بڑے واضح الفاظ میں کر دیا ہے ؎
ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اِس امت سے ہے جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرار آرزو
یہ جو شرارِ آرزو ہے، یہ جو ظلم کے آگے ہتھیار نہ ڈالنے اور حق کے لیے جدوجہد کرنے کا جذبہ ہے،یہ ہماری اصل طاقت ہے۔ اگر یہ جذبہ آپ میں موجود ہے تو کوئی آپ کو غلام نہیں بنا سکتا،کوئی ہمیں مغلوب نہیں کرسکتا۔اور اگر یہاں ہم نے شکست کھا لی تو ہمارے پاس گرچہ سونے کے انبار ہوں،بنکوں میں ڈالروں کی ریل پیل ہو،حتیٰ کہ اسلحہ کی فراوانی ہو،تب بھی ہم غلامی سے نجات نہیں پا سکتے۔اس لیے اگر آپ مجھ سے ایک لفظ میںپوچھنا چاہتے ہیں کہ تابناک مستقبل کی ضمانت کیا ہے؟تومیں کہوں گا کہ وہ آرزو،و ہ ایمان ،وہ جذبہ ،وہ مزاحمت اور یہ احساس ہے کہ ہمیں اللہ اور حضور ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کو قبول کرنا ہے اوراس کا داعی بننا ہے۔اسی سے دنیا اور آخرت دونوں میں ہمارا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔

(۷) اتحاد کی ضرورت :

میں بات ختم کرنے سے پہلے ایک اور امر کی طرف آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ جو فتنے اور مشکلات آج ہمیں درپیش ہیں، ان میں ایک ہمارا آپس کی تفرقہ بازی،کفر سازی اور جزوی امور کو اتنی اہمیت دے دینا ہے کہ اصول پامال ہوجائیں اور باہم رواداری پارہ پارہ ہو جائے۔ اصول،بنیاداور متفق علیہ معاملات کو نظر انداز کرکے فروعی،جزوی اورغیرمتعلق باتوں میں الجھ جانے اور ان کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف صف آراہونے کا مرض ہمارے مخالف بڑی کامیابی سے ہمارے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔یہ ایک ایسی حکمتِ عملی ہے جس سے ہمارے مخالف ہمیں ان ایشوز سے جن کو ہمیں مل جل کر حل کرنا ہے،غافل رکھنا چاہتے ہیں۔چنانچہ عراق میں امریکی قوتوں کے غلبے کے بعد جوسب سے زیادہ اہم ایشو اٹھایا گیا وہ یہ ہے کہ عراق میں اتنے شیعہ ہیں اور اتنے سنی،اور یہ کبھی ساتھ نہیں رہ سکتے۔اور بددیانتی کی انتہا ہے کہ کردجوآبادی کا پانچواں حصہ ہیں،وہ ۱۰۰فیصد سنی ہیں مگر انھیں سنی نہیں کہتے۔لیکن جو ۲۲،۲۳ فیصد عرب سنی ہیں انھیں سنی قرار دیتے ہیں اور باقیوں کو شیعہ قرار دیتے ہیں۔یہی چیز افغانستان میںبھی ہے ۔یہ پشتون ،وہ فارسی بولنے والے۔یہ سنی اوروہ شیعہ ۔یعنی یہ سارے تناز عات پیدا کیے جا رہے ہیں۔
میں نے آغاز میں کہا تھا کہ ایمان کے ساتھ ساتھ دین کا صحیح وژن ضروری ہے۔اور اس وژن کے اندر ایک بڑی چیز ہے:اَلاَقْدَمْ فَالْاَ قْدَمْ کہ جو اہم ہے اسی کو اہم ہونا چاہیے۔جو مرکزی ہے اسی کو مرکزی ہونا چاہیے۔جواصول ہے اسی پر ہماری اصل نظر ہونی چاہیے۔اور جومختلف فیہ اورفروعی ہے اس کے بارے میں ہمیں توسع اوررواداری کو اپنانا چاہیے۔مکالمہ ضرور کیجیے، لیکن اس میں الجھ کر اصل کو بھول جانا اور ترجیحات کا بگڑ جانا یہ بہت بڑی تباہی ہے۔میں آپ سے ایما ن داری سے کہتا ہوں کہ اہل سنت کے درمیان جو مکاتب فکر ہیں ان میں ۹۵فیصد ایشوز وہ ہیں کہ جن میں کوئی بنیادی اختلاف نہیں۔ سارے اختلافات صرف ۵یا۶ فیصد معاملات پر ہیں۔اور اگر آپ اہل سنت اور اہل تشیع کے مابین اختلافی امور کا جائزہ لیں تو یہ زیادہ سے زیادہ بڑھ کر۸ سے۱۰ فیصد امور کے بارے میں ہیں،جبکہ ۹۰فیصد امور میں ہم سب مشترک ہیں۔
کیا ظلم ہے کہ ۹۰ فیصد اور ۹۵ فیصد قدر مشترک کو تو ہم بھول جاتے ہیں،اور اس پانچ سات فیصد میں جس کے بارے میں اختلاف ہے،الجھ کررہ جاتے ہیں۔ہم اختلاف سے انکار نہیں کرتے لیکن اگر ہم ان اختلاف کو اس کی حدود میں رکھیں،اختلافی امور میں رواداری برتیں اور جو ہمارے مشترکات ہیں اس پر ڈٹ جائیں تو ہم کتنی بڑی قوت ہیں۔ہماری ترجیحات میں سب سے پہلی چیز قرآن ہونی چاہیے۔پھر سنتِ رسولﷺ ،پھر فقہ اور پھر تاریخ۔اگر یہ ترتیب آپ رکھیں گے تو کبھی بگاڑ نہیں آئے گا۔اس سے بڑا سانحہ کیا ہوگا کہ ہم قرآن کو بھول جائیں،سنت کی ہم فکر نہ کریں،فقہ میں بھی مشترکات کو ہم نظر انداز کردیں اور صرف فروعات میں الجھ جائیں تو پھر حالات خراب نہ ہوں تو کیا ہو؟

( ۸) عزم نو 

امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے بڑی صحیح بات کہی تھی کہ : لَن یُّصلِحَ آخِرُ ھَذِہِ الاُمَّۃِ اِلاَّ بِمَا یُصْلِحُ بِہٖ اَوَّلُھَا۔ ’’اس امت کے آخری دور کی اصلاح بھی اسی سے ہو سکتی ہے جس سے اس کے پہلے دور کی اصلاح ہوئی تھی۔‘‘
اور وہ ہے قرآن۔ تو آئیے! اس کتابِ ہدایت کو تھام لیں اور غلبۂ اسلام کی اس امنگ کو جو ساری قوت کا سرچشمہ ہے اوراس جذبے کو بیدار کریں کہ ہمیں ظلم کے آگے کبھی بھی سپر نہیں ڈالنی بلکہ مزاحمت کرنی ہے۔اور اگر آپ تاریخ پر غور کریں تو دیکھیں گے کہ خیر اور شر کی کشمکش سے ہی قوموں میں ساری تخلیقی قوت(Creativity)پیدا ہوتی ہے۔بالکل اسی طرح جس طرح فزکس میں رگڑ (Friction)سے انرجی پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح انسانی زندگی میں بھی کشمکش سے تخلیقی قوت پیدا ہوتی ہے اور طاقت کے نئے سرچشمے پھوٹتے ہیں۔
تو آئیے! ہم ایمان اور امید کا دامن تھام لیں۔اللہ کو اپنی قوت کا ذریعہ بنائیںاور عوام کو بیدار اورمنظم کریں کہ اللہ کی نصرت کے لیے یہ ضروری ہے: ھُوَالَّذِیْ اَیَّدَکَ بِنَصرِہٖ وَ بِا لمُؤ مِنِینَ (الا نفال:۶۲) ’’وہی ہے وہ ذات جس نے اپنی مدد اور مومنوں کے ذریعہ سے تمہاری تائید فرمائی ۔‘‘
گھبرائیں نہ ظلمت سے گزرنے والے آغوش میں ہر شب کے سحر ہوتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں